Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نئے ضلع کی سیاسی نوعیت کا اعلان علاقے کے لوگوں کو مزید مسائل سے دورچار کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا

    November 1, 2017 at 8:12 pm

    متوقع نئے ضلع کی سیاسی نوعیت کا اعلان علاقے کے لوگوں کو مزید مسائل سے دورچار کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا ۔۔رہنماAPML

    چترال ( محکم الدین ) آل پاکستان مسلم لیگ چترال نے متوقع ضلع کے اعلان سے پہلے اس علاقے کے لوگوں کے خدشات دور کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ سیاسی نوعیت کا اعلان علاقے کے لوگوں کو مزید مسائل سے دورچار کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہو گا ۔ جبکہ یہاں کے لوگ پہلے ہی ناگفتہ بہہ سڑکوں ، تعلیم و صحت کے ناقص حکومتی انتظامات اور دیگر ان گنت مسائل سے دوچار ہیں ۔ چترال پریس کلب میں ایک پرُہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل پاکستان مسلم لیگ کے جملہ عہدہ دار ان سلطان وزیر صدر ، سلطان نگاہ ، ظہیر الدین نائب صدور ، جی کے صریر انفارمیشن سیکرٹری وقاص احمد ایڈوکیٹ فنانس سیکرٹری اور نوید سلطان نے کہا ۔ کہ چترال کو دو ضلع بنانے کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت اقدامات کر رہی ہے ۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ابھی تک کسی بھی پارٹی کے ساتھ اس سلسلے میں مشاورت کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی گئی ۔ انہوں نے کہا ۔ گو کہ آل پاکستان مسلم لیگ نئے ڈسٹرکٹ کے اعلان کی حمایت کرتا ہے ۔ لیکن اس کیلئے تا حال کوئی ہوم ورک نہیں کیا گیا ہے ۔ جس کی بنا پر عوام یہ سمجھتی ہے ۔ کہ یہ ایک انتخابی شو شہ ہے ۔ جس سے فوائد حاصل کرنے کیلئے تحریک انصاف بغیر کسی منصوبہ بندی کے یہ اعلان کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ انہوں نے چترال کے سیاسی رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال میں ہر ایک مسئلے پر آل پارٹی مشاورت ہوتی رہی ہے ۔ لیکن ضلع کا قیام جو کہ ایک اہم مسئلہ ہے ۔ اُس کے بارے میں کسی نے بھی آل پارٹی مشاورت کی زحمت گوارا نہیں کی ۔ اس لئے اے پی ایم ایل اپنے تحفظات حکومت کے ایوانوں تک پہنچانا ضروری سمجھتی ہے ۔ صدر اے پی ایم ایل سلطان وزیر نے کہا ۔ کہ چترال کی شناخت ختم کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس کو اپر چترال یا چترال ٹو کا نام دیا جانا چائیے ۔ اور اس کے دفاتر ایسے مقام پر تعمیر کئے جائیں ۔جہاں درسگاہوں ، ہسپتالوں اور دفاتر کیلئے زمین کی ضرورت کاکوئی مسئلہ درپیش نہ ہو ۔ اور اس کیلئے سب سے بہترین مقام کاغلشت ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ متوقع نئے ضلع کیلئے موجودہ حکومت نے 2017-18کے بجٹ میں فنڈ مختص نہیں کئے ۔ اس لئے یہ خدشہ موجود ہے ۔ کہ نگران حکومت میں یہ ضلع مسائل کا شکار ہوگی ۔ جبکہ سپلیمنٹری گرانٹ سے ضلع کو نہیں چلایا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چونکہ ضلع کو آبادی کی بنیاد پر فنڈ دیے جاتے ہیں ۔ اس لئے نئے ضلع کے آبادی بھی مناسب بنیاد پر رکھا جائے ۔

     

  • error: Content is protected !!