Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • دادبیداد ……. قوسِ قزح سکولوں میں ……. ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی ؔ

    October 30, 2017 at 6:22 pm

    برادر گرامی صبیح احمد کو ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کے رنگ میں روز مرہ کے تجربات پر کالم لکھنے کا ملکہ حاصل ہے آج ایسا ہی ایک تجربہ ہم بھی قارئین تک پہنچانا چاہتے ہیں ہو سکتا ہے کسی کا بھلا ہو ہمارے سکولوں کی نظامت ہر سال سکولوں کے بچوں اور بچیوں کے درمیان تقریر ی مقابلہ کراتی ہے یہ انگریزوں کے دور کی روایت ہے مگر اُس دور میں تقریر ی مقابلے کیلئے ایسے موضوعات دیئے جاتے تھے جن کو بچے خود لکھتے اور پڑھتے تھے یا لکھے بغیر فی البدیہہ تقریر کرکے اپنی خطابت کا سکہ بٹھاتے تھے موضوع چھٹی جماعت سے لیکر دسویں جماعت تک پڑھنے والے بچے کی عمر کے مطابق ہوتا تھا اُن کے مشاہدے کے ساتھ مطابقت رکھتا تھا ان کے مطالعے کی سطح کے ساتھ مطابقت رکھتا تھا علم بڑی دولت ہے ،قلم کی طاقت تلوار سے زیادہ ہے، تعلیم نسواں وقت کی ضرورت ہے، انسان خطا کا بتلا ہے اس طرح انگریزی میں معاشرتی اور سماجی روایات ،شعور اور عام لوگوں کے تجربے میں آ ئے ہوئے موضوعات تجویز کئے جاتے تھے مگر اب وہ زمانہ گذرگیا اب سکول کے استاد اور طلبا و طالبات کے تجربوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا دستور نہیں ہے پشاور یا اسلام اباد کے بند دفتر میں بیٹھا ہو اایک شخص شیکسپےئر ،ورڈز ورتھ یا کسی اور شاعر ،دانشور کا مصرعہ یا مقولہ منتخب کر کے دیر بالا ،سواڑی ،مستوج اور چترال کے طلبا و طالبات کے لئے تقریر کا موضوع تجویز کر تا ہے 2015 ء اور 2016 ء میں بھی اوٹ پٹانگ موضوعات دیئے گئے تھے طلباء اور طالبات کے لکھنے کے قابل موضوعات نہیں تھے اساتذہ نے لکھنے سے معذرت کر لی تویہ موضوعات بازار میں آگئے نشتر عارضی نویس،اور اشتر کباڑیہ کی خدمات حاصل کی گئیں اشتر کباڑیہ کمال کا آدمی ہے استا د بشیر کی طرح ہر فن مولا ہے اُس کی دکان پر کباڑ کا سامان آتا ہے اور لاٹوں میں بکتا ہے وہ اپنے سامنے دس بارہ کتابیں رکھ کر بیٹھارہتا ہے پڑھتا ہے لکھتا ہے اور لوگوں کے کام آتا ہے پچھلے سال انٹر سکولزتقریری مقابلوں کے سیزن میں اُس نے 100 تقریر یں لکھ کر لوگوں کو دئیے اس سال انٹر سکولز تقریری مقابلوں کا سیزن چل رہا ہے عنوان دیا گیا ہے’’بچے آدمی کا باپ ہوا کرتے ہیں ‘‘یہ انیسویں صدی میں انگلینڈ کے رومانوی شاعر ولیئم ورڈز روتھ کی نظم قوسِ قزح کا ایک مصرعہ ہے ’’چلڈرن آر فادر آف مین ‘‘ورڈز ورتھ کے اس مصرعے پر ناول لگھے گئے ہیں فلمیں بنائی گئی ہیں سی ایس ایس اور پی ایم ایس کے امتحانات میں اس پر مضامین لکھوائے جاتے ہیں چھٹی جماعت کا طالب علم یہ عنوان لیکر کس کے پاس جائے گا؟کس کی منت سماجت کرکے تقریر لکھوائے گا ؟یہ بات سکولوں کی نظامت کے کسی بھی بزرجمہری کو معلوم نہیں سچ پوچھئے تو سکولوں کے ڈائریکٹر کے دفتر میں کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ انٹر سکولز تقریری مقابلے کرانے کا مقصد کیا ہے؟اگر ساری تقریریں اساتذہ نے لکھنی ہیں اگر کچھ تقریریں بازار میں جاکر لوگوں سے لکھواکر لانی ہیں ریڈیو ،ٹی وی اور پروڈکشن ہاوسنر کے صحافیوں سے لکھوا کر لانی ہیں تو پھر اس کا نا م انٹر سکولز تقریری مقابلہ کیوں رکھا گیا ؟ہمارے زمانے میں سکول کے اندر تقریری مقابلوں اور مباحثوں میں طلبا اور طالبات اپنی لکھی ہوئی تقریر پڑھتے تھے یا فی البدیہہ بولتے تھے وہ اساتذہ سے زبان کی اصلاح لیتے تھے تلفظ درست کرواتے تھے تقریر اُن کی اپنی ہوتی تھی عنوان ایسا دیا جاتا تھا جس کو طالب علم خود سمجھتا تھا اب دسویں جماعت کے طالب علم نے ورڈ ز ورتھہ کا نام نہیں سُنا ،اُس کا مصرعہ کیا سمجھے گا ؟وہ اشتر کباڑیہ کے پاس جاتا ہے ایک ہال میں 10 سکولوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے سب کی تقریریں ایک ہی شخص کی لکھی ہوئی ہیں اشتر کباڑیہ اگرچہ سیزن میں دوچار پیسے کمالیتا ہے مگر وہ اس کام سے تنگ آگیا ہے وہ کہتا ہے محکمہ تعلیم کے حکام دن کی روشنی میں اپنے آپ کو ،اپنے طلباء اور طالبات کو کس لئے دھوکا دیتے ہیں ؟اگر انٹر سکولز تقریری مقابلوں کا مقصد طلباء اور طالبات میں لکھنے اور بولنے کی صلاحیت پید ا کرنا ہے تو ایسا عنوان دیدو جس کو خود بول سکیں اشتر کباڑیہ سے 10 تقریریں لکھواکر ایک ہا ل میں مقابلہ منعقد کرنے کی کیا تُک بنتی ہے ؟اس کی کیا ضرورت ہے اشتر کباڑیہ 1956 ؁ ء میں آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا اُس نے تعلیم ادھوری چھوڑی مگر مطالعے کی عادت نہیں چھوڑی اس لئے اس کو ہر عنوان پر تقریر لکھنا آتا ہے آج کل محکمہ تعلیم کے افیسروں کو سکول کے بارے میں اشتر کباڑیہ کے برابربھی علم نہیں طلباء اور طالبات کی عمروں کاپتہ نہیں اس لئے وہ مباحثوں اور تقریری مقابلوں کیلئے اوٹ پٹانگ موضوعات دیتے ہیں اشتر کباڑیہ اس قسم کی تقریر نویسی سے اکتا گیا ہے اور وہ حیران ہے کہ ورڈزورتھ کی نظم قوسِ قزح سکول میں کس طرح آگئی

  • error: Content is protected !!