Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • وزیر اعلیٰ کی محکمہ جنگلات کی اراضی پر پن بجلی گھروں اور سیاحتی منصوبوں کی اجازت دینے سے اصولی اتفاق

    November 11, 2017 at 10:59 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے محکمہ ماحولیات و جنگلات کی اراضی پر پن بجلی گھروں اور سیاحتی منصوبوں کی اجازت دینے سے اصولی اتفاق کیا ہے تاہم واضح کیا ہے کہ یہ منصوبے ہر لحاظ سے ماحول دوست ہونے چاہئیں انہوں نے ایسے منصوبوں کے منافع میں محکمہ ماحولیات کو بھی 10 فیصدحصہ دینے کی سفارش سے اتفاق کیا ہے تاکہ نقصانات کی تلافی کے علاوہ جنگلات کی ترقی کیلئے وسائل میں خاطر خواہ اضافہ ہو انہوں نے ہدایت کی کہ ایسے تمام معاملات کو باقاعدہ قانونی اور پالیسی شکل دی جائے تاکہ اس کے دیرپا اثرات برآمد ہوں اور عوام بھی ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں محکمہ ماحولیات و جنگلات اور محکمہ توانائی کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کر رہے تھے اجلاس میں چیف سیکرٹری محمد اعظم خان، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید، محکمہ ہائے ماحولیات، توانائی و قانون کے انتظامی سیکرٹریوں، کمشنرہزارہ اکبر خان اور وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ نے شرکت کی اجلاس میں معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لیاگیا اور ضروری فیصلے کئے گئے سیکرٹری توانائی انجینئر محمد نعیم خان نے بتایا کہ مانسہرہ کے علاقے سکھی کناری میں840 میگاواٹ پن بجلی گھر کی تعمیر شروع کی گئی ہے تاہم اسکی اہمیت اور وسعت کے پیش نظر 400 کنال فارسٹ لینڈکو زیر استعمال لانے کی ضرورت بھی پڑچکی ہے اسی طرح سوات کے علاقہ مٹلتان میں 84 میگاواٹ پن بجلی گھر کی تعمیر کیلئے بھی ملحقہ نجی اراضی کی ضرورت پڑگئی ہے جس کیلئے صوبائی حکومت کی اجازت اور این او سی بروقت ملنے کے سبب توانائی کی ان اہم سکیموں کی بروقت تکمیل ہو سکے گی سیکرٹری ماحولیات سید نذرحسین شاہ نے بتایا کہ جنگلات اور ماحولیات کی بہتری کی شرط پر انہیں ایسی تمام سکیموں پر کوئی اعتراض نہیں تاہم ان منصوبوں کی آمدن میں مناسب حصے کی فراہمی سے جنگلات اور ماحولیات کی بہتری کیلئے بھی مزید ترقیاتی سکیمیں بنائی جا سکیں گی وزیراعلیٰ نے اس ضمن میں مربوط حکمت عملی اور پالیسی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اس کی جامع سمری انہیں بھیجنے کی ہدایت کی انہوں نے امید ظاہر کی کہ توانائی کے چھوٹے بڑے منصوبوں کی تکمیل سے صوبے میں لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوگا کیونکہ صوبے میں پن بجلی گھروں کی تعمیر کی وسیع گنجائش موجود ہے صوبے کے بڑے پن بجلی گھروں سے پورا پاکستان جگمگا رہا ہے اس لئے وفاق کو بھی یہاں مزید بڑے پن بجلی گھروں کے قیام کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ پورے ملک سے لوڈشیڈنگ کے مکمل خاتمے میں مدد مل سکے۔

  • error: Content is protected !!