Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • آلو ٹماٹر کے مختلف درجات ………..محمد شریف شکیب

    November 5, 2017 at 7:14 pm

    سنا ہے کہ بھارت کے بعد افغانستان اور ایران نے بھی ہم پر ٹماٹر بند کردیا ہے۔ پانی بند کرنے والی بات شہدائے کربلا کے حوالے سے مشہور ہے کہ یزیدی فوج نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثاروں پر دریائے فرات کا پانی بند کردیا تھا۔ بھارت کی طرف سے ڈیم بناکر پاکستان کا پانی روکنے اور سیلاب کی صورت میں پانی پاکستان کی طرف چھوڑنے کی باتیں بھی میڈیا پر سننے کو ملتی رہی ہیں۔اب پہلی بار ٹماٹر اور پیاز کی برآمد روک کر بھارت نے ہمارے نوالوں کا ذائقہ چھیننے کی کوشش کی ہے۔ پابندی صرف بھارت کی طرف سے ہوتی تو ہم اسے اپنے ایمان کا امتحان قرار دے کر قبول بھی کرلیتے۔ لیکن ہمارے پڑوسی مسلمان ملکوں ایران اور افغانستان نے بھی ہم نے ٹماٹر اور پیاز بند کرکے ہمارے دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو بلاشبہ ہمارے لئے بڑے دکھ کی بات ہے۔ یہ ساری باتیں سبزی منڈی کے اڑھتیوں اور سپلائی کنندگان نے پھیلائی ہیں۔ جس کی آڑ میں ٹماٹر کی قیمت دو سو روپے اور پیاز کی قیمت سو روپے فی کلو گرام کردی گئی ہے۔ اس خدشے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کہ اپنوں نے ہی زیادہ منافع کمانے کی خاطر سبزیاں ذخیرہ کی ہوں اور ہماری دلجوئی کے لئے اسے دشمن کی کارستانی قرار دے رہے ہوں۔ بات اگر ٹماٹر پیاز تک محدود رہتی تو لوگوں کو کسی حد تک قرار آجاتا۔ سبزی نام کی ہر چیز آج کل سونے کے دام بک رہی ہے۔ آلو اسی روپے تو بھنڈی سوروپے کلو، کدو پچاس روپے تو گاجر ستر روپے کلو، کریلہ اور مٹر تو سبزی ممنوعہ بن گئی ہیں کیونکہ مٹر ڈھائی سو اور کریلہ دو سو روپے کلو فروخت ہورہے ہیں جن کی قیمت سن کر ہی جھرجھری آتی ہے۔ دالیں پہلے ہی عام آدمی کی قوت خرید سے باہر ہوگئی تھیںیہ منہ اور مسور کی دال والی کہاوت تو سنی تھی۔ اب یہ کہاوت اپنے آپ پر صادق آنے کا گمان ہوتا ہے۔اور بندہ منہ ٹٹول کر دیکھتا ہے کہ کہیں منہ ٹیڑھا تو نہیں ہوا۔ اچھے دنوں میں سبزی فروش تازہ اور سالم ٹماٹر، پیاز، گاجر، آلو اور دیگر سبزیوں کو الگ کرکے خراب اور ناقص مال غریبوں میں تقسیم کرتے تھے۔ اب غریبوں والا مال بھی دو نمبر اور تین نمبر مال کے نام سے فروخت کیا جاتا ہے۔ اپنی جیب کے مطابق سبزی خریدنے دکان یا منڈی جانے والے لوگ پہلے تین اور دو نمبر کا ریٹ پوچھتے ہیں۔ نمبر ایک چیز کی قیمت خریدنے کی نیت سے نہیں بلکہ اپنی معلومات میں اضافے کے لئے پوچھی جاتی ہے۔بھارت کی طرف سے ہمارا دانہ پانی بند کرنے کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ وہ آج بھی سلطان محمود غزنوی، محمد غوری اور محمد بن قاسم کے علاوہ اورنگزیب عالم گیر وغیرہ کا غصہ ہم پر نکال رہے ہیں۔ لیکن ایران اور افغانستان کس خوشی میں ہمارا چولہا ٹھنڈا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی۔ ہم نے افغانیوں کو چالیس سال تک اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ اب بھی لاکھوں افغانی یہاں ایسے دندناتے پھیر رہے ہیں جیسے یہ ان کی خالہ جی کا گھر ہو۔ آج بھی اناج، چاول، دالیں، مصالحہ جات اور تن ڈھانپنے کا سامان سمیت ہر چیز پاکستان سے ہوکر جاتی ہے۔ اگر چمن اور طورخم کی سرحد ایک مہینے کے لئے بند کردی جائے تو آدھے افغانستان میں قحط کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ افغان حکومت کو بھی معلوم ہے کہ سبزیوں کی ترسیل روکنے سے پاکستان کے عام شہری ہی متاثر ہوں گے۔ اشرافیہ تو سونے چاندی کے دام بھی ٹماٹر پیاز اور لہسن خرید سکتا ہے۔ جو لوگ اپنے گھوڑوں، کتوں اور بلیوں کو
    مربے، پیزہ اور شوارمہ کھلاتے ہیں ان کے لئے سبزیوں، دالوں اور پھلوں کی قیمتوں میں اضافہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اب شاید بدقسمت عام آدمی بھی حکمرانوں کے لئے بے معنی ہوگیا ہے۔ اس صورتحال میں بھی اگر قوم کی قیادت کرنے والے یہ اپیل کریں کہ ملکی معیشت بحران سے دوچار ہے۔ عوام قربانی کے بکرے کی روایت برقرار رکھتے ہوئے ظلم و زیادتی مزید کچھ عرصہ برداشت کریں۔ تو یہ پاگل قوم ناقابل یقین برداشت کا مظاہرہ کرسکتی ہے۔ زخموں پر نمک اس وقت پڑتا ہے کہ حکمران منہ پھاڑ کر معیشت مستحکم ہونے ، قیمتوں میں استقلال، بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے دعوے کرتے ہیں۔حکمران بھی جانتے ہیں کہ ان باتوں سے غریب لوگوں کو چڑ ہے مگر قہر درویش برجان درویش کے مصداق وہ زیادہ سے زیادہ اپنا ٹی وی توڑ کر اپنا مزید نقصان کریں گے یا اپنا سرپیٹ کر کم ظرف لوگوں کو حکمران بنانے کا ماتم ہی کرسکتے ہیں۔

  • error: Content is protected !!