Chitral Times

23rd November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • بونی ، چترال میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے رجحانات کے تدارک کے سلسلے میں ایک روزہ سمینار

    November 6, 2017 at 12:41 am

    بونی ( نمائندہ چترال ٹائمز ) سب ڈویژن مستوج کے ہیڈ کوارٹر بونی میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تمام مقالہ نگاروں اور مقررین نے چترال میں خود کُشی جیسے قبیح فعل میں مسلسل اضافے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس حوالے سے پورے معاشرے کو سنجیدہ اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ سیمینار میں بتایا گیا کہ گزشتہ چھ مہینوں کے اندر سب ڈویژن مستوج میں 12خودکشیو ں کے واقعات رونما ہوئے ۔ جس میں اکثریت جوان  سال لڑکیوں کی تھی ۔ انھوں نے بتایا کہ آج کل الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی یلغار، غربت اور بے روزگاری ، گھریلیو حالات، بچوں اور بچیوں کی شادیوں میں ان کی رائے کا شامل نہ ہونا ، اولاد اور والدین کے درمیان فاصلہ بڑھنے کے ساتھ معاشرے کی بگاڑ نے جوان سال بچیوں کو اس ناسوز اور حرام فعل کو کرنے پر مدد گار ثابت ہوئے ہیں۔ جس کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو سنجیدگی کے ساتھ اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔او اس ناسور کو ختم کرنے کیلئے دنیاوی تعلیم کے ساتھ بچوں کو روحانی تعلیم و بہتر تربیت سے بہرہ ور کرنا ہوگا ۔ بچوں اور والدین کے درمیان فاصلے کو ختم کرکے دوستانہ ماحول میں تربیت دیکر بچوں میں اعتماد کو بڑھانا بھی انتہائی ضروری قرار دیا گیا ۔

    چترال میں بڑھتے ہوئے خود کُشی کے رجحانات کے تدارک کیلئے شندور ویلفئیر آرگنائزیشن ، جی بی اور لوکل گورنمنٹ تحصیل مستوج کے اشتراک سے ایک روزہ سمینار بونی میں منعقد ہوا ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر چترال یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بُخاری مہمان خصوصی اور تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف صدر محفل تھے ۔ بریگیڈیر ( ر) خوش محمد ، سابق ڈی ایچ او ڈاکٹر شیر قیوم ، ایس ڈی پی او محمد زمان ،تحصیل نائب ناظم فخرالدین ، ممبر ڈسٹرکٹ کونسل مولانا جاوید الرحمن ممبر تحصیل کونسل سردار حکیم ، ممتاز سوشل ورکر عنایت للہ اسیر مقامی علماء اور بڑی تعداد میں عمائدین علاقہ اور مرد و خواتین نے سمینار میں شرکت کی ۔ سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ۔ ڈاکٹر شیر قیوم ، بریگیڈیر ( ر ) خوش محمد ، ممبر تحصیل کونسل سردار حکیم اور استاد ظفراللہ نے اپنے مقالات میں کہا ۔ کہ خود کُشی پہلے مغرب میں بہت زیادہ تھی ۔ جبکہ اب اس کا رخ مشرق کی طرف ہو گیا ہے ۔ جس میں ہمارا ملک پاکستان بھی شامل ہے ۔ ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ والدین اور بچوں کے درمیاں بہت بڑی خلیج پیدا ہوئی ہے ۔ موبائل ، انٹر نیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دیگر سامان نے والدین اور اولاد کو ایک دوسرے سے بیگانہ کرکے رکھ دیا ہے ۔ فیس بُک بے لگام ہوچکی ہے ۔اور میڈیا بھی اس حوالے سے مناسب کردار ادا نہیں کرتا ۔ بلکہ ایسے پروگرامات کی طرف چترال کے بچے بچیاں مائل ہیں ۔ جو یہاں کے کلچر اور معاشرے سے بالکل میل نہیں رکھتے ۔ اوروہ بہت منفی اثرات بچوں پر چھوڑ جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ، کہ والدین اور بچوں کا باہمی سلوک محبت سے بھر پور اور دوستانہ ہونے کی بجائے انتہا پسندانہ ہوتا جارہا ہے ۔ اور ہر کوئی اپنی بات منوانے کیلئے حالات پر ڈٹ جانے کا طریقہ اپنا رہا ہے ۔جس سے خود کُشی جیسے واقعات جنم لے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ تعلیمی اداروں میں اگرچہ تعلیم پہلے کی نسبت اچھی ہے ۔ لیکن تربیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ہم اپنے بچوں سے گل مل کر زندگی گزارنے سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ الواعظ سلطان نگاہ ، مولانا دینارشاہ اور مولانا امیر نواز نے اسلامی پہلووں پر خودکُشی کے بارے میں اللہ اور رسول پاک کے ارشات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا ۔ کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں ۔ کہ وہ خود کُشی کرکے وقتی مشکل سے جان چھڑائیں گے ۔ وہ اُن کی لاعلمی اور بیوقوفی کی انتہا ہے ۔ کیونکہ خودکُشی کا ارتکاب کرنے والا اُ س جہاں میں بھی ہمیشہ یہی عمل دُہراتا رہے گا ۔ اور اللہ کے غضب کا مستقل سزاوار رہے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دُنیا مسلمان کیلئے مصائب و آلم کی جگہ ہے ۔ اسلئے یہاں وقتی مسائل پیش ہوں ۔ تو صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔ تاکہ اس مصیبت اور تکلیف کا بدلہ آخرت میں ملے ۔ لیکن جو لوگ صبر کی بجائے جذبات اور غصے کے گھوڑے پر بیٹھتے ہیں ۔ وہ دُنیا و آخرت دونوں میں بڑا خسارہ اُٹھاتے ہیں ۔ تقریب سے سینئر صحافی محکم الدین اور ڈی ایس پی مستوج محمد زمان بھی خطاب کیا ۔ اور خودکشی کے سلسلے میں اپنے سفارشات اور سفارشات سے حاضرین کو اگاہ کیا۔

    مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری نے اپنے خطاب میں کہا ۔ کہ خود کُشی کے 90فیصد وجوہات معاشی ہوتے ہیں ۔ چترال میں وسائل کی کمی ہے ۔ چند ملازمتیں پوری چترال کی آبادی کیلئے کافی نہیں ہیں ۔ چترال کے لوگ بہت کم وسائل میں بغیر محنت کے عیاشی کی خواہش رکھتے ہیں ۔ جسے بدل دینے کی ضرورت ہے ۔ا نہوں نے کہا ۔ کہ ہم موبائل ، انٹر نیٹ ، ٹی وی کو نہیں روک سکتے ، لیکن ہم کونسلنگ کرکے بچے بچیوں کو بہتر راستہ بتا سکتے ہیں ۔اور تعلیمی ادارے اس میں اہم رول ادا کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ شکر ہے ۔ کہ چترال اخلاقی اور مذہبی طور پر اب بھی بہتر ہے ۔ بہت زیادہ بگاڑ نہیں آیا۔ اب بھی اس کو سنوارا جا سکتا ہے ۔ بشرطیکہ چترال کے تعلیمی ادارے ، سماجی حلقے اور بلدیاتی ادارے سب مل کر سے اس کیلئے کا م کریں ۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر نے کہا ۔کہ چترال یو نیورسٹی خود کُشی کے حوالے سے چترال بھر میں سروے کرے گی ۔ تاکہ اس کے تدارک کے سلسلے میں کوئی قدم اُٹھایا جا سکے ۔ تحصیل ناظم مستوج مولانا محمد یوسف اور صدر شندور ویلفئیر آرگنائزیشن محمد علی مجاہد نے سمینار کو کامیاب بنانے پر شرکاء کا شکریہ دا کیا ۔ اور اس مر کا اظہار کیا ۔ کہ آیندہ بھی اس قسم کی آگہی سمینار منعقد کئے جائیں گے ۔ بعد آزان ڈاکٹر بادشاہ منیر بخاری ، سیف الرحمن عزیز ، بریگیڈیر خوش محمد خان ، محکم الدین ،گل حماد فاروقی ، استاد عنایت اللہ ، جمشید احمد ، سکول ٹیچر آمنہ ناصر ، ایس ڈی پی او محمد زمان کو اُن کی خود کُشی کے تدارک کے حوالے سے شاندار کارکردگی کے اعتراف میں شیلڈ دیے گئے ۔

  • error: Content is protected !!