Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • قائد پی ٹی آئی عمران خان اور وزیراعلیٰ 8نومبر کو چترال پولوگراونڈ میں جلسہ عام سے خطاب کرینگے۔ رہنما پی ٹی آئی

    November 1, 2017 at 8:22 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ایم پی اے چترال اور پالیمانی سیکرٹری برائے سیاحت بی بی فوزیہ اور پارٹی رہنما عبداللطیف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ قائد تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلی پرویز خٹک کی طرف سے متوقع اپر چترال ضلع کا اعلان چترال کے لوگوں کیلئے ایک بہت بڑا تحفہ ہے ۔ اور اس سے چترال کے کئی مسائل حل ہوں گے ۔ چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ۔ کہ موجودہ حکومت نے چترال کا پچاس سالہ دیرینہ مسئلہ حل کر دیا ہے ۔ جس کا لوگ شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ۔ کہ قائد پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلی 8نومبرکو چترال کا دورہ کریں گے ۔ جبکہ اس سے قبل 7نومبر کا اعلان کیا گیا تھا ۔ عبد اللطیف نے کہا ۔ کہ چترال کے سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ چترال کی روایات کے مطابق آنے والے مہمانوں کا استقبال کیا ہے ۔ اور اب بھی یہ اُمید ہے ۔ کہ تمام پارٹیوں کے قائدین اور کارکناں پارٹیوں سے بالاتر ہو کر اپنے مہمانوں کا فقیدالمثال استقبال کریں گے ۔ انہوں نے متوقع ضلع کے بارے میں خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ہمیں توہمات کا شکار ہونے کی بجائے اُس کے بہتر مستقبل کی امید رکھنی چاہیے ۔ اس سلسلے میں کام ہو چکاہے ۔ اور باقیماندہ کام ضلع کے اعلان کے بعد کیا جائے گا ۔ انہوں کہا ۔ کہ ضلع کے اعلان کے بعد پی سی ون تیار کیا جائے گا ۔ اور اُسکے مطابق اقدامات کئے جائیں گے ۔ بی بی فوزیہ نے کہا ۔ کہ کسی کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ۔آنے والی حکومت بھی تحریک انصاف کی ہوگی ۔ اور ضلع کے ترقیاتی کام تحریک انصاف ہی انجام دے گی ۔ دونوں رہنماؤں نے ضلع کیلئے کوشش کرنے پر قائد تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلی کو خراج تحسین پیش کیا ۔ اور کہا ۔ کہ خان صاحب کی کوششوں سے ہی ضلع کا قیام ممکن ہونے جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ضلع کا نام اپر چترال ہونا چاہیے ۔ کیونکہ اس کے بغیر چترال والوں کی شناخت میں مسائل پیدا ہوں گے ۔ کیونکہ چترال کے تمام لوگ منفرد تہذیب و ثقافت کے حامل ہیں ۔ اس لئے چترال کے لفظ کی بجائے کوئی اور نام نہ صرف اس کے شناخت ختم کرنے کے مترادف ہو گا ۔ بلکہ اس کے کلچر کو بھی مٹانے کوشش قرار دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ اپر چترال کو قدرت نے پانی کے ذخائر سے مالا مال کیا ہے ۔ اور حکومت 300میگاواٹ ہائیڈل پاور سٹیشن صرف دو سائٹس میں تعمیر کر رہا ہے ۔ مستقبل میں اس ضلع کیلئے اس کی رائیلٹی ہی کافی ہوگی ۔ اس لئے زیادہ پریشان ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں ۔

     

  • error: Content is protected !!