Chitral Times

18th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مجھے کیوں نکالا۔خصوصی افراد کا شکوہ ……… محمد شریف شکیب

    November 7, 2017 at 7:22 pm

    خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے خواجہ سراوں کے لئے رہائشی کالونی کے قیام،ماہوار وظیفے کی فراہمی ، علاج معالجے کی سہولت اور تعلیم و تربیت کے لئے بیس کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سمیت جسمانی معذوری کا شکار افراد نے بھی صوبائی حکومت کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاہم خصوصی افراد نے مراعاتی پیکج سے ’’ مجھے کیوں نکالا‘‘ کاشکوہ بھی کیا ہے۔فلاحی تنظیم فرینڈز آف پیراپلیجک کے اس دلچسپ ردعمل کو مقامی اخبارات نے بھی کافی کوریج دی ہے۔ خصوصی افراد کا موقف ہے کہ پاکستان میں جسمانی طور پر معذور افراد کی تعداد مجموعی آبادی کا پندرہ فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں اقلیتی برادری کی تعداد چار فیصد اور خواجہ سراوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کرنے کے باوجود مرکزی اور صوبائی حکومتیں معذور افراد کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق خیبر پختونخوا میں معذور افراد کی مجموعی تعداد ایک لاکھ چار ہزار 498ہے۔ جن میں جسمانی طور پر معذورمردوں کی تعداد 31ہزار986,خواتین سولہ ہزار 859 اور بچوں کی تعداد بارہ ہزار 945 ہے۔بصارت سے محروم مردوں کی تعداد چھ ہزار پانچ سو اڑتیس، خواتین چار ہزار ایک سو انتالیس اور بچوں کی تعداد تین ہزار دو سو سولہ ہے۔ گونگے بہرے مردوں کی تعداد چھ ہزار آٹھ سو چھپن، خواتین تین ہزار نو سو تریالیس اور بچوں کی تعداد چار ہزار ایک سو پینسٹھ ہے۔ ذہنی بیماریوں میں مبتلا افراد میں مردوں کی تعداد پانچ ہزار سات سو سنتالیس، خواتین تین ہزار سات سو ستاسی اور بچوں کی تعداد تین ہزار چار سو سترہ ہے۔ صوبے کے پچیس اضلاع میں سب سے زیادہ معذور افرادسوات میں ہیں۔جن کی تعداد سولہ ہزار ایک سو بیانوے ہے لوئر دیر دس ہزار چار سو تیراسی معذوروں کے ساتھ دوسرے اوربٹگرام نو ہزار چھ سو بہتر معذور افراد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔تورغر،کرک، ایبٹ آباداور اپر دیر میں سب سے کم معذور افراد بستے ہیں جن کی تعداد بالترتیب 255، 335، 350اور454ہے۔پالیسی سازوں کو ان اعدادوشمار کی بنیاد پر کھوج لگانا چاہئے کہ بعض علاقوں میں معذور افراد کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ اور بعض علاقوں میں انتہائی کم ہونے کی کیا وجوہات ہیں۔ جسمانی طور پر معذور افراد کی تعلیم و تربیت اور انہیں روزگار کی فراہمی کے حوالے سے قوانین موجود ہیں۔ ویسٹ پاکستان انڈسٹریل اینڈ کمرشل ایمپلائمنٹ آرڈیننس مجریہ 1968میں تمام سرکاری اور صنعتی اداروں کو معذور افراد کے لئے دو فیصد کوٹہ مختص کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے بعد ڈس ایبل پرسنز ایمپلائمنٹ اینڈ ری ہیبلی ٹیشن آرڈیننس مجریہ 1981میں بھی اس کی توثیق کی گئی۔ لیکن عملی طور پر معذور افراد کو ہمیشہ نظر اندازکیاجاتا ہے۔ حکومت صنعتی یونٹوں اور غیرسرکاری تنظیموں کو بھی اس شرط پر کام کرنے کا این او سی جاری کرتی ہے کہ وہ معذور اور مقامی لوگوں کو کوٹے کے مطابق روزگار فراہم کریں ۔ مگر یہ شرائط کبھی پوری نہیں کی جاتیں اور نہ ہی حکومت کی طرف سے مروجہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہ کرنے پر کسی کو سزا دی گئی ہے ۔ خصوصی افراد صلاحیتوں کے اعتبار سے کسی سے کم نہیں ہوتے۔ بصارت، سماعت، ہاتھ، پاوں یا جسم کے کسی عضو سے محروم ہونے کے باوجود ان میں غیر معمولی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ انہیں مواقع فراہم کئے جائیں تو شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔اور وہ کئی کارہائے نمایاں سرانجام دے چکے ہیں۔اگر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا
    جائے تو وہ معاشرے پر بوجھ بن جاتے ہیں۔مجھے کیوں نکالا کا نعرہ سابق وزیراعظم کا تکیہ کلام تھا۔ اب ملک گیر شہرت اختیار کرگیا ہے۔ معذور افراد نے بھی اسی کو اپنے شکوے کا عنوان بنادیا۔ جس کا مقصد ارباب اختیار کی توجہ حاصل کرنا ہے۔ حالانکہ خواجہ سراوں کے لئے مختص فنڈ میں خصوصی افراد کا حصہ شامل نہیں۔ لیکن ان کا موقف یہ ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقات کی خبرگیری کرنی ہے تو خصوصی افراد بھی راہوں میں پڑے ہیں۔ انہیں نظر التفات سے ’’ کیوں نکالا‘‘ جارہا ہے۔

  • error: Content is protected !!