Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ؓضلع مستوج یا ضلع اپر چترال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلیم بخاری

    October 24, 2017 at 8:56 pm

    چترال دو تحصیلوں پر مشتمل ضلع ہے۔ان دنوں پرنٹ اور سوشل میڈیا میں جتنی دشمنی ضلع چترال اور ضلع مستوج کے نام پر ہمارے پرامن ضلع میں پیدا ہوچکا اس سے کئی بہتر یہ تھا کہ اس کو تقسیم کرنے کا نام ہی نہ لیتے اور نہ ہی منصوبہ بندی کی جاتی۔ دوسرے علاقے جو ضلعوں میں تقسیم ہوچکے ہیں ان میں ابھی تک انتظامی امور ناگفتہ بہہ ہے ان ضلعوں کے لوگ دوبارہ سے الحاق چاہتے ہیں۔

    ضلع چترال میں ابھی تک ترقیاتی کام جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں مزید دو حصوں میں بٹنے سے ہمارے چترال کے مسائل میں کئی گنا اضافہ ہوسکتاہے۔ہمارے صوبے کا نام بدلنے کی جو وجہ ہے وہ انگریزوں کا رکھا ہوا بے معنی سا نام تھا جس کا کوئی مطلب نہیں تھااور نہ ہی ٖٖغ
    ٰٗ ؁ثقافتی سطح پر کوئی پذیرائی۔شمال۔مشرقی۔سرحدی صوبہ، شاید اس نام کو کوئی بھی مہذب قوم برداشت نہیں کرسکتا۔اور ایسے ناموں کا شمار دنیا میں لاوارث قوموں کے ہوتے ہیں۔مشرقی پاکستان ، پاکستان کا حصہ نہیں رہا تبھی تو بنگلہ دیش کہلایا۔اب اگر خودانخواستہ ایسی کوئی بات ہمارے ضلعے میں ہوئی ہے کہ یہ ملک سے جدا ہورہاہے تو پھر اپنے مرضی کے نام رکھیں جائیں تو کوئی قباحت نہیں ورنہ پہلے سے موجود نام چترال کے بجائے بنگلہ دیش یا پھر کوئی دوسرا غیر مانوس نام رکھنا سراسر ناانصافی ہوگی۔ کم ازکم یہ بات اپنے ذہن سے نکالنا چاہیے کہ نہ چترال ملک سے جدا ہورہا ہے جیسا کے مشرقی پاکستان ہوا ۔لہذا ہم مانوس نام لوئر چترال اور اپر چترال کا ہی استعمال عمل میں لائیں گے۔

    اب اگر خوامخواہ لوگ اس بات پر جھگڑا کررہے ہیں کہ اس ضلعے کا نام ضلع مستوج رکھا جائے تو پھر مصلحتا اس کو ضلع تورکہو یا ضلع موڑکہو بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ اگر ضلع کا تقسیم آبادی ،قومیت،نسل اور جغرافیائی زمینوں کی پیمائش پر ہو رہی ہے تو ضلع تورکہو اور موڑکہو کی آبادی مستوج کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے کئی گنا زیادہ رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ کسی علاقے کی شہرت اس میں موجود کلچر اور تمدن کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ چترال، کلچر اور تمدن کے حوالے سے پوری دنیا میں اپنی شناخت رکھتی ہے اور اب نئے نام سے اپر چترال کی شناخت کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ یہاں کوئی نئی کلچر عمل میں نہیں لایا جارہا ہے اس لئے مستوج نام دے کر اپر چترال میں نئی کلچر کی شروعات موجودہ چترالی کلچر کے ساتھ مذاق ہوگا۔

    اس لئے میں تمام چترالی قوم کو اس سلسلے میں درخواست کرتا ہوں کہ کوشیش رہے کہ چترال دو ضلعوں میں تقسیم نہ ہو کیونکہ جیسا ہم سوچ رہے ہیں ویسا ممکن نہیں اور دو ضلعے بنیے سے ہمارے مسائل کم نہیں ہونگے۔اس کیوجہ یہ ہے کہ ہم ترقی پذیر ملک کے باسی ہیں اور پھر اس ملک میں خیبر پختوں خواہ کے کے باشندے ہیں اور اس صوبے مین بھی ہمارا شمار Backward ائرایا میں ہوتا ہے ان سب کے باوجود اگر چترال دو ضلعوں میں بٹ گیا تو خدانخواستہ ہمارے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھ جاءں گے جس سے نہ صرف ہمارے کلچر اور تمدن کو دھچکا لگے گا بلکے بہت سے ترقیاتی کاموں مین الجھنیں بھی پیداہوجائیں گے۔

  • error: Content is protected !!