Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلع اپرچترال …………محمد شریف شکیب

    November 9, 2017 at 1:24 pm

    چترال کی چھ لاکھ کی آبادی کا 48سال پرانا خواب بالاخر شرمندہ تعبیر ہوگیا۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے قائد تحریک انصاف عمران خان کے ہمراہ پولو گراونڈ چترال میں بالائی چترال کو انتظامی لحاظ سے الگ ضلع بنانے کا اعلان کردیا۔ جس کا سرکاری اعلامیہ آئندہ چند دنوں کے اندر جاری ہونے کا امکان ہے۔ ضلع اپرچترال کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی ہوگا۔ ساڑھے آٹھ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلا ہوا ضلع اپر چترال ماضی میں بھی لوئر چترال سے الگ ایک انتظامی یونٹ ہوا کرتا تھا۔ صوبائی حکومت نے اپرچترال کو نیا ضلع بنایا ہے یا بالائی چترال کی سابق ضلعی حیثیت بحال کی ہے۔ بات ایک ہی ہے۔ نہ ہی ضلع کا نام اپرچترال، چترال بالا، ضلع بونی، مستوج، تورکہو، موڑکہو، قشقار، کہو ، بیار یا ضلع ثانی رکھنے سے کوئی فرق پڑتا ہے۔ بنیادی مقصد بالائی چترال کی بکھری آبادی کو ان کے گھروں کے قریب بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنا ہے۔چترال کے دور دراز علاقوں سے تحریک انصاف کے جلسے میں آئے ہوئے لوگوں کا جوش و خروش عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے دیکھ لیا ہے۔عوامی جذبہ دیکھتے ہوئے انہوں نے مجمع کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ زبانی کلامی اعلانات پر یقین نہیں رکھتے۔ جو کہتے ہیں اس پر عملی کام کرکے دکھاتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ضلع اپرچترال کے قیام پر عملی کام کا آغاز کب ہوتا ہے۔ نئے ضلع کے لئے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر کی جگہ کا تعین، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او سمیت دیگر انتظامی افسروں کی تعیناتی سمیت بنیادی کام آئندہ دو چار مہینوں کے اندر شروع کئے گئے تو اگلے سال کے وسط تک بالائی چترال کا الگ انتظامی ڈھانچہ تشکیل پاسکے گا۔ صوبائی حکومت کو نئے ضلع کی دور افتادگی اور پسماندگی کے پیش نظر اسے کم از کم پانچ سال تک ٹیکس فری قرار دینا ہوگا تاکہ وہاں کے عوام کی مالی حالت بہتر ہوسکے۔ ضلعی سیکرٹریٹ کے لئے بونی کے سامنے کاغولشٹ کا وسیع و عریض میدان سب سے زیادہ موزوں ہے۔ جہاں ڈپٹی کمشنر، ضلع کونسل ،ناظم، تحصیل کونسل کا دفتر، ڈی پی او آفس، پولیس لائن، صوبائی حکومتوں کے دفاتر ، یونیورسٹی، پارک اور سٹیڈیم تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ کاغو لشٹ میں ہاوسنگ سکیم شروع کرنے کے لئے گذشتہ مالی سال کے بجٹ میں رقم بھی مختص کی تھی لیکن دو سال گذرنے کے باوجودہاوسنگ اسکیم پر عمل درآمد نہیں ہوسکا۔ ضلعی سیکرٹریٹ کے قیام سے ہزاروں کینال بنجر اراضی کاغو لشٹ کی آبادکاری کی راہ ہموار ہوگئی جو اب تک موڑکہو، مژگول، موردیر، کوشٹ، بمباغ، چرون، جنالکوچ اور بونی کے علاوہ استارو کے عوام کے لئے گرمائی چراگاہ کا کام دیتا ہے۔سب سے اہم مسئلہ نئے ضلع کی حلقہ بندی ہے۔ فی الحال ساڑھے چودہ ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلے علاقہ چترال کو قومی اسمبلی کی ایک اور خیبر پختونخوا اسمبلی کی دو نشستیں دی گئی ہیں۔ اب تین لاکھ کی آبادی اور آٹھ ہزار مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ضلع اپر چترال کو قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی مزید ایک نشست درکار ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ حکومت2018کے عام انتخابات سے قبل ضلع اپرچترال کو قومی اور صوبائی اسمبلی میں کتنی نمائندگی دیتی ہے۔ کیونکہ انہی نمائندوں کے ذریعے ضلع کے لئے ترقیاتی منصوبوں کا لائحہ عمل طے کرنا ہے۔ اپرچترال میں خواندگی کی شرح 80فیصد سے زیادہ ہے۔ اس تعلیمی شرح کے ساتھ وہاں کے عوام کو تعلیمی سہولیات اور روزگار کے مواقع بھی فراہم کرنے ہوں گے۔ موجودہ ضلعی ہیڈ کوارٹر میں بھی ملازمین کی اکثریت بالائی چترال سے تعلق رکھتی ہے۔ ان تجربہ کار ملازمین اور افسروں کو نئے ضلع میں منتقل کرنے کی صورت میں لوئر چترال میں انتظامی مشینری چلانے کے لئے افرادی قوت کا مسئلہ درپیش ہوسکتا ہے۔ صوبائی حکومت، پالیسی سازوں اور منتخب نمائندوں کو ان مشکلات کے تدارک کے لئے پیش بندی کرنی ہوگی۔پی ٹی آئی کی خصوصی نشست پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والی فوزیہ بی بی، عبدالطیف، رحمت غازی ، سلطان محمود اور دیگر رہنماوں نے چترال کو دو انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ چترالی قوم کے مسائل سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نئے ضلع کو پیش آنے والی ممکنہ مشکلات حل کرانے میں بھی اپنا کردار ادا کریں گے۔

  • error: Content is protected !!