Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مستوج خاص میں احتجاجی جلسہ ، مستوج ضلع کی بحالی میں رکاوٹ بننے کی کوشش نہ کی جائے۔۔عمائدین علاقہ

    November 5, 2017 at 11:03 pm

    مستوج( نمائندہ چترال ٹائمز ) مستوج خاص میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا گیا۔ جس میں مستوج خاص کے علاوہ ملحقہ علاقوں کے کثیر افراد نے شرکت کی ۔ جلسہ میں اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 48سال بعد مستوج ضلع کی حیثیت دوبارہ بحال کرنے کی کوششوں کو سبوثاژکرنے اور اس درینہ مسئلہ کو دوبارہ سرد خانے میں ڈالنے کیلئے بعض شر پسند عناصر نام کو ایشو بنا کر اس راستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مقرریں نے کہاکہ اس ضلعے کی بحالی کیلئے سب ڈویژن کے تمام عوام نے بھر پور کردار ادا کیا ہے۔مگر آج چند عناصر اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور مختلف اخباری بیانات خصوصا سوشل میڈیا میں اس کے خلاف متضاد بیانات دے رہے ہیں ۔ جو کسی صورت چترالیوں کو زیب نہیں دیتا ۔ انھوں نے کہا کہ انگریزوں کے زمانے سے مستوج کی اپنی ایک حیثیت رہی ہے۔ پاکستان بننے کے بعد 1953سے 1969تک مستوج ایک الگ ضلع تھا ۔ اور اب تک تحصیل مستوج، سب ڈویژن مستوج نا م کے ساتھ کسی کا کوئی اعتراض نہیں تھا ۔ مگر اب ضلع بنانے کی بات جب چلی ہے تو مختلف بہانوں سے اس کوشش کو سوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جن لیڈران کو اپر چترال ہی سے دلچسپی ہے تو وہ مستوج کے ساتھ اپر چترال بھی لگاکر اپنا شوق پورا کرسکتے ہیں۔ بصورت دیگر اس نام کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انھوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جن پارٹی رہنماؤں کا مستوج نام کے ساتھ اتنی مخالفت ہے تو وہ آئندہ اس علاقے سے ووٹ مانگنے کیلئے بھی زحمت نہ کریں۔ اور ان لیڈران کی رویوں سے ہم یہ سمجھنے پر مجبور ہیں کہ ان کا اس علاقے کے تقریبا ساٹھ ہزار آبادی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ جلسہ کے مقرریں نے چئیرمین عمران خان، وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور پی ٹی آئی کی صوبائی و ضلعی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اپنے گزشتہ دورہ مستوج کے موقع پر مستوج قلعہ میں عوام کے ساتھ وعدہ کئے تھے کہ وہ دوبارہ مستوج کا دورہ کرکے ضلع کی بحالی کا اعلان کریں گے۔ جس کی پاسداری کرتے ہوئے وہ 8نومبر کو چترال کا دورہ کررہے ہیں۔ لہذا کسی بھی لیڈر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مستوج نام کی مخالفت کریں ۔ انھوں نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نام کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو بھر پور احتجاج کیا جائیگا۔ جلسہ سے ممبر تحصیل کونسل مستوج محسن حیات، نائب ناظم مستوج وی سی عبد الرحمن ، چےئرمین عزیر احمد کہوژ و دیگر نے خطاب کیا۔

  • error: Content is protected !!