Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • 25دسمبر سے لوئیر چترال سمیت سب ڈویژن مستوج کو بھی بجلی دینے کی منظوری دیدی گئی ۔۔شہزادہ افتخار

    November 10, 2017 at 9:58 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال سے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے چترال خصوصا سب ڈویژن مستوج کے عوام کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکی کوششوں سے گولین گول ہائیڈروپاور پراجیکٹ سے چترال ٹاون اور دروش سمیت سب ڈویژن مستوج کو 25دسمبر سے بجلی دینے کی حتمی منظوری دیدی گئی ۔ چترال ٹائمز سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر برائے بجلی اویس لغاری سے متعدد بار میٹنگ اور انکی طرف سے چیف ایگزیکٹو آفیسر پیسکو پشاور کو ہدایت دینے کے بعد پیسکو حکام نے گولین گول بجلی گھر سے لوئیر چترال کے ساتھ بالائی چترال کو بھی بجلی دینے کیلئے انتظامات کو حتمی شکل دے رہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک ٹرانسفر میر چند دنوں کے اند ر دروش میں نصب کیاجائیگا۔جبکہ سب ڈویژن مستوج کو چار میگاواٹ بجلی دی جائیگی۔ جبکہ اس سے زیادہ لوڈ پیڈو کی موجودہ لائن برداشت نہیں کرسکتی ۔ انھوں نے بتایا کہ سب ڈویژن مستوج کو جوٹی لشٹ گرڈ اسٹیشن سے بجلی دی جارہی ہے جسکی کیپسٹی چار میگاواٹ تک ہے۔ تاہم وفاقی حکومت کی طرف سے گزشتہ بجٹ میں تقریبا 55کروڑ روپے اس مد میں رکھے گئے ہیں۔ جبکہ باقی رقم بھی جلد ریلیز ہونگے، جس سے سب ڈویژن مستوج کیلئے کاغ لشٹ کے مقام پر ایک بڑا گرڈ اسٹیشن قائم کیا جائیگا۔اور 132KV کے لائن بچھائی جائیگی۔ اور ساتھ دروش اور ماربل سٹی گنگ میں بھی گرڈ اسٹیشن بنائے جارہے ہیں۔ ایم این اے نے چترال ٹائمز کو مذید بتایا کہ ٹوٹل سات فیڈر اپر اور لوئیر چترال کیلئے منظور ہوگئے ہیں۔ جس میں یارخون، لاسپور، گرم چشمہ ،( کریم آباد، آرکاری اینڈ گرم چشمہ ٹو گوبور)، مدک لشٹ ، آرندو، تورکہو تا ریچ اور موڑکہوتا شاگروم شامل ہیں۔ جس کے بعد ان علاقوں کو مکمل بجلی دی جائیگی۔ ایک سوال کے جواب میں ایم این اے نے بتایا کہ 25دسمبر کے بعد پہلے مرحلے میں پیڈو کی لائیں جن جن علاقوں تک پہنچ چکی ہیں وہاں تک بجلی دی جائیگی۔ انھوں نے مذید بتایا کہ چترال ٹاون ، ایون اور دروش تک بجلی دینے کی منظوری پہلے سے ہوچکی ہے۔ لہذا گولین گول 106میگاواٹ ہائیڈوپاور پراجیکٹ کی پہلی یونٹ 25دسمبر 2017سے چالو ہونے کے بعد چترال کے ان تمام علاقوں کو بجلی دی جائیگی جہاں پر پیسکو یا پیڈو کی لائین موجود ہیں ۔

  • error: Content is protected !!