Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبہ خیبر پختونخوا ‘کثیر ترین تعداد میں شجر کاری کرنے والا اولین ملک بن چکا ہے۔۔ترجمان صوبائی حکومت

    November 9, 2017 at 8:16 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )حکومت خیبر پختونخوا بلین ٹریز سونامی کے تاریخی پروگرام کی کامیابی کو شایان شان طریقے سے منائے گی اور اس میں گراں قدر خدمات سر انجام دینے والوں کی ستائش اور حوصلہ افزائی بھی کرے گی۔ اس پروگرام میں حصہ لینے والوں میں سرکاری ٹیم کے ساتھ ساتھ سکولوں کے بچے،خواتین اور صوبے کے طول و عرض میں رہنے والے مقامی لوگ بھی شامل ہیں۔ان میں سب سے اہم کردار دو فارسٹ گاڈرز کا ہے جو ٹمبر مافیا کا مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے جبکہ اس مہم کے دوران فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے کثیر تعداد میں ملازمین زخمی بھی ہوئے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی زیر قیادت صوبہ خیبر پختونخوا حکومت کے اس کامیاب اقدم سے پاکستان کثیر ترین تعداد میں شجر کاری کرنے والا اولین ملک بن چکا ہے جبکہ حقیقت میں صوبہ خیبر پختونخوا نے تین برسوں کی قلیل مدت میں تیز ترین رفتار سے وسیع ترین پیمانے پر شجر کاری کی مہم مکمل کرنے کا ہدف کامیابی سے حاصل کیا اور عالمی وارمنگ (گرمی کی زیادتی ) اور ماحولیات کی تبدیلی کے خلاف جدوجہد کرنے والی اقوام میں پاکستان کو صف اول میں کھڑا کر دیا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ خیبر پختونخوا وہ واحد صوبہ ہے جو 380000ہیکٹرز جنگلات بحال کر کے بون چیلنج کے تحت رجسٹر ہوا ہے جبکہ وہ تین برسوں کے دوران اس ہدف کو کامیابی سے پہلے ہی حاصل کر چکا ہے۔اس پراجیکٹ کو عالمی ادارے بون چیلنج نے بھی سراہا ہے جبکہ مذکورہ ادارہ دنیا کے150ملین ہیکٹرز کے تباہ شدہ اور نقصان زدہ جنگلات کو 2020تک بحال کر نے کے عزم کیساتھ کوشاں ایک عالمی مشترکہ ادارہ ہے اس سلسلے میں بو ن چیلنج کی ویب سائٹ نے صوبے کیلئے کاربن سے استفادہ،سیلاب سے بہتر طور پر بچاؤ اور مستقبل میں پائیدار لکڑی کی فراہمی کی صورت میں شجر کاری کے اقدامات کیلئے 121ملین امریکی ڈالرز کے اقتصادی فوائد کا تخمینہ لگایا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن رپورٹ کے مطابق اس شجر کاری کی بقاء اور پائیداری کی شرح85فیصد ہے جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے چند ماہ پہلے ہی اس کامیاب پروگرام میں حصہ لینے والے تمام افراد کی خدمات کی ستائش اور حوصلہ افزائی کا اعلان کیا تھا جبکہ اس پروگرام کو پہلے ہی عالمی سطح پر تسلیم اور سراہا گیا ہے۔اس سلسلے میں ایک تقریب کا انعقاد اسلام آباد میں کیا جائے گاجس میں ملک بھر کے کنزرویشنسٹس ، سفارتکاروں ، بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں ( INGOs) ، ماہرین تعلیم ، نوجوانوں اور طلباء کی کثیر تعداد کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔۔

  • error: Content is protected !!