Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ملکی معیشت کے بارے میں عوام کو تاریکی میں رکھنے کی سازش…..پروفیسر رحمت کریم بیگ

    November 4, 2017 at 6:11 pm

    جس کھیت سے دھقان کو۔۔۔۔ملکی معیشت کے بارے میں عوام کو تاریکی میں رکھنے کی سازش…..پروفیسر رحمت کریم بیگ

    ہمارا ملک اس وقت ایک سنگین مالی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے اور غیر جانبدار ماہرین معاشیات کے تجزئے کے مطابق ہماری معاشی حالت وہ نہیں جیسی دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے یہ ابھی نہ معاشی بحران سے نکلا ہے اور نہ ملک کو درپیش توانائی کا بحران کم ہوا ہے۔ بیرونی قرضوں میں اضافہ ہوا ہے اج سے پانچ سال پہلے ہماری درامادات پینتیس ارب ڈالر تھیں جو اس دوران بڑھ کر پینتالیس عرب کے قریب پہنچ چکی ہیں اور در امدات میں ہونے والا یہ اضافہ 28 فیصد کی شرح سے ہو رہا ہے اور پانچ سال پہلے ہماری برامدات پچیس عرب ڈالر کے برابر تھیں اور اب یہ گھٹ کر بیس عرب ڈالر تک گر چکی ہے اور یہ کمی بیس فیصد کے تناسب سے ہوتی جارہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ برامدات کم ہوتی جارہی ہیں اور درامدات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت گرتی جاتی ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیل زر میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے زخائر کا اصل زریعہ بھاری شرح سود پر لئے گئے قرضے ہیں لیکن باوجود قرض لینے کے بھی یہ ذخائر تیزی سے کم ہورہے ہیں گذشتہ چند مہینوں کے اعدادوشمار دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہمارے بیرونی کرنسی کے ذخائر اینس ارب ڈالر سے کم ہوکر سترہ ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور اگر ساتھ ہی تیل کی قیمت بڑھتی رہی تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اگلے سال ہم پھر کشکول گدائی لیکر ائی۔ ایم۔ ایف کے دربار کا رخ کرنے پر مجبور ہوجایءں اور ہم ایک ایسی قوم ہیں کہ نئی قرض لیکر پرانے قرضوں کا سود ادا کرنے جارہے ہیں

    ذیل میں پچھلے ماہ کے دوران ہماری برامدات اور برامدات کا ایک مختصر نقشہ دینا چاہتا ہوں جو میں پاکستان سٹاک اکسچینج کے روزانہ نشر ہونے والی خبر نامے کو غور سے سن کر تیار کر چکا ہوں۔
    27.01.17 کے دن: برامدات : 16000میٹرک ٹن۔درامدات: 79000میٹرک 9000
    31.01.17 کے دن :برامدات میٹرک ٹن ۔۔۔۔ درامدات:8800میٹرک ٹن
    : 02.02.17 برامدات:32400 میٹرک ٹن۔۔ درامدا ت87000 میٹرک ٹن
    03.02.17 : برامدا ت: 7000میٹرک ٹن ۔درامدات :120000 مٹرک ٹن
    8.02.17: برامدات29800:مٹرک ٹن۔درامدات:146000 مٹرک ٹن
    9.02.17: برامدات: 33000مٹرک ٹن۔ درامدات:180000 مٹرک ٹن
    13.02.17: برامدات:43000 مٹرک ٹن۔ درامدات:118000 مٹرک ٹن
    14.02.17: برامدات: 11000 مٹرک ٹن ۔۔ درامدات :124000 مٹرک ٹن
    16.02.17: برامدات: 31000 مٹرک ٹن۔۔ درامدات: 126000 مٹرک ٹن
    24.02.17: برامدات: 47000 مٹرک ٹن۔۔درامدات: 141000مٹرک ٹن
    26.09.17: برامدات: 40000 مٹرک ٹن۔۔ درامدات: 101000 مٹرک ٹن
    27.09.17 : برامدات: 25000 مٹرک ٹن۔۔درامدات:104400مٹرک ٹن

    اپ با شعور لوگ ہیں اور اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت ہمار ا تجارتی توازن کیا ہے ؟ معیشت کس زبوں حالی کا شکار ہے ؟ اور ہم کتنے خسارے میں جارہے غربت ہیں ۔ اسٹاک ایکس چینچ میں اضافے کی بات الگ ہے اس سے ملکی معیشت اور عام ادمی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا اصل چیز ہماری برامدی تجارت کا موازنہ جو دن بہ دن گرتی جاری ہے اور ہماری ادائیگیوں کا توازن گر رہی ہے۔ عام ادمی کی معیار زندگی میں کتنی بہتری اچکی ہے؟ یہآپ سب جانتے ہیں چالیس فیصد سے زیادہ لوگ خط سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کی مستیوں کا کیا حال اور کیا معیار قایئم ہے؟ اپ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اپنے حکمرانوں کے دعو وءں کی اصل حقیقت جان سکتے ہیں کہ حکمران اس وقت کتنا جھوٹ بول رہے ہیں

  • error: Content is protected !!