Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • اصلی اور نقلی انگریز……….ڈاکٹر اسماعیل ولی

    October 24, 2017 at 6:49 pm

    ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ہاں “ولایتی” اور “انگریزی” کے الفاظ اعلی معیار کی اشیا کے لیے استعمال ہوتے تھے- اور یہ حقیقت بھی تھی کہ وہ اشیا اپنی پایداری ، خدمت گذارٰی ، خوبصورتی ، اور مضبوطی میں اپنی مثال اپ تھیں- اسی طرح ریلوے سٹیشن میں جا کر دیکھیں بہت سے چیزوں پر اٹھارہ سو کا سنہ دیا ہوا ہے- لیکن وہ اب بھی کام کر رہی ہیں- ان کے پلوں اور راستوں کی نشانیاں اب بھی چترال میں پایی جاتی ہیں- اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ محنت کرتے تھے- اور قومی جذبے کے حامل لوگ تھے- اگر ان میں یہ قومی جذبہ نہ ہوتا-اور وہ روسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اتنا بڑا “کھیل” کھیلنے کا منصوبہ نہ بناتے- تو یہاں کی تاریخ ہی کچھ اور ہوتی-

    اب یہا ں جو کچھ ہو رہا ہے- خواہ اس کا تعلق انتظامی امور سے ہو- قانون سے ہو- تعلیم سے ہو- کھیلوں سے ہو- یا فوج سے ہو- ان سب کی بنیادیں انگریزوں نے فراہم کیں- فوجداری قوانین کو انہوں نے جس طریقے سے کوڈ کیا- وہ اپنی جگہ ایک شاہکار ہے-اور اسی کو بغلوں میں دبا کر ہم چیختے رھتے ہیں- اسلامی فقہ پر جو معیاری کتاب ہے- وہ ایک غیر مسلم کی ہے- کاروباری تعلیم پر جتنی کتابیں دستیاب ہیں- وہ ساری مغربی یا کچھ ہندوستانی مصنفین کی ہیں- ہم نے صرف ہشیاری یہ دکھایی کہ اسلام پسند لوگوں کو خوش کرنے یا انکی رضا پسندی حاصل کرنے کے لیے کالج سے پہلے “اسلامیہ” کا سابقہ لگایا- اب یہ “اسلامی” کالج بن گیا- اور اب نیے سابقے بھی پڑھنے کو مل رہے ہیں- یعنی اسلامک بینکینگ یا اسلامی فنانس 150

    مجھے جو بات سمجھ نہیں ارہی ہے وہ یہ ہے- اصل انگریز جب ادھر تھے- تو ہمارا کیا نقصان کر رہے تھے- اگر سب کچھ ان سے” ادھار” لیکر یہ ریاست چلانی تھی- تو وہ “نقد” ہی ٹھیک نہیں تھا- ترقی بھی ہوتی- معیاری تعلیم بھی ہوتی- معیاری ہسپتال بھی بنتے- کرپشن کم ہوتی- گلگت یا چترال ریل کے ذریعے وسط ایشیایی مملک سے جڑے ہوتے- اور کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے سارا علاقہ ترقی کرتا- اب بھی معیاری تعلیم کے لیے ہم وہاں جاتے ہیں- معیاری علاج کے لیے وہاں جاتے ہیں- اب بھی مشیر وہاں سے اتے ہیں- تحقیق وہاں کی معیاری ہوتی ہے- وہاں جا کے ملازمت کرنے کو ہر ایک کا دل چاہتا ہے- جو قانوں وہاں بنتا ہے- کوشش ہوتی ہے- کہ اس کی نقل فورا یہاں لاگو ہو- ان کے غیر سرکاری ادارے ہمارے بے روزگار لڑکوں اور لڑکیوں کو ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں- اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں- سالانہ یہاں سے سیکڑوں طلبا و طالبات ثقافتی تبادلے کے نام پر امریکہ جاتے ہیں- لیکن وہاں سے کسی طالب علم کو یہاں اتے ہوے نہیں سنا- حالالنکہ ہم بھی ان کو چند دنوں کے لیے مہمان رکھ سکتے ہیں- اور ان کو معلوم ہوتا- کہ یہاں ہر ایک خود کش نہیں ہے- اور نہ حالت اتنے خراب ہیں-

    دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت برطانیہ کی طاقت کمزور ہو گیی- اور وہ اتنی بڑی حکومت کو منظم رکھنے کی متحمل نہیں رہی- اور ان کے غلام ممالک یکے بعد دیگرے ازاد ہوتے گیے  اور ہمارے حصے میں بھی ازادی اگیی- فرق اتنا ہوا- پہلے اصلی انگریز ہم پر حکومت کرتے تھے- اب نقلی انگریز حکومت کرتے ہیں- ان نقلی انگریزوں کے کیی روپ ہیں- مثال کے طور پر اگر بات شہادت کی ہو- تو “اسلام” کو استعمال کرینگے- بات جب اصلی انگریزوں کو خوش کرنے کی ہو- تو کہیں گے- چودہ سو سال پہلے کی باتیں اب بھی دوہرایی جا رہی ہیں- ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں- جب گاوں میں جلسے کے لیے جاینگے- تو پگڑی یا پکوڑ پہنیں گے- یا زیارتوں میں جاکر عام لوگوں کو بے وقوف بناییں گے- اگر وسایل اجازت دیں- تو مولانا صاحبان بھی اپنی اولاد کو ھارورڈ یا اکسفورڈ میں پڑھانے کی حسرت دل میں لیے بیٹھے ہیں- بالفاظ دیگر ہمارے پاس کویی تعلیمی نظام یا سیاسی نظام یا معاشی نظام یا کاروباری نظام عملا کہیں موجود نہیں- جس کو ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکیں- اور دنیا والوں کو بتا دیں- دیکھیں یہ نظام کتنا موثر ہے- کتنا پیداواری صلاحیت والا ہے- کم خرچے پر زیادہ امدن دینے والا ہے- ماحول کے لیے کتنا اچھا ہے- عدل و انصاف کے لحاظ سے کتنا موثر ہے- انسان دوست ہے-

    اس ناکامی کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے- وہ علم سے دوری علم کا انحصار تحقیق پر منحصر ہے- مغرب اور امریکہ میں جتنے علوم اب پڑھاے جارہے ہیں- وہ اسمان سے یکدم نہیں اترے ہیں- بلکہ تحقیق کی بدولت کتابی صورت میں اگیی ہیں- اور لوگ ان سے فایدہ اٹھا رھے ہیں- ہمارے تحقیق کا دروازہ صدیوں سے بند ہے- بند اسلیے ہے- کہ ہماری حیثیت ایک شکست خوردہ قوم کی ہے- اور شکست خوردہ قوم میں بنیادی خامی یہ ہوتی ہے- کہ اس میں خود اعتمادی نہیں ہوتی- اسلیے ہمیشہ دوسروں پر اعتماد کرتی ہے- اور خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے خود انحصاری نہیں ہوتی- اگر ہم موجودہ حالات کا بغور جایزہ لیں- تو ہماری ہر چیز ادھار ہے- ہمارے روزمرہ کے الفاظ “سر” اور میڈم” سے لیکر قانونی اصطلاحات تک سارے ادھار ہیں- ادھار اسلیے ہیں- کہ ہم اپنی اصطلاحات کو “پسماندہ” سمجھتے ہیں- اور خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے دل میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں- اسلیے انگریزی زبان کا جو اثر ہے- وہ دیدنی ہے- کیونکہ وہ “اقا” لوگوں کی زبان ہے-

    یہاں ہم یہ بھول جاتے ہیں- “اقا” لوگوں کی یہ زبان بھی کسی زمانے میں شکست خوردہ لوگوں کی زبان بھی- جب گیارہ سو میں فرانسیسی بولنے والوں نے انگریزی بولنے والوں کو شکست دی تھی- اگرچہ اس کے اثرات اب بھی باقی ہیں- چونکہ فرانسیسی زبان میں اسم صفت بعد اسم کے بعد استعمال ہوتا ہے- اسلیے اج بھی اکاونٹنٹ جنرل یا ایڈوکیٹ جنرل کھتے ہیں- ایک زمانہ تھا- کہ انگریز بھی لاطینی یا فرانسیسی میں لکھنے کو ترجیح دیتے تھے- غلامی کی ذہنیت سے نجات حاصل کرنے کیلے محنت اور تسلسل ضروری ہیں- لیکن محنت اور تسلسل کے پس پشت خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ کار فرما نہ ہو- تو یہ نجات ناممکن ہے-

    امریکہ والوں نے بھی برطانیہ کے تسلط سے اپنے اپ کو ازاد کیا ہے- اور ان کو پتہ تھا  کہ غلامانہ ذہنیت سے اپنے اپ کو کیسے اازاد کرنا ہے- اور یہ بھی ان کو معلوم تھا  کہ کیسے کرنا ہے- سب سے پہلے انہوں نے اپنا اپنا ہیجا الگ کیا- رسمی خط لکھنے کا انداز الگ کیا- صداراتی نظام اپنایا- اور اتنی محنت کی کہ ان کا ہارورڈ ، اکسفورڈ اور کیمرج کو پیچھے چھوڑ گیا- اور برطانیہ کی جگہ دنیا کی غیر رسمی سلطنت پر قابض ہے- اور ہم نے امریکہ کی غلامی شروع کی- ترقی کی جو تعریف وہ کرتے ہیں- وہی ہم نے ادھار لی- اور اس ادھار والی ترقی کے سہارے چل رہے ہیں-

    ہمارا علم مستعار ہے- ہماری معیشت مستعار ہے- ہماری سیاست مستعار ہے اور ہماری معاشرت مستعار ہے- ہمارے میڈیا کے تصورات مسستعار ہیں- ہماری زبان مستعار ہے- ہم فحاشی کو ارٹ سمجھتے ہیں- اور ارٹ کے ذریعے سیاست کرتے ہیں- لہذا جب تک ہم ان ادھار کی اشیا و خدمات کو چھوڑ کر خود اعتمادی اور خود انحصاری کے جذبے کے ساتھ اپنی قومی شناخت کو بنانے کے لیے جہد مسلسل نہیں کریں گے- ہم غلام رہیں گے- اور ہماری ذہنیت غلامی سے اگے نہیں بڑھے گی- ہم “مفت” کی چیزیں حاسل کرکے خوش ہوتے رہیں گے-

  • error: Content is protected !!