Chitral Times

23rd November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • سٹرائیڈپروگرام یونیک آئیڈیاز پرمشتمل ایک مثالی پروگرام ہے جسے پہلے مرحلے میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت 30سکولوں میں شروع کردیا گیا۔۔محمد عاطف خان

    October 25, 2017 at 7:30 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے کہاہے کہ انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈپالیسی سائنسز کا حکومت خیبر پختونخوا اور ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے شروع کردہ سٹرائیڈپروگرام یونیک آئیڈیاز پرمشتمل ایک مثالی پروگرام ہے جسے پہلے مرحلے میں پائلٹ پراجیکٹ کے تحت کوہاٹ اور صوابی اضلاع کے 30سکولوں میں شروع کردیا گیاہے۔ اس پروگرام کے تحت ایسے طلبہ جو اپنے نزدیک ترین سرکاری سکول میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیمی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم حاصل کرنے کا سلسلہ منقطع کرچکے تھے کے لئے سیکنڈ شفٹ میں مقامی طورپرموجود پرائمری سکول کو مڈل اور مڈل سکول کو ہائی سکول ڈیکلیئرڈ کردیا گیاہے جبکہ ایسے طلباء جوسکول سے دور رہائش پذیر ہیں انہیں سفری سہولیات کے لئے سائیکل اور طالبات کو پک اینڈ ڈراپ کے لئے ٹرانسپورٹ کارڈز کی سہولت دی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ کمپری ہنسیو ہائی سکول کوہاٹ میں سٹرائیڈ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے دوسروں کے علاوہ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی برائے اطلاعات ضیاء اللہ بنگش ایم پی اے، سیکرٹری اطلاعات و تعلقات عامہ قیصر عالم، سٹرائیڈ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سلیمان ہمایون،ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوہاٹ فضل قادراور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر کوہاٹ حاذق الرحمٰن نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ضلع ناظم کوہاٹ نسیم آفریدی، پی ٹی آئی کے ضلعی صدر آفتاب عالم، عمائدین علاقہ اورشعبہ تعلیم سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔وزیر تعلیم نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کی سہولت ان طلبہ کو بھی فراہم کی گئی ہے جن کا سکول سے دوری کے باعث تعلیم چھوڑجانے کا قوی امکان تھا۔انہوں نے کہا کہ مزکورہ پروگرام کے یقینی طور پر بہتر نتائج سامنے آئیں گے اور اس سے بچوں کے ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی جبکہ شرح خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو بہت جلد دوسرے اضلاع تک بھی وسعت دی جائے گی۔تعلیمی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے عاطف خان نے کہاکہ ہم سو فیصد بہتری کا دعویٰ نہیں کرتے تاہم تعلیم سمیت تمام اداروں کی سمت درست کی ہے اور میرٹ کی بالادستی قائم کی ہے اور مزید بہتری کی گنجائش بھی موجودہے۔انہوں نے کہا کہ برسراقتدار آنے سے قبل پورے صوبے کے سرکاری سکولوں میں صرف 179آئی ٹی لیب تھیں جبکہ اب یہ تعداد 1350سے زیادہ ہوگئی ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ اپنی مدت مکمل کرنے تک کوئی ہائیر، ہائی اور مڈل سکول آئی ٹی لیب کے بغیر نہ رہے۔اسی طرح آٹی لیب سیکنٖڈ شفٹ میں کمیونٹی کے لئے کھول دی گئیں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اب تک 40ہزار اساتذہ خالصتاً میرٹ پر بھرتی کر دئیے ہیں اوربہت جلد مزید16ہزار اساتذہ بھرتی کررہے ہیں۔ان کامزید کہنا تھاکہ سکولوں میں ناپید سہولیات پر اب تک 29ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کی جاچکی ہے۔21لاکھ میں سے 14لاکھ طلبہ کو فرنیچر فراہم کردیاگیاہے جبکہ باقی ماندہ 7لاکھ کو بھی رواں سال فراہم کردیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ83ہزار اساتذہ کی تربیت پر 56کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ تعلیمی اصلاحات کے نتیجے میں نجی تعلیمی اداروں کے اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچے سرکاری سکولوں میں داخلہ لے چکے ہیں جو انتہائی حوصلہ افزاء ہے ،بعدازاں انہوں نے طلبہ میں سائیکل اور ٹرانسپورٹ کارڈز تقسیم کئے۔

  • error: Content is protected !!