Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صدابصحرا ……… 2019 کا چترال ………..ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

    November 9, 2017 at 6:15 pm

    پولو گراونڈ چترال میں 50ہزار عوام کے مجمع سے خطاب کر تے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی پر ویز خٹک نے سب ڈویژن مستوج کو ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کیا اور وعدہ کیا کہ اس کا نوٹیفکشین چند روز میں ہو جائے گا اس سے قبل چترال کی سب تحصیل دروش کو تحصیل کا درجہ دینے کا نوٹیفکشین جاری ہو چکا ہے گرم چشمہ کو تحصیل کا درجہ دینے پر غور ہو رہا ہے اس طرح سب ڈویژن مستوج کو ضلع کا درجہ دینے کے بعد موڑکہو تحصیل اور تور کہو تحصیل کے نام سے دو نئی تحصیلیں بنینگی اور 2019 ؁ ء کے بلدیاتی انتخابات میں چترال کی نئی انتظامی یونٹوں میں دو ضلع ناظمین اور 6تحصیل ناظمین ہونگے اس حساب سے تحصیل کونسلروں کی تعداد میں اضافہ ہو گا ہر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹر یشن کا عملہ الگ آئے گا اب اگر تحصیل میونسپل افیسر انفراسٹر کچر کے نام سے دو انجینئر پورے چترال کی 270کلو میٹر لمبی وادی کی 34الگ الگ گھاٹیوں کے اندر کاموں کو دیکھتے ہیں 2019ء میں یہ کام 6انجینئروں میں تقسیم ہو گا 6ناظمین اس کام کے لئے فنڈ مہیا کرینگے مگر یہ اتنا آسا ن نہیں جتنا لکھنے اور پڑھنے میں نظر آتا ہے علامہ اقبال نے کہا تھا
    ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
    ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں

    موجودہ حالات میں صورت حال یہ ہے کہ چترال کے ایم این اے شہزادہ افتخارالدین ،ایم پی اے سلیم خان ،ایم پی اے سردار حسین اور ضلع ناظم حاجی مغفرت شاہ نے اپنے آپ کو نئے ضلع کے اعلان اور وزیر اعلی کے جلسہ عام ،دورہ چترال سے لا تعلق رکھا نو شو (No Show) کی تختی اویزاں رہی ،چترال کی سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنوں نے اپنے آپ کو لا تعلق ظاہر کیا اب یہ پاکستان تحریک انصاف کی واحد ایم پی اے بی بی فوزیہ ،پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر عبدالطیف ،جنرل سکرٹری اسرارالدین ،سینئرلیڈر حاجی سلطان محمد ،عبدالولی خان ایڈوکیٹ ضلع کونسل کے ممبر رحمت غازی ،غلام مصطفےٰ ،محمد یعقوب خان ،زلفی ہنر شاہ اور دیگر قائدین کے لئے امتحان کا درجہ اختیار کر گیا ہے ڈپٹی کمشنر چترال ارشاد علی سو ڈھر اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں شہزادہ سراج الملک ،شہزادہ سکندر الملک اور شہزادہ امان الرحمان کے اثرورسوخ سے بھی کام لیا جاسکتا ہے سب ڈویژن مستوج کو ضلع کا درجہ دینے کے مخالفین نے پہلے ہی سے پروپگینڈاشروع کیا ہوا ہے کہ وزیر اعلی پرویز خٹک محض سیاسی اعلان کرینگے اس کو عملی جامہ نہیں پہنا سکینگے مخالفین کے ایک گروہ نے یہاں تک دعوی کیا ہے کہ چترال میں نیا ضلع نہیں بننے دینگے مخالفین نے یہ بھی کہا ہے کہ نیا ضلع بننے سے چترال کابٹوارا ہو گا وزیر اعلی پرویز خٹک سے ایک نشت میں اس موضوع پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ خان صاحب کا وژن اور مشن ہی ایسے گروہوں کے خلاف جہاد ہے ہمارا نعرہ تبدیلی ہے اور یہ مفاد پر ست ٹولہ ’’ سٹیٹس کو‘‘ چاہتا ہے ان کا مفاد اجارہ داری اور داداگیری میں ہے ہم اجارہ داریوں کو توڑنا چاہتے ہیں دادا گیری کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور ہم یہ کام کر کے رہینگے نوٹی فیکشین کے لئے جو تجویز اور پر بھیجی جائیگی اس میں پورا پیکیج دیا جائے گا اس پیکیج کے دو حصے ہونگے پہلے حصے میں سب ڈویژن مستوج کوضلع کا درجہ دیکر ضلعی محکموں کا قیام الگ ضلع کونسل کا قیام اور اس کے دیگر لوازمات کا بلیو پبرنٹ ہو گا اس پیکیج کے دوسرے حصے میں دروش ،گرم چشمہ ،موڑکھو اورتور کھو کی نئی مجوزہ تحصیلوں کے لئے الگ الگ انتظامی ڈھانچہ تجویز کیا جائے گا حدود پہلے سے متعین ہیں ہیڈ کوارٹر بھی متعین ہیں آبادی بھی متعین ہے 2019ء کے بلدیاتی انتخابات کی حلقہ بندیاں نئی انتظامی یونٹوں کے حساب سے ہونگی اور یہ مشکل کام نہیں ہے خیبر پختونخوا کے انتظامی حکام کے پاس ایسے کاموں کا تجربہ بھی ہے اور ایسے اقدامات کی صلاحیت بھی ہے نئے ضلع،نئی تحصیلوں اور نئے انتظامی دفاتر کے قیام کی مخالفت کرنے والوں کا دکھ ہم کوبھی معلوم ہے پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی اس کا علم ہے اُن کا دکھ یہ ہے کہ اتنا بڑا کا م ہماری حکومتوں نے کیوں نہیں کیا؟ اس کام کا کریڈیٹ ہمیں کیوں نہیں ملا؟عمران خان اور پرویز خٹک نے جس طرح ریپڈٹرانزٹ بس کے منصوبے کو چھ ماہ میں مکمل کرنے کا بیڑا اُٹھایا ہے اسی طرح چترال کی نئی انتظامی یونٹوں میں تقسیم اور دو ضلعوں کے ساتھ6تحصیلوں کے لئے انتظامی ڈھانچہ کی فراہمی کا کام بھی اگلے 6مہینوں میں مکمل کر کے دکھا ئینگے بقول فیض
    ’’ جو فرق صبح پہ چمکے گا تاراہم بھی دیکھینگے ‘‘

  • error: Content is protected !!