Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • کٹ گاڑیوں کے نام پر چترالی عوام کو تنگ نہ کیا جائے۔ملاکنڈ ڈویژن میں یکسان سلوک کیاجائے۔ایم پی ایز سلیم خان /سردار حسین

    November 6, 2017 at 10:51 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز )ضلعی انتظامیہ کی طرف سے جاری نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ڈاکومینٹیشن اخری مراحل میں داخل ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک تقریبا پانچ ہزار گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ ڈاکومینٹیشن مکمل کرلی گئی ہے۔ چترال پولیس کی طرف سے جاری ایک اعلامیہ کے مطابق ڈاکومینٹیشن کی تاریخ میں 15 نومبر تک کی توسیع دیکر گاڑی مالکان کو کو خبر دار کیا گیاہے کہ مقررہ تاریخ تک اپنی گاڑیوں کی کمپیوٹرائزڈ ڈاکومینٹیشن کرائیں بصورت دیگر ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائیگی۔ ذرایع کے مطابق اب تک تین سو سے زیادہ گاڑیاں کٹ گاڑیوں کی فہرست میں درج ہو گئی ہیں ۔جبکہ سینکڑوں دیگر کٹ گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑیوں کو ڈاکومینٹیشن کرانے سے کترارہے ہیں انکا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ اندراج کے بعد ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ یگا۔ انھوں نے صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیاہے کہ کٹ گاڑیوں کی بھی ڈاکومنٹیشن کا انتظام کیا جائے۔

    دریں اثنا ایم پی اے سلیم خان وپی پی پی کے ضلعی صدر سلیم خان اور ایم پی اے مستوج سردار حسین نے اپنے مشترکہ اخباری بیان میں ضلعی انتظامیہ ، جی او سی، کمشنر و ڈی آئی جی ملاکنڈ سے پرزور مطالبہ کیاہے کہ نان کسٹم پیڈ تمام گاڑیوں کی ڈاکومیٹیشن کی جائے۔ انھوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے جو بھی قانون لاگو ہوتا ہے ۔ اسکی عملدرآمد سب سے پہلے چترال میں کی جاتی ہے ۔جبکہ چترال کے عوام آمن پسند اور حکومت کی طرف سے جاری ہر احکامات کو ماننے اور اپنانے کیلئے سب سے پہل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چندسال پہلے انتظامیہ کی طرف بارہ بور بندوقوں کو جمع کرنے کی ہدایت کی گئی تو چترال کے عوام بلا کسی تعطل کے تمام ہتھیار چترال کے تھانوں میں جمع کرادئیے ۔ اب ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی ڈاکومینٹیشن کا مرحلہ آیا تو چترال کے عوام سب سے پہل کرکے اس میں شامل ہوگئے مگر انتظامیہ کی طرف سے کٹ گاڑیوں کے نام پر گاڑی مالکان کو ہراسان کیا جارہاہے ۔ جوکسی بھی صورت درست نہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ افغانستان سے نان کسٹم پیڈ گاڑیاں کٹ ہی آتی ہیں۔ اور یہاں چکدرہ ، سوات و ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں دوبارہ جوڑنے کے بعد لوگوں کو بیج دیا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ کٹ گاڑیاں ملاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع میں چل رہی ہیں ۔ مگر چترال کے عوام کو ہراسان کیا جارہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ گزشتہ زلزلہ و مختلف حادثات میں بھی کئی گاڑیوں کی باڈی کو نقصان پہنچا ہے ۔ مگر انتظامیہ اُن گاڑیوں کی ڈاکومنٹیشن کے بجائے مالکان کے خلاف اُلٹا پولیس کیس بنوارہی ہے۔ جو کہ چترالی عوام کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہے ۔ دونوں ایم پی ایز نے ذمہ داروں سے ملاکنڈ ڈویژن میں یکسان قانون لاگو کرنے اور کٹ گاڑیوں کے نام پر مالکان کو تنگ نہ کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے ان کیلئے کوئی خاطر خواہ منصوبہ بندی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • error: Content is protected !!