Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • داد بیداد ………رُکن اسمبلی کا اصل کام ……… ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

    November 5, 2017 at 7:10 pm

    سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران اپنے تاثرات میں کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کا اصل کام قانون سازی اور پالیسی ہے گلی محلوں میں نالیوں کی پختگی ،سڑک اور پل بنا نا ارکان اسمبلی کا کام نہیں اگر چہ جج کا تبصرہ کسی حکم کا درجہ نہیں رکھتا تاہم اخبار نویس کے تجز ئیے اور سیاسی لیڈر کے بیان سے کئی گنا زیادہ اہمیت رکھتا ہے جسٹس اعجاز افضل کا کردار مشرف دور میں عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں نمایاں رہا ہے انہوں نے حکومت کاساتھ دینے کے بجائے ججوں کا ساتھ دیا وکلا ء کا ساتھ دیا جن لوگوں کی عمریں 1970 ؁ء کے انتخابات کے سال 15 برس سے زیادہ تھیں وہ لوگ جانتے ہیں کہ اس زمانے میں اراکین اسمبلی میو نسپل کمیٹی کے دفتر میں بیٹھ کر 5 لاکھ روپے اور 6 لاکھ روپے کی چھوٹی چھوٹی سکیموں کے ٹینڈر نہیں کرواتے تھے سی اینڈ ڈبلیو کے دفتر میں جا کر کو ٹیشن نہیں کرتے تھے ڈپٹی کمشنر اور ایس پی کے کے دفتروں کوطواف نہیں کرتے تھے جن لوگوں نے پشاور کے ارباب نور محمد خان ، سیف الرحمن کیانی ، حیات محمد خان شیر پاؤ کا دور دیکھا تھا ان کو یا د ہوگا کہ اُس دور میں سرکاری حکام ارکان پارلیمنٹ کی کتنی عزت کرتے تھے ؟ وجہ یہ تھی کہ ارکان پارلیمنٹ کا ذاتی مفاد یا کاروبار رکارسرکاری افیسروں کے رحم و کرم پر نہیں ہوتا تھا اُن کی کمزوری سرکاری حکام کے قدموں میں نہیں ہوتی تھی چارسدہ کے حاجی شیر دل خان اسمبلی کے ممبر تھے کھدر کا کپڑا پہنتے تھے مگر رعب داب میں بڑے بڑے افیسروں کومات دیتے تھے اس زمانے میں چارسد ہ تحصیل ہوا کرتی تھی عبدا اللہ صاحب چار سدہ کے اسسٹنٹ کمشنر تھے اور شیخ بمبار کہلاتے تھے خالد منصور پشاور کے ڈپٹی کمشنر تھے ایسے ایسے افسران حاجی شیر دل خان کے گھر پر حاضری دیکر اُن سے رہنما ئی حاصل کرتے تھے کیو نکہ نالیوں کی پختگی میں ارکان اسمبلی کا کوئی حصہ نہیں تھا ارکان اسمبلی مالی بدعنوانیوں میں ملوث نہیں ہوتے تھے اتالیق جعفر علی شاہ چترال سے قومی اسمبلی کے ممبر تھے وہ ڈپٹی کمشنر سے ملنے نہیں جاتے تھے بلکہ ڈپٹی کمشنر اُن سے ملنے آتا تھا وجہ یہ تھی کہ وہ پالیسی دینے والے تھے قانون سازی میں حصہ لینے والے تھے ٹینڈر اور کوٹیشن کھولنے والے نہیں تھے جولائی 1977 ؁ء میں عزت والے ارکان اسمبلی کی آخر ی اسمبلی ٹوٹ گئی اور آئین معطل ہوا 8 سال بعد 1985 ؁ء میں غیر جماعتی انتخابات ہوئے اسمبلی کے اندر مسلم لیگ بنائی گئی مسلم لیگ میںآنے والوں کو 50 لاکھ روپے کے فنڈ دید یے گئے پھر ہر حکومت نے اس میں اضافہ کیا اب رکن اسمبلی کو 10 کروڑ روپے کا فنڈ ملتا ہے وہ ٹینڈر کھو لتا ہے کو ٹیشن کھولتا ہے سکیمیں تقسیم کرتا ہے اس کا درجہ قانون سازی کے درجے سے کم تر ہو کر سکیل 14 کے سب انجینئر اور سکیل 17 کے اسسٹنٹ ڈائر یکٹر یا سکیل 16 کے تحصیل میو نسپل افیسر کے مساوی رہ گیا ہے اب رکن اسمبلی کے مجبوری ہے کہ وہ ڈپٹی کمشنر کو سلام کر ے ایس پی کی منت سماجت کرے ایگز یکٹیو انجینئر کے دفتر کا بار بار طواف کرے گاؤ ں ، گلی اور محلہ کی سطح پر چھوٹے چھوٹے مسائل میں اُلجھنا بھی اس کی مجبوری ہے اس لئے رکن اسمبلی کی وہ عزت نہیں رہی جو 1970 ؁ء کے عشرے میں تھی سینئر صحافی اور وکلاء اس بات پر اکثر بحث کرتے ہیں ارباب فکر و دانش کا ایک طبقہ کہتا ہے کہ جنرل ضیا ء لحق نے ارکان اسمبلی کو ترقیاتی سکیموں میں حصہ دے کر ان کی عزت میں اضافہ کیا لوگ ان کی محتا ج ہوگئے اب وہ سکیمیں تقسیم کرتے ہیں اس لئے ان کی عزت بڑھ گئی ہے احباب کا ایک حلقہ ایسا بھی ہے جو اس کے برعکس رائے رکھتا ہے اس طبقے کا خیال یہ ہے کہ جنرل ضیا ء الحق نے سیا ستدانوں کو بد نام کر نے کے لئے ان کو پیسے دےئے فنڈ دئیے ترقیاتی سکیموں میں حصہ دیا اس کا فائد ہ سیاستدانوں کو نہیں ہوا بلکہ اسٹبلشمنٹ کو فائد ہ ہوا پہلے کرپشن کا الزام صرف بیوروکریسی پر لگتا تھا اب کرپشن کا الزام پہلے سیاستدانوں پر لگتا ہے سیاستدانوں کوپکڑنے کے بعد بیوروکریسی کی باری آتی ہے جنرل ضیا نے جس طرح ، علما ء ، مساجد اور مدارس کو بدنام کیا اس طرح انہوں نے سیاستدانوں اور ارکان پارلیمنٹ کو بھی داعذار کر دیا اب یہ داغ کبھی نہیں دُھلے گا مر زا غالب کا لاجواب شعر ہے
    بھا گے تھے بہت سو اس کی سزا ہے یہ
    ہو کر اسیر دا بتے ہیں راہز ن کے پاؤں

  • error: Content is protected !!