Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ہزہائنس دی آغا خان کو ایشیا سوسائٹی کی جانب سے گیم چینجر لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈدیا گیا 

    November 2, 2017 at 10:15 pm

    کراچی( چترال ٹائمز رپورٹ ) ’’کسی بھی گلوبل کمیونٹی کا کوئی بھی رہنما صرف ایک چیز کے لیے امید کرسکتا ہے اور دعا کرسکتا،‘‘یہ بات آغا خان نے نیو یارک سٹی، امریکا میں یکم نومبر،2017 کوایشیا سوسائٹی کی جانب سے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ وصول کرتے وقت کہی۔ نیویارک میں منعقد ہونے والے ایشیا سوسائٹی کے گیم چینجر ایوارڈ کی تقریب میں یہ سب سے زیادہ باعزت ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ سالانہ بنیادوں پر ایسے افراد، اداروں اور تحریکوں کو دئیے جاتے ہیں جنہوں نیکاروبار، فنون ،ثقافت اور تعلیم کے شعبوں کیبارے میں ایشیا سوسائٹی کی پالیسی کے بنیادی اصولوں کے حوالے سے متاثر کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہو، آگاہی فراہم کی ہو اور حقیقی قیادت کا مظاہرہ کیا ہو۔

    ایوارڈ وصول کرنے کے موقع پرپرنس کریم آغا خان نے کہا،’’دی آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) کے مختلف اقدامات کے ذریعے ’’ایشیا اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد کی زندگی کو بہتر بنایا گیا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا،’’کسی بھی گلوبل کمیونٹی کا کوئی بھی رہنما صرف ایک چیز کے لیے امید کرسکتا ہے اور دعا کرسکتا وہ ہے امن، ہر برادری میں امن، دنیا کے ہر ملک میں امن تاکہ مرد اور عورتیں محفوظ زندگی بسر کر سکیں، حوصلے، امیداور دانشمندی سے کام لے کرمضبوط بنیادوں پر اپنا مستقبل تعمیر کر سکیں۔ یہ اقدار، میری برادری کے رہنماؤں، میرے اداروں اور خو د میرے لیے قریبی طور پر جڑے ہوئے ہیں اور آنے والی کئی دہائیوں تک جڑے رہیں گے۔‘‘اس موقع
    پر ان کے بھائی پرنس امین آغا خان بھی موجود تھے۔

    پرنس کریم آغا خان ایوارڈ وصول کرنے کی تقریب کے موقع پر ممتاز حاضرین سے خطاب کر رہے تھے جو انہیں WETAٹی وی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور صدر شیرون راک فیلر نے سابق سینیٹر کی اہلیہ ’’جے‘‘ راک فیلر اور نیو یارک سٹی کے سابق میئر مائیکل بلومبرگ کے ہمراہ پیش کیا۔یہ موقع بطور شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے امام کے طور ان کی ڈائمنڈ جوبلی کا موقع بھی تھا۔ اس سال کے آغاز میں بھی، ان کو فارن پالیسی ایسوسی ایشن میڈل پیش کیا گیا تھا اور انہوں نے آرکیٹکچرل لیگ آف نیو یارک کے صدر سے میڈل اور اقوام متحدہ
    فاؤنڈیشن کا چیمپئن آف گلوبل چینج ایوارڈ بھی وصول کیا تھا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلومبرگ نے کہا،’’دی آغا خان نیٹ ورک کے ذریعے اور ایک روحانی پیشوا کے طور پر اپنے کردار کے ذریعے،انہوں نے ایک زیادہ برداشت رکھنے والی اور پرامن دنیا کی تعمیر میں کئی دہائیوں تک کام کیا ہے۔’’بلومبرگ نے مزید کہا،’’انہوں نے ایسے شعبوں اور مسائل پر زیادہ توجہ دی ہے جن پر اس کی زیادہ ضرورت تھی اور ان میں موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے غیر محفوظ برادریوں کا تحفظ، اور نئی مہارتیں حاصل کرنے میں نوجوان لوگوں کی مدد کرنا شامل ہیں تاکہ وہ کامیاب ہو سکیں۔ وہ پبلک۔ پرائیویٹ شراکت داری کے چیمپئن بھی رہے ہیں تاکہ معاشی مواقع کو فروغ دیا جاسکے، عوام کی صحت کو بہتر بنایا جا سکے اور تعلیم کو پھیلایا جا
    سکے۔‘‘

    ایشیا سوسائٹی کی صدر جوسیٹ شیران نے بھی آغا خان کو خراج تحسین پیش کیا اور AKDN کے کردار اور افغانستان اور تاجکستان میں ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ جوسیٹ شیران نے کہا،’’ہم آپ کے کام کی قوت سے واقف ہیں؛ میں آپ کے نیٹ ورک کی قوت سے واقف ہوں ؛ میں جانتی ہوں کہ آپ نے کیا تعمیر کیا ہے۔ ہم سب کو پر عزم لوگوں کے مزید نیٹ ورکس کی ضرورت ہے تاکہ وہ اس دنیا کو اچھی جگہ بنا سکیں، یہ وہ دنیا ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ قائم ہے، اور یہ وہ بات ہے جس کی عزت افزائی کے لیے آج ہم یہاں موجود
    ہیں۔‘‘

    دی آغا خان کے علاوہ جن آٹھ دیگرافراد کو ایشیا سوسائٹی کے گلوبل نیٹ ورک نے ایشیا اور دنیا کے مستقبل کے لیے مثبت فرق پیدا کرنے اور تبدیل کردینے والے والے کے طور پر اس سال منتخب کیا تھا ان میں دنیا بھر میں تفریح کے ذریعے تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سسمی اسٹریٹ، بھارت کے غریب لوگوں کی جانب توجہ دلانے کے لیے اداکار دیو پٹیل؛ افغانستان میں صدمات کے علاج کے لیے ریپ میوزک کے استعمال پر سنیتا علی زادے؛ کیمبوڈیا میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی جانب توجہ مبذول کرانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈالنے پر لینگ آؤچ؛چین میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب برپا کرنے پر جین لیو؛ موسیقی کے فن کی سرحدیں نہیں ہوتیں، اس کا اظہار کرنے پر وو ٹانگ، مقامی برادریوں کی بہبود کے لیے عالمی ریٹیل ایمپائر قائم کرنے پر تداشی یانائی؛ اور نہایت کم عمری میں صنفی رکاوٹوں کو توڑنے پرعقابوں کی مشہور شکاری ایشولپن نرگیو شامل تھے۔اس موقع پر موسیقی میں ایشیا کی وراثت کا مظاہرہ بھی کیا گیا جو آغا خان میوزک انیشیٹو انسیمبل کے ہمایوں سخی، سالار نادر اور وو مان نے پیش کیا۔ وو مان اک استاد موسیقار ہیں جنہوں نے خود اپنی ثقافتی جڑوں سے موسیقی تیار کی تھی۔

    His Highness the Aga Khan being presented Asia Society’s 2017 Asia Game Changer Lifetime Achievement Award by Michael Bloomberg and Sharon Rockefeller.

     

  • error: Content is protected !!