Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • قَسَم خوری کی عادت ………. تحریر: اقبال حیات آف برغذی

    November 11, 2017 at 1:06 pm

    ہمارے معاشرے میں کسی بات کو وزن دار بنانے کے لئے رب العزت کے آسمائے گرامی پر مبنی مختلف نو عیت کی قسم کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا تا ہے ۔ کھبی “خدا کی قَسَم ” “خدا کی ذات کی قَسَم ” “خدا کے نام کی قَسَم “اور اس طرح دوسری بہت سی قسمیں زبان زد عام ہو تی ہیں ۔ اور خصوصاََ واللہ ۔ یا للہ جیسی قسمیں تکیۂ کلام کا روپ اختیار کر چکی ہیں ۔ حالانکہ یہ قسم کے اعتبار سے انتہائی خطر ناک الفاظ ہیں ۔ اسی طرح کسی دوسرے کو کامفوہیض کرنے یا کسی کام کی طرف توجہہ مبذول کر نے کے لئے “خدا کاواسطہ “تمہیں اللہ پاک کے ذات کی قسم کے الطاظ لگا کر اس کام کی نوعیت کو اہم بنائے جا تے ہیں ۔ حالانکہ ہمیں یہ احساس ہو نا چاہئے کہ پروردگار عالم اس کائینات کے مالک کل ہیں ۔ ہمیں بحثیت بند ے کے آپ کے تمام آسمائے گرامی کو اپنے جائیز تقاضوں کے لئے وسیلے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں ۔ مگر اپنے دنیاوی معاملات کی صداقت کو اجاگر کر نے کے واسطے ہر لحظ پر آپ کے عظیم ناموں کے استعمال سے آپ کی بے قدری کا تصور ابھر تا ہے کیونکہ ایسے امور دنیاوی حقانیت کے اعتبار سے بسا اوقات سوالیہ نشانات کے حامل ہو تے ہیں ۔ جسکی وجہ سے انسان کی سغلی خواہشات پر مبنی دنیاوی معاملا ت کے سلسلے میں اللہ رب العزت کے آسمائے گرامی کو زبان پر لا تے ہو ئے آپ کے آداب کوملحوطہ خاطر رکھنا چاہئے ۔ کیونکہ آپ کے اسمائے گرامی فیوض و برکات سے لبریز ہیں اور دونوں جہانوں کے تقاضوں کے لئے آپ کے آسمائے گرامی کو ملتجیانہ اور شاکرانہ انداز سے اپنی زبان کو تر کر نے سے سکون قلب کا احساس ہو تا ہے ۔ اس لئے کھوار زبان میں بھی قسم سے اجتناب کی تاکید کے طور یہ جملہ ملتا ہے کہ “مفت کا رنج اور مصیبت اٹھائیے مگر سچائی پر مبنی قسم سے پرہیز کیا جا ئے ۔ اس جملے میں اللہ رب العزت کے آسمائے گرامی کے احترام کا عندیہ ملتا ہے ۔

    مغل حکمران اورنگ زیت عالمگیر کے ایک خصوصی ملازم کا نام عبد اللہ تھا ۔ آپ اسے پورے نام سے پکارتے تھے ۔ اور گاہ بگاہ عبدول کہکر آواز دیتے تھے ۔ چونکہ مصاجین اور وزرا سلاطن کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کی طر ف خصوصی توجہہ رکھتے تھے ۔ اس لئے ایک وزیر کی طرف سے عالمگیر سے عبد اللہ کو کبھی کبھارعبدول کہکر پکارنے کی وجہ دریافت کر نے پر وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ میں اللہ رب العزت کا اسم گرامی شامل ہے اس لئے جب کھبی بغیر وضو کے ہو تا ہوں تو اللہ پاک کی عظیم زات کا احترام کر تے ہو ئے آ پ کا اسم گرامی زبان پر لانا آپ کی توھین تصور کر کے صرف عبدول کہتا ہوں اگر چہ رب کائینات کے آسمائے گرامی کو ورد زبان کر نے کے لئے ہمیشہ با وضو رہنے کی ضرورت نہیں مگر یہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے عقیدت اور احترام خداوندی کا انمول شاہکار ہے ۔ اس طرح حضر علیہ السلام کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک بھکاری اللہ رب العزت کے نام پر آپ کے سامنے دست سوال پھلا تے ہیں آپ بھکاری سے کہتے ہیں کہ میرے پاس دینے کے لئے کچھ نہیں اور جس عظیم ذات کے نام آپ نے سوال کیا ہے اس کے لئے اسکی دی ہوئی جا ن حاضر ہے ۔ آپ مجھے کسی کے ہاتھ فروخت کر کے معاوضہ لے لیں ۔ بھکاری انھیں ایک آدمی کے ہاتھ فروخت کر کے پیسے لیکر چلا جا تے ہیں ۔ حضر علیہ السلام اپنے آقا سے کام کا تقاضا کر نے پر وہ انھیں عمر رسیدہ تصور کر کے آرام کر نے کی ہدایت کر تے ہیں ۔ مگر آپ کے ذیادہ اسرار پر وہ شخص انہیں پتھروں کے ایک بہت بڑے ٹال کو دوسری جگہ منتقل کر نے کا کاتفوہیض کر کے خود گھر سے باہر چلے جا تے ہیں ۔ واپس آکر دیکھتے ہیں تو وہ پھتر مطلوبہ جگے پر منتقل ہو چکے تھے ۔ ایک ناممکن کو ممکن بناتے ہو ئے دیکھ کر اس شخص کو حیرت ہو تی ہے ۔ حضر علیہ السلام دوبارہ کام کا تقاضا کر نے پر وہ شخص انہیں ایک جگہ گھر بنانے پر مامور کر کے خود کسی کام پر ایک دن کے لئے با ہر چلے جا تے ہیں ۔ واپس آکر دیکھتے ہیں تو عالیشان گھر کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی ۔ یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جا تی ہیں اور وہ حضر علیہ السلام کو ما فوق الفطر ت انسان کے روپ میں دیکھ کر انھیں اللہ رب العزت کا واسطہ دے کر ان کی حقیقت دریافت کر تے ہیں ۔ حضر علیہ السلام بڑے افسوس کے ساتھ فر ماتے ہیں کہ جس ذات کے نام کی لاج رکھتے ہو ئے میں نے تیری غلامی قبول کی تھی اس ذات کے اسم گرامی کا آپ نے بھی واسطہ دیا اور یوں اپنی روداد سناتے ہیں ۔ وہ شخص آپ سے معافی مانگنے کے بعد دعاؤں کی درخواست کے ساتھ انھیں جا نے کی اجازت دیتے ہیں ۔

    محتصر یہ کہ آپ کے جوآ سمائے گرامی آپ کی ذات و صفات پر مبنی ہیں ان کو لب پر لا تے ہو ئے دل پر آپکی عظمت اور ہیبت طاری ہو نی چاہئے جوآسمائے گرامی آپ کی رحمت کو نمایاں کر تے ہیں ان سے دلی جذبات شکر سے لبریز اور جو آسمائے گرامی آپ کی غضب اور قہر کے عکاس ہیں ان سے دل پر ان کا خوف طاری ہو نا چاہئے ۔

  • error: Content is protected !!