Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلع مستوج کی سابقہ حیثیت دوبارہ بحال کیا جارہا ہے ۔ ۔۔کیپٹن سراج الملک

    October 29, 2017 at 10:02 pm

    چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے معروف سماجی شخصیت کیپٹن سراج الملک نے کہا ہے کہ ہم نےچیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک سے مختلف ملاقات میں خصوصا گزشتہ چترال کے دورہ کے موقع پر مستوج میں ان سے ضلع مستوج کی سابقہ حیثیت دوبارہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جس کیلئے علاقے کے عوام گزشتہ 48برسوں سے درخواستی ہیں۔ جس پر صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ و دیگر نے اتفاق کا اظہار کرتے ہوئے اگلے مہینے چترال آمد کے موقع پر اعلان کا وعدہ کیاہے۔جبکہ نئے ضلعے کا مطالبہ بے سود تھا کیونکہ اب بھی سب ڈویژن مستوج کی آبادی مطلوبہ تعداد سے کافی کم ہے۔ ضلع مستوج کی بحالی کے حوالے سے چترال ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے موجودہ صوبائی حکومت ، چیئرمین تحریک انصاف عمران خان، پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور خصوصی طور پر وزیر اعلیٰ و دیگر متعلقہ حکام کا پیشگی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ریاست چترال کے خاتمہ کے بعد اب کسی صوبائی حکومت نے علاقے کے عوام کی شنوائی کیلئے حامی بھرلی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ جو عناصر چترال کو اپر یا لوئیر کا نام دیکر اسکی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں اصل میں وہی لوگ چترال یا چھترار کے نام کو مسخ یا ختم کرنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جو لوگ نئے ضلعے کو اپر چترال کا نام دے رہے ہیں اصل میں وہ‘‘ چترال‘‘ نام کے ساتھ دشمنی کررہے ہیں۔ وہ اس طرح کہ اگر سب ڈویژن مستوج کا نام ’’اپر چترال ‘‘ رکھا گیا تو خاص چترال کا نام بھی تبدیل کرکے ’’لوئر چترال ‘‘ رکھا جائیگا ۔ جس سے بہت سے انتظامی مسائل پید ا ہونے کے ساتھ چترال ٹاون کے تقریبا 80ہزار آبادی کے ساتھ بھی زیادتی ہوگی ۔ اور یہ لوگ بھی خود کو چترال لوئیر کا باشندہ کہلانے پر مجبور ہونگے۔ جبکہ لفظ ’’چترال’’ خاص مسخ ہوجائیگا۔ انھوں نے بتایا کہ ان انگریزی الفاظ کیوجہ سے این ڈبلیو ایف پی کا نام تبدیل کردیا گیا ۔ اوراب ہمارے سوشل میڈیا خاص کرکے فیس بک کے نوجوان ’ لوئر‘ او ر ‘ اپر‘ کا استعمال کرکے چھترار کے ساتھ دشمنی پر تلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اگر لوئر اور اپر رکھا جائیگا تو پچاس سال بعد دروش بھی ضلع بن جائیگا تب اسکو کیا نام دیں گے۔ اور پچاس یا سو سال بعد گرم چشمہ ، تور کہو ، موڑکہو ، بیار وغیرہ کی آبادی بھی بڑھ جانے پر ضلع کی حیثیت دی جائیگی تو ان کو کیا نام دینگے۔ انھوں نے کہا کہ سب ڈویژن مستوج 1969تک ضلع مستوج کے نام سے ایک ضلع تھا ۔ لہذا اس کو دوبارہ بحال کیا جارہا ہے۔ جس کا ایک ڈپٹی کمشنر شہزادہ محی الدین تا حیات ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ اب بھی تحصیل مستوج یا سب ڈویژن مستوج کے نام سے تمام سرکاری ادارے چل رہے اور لوگوں کے شناختی کارڈ اور ڈومسائل اسی نام پر ہیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ مگر ضلع بننے سے لوگوں کو اعتراض کیوں ہے؟ ۔ انھوں نے بتایا کہ پھر بھی مستوج نام سے کسی کو اعتراض یا برا لگتا ہے ۔ تو اسکا نام ، تورکہو ، موڑکہو ، بیار، بونی ، شندور ، تریچمیر، و دیگر کھوار نام رکھا جاسکتا ہے۔ مگر انگریزی کے ہی الفاظ شامل کرکے نام رکھنا ہے تو اس کو فیس بک کی سطح پر ہی رکھو۔

     

    انھوں نے مذید بتایا کہ اپر اور لوئیر کا نام دینے سے سب ڈویژن مستوج کے تقریبا دو لاکھ آبادی کے شناختی کارڈ، ڈومیسائل ، پاسپورٹ و دیگر کی تبدیلی کے ساتھ خاص چھترا ر کے تقریبا تین لاکھ آباد ی کے لوگوں کی شناختی کارڈ، ڈومیسائل، پاسپورٹ، و دیگر کاغذات کے ساتھ گاڑیوں کی رجسٹریشن و دیگر کے نام بھی تبدیل کرکے لوئر چترال رکھناہوگا ۔جس سے ایک طرف ہمیں بہت سے مسائل پیدا ہونگے تو دوسر ی طرف جو ہماراخاص چھترار یا چترال کا نام بھی مکمل طور پر ختم ہوجائیگا۔ پھر ٹاون کے عوام جو خاص کرکے سنگور سے بکرآباد یا بروز تک میونسپلٹی ایریا کے لوگ خاص چھترار کے نام سے بھی محروم ہوجائیں گے۔

     

    لہذا مستوج کا بھی انگریزوں کے زمانے سے لیکر پاکستان بننے تک ایک خاص مقام رہا ہے۔ اور تاریخی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں تورغر کوئی مانوس نام نہیں تھا مگر اب پورے پاکستان میں سب کومعلوم ہوگیاہے ۔ کہ تورغر بھی پاکستان کا ایک ضلع ہے۔ انھوں نے مذید بتایا کہ سب ڈویژن مستوج کی اپنی ایک تاریخی حیثیت ہونے کے ساتھ ان کے مختلف مقاما ت جیسے تریچمیر، دنیا کی بلند ترین پولوگراونڈ شندور، قرم بار جھیل، ویخان پٹی اور ساتھ قدیم ادوار میں وسط ایشائی ریاستوں کے ساتھ کاروباری مناسک ، گلگت و چین اور افغانستان کے سرحدات کے ساتھ جڑنے کی وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے اور رہا ہے۔ اور انگریز بھی جب پہلی دفعہ یہاں داخل ہوئے تو انکا ہیڈ کوارٹربھی مستوج رہا ہے ۔ لہذا فیس بک کے ہمارے نوجوان اس چیز کو مذید نہ اُلجھائیں ۔مستوج ضلعے کو بحال ہونے دیں ۔ نام بعد میں بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اگر کسی کو پھر بھی اعتراض ہو۔

  • error: Content is protected !!