Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جے ۔آئی یوتھ کے زیر اہتمام خطبات”کے بارے میں معلومات پر مبنی تحریری ٹیسٹ میں نمایان پوزیشن لینے والوں میں نقدانعام اور شیلڈ تقسیم کئے گئے

    October 29, 2017 at 5:15 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) جماعت اسلامی پاکستا ن کی یوتھ ونگ جے ۔آئی یوتھ چترال کے زیر اہتمام نوجوانوں میں کتب بینی کا ذوق وشوق پیدا کرنے کے لئے اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام احتتام پذیر ہوا جس میں اسلام کی بنیادی ارکان پر لکھی گئی کتاب “خطبات”کے بارے میں معلومات پر مبنی تحریری ٹیسٹ میں نمایان پوزیشن لینے والوں کو نقد انعامات دے دئیے گئے ۔ جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے جنرل سیکرٹری عبدالواسع نے پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے سرور الدین ساکنہ اویر کو 50ہزار روپے، دوسری پوزیشن لینے والی سمیعہ ناز کو 30ہزار روپے اور ان کے چھوٹے بھائی طارق جمیل ساکنہ کیسو کو 20ہزار روپے نقد انعامات دے دئیے۔ اس موقع پر خطاب کرنے والوں میں عبدالواسع کے علاوہ ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ، جماعت اسلامی کے ضلعی امیر مولانا جمشید احمد، اسسٹنٹ کمشنر چترال عبدالاکرم خان، معروف دانشور اور کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، جے ۔آئی یوتھ کے صدر وجیہ الدین اور مقابلے میں انعام یافتہ سرور الدین اور دوسرے شامل تھے۔ عبدالواسع نے کتب بینی کو فروع دینے کے لئے انعامی اسکیم کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ جدید دور میں کتب بینی کے ساتھ رشتے کو دوبارہ استوار کرنے اور اسے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ دور کے اکثر الیکٹرانک سہولیات نے اس رشتے کو بڑی حد تک کمزور کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کتب بینی کوفروع دینے کے لئے جے۔ آئی یوتھ کے شروع کردہ مسابقتی سلسلے کو امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے پورے ملک میں ضلعی اور دوسری سطحوں پر اہتمام کرنے کا حکم دے دیا ہے جس پر چترال کا جماعتی نظم مبارک باد کا مستحق ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے دوسرے مقرریں نے کہاکہ انسانی زندگی اور معاشرے سے کتاب کو نکال دی جائے تو جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں کے سوا کچھ نہیں رہتا اور کتاب ہی انسان کے بہتریں ساتھی اور علم کے ماخذ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں پسماندگی کے باوجود کتب بینی کا رواج اور کتاب سے لوگوں کا پرانا رشتہ ہے جوکہ اس انعامی سلسلے سے مزید مستحکم ہونے کی طرف جارہی ہے ۔ مقابلے میں پہلے بیس نمبر پر آنے والوں کو شیلڈ بھی دئیے گئے۔

    کتب بینی کے فروغ کے لئے اس مسابقتی اسکیم کے روح رواں اور جماعت اسلامی کے ضلعی رہنما قاری فدا محمد نے مقابلے کے مختلف مرحلوں اور شفافیت کو یقینی بنانے کے سلسلے میں کئے گئے کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ جے آئی یوتھ چترال کی طرف سے نوجوانوں میں کتب بینی کو فروغ دینے کے مقصد کے پیش نظر ایک انعامی مقابلے منعقد کیا جس کے لئے معروف مفکر و عالم دین سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی مشہور زمانہ کتاب ’’خطبات‘‘ کا انتخاب کیا گیا تھا، جو کہ ضروریات دین کے موضوع پر اردو زبان میں نہایت سلیس اور عام فہم کتاب ہے جوکہ پہلی مرتبہ 1940 ء میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ صرف گزشتہ سال کے دوران اس کتاب کے ایک لاکھ نسخے شائع ہوچکے تھے۔ اور گزشتہ کئی سالوں سے ہر سال اسی تعداد میں اس کے نسخے شائع ہورہے ہیں۔

    اس مقابلے کے اعلان سے قبل شعبہ تعلیم سے وابستہ ماہرین اور این ٹی ایس سے تعلق رکھنے والے حضرات کی خدمات حاصل کی، جن کی مشاورت اور ماہرانہ آراء کی روشنی میں پروگرام کو آگے بڑھایا۔ اولین مرحلہ رجسٹریشن کا تھا، جو کہ 15 سے 15 ستمبر تک جاری رہا۔ چترال کے مختلف مقامات پر رجسٹریشن آفسز کھولے گئے، اور مقررہ تاریخ 1400 طلبہ و طالبات رجسٹرڈ ہوئے۔ ہر رجسٹرڈ ہونے والے طالب علم کوتیاری کے لیے خطبات کتاب بھی دی جاتی تھی۔ ایک مہینہ ہم نے تیاری کے لیے وقت دیا اور 15 اکتوبر کو چترال کے مختلف مقامات پر 20 سینٹرز پر ٹیسٹ کا انعقاد ہوا۔ ٹیسٹ کے مرحلے کو ہر ممکن طریقے سے شفاف بنانے کی کوشش کی گئی، اور این ٹی ایس طریقہ کار کے مطابق تین مختلف کلرز میں پیپرز ترتیب دیئے گئے۔ پیپرز کی تیاری کے لیے قاری فدا محمد کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی گئی تھی۔ جوابی کاپی کو کاربن پیپر میں بنایا گیا ، اور ٹیسٹ کے انعقاد کے چند گھنٹوں بعد ہی ’’کیز‘‘ جے آئی یوتھ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کردئے گئے۔شفافیت کو مزید بہتر بنانے کے لیے جوابی کاپی سے امیدوار کے کوائف والا حصہ ہٹا کر کوڈ نمبر دینے کا طریقہ اپنایا گیا، جو کہ آغاخان ہائر سیکنڈری سکول کے سینئر لیکچرر عطاء حسین اطہر کی سربراہی میں انجام پایا، دروش پبلک سکول دروش کے پرنسپل اخلاق الدین اور نیاب فرانی صاحب ان کی معاونت کرتے رہے۔ بعد ازاں پیپرز چیکنگ کے لیے متعلقہ کمیٹی کے سپرد کردیئے گئے، اس کمیٹی کے سربراہ معروف دانشوراور ہر دل عزیز شخصیت جی کے صریر تھے۔رلزٹ کی تیاری کے سلسلے میں نورشمس الدین ، فرید احمد رضا ، نایاب فرانی اور عطاء حسین اطہر سے اضافی خدمات لی گئیں۔ اس طریقے سے جملہ مراحل نہایت خوش اسلوبی اور شفافیت سے سرانجام پائے

  • error: Content is protected !!