Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • صوبائی حقوق کے لئے دھرنا ……..محمد شریف شکیب

    October 30, 2017 at 6:26 pm

    خیبر پختونخوا کی حکومت اور اپوزیشن نے صوبائی حقوق کے لئے اسلام آباد میں دھرنا دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔ حکومتی ترجمان کے مطابق وفاق کی طرف سے رواں ہفتے صوبے کے واجبات کی ادائیگی کے لئے عملی اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ تاہم اس قسم کی یقین دہانیاں اس سے قبل سینکڑوں مرتبہ ہوچکی ہیں لیکن عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ صوبائی حکومت کے مطابق وفاق کے ذمے قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبے کو ملنے والی رقم کے علاوہ بجلی کا خالص منافع، بجلی منافع کے بقایا جات اور جاری ترقیاتی منصوبوں میں وفاق کے حصے کی رقم شامل ہے ۔ چھوٹے صوبوں کو این ایف سی ایوارڈ کی صورت میں ملنے والی رقم کی عدم ادائیگی کی وجہ سے وفاقی حکومت قومی مالیاتی کمیشن کا اجلاس بلانے سے بھی گریزاں ہے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اپوزیشن جماعتوں سے رابطے مکمل کئے گئے ہیں رواں ہفتے کے اختتام تک مرکز سے مثبت جواب نہ ملنے کی صورت میں مشترکہ دھرنے کی تاریخ اور جگہ کا اعلان کیا جائے گا۔ اور یہ دھرنا صوبے کے حقوق کے حصول تک جاری رہے گا۔خیبر پختونخواکا سالانہ بجٹ وفاق سے ملنے والے وسائل کی بنیاد پر ہی بنایا جاتا ہے۔ بجٹ میں صوبے کے اپنے وسائل کا حصہ صرف بیس فیصد ہے جبکہ 80فیصد آمدن این ایف سی میں صوبے کے حصے، بجلی کی رائیلٹی ، بقایا جات کی اقساط اور وفاق کی طرف سے ملنے والی امداد سے آتی ہے۔ جب آمدنی کا تین چوتھائی سے زیادہ حصہ بلاک رہے ۔ تو معیشت کا پہیہ جام ہونا فطری امر ہے۔ وفاق کی طرف سے خیبر پختونخوا کو واجبات کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ یہ نہیں کہ وفاق کے پاس وسائل نہیں ہیں۔ بلکہ یہ سیاسی رقابت کا نتیجہ ہے۔ تاکہ وفاقی حکومت کو یہ طعنہ دینے کا موقع مل جائے کہ خیبر پختونخوا حکومت تبدیلی لانے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ سابق وزیر اعظم ، وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے مشیر ہر جگہ یہ کہتے پھیر رہے ہیں کہ صوبے میں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں۔ سکولوں اور اسپتالوں کی حالت دگرگوں ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے۔ اور صوبائی حکومت ہر شعبے میں ناکام ہوچکی ہے۔ 603ارب روپے کے صوبائی بجٹ میں سے کم از کم 400ارب روپے وفاق نے دینے تھے۔جن کی ادائیگی میں وفاقی حکومت دانستہ تاخیر کر رہی ہے۔ جس کی وجہ سے صوبائی حکومت بجلی کے منصوبوں سمیت کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کرسکی۔ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی اور روزمرہ اخراجات کے لئے بھی صوبائی حکومت کو بینکوں سے قرضے لینے پڑ رہے ہیں۔ پشاور ریپڈ ٹرانزٹ بس سروس کے لئے بھی صوبائی حکومت کو ایشیائی ترقیاتی بینک سے 41ارب روپے کا قرضہ لینا پڑا ہے۔ گھر میں جب فاقوں کی نوبت آتی ہے تو سب ہی بلکتے ہیں۔ صوبے کو جو وسائل وفاق کی طرف سے ملنے ہیں وہ اس صوبے کے چار کروڑ لوگوں کا حق ہے۔ یہ وفاقی حکومت کا ہم پر کوئی احسان ہے نہ ہی صوبائی حکومت اسے بھیک کے طور پر مانگ رہی ہے۔کیونکہ یہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی ، تحریک انصاف یا کسی دوسری سیاسی جماعت کی طرف سے ملنے والی گرانٹ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبے کی تمام سیاسی قوتیں اپنے حقوق کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آگئی ہیں اور انہوں نے سیاسی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوام کے جائز حقوق کے لئے عملی جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے۔ حقوق کے لئے اس احتجاج کے پیچھے پورے صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام ہیں۔ اور عوام اب جاگ چکے ہیں وہ کسی پارٹی کو قومی وسائل اپنے سیاسی مفادات کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔وفاقی طرز حکومت میں مرکز کی مثال ماں اور وفاقی ایکائیوں کی مثال بچوں کی ہوتی ہے۔ اور کوئی بھی ماں اپنے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کرتی۔ ہر بچے کو اس کے حصے کی خوراک، توجہ اور پیار دیتی ہے۔ ماں اگر سوتیلی بھی ہو۔ تب بھی وہ سوتیلی اولاد کو بھوکا مرنے کے لئے نہیں چھوڑتی۔ پنجاب میں میٹرو بس، اورینج ٹرین اورموٹر وے کے منصوبے ضرور چلائیں۔ لیکن ہمارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھین کر نہیں ۔بلکہ اپنے حصے کے وسائل سے یہ عیاشیاں کریں۔ پاکستانی ہونے کے ناطے خیبر پختونخوا کے عوام کا بھی قومی وسائل پر اتنا ہی حق ہے ۔ جتنا دوسرے صوبوں کا ہے۔ اور حق دینے میں دانستہ تاخیر جائز حقوق کی فراہمی سے انکار کے مترادف ہے۔

  • error: Content is protected !!