Chitral Times

24th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جستجوئے خٰیال…. “اصولوں کے بغیر سیاست …” از شفیق آحمد شفیق‎‎

    October 28, 2017 at 8:42 pm

    افلاطوں نے بجا فرمایا تھا، کہ ریاست پر حکمرانی کا حق فلسفیوںکایعنی  صاحب علم و دانش کا ہے ، کیونکہ یہ زرو دولت اور حرص و لالچ سے ماوارء ہوتے ہیں، یہ اصول و قوانین بنانے والے ہوتے ہیں، اور قوانین بھی ایسے جو ریاست کے عوام کیلئے باعث  خٰیر ہوں۔ اور ان پر عمل در آمد اپنے مثالی کردار ، فکر و عمل اور پھر  قانوں کا سب کیلئے یکسان ہونا جیسے خیر کے صفات کی تشکیل ہے ۔
    کسی بھی ریاست اور سماج میں اصول و قوا نین کا کردار نہایت ہی اہم ہوتا ہیں۔ اصول و قوانین کسی بھی ریاست اور سماج میں فرد کے ریاستی، اجتماعی اور انفرادی اعمال کی اصلاح ہیں۔ کیونکہ انسان ایک سماجی حیواں ہے، سماج سے الگ ایک فرد کی زندگی بے معنی ہو جا تاہیں۔  اجتمایت اور انسانی اقداار کے فروغ کے ساتھ ساتھ  اندیشہ شر و فساد کو ختم کرنے اور ایک خوشحال معاشرہ اور ریاست کا خواب یہی قوانین و اصول طے کرتے ہیں۔
    جہاں تک ریاست کی بات ہے تو ریاست ایک قطعہ زمیں میں الگ رہ کرکچھ نظریات اور تہذیبی و ثقافتی خوبصورتی  رکھنے والے لوگ اپنی ایک شناخت قایئم کرتے ہیں، اور اس زریعے سے کچھ اصول و قوانین بنا کر اپنی اس اجتمایت کو ریاست کی شکل دیتے ہیں۔ اور خوشحالی کا خو اب دیکھتے ہیں۔ ہر چند کہ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ  بھی ہوتاہین، لیکن چند فطری مسائل جیسے غربت، افلاس ، اور دوسرے سماجی مسائل پر  حتی الل امکان قابو پایا جاتا ہیں۔
    مملکت پاکستا ن بھی مختلیفیت کے باعث وجو دمیں آیا، دو قومی نظریہ بھی مسلمانوں اور ہندووں کے رنگ و نسل ، مذہب، تہذیب و ثقافت میں الگ حیثیت رکھنے کے باعث وجود میں آیا، اور پاکستا ں کی تخلیق کا سبب بنا۔ اگر چہ آج دنیا گونا گونی اور تکثریت پر یقین رکھتی ہیں۔ اور پہلے بھی برصغیر پاک و ہند میں مسلمان اور ہندو ہی رہتے تھے، اور انھوں نے اس مختلفیت کو  تعصب کی نگاہ سے نہین بلکہ محبت کی نگاہ سے دیکھ کر مل کر رہتے تھے۔ ااور ایک بہت لمبا عرصہ ہندوستاں میں مسلمان مغل بادشاہوں نے حکومت بھی کی۔
    مملکت خداداد مختلیف نشیب و فراز سے ہوتے ہوئے آج بٹھو اور شریف خانداں کے ہاتھ لگا ہے، ویسے بٹھو خانداں کے گھوڑے کا لگام زرداری صاحب کے ہااتھ آیا ہیں ، اور ان صاحبان نے ایسے اصولوں پر سمجھوتہ کیے ہوئے ہیں،کہ جن سے ان کی موروثی سیاست کو کسی کی بری نگاہ بھی نہ لگے۔ اور رعایا کے مسائل کو حل کرنے کی بجائے
    قرضے اور بینظیر انکم سپورٹ پرگرام جیسے اسکیموں سے عوام کو بھیک دے کر جیسے احسان کر رہے ہوں۔
    حالانکہ ریاست کے رہنما رعایا کے خادم ہوتے ہیں، اور انھیں اپنی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر ریاست کی خوشحالی کو ممک بنانی چایئے۔ لیکن صد افسوس کے ایسا کبھی ہوتے دیکھنے میں نہیں ایا۔
    جملہ آخر یہ کہ مملکت پاکستا ن میں اشرافیہ اور  حلقہ اختیار قانوں سے بالا تر ہو کر جیتے ہیں، اور ان کی طاقت روز بہ روز بڑھ رہا ہیں، اور بچارے عوا م روز ازل سے ان کو سہہ رہے ہٰیں۔  اور یہ اصولوں کے بغیر سیاست کرکے صرف اپنی دکانین چمکا رہے ہٰں۔ فیصلہ سچ کی حمایت کرنے والوں سے ہوگا۔ کیو نکہ یہی حقیقی انقلاب و تبدیلی  کے وارث ہے۔
    نوٹ: یہ کالم پہلے زیل نیوز پر شائع ہو چکی ہے۔

  • error: Content is protected !!