Chitral Times

24th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تحریک انصاف حکومت کا ٹیسٹ کیس……… محمد شریف شکیب

    November 12, 2017 at 5:37 pm

    ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ گرہ مٹ میں سولہ سالہ لڑکی کی بے حرمتی کا واقعہ پختون قوم کے ماتھے پر بدنما داغ ہے۔ شریفان بی بی کا جرم یہ تھا کہ اس کے بھائی نے مبینہ طور پرعلاقے کی ایک لڑکی سے دوستی کی تھی۔ سندھ اور پنجاب میں خواتین کی بے حرمتی، اجتماعی آبروریزی ، رشتوں کے عوض سودا کرنے اور خریدوفروخت کے حوالے سے آئے روز خبریں ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر گردش کرتی رہتی ہیں۔ وہاں نام نہاد پنجایت کے حکم پر بھی خواتین کی عصمت کا دامن تار تار کیا جاتا ہے۔ ونی، کاروکاری اور سورہ کی روایات بھی عام ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں جوانسال خاتون کی سرعام بے حرمتی اس لحاظ سے افسوس ناک اور حیران کن ہے کہ پختون معاشرے میں خواتین کا بہت احترام کیا جاتا ہے۔ گھریلو تشدد کی قبیح روایت اگرچہ موجود ہے۔ زبردستی رشتے کروانے سے بھی انکار نہیں۔ غگ جیسی غیر اسلامی روایت بھی عام ہے لیکن حوا کی بیٹی کو یوں سرعام رسوا نہیں کیا جاتا۔ اس واقعے کے چندپہلو ایسے ہیں جو ہمارے سیاسی و مذہبی رہنماوں کے لئے بھی لمحہ فکریہ ہیں۔ شریفان بی بی کو سہیلیوں کے ہمراہ مسلح افراد نے پانی لاتے ہوئے دھکادے کر گرادیا۔ قینچی سے اس کے کپڑے کاٹ دیئے اور برہنہ کرکے سارے گاوں میں پھیرا۔ وہ چیختی چلاتی، منت زاری کرتی اور خدا رسول کا واسطہ دے کر چھوڑنے کی فریاد کرتی رہی مگر شقی القلب ملزموں نے اس کی ایک نہ سنی۔ بااثر ملزموں کے خوف سے برہنہ نوعمر لڑکی کو کوئی اپنے گھر میں پناہ دینے کی جرات بھی نہیں کرتا تھا۔ جب مظلوم لڑکی کے والدین نے پولیس کے پاس جاکر ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست کی تو پولیس نے نہ صرف ان کی بات سننے سے انکار کردیا۔ بلکہ مخالف فریق کے کہنے پر الٹا تمام الزام مظلوم لڑکی کے بھائی پر ڈال دیا۔ جب ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں یہ خبروائرل ہوگئی تو وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایف آئی آر ختم کرادی اور واقعے کی ازسرنو تفتیش کا حکم دیدیا۔ حوا کی بیٹی کو سربازار رسوا کرنے والے نو میں سے آٹھ ملزمان گرفتار بھی ہوچکے ہیں جبکہ گروہ کے سرغنہ کی تلاش جاری ہے۔ آئی جی صلاح الدین کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی کی نگرانی میں پولیس واقعے کی تفتیش کر رہی ہے اور پولیس پر کوئی سیاسی دباو نہیں ہے۔ جلد تمام ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔شریفان بی بی کے واقعے نے تمام بیٹی والوں کو غم سے نڈھال کردیا ہے۔ جاگیردارانہ سوچ کو ختم نہ کیا گیا تو کسی بھی باعزت شخص کی باعصمت بیٹی کے ساتھ ایسا شرمناک سلوک ہوسکتا ہے۔ سانحہ گرہ مٹ عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک ہی نہیں پوری تحریک انصاف کی حکومت کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ ان کے پاس اقتدار کی طاقت ہے۔انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ انتظامیہ ان کے ماتحت ہے۔ انصاف ان کا نعرہ ہے۔ علاقے کے ایم این ایز، ایم پی ایز ، ناظمین اور کونسلرز بھی ان کی پارٹی کے ہیں۔ اگر واقعے میں کوئی بااثر سیاسی خاندان یا شخصیت بھی ملوث ہے تو اسے نشان عبرت بنانا صوبائی حکومت کا فرض ہے۔ لوگوں کے دلوں میں اپنے لئے جگہ بنانی ہے تو تحریک انصاف کو شریفان بی بی کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا۔اور انصاف بھی ایسا ہونا چاہئے جو فوری بھی ہو اور نظر بھی آئے۔حکومت سے زیادہ طاقت کسی کی نہیں ہوتی۔ حکومت چاہے تو لوگوں کو فوری انصاف بھی دلاسکتی ہے کسی بھی بااثر شخص کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔ ملک میں عام انتخابات کا سال شروع ہوچکا ہے۔ خیبر پختونخوا میں عموما اور ملک بھر میں خصوصا تحریک انصاف نے اگر اپنی دھاگ بٹھانی ہے تو شریفاں بی بی کو انصاف دلانا اور ان کےمجرموں کو نشان عبرت بنانا ہوگا۔ شریفاں بی بی کے خاندان کو اگر انصاف ملتا ہے تو اس ملک کے پسے ہوئے اور غریب لوگوں کو بھی امیدکی کرن نظر آئے گی۔ وہ محسوس کریں گے کہ حکومت ان کی جان و مال اور عزت وآبرو کی حفاظت کرتی ہے۔ ان کا سیاسی نظام اور حکومت اور سیاسی جماعتوں پر بھی اعتماد بحال ہوگا۔اگر شریفاں کو انصاف نہ ملا۔ تو انسانوں کی حکومت اور عدالتوں سے بڑی عدالت میں انہیں ضرور انصاف ملے گا۔ لیکن موجودہ حکمرانوں اور عوامی نمائندوں کو اعانت جرم ، فرائض سے چشم پوشی، رعایا پر ظلم ، ناانصافی اورجابر کی مدد کرنے کی سزا بھی ضرور ملے گی۔

  • error: Content is protected !!