Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال بونی کی حالت ………شیرولی خان اسیر

    November 11, 2017 at 9:13 pm

    کوئی پچیس سال بعد ماہ حال کی 7تاریخ کوبونی ہسپتال کے اندر جھانکنے کا موقع ملا-پہلا تاثر ہی طبیعت پر بوجھ بنا-شمال مغربی گیٹ گاڑیوں کے لیے بند تھا جبکہ جنوب مغربی گیٹ کی جگہ ایک کھلا خلا تھا جس کی ایک طرف لوہے کی چوکھٹ کا ٹکڑا اس کے ماضی میں میں گیٹ ہونے کی گواہی دے رہا تھا-دائیں جانب نظر دوڑائی تو جنوب مشرق کی طرف چاردیواری غائب تھی-جگہ جگہ دیوار کے باقی مَاندہ ٹکڑے بتا رہے تھے کہ کسی زمانے میں یہاں دیوار ہوا کرتی تھی-آگے بڑھا تو شمال مشرقی دیوار بھی جگہہ جگہہ ٹوٹی ملی-پھر شمال مغرب کی جانب ڈاکٹروں کے رہائشی مکانات کا نظارہ کیا تو وہ بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے تھے-البتہ ہسپتال کی عمارت سلامت تھی-وہ الگ بات ہے کہ عرصےسےمرمت اس کی تقدیر میں نہیں لکھی تھی-ہسپتال کی عمارت کے اردگرد زمین پر بے ترتیب شجرکاری کی گئ تھی اور خود رو جھاڑیوں کا جنگل بھی اگ آیا تھا جس کی کٹائی اسوقت جاری تھی- ان کو کاٹنے سے وقتی طور پر ایریا صاف ہوگا لیکن موسم بہار کے آغاز پر اس سے کئی گنا پھراگ آے گا-ان کی بیخکنی کے لیے لینڈ ڈویلپمنٹ کی مد میں کافی رقم کی ضرورت ہے تاکہ مشین کے ذریعے ان کو جڑوں سے اکھاڑا جاسکے- فنڈ شاید نہ ملے جس طرح پہلے ہی سےیہ ہسپتال نظر انداز رہا ہے- کہیں بھی پھول نام کی کوئی چیز نظر نہیں آئی- ایسالگا کہیہاں آکر صحت مند آدمی بھی بیمار پڑسکتا ہے کیونکہ صحت کوتقویت دینے والی کوئی شئے یہاں نہیں ہے-افسوسناک بات یہ ہے کہ
    گزشتہ 9سالوں سے ایم پی اے بھی بونی سے منتخب ہوتا رہا ہے اور جن کی مبارک نگاہوں کے سامنے ان کے ہسپتال کا یہ حشر ہے تو دور دراز کے کونے کھدروں میں قائم طبی اداروں کی حالت کا ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں-

    میں نے ہسپتال کے ایم ایس سے ملاقات کی- اس نے حال ہی میں چارج سنبھالا ہے-ان کا کہنا تھا کہ ایم ایس کے پاس نہ فنڈ ہوتا ہے اور نہ مالی اور انتظامی اختیار ان کو حاصل ہے وہ سواے موجود عملہ کے کام کی نگرانی کے کچھ نہیں کرسکتا

    ہسپتال کی چاردیواری اورعمارت کو 2015کے زلزلے نے نقصان پہنچایا تھا-اس کے بعد اسکی مرمت کی طرف کسی نے توجہ نہیں دی- اج حالت یہ ہے کہ رات کو سارے قصبے کے اوارہ کتے یہاں جمع ہوتے ہیں اور الودگی میں اضافہ کرتے رہتے ہیں-ہسپتال کے اندر عملہ سے لے کر مریضوں تک سب کے سب غیر محفوظ حالت میں ہیں-یہ ہم پر اللہ کا کرم ہے کہ چترال میں امن و امان ہے ورنہ اس قسم کے عوامی مقامات میں دہشت گردی کو روکنا ناممکن ہے-

    جہاں تک ہسپتال میں موجود عملے کا تعلق ہے وہ اور بھی مخدوش ہے-معلوم ہوا کہ ہسپتال میں کل اسامیوں اور حاضر سروس افراد کی تعداد کچھ اس طرح ہے-

    ڈاکٹرز کل سینکشینڈ پوسٹیں =10،حاضر سروس=6،خالی=4
    لیڈی ڈاکٹرزکی کل پوسٹیں=3،حاضر سروس=1،خالی=2
    ڈینٹیل سرجن=1،حاضر سروس=0،خالی=1
    دسپنسرز کی کل ا آسامیان=8،حاضر سروس =4،خالی=4
    کلاس فورکی آسامیاں=16،حاضرسروس=8،خالی=8
    خاکروپ کی آسامیاں=3،موجود صرف ایک،خالی=2

    جب کہ یہاں مالی اور واشر مین کی کوئی آسام نہیں ہے-ان حالات کے ہوتے ہوے ہسپتال اور اس کے ایم ایس سے کس قسم کی کارکردگی کی امید رکھی جاسکتی ہے؟کسکے پاس ہےاسکا جواب ،ذرابتا تودیں-اس ہسپتال کی موجودہ حالت زار کی ذمےدار کس پر عائد ہوتی ہے؟اس سوال کا جواب سکرٹری ہیلتھ کے پی ہی دے سکتا ہے یا وزیر صحت بتا سکتا ہے-کیا تبدیلی اسی کا نام ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟-شیم!

    آج کی خبر کے مطابق پی ٹی آئی کے سربراہ اور وزیر اعلے کے پی نے تحصیل مستوج کو ضلع بنانے کا اعلان کردیا-اگر یہ اعلان فوری طور پر قابل عمل ہے تو آج یہ ہسپتال ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کا درجہ پا چکا ہے- ہسپتال کی موجودہ حالت دیکھ کر کوئی امید نظر نہیں آرہی کہ ضلعی مرکزی ہسپتال بننے کے بعد اس میں کوئی کشش پیدا ہوگی- اس وقت ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے لیے رہایش گاہیں نہ دارد-بونی کا درجہ حرارت سردیوں میں منفی پندرہ سے نیچے نہیں اتا. ان حالات میں طبی عملہ کس طرح ڈیوٹی انجام دے پائے گا ؟اس لیےضلع کے اعلان پر بھی کوئی خو شی نہیں ہوئی کیونکہ جب پی ٹی آئی حکومت نے تحصیل کی حالت بدلنے میں ایک فیصد کام بھی نہ کیا ہو تو بغیر بجٹ کے ضلع بناکر کیا تیر مارے گی؟ بقول غالب
    “دل کوخوش رکھنے کا غالب یہ خیال اچھا

  • error: Content is protected !!