Chitral Times

18th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • خیبرپختونخوا کے آثارقدیمہ کوفروغ دیکرمعیشت مستحکم کرسکتے ہیں، عمران خان

    November 15, 2017 at 8:07 pm

    ہریپور(چترال ٹائمزرپورٹ)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خا ن نے کہاکہ ہے ہم ان آثارقدیمہ کی مرمت و بحالی کرکے بین الاقوامی سطح پرآرکیالوجیکل سیاحت کو فروغ دے سکتے ہیں اور اس سے بیرون ممالک کے سیاح ان علاقوں کا رخ کرسکیں گے، یہ سال پرامن سال تھا ہم بیرون ممالک کے سیاحوں کو بتا سکتے ہیں گزشتہ دس سالوں سے اب یہاں حالات پرامن ہیں ، سویٹزرلینڈ ہم سے چھوٹا ملک ہے اس کا سیاحت کا بجٹ پاکستان کے پورے بجٹ سے زیادہ ہے ،خیبرپختونخوا کی پولیس نے امن بحالی میں اہم کردار ادا کیا ہے ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ ہری پور کے آثارقدیمہ بھمالہ میں دریافت شدہ 14میٹر لمبے بدھا کے آثارکے دورے کے موقع پر کیا ، اس موقع پر انکے ہمراہ سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی اسد قیصر، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اعظم خان ، سیکرٹری ٹورازم و آثارقدیمہ محمد طارق، ڈائریکٹر آرکیالوجی ڈاکٹر عبدالصمد سمیت بیرون ممالک کے پاکستان کیلئے سفیر جن میں سری لنکا، کوریا ،آسٹریا، موریشیئس اور دیگر شامل تھے ،بھمالہ آثار قدیمہ پر بریفنگ کا انعقاد ڈائریکٹر یٹ آف آرکیالوجی اور ٹورازم ڈیپارٹمنٹ کے باہمی تعاون سے کیا گیا،تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاکہ صوبہ میں امن کی بحالی میں خیبرپختونخوا کی پولیس نے اہم کردار ادا کیا جس پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں امن کی بحالی کے باعث صوبہ میں سیاحت نے کافی ترقی کی اور بین الاقوامی سیاحوں نے صوبہ کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا ہے ، ہماری کوشش ہے کہ صوبہ میں موجود آثارقدیمہ کی مزید مرمت و بحالی کرکے یہاں بین الاقوامی سیاحوں کو راغب کیا جائے کیونکہ سری لنکا ، ملائیشیا ء ، چائنہ ، کوریا، تھائی لینڈاور دیگر ممالک کے بدھ مت کے مقدس مقامات موجود ہیں جس کیلئے وہاں سے لاکھوں کی تعداد میں سیاحوں کو اپنی عبادات اور رسومات کیلئے راغب کیا جا سکتا ہے ،اس موقع پر چیف سیکرٹری اعظم خان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ صوبہ میں آثارقدیمہ کی بحالی و حفاظت کیلئے صوبہ بھر میں آثارقدیمہ کے مقامات سے تجاوزات کاخاتمہ کررہے ہیں اور اس سلسلے میں بنوں ، پشاور، صوابی اور مردان میں کام جاری ہے ، ہماری کوشش ہے کہ صوبہ کے آثارقدیمہ کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے آنے والی نسل کیلئے محفوظ کیا جا سکے ،بھمالہ میں بدھا کے انتقال کا منظر اب تک دنیا میں دریافیت ہونے والے آثارمیں سب سے پرانا ہے ، امریکی لیبارٹری کی رپور ٹ کے مطابق یہ تیسری صدی عیسوی سے بھی پرانا ہے جبکہ افغانستان اوروسطی ایشیا ء میں دریافت ہونے والے یہ آثار ساتویں صدی عیسوی میں شمار ہوتے ہیں،واضح رہے کہ بھمالہ کے آثارقدیمہ کی کھدائی سب سے پہلے 1930-31 میں سرجان مارشل کی سرپرستی میں ہوئی ، بھمالہ سائٹ کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے محکمہ آثارقدیمہ و عجائب گھر خیبرپختونخوا نے 2014-15 میں اس سائٹ پر شعبہ آثارقدیمہ ہزارہ یونیورسٹی، ڈائریکٹریٹ آف آرکیالوجی اور ویسکانسن یونیورسٹی امریکہ کے تعاون سے کھدائی شروع کی جوکہ 2015-16 میں دوبارہ شروع ہوئی، مذکورہ کھدائیوں کے دوران اہم دریافتیں ہوئیں جن میں کنجور کا بنا ہوا 14میٹر لمبا مہاتما بدھ کے انتقال کا منظرکے آثار، اسٹوپہ (بی) اور چونے کے بتوں سے مزین چھوٹے چینلز کے علاوہ سینکڑوں نوادرات شامل ہیں، اسکے علاوہ ہچونے اور مٹی کے بنے ہوئے بت، تانبے اور چاندی کے سکے اور لوہے کے اوزار شامل ہیں جو تیسری سے پانچویں صدی عیسوی کے ہیں ، پانچویں صدی کے آخر میں کیدار کشان حکومت سفید ہنز حملہ آوروں کے ہاتھوں شکست پذیر ہوئی اور یوں نہ صرف تمام تجارت اور تجارتی شاہراہیں اختتام پذیر ہوئیں بلکہ بھمالہ جیسی خانقاہیں بھی شاہی پرستی سے محروم ہوئیں۔

  • error: Content is protected !!