Chitral Times

18th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • عوامی نیشنل پارٹی کی سابق ضلعی صدر مولانا عبد الطیف ساتھیوں سمیت پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئے

    October 24, 2017 at 6:34 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) جمعیت علمائے اسلام کا سابق صوبائی امیر، متحدہ مجلس عمل کا سابق ضلعی صدر اور عوامی نیشنل پارٹی کا سابق ضلعی صدر کے عہدوں پر فائز رہنے والے مولانا عبداللطیف نے اے این پی کو چھوڑکر پی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں منعقدہ ایک شمولیتی تقریب میں عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی ، پی ٹی آئی اور آل پاکستان مسلم لیگ سے درجنوں کارکنان نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کردیا جنہیں پارٹی کے ضلعی صدر اور ایم پی اے سلیم خان نے پارٹی کا پرچم پہنایااور پارٹی میں خوش آمدید کہا۔ اس موقع پر پارٹی میں شامل ہونے والوں میں کئی علماء بھی شامل تھے جن میں جماعت اسلامی کے دروش سے تعلق رکھنے والے مولانا محمد غازی، جے یو آئی کے قاری عبدالباسط، قاری شبیر احمد، قاری شفیق افضل ہیں جبکہ اے این پی کے دروش سے تعلق رکھنے والے کارکنان میں حاجی شیر ولی خان، نظار احمد ، مس ولی خان، حاجی گل زمان، امان اللہ، عبدالصمد خان، رحمت اعظم، محمد ظاہر شاہ شامل تھے۔ انسی طرح جماعت اسلامی کے دمیڑ سے امان اللہ خان، دروش سے حاجی دینار ، دروش سے پی ٹی آئی کے شہزاد، سرور خان گرم چشمہ، خسروالدین دروش، حافظ سخی سید احمد شاہ، اے پی ایم ایل کے عبدالکریم گوجر،حضرت ولی اور دنین سے اے این پی کے کئی کارکنان نے بھی پی پی پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ پی پی پی میں شامل ہونے کا اعلان کرنے والوں میں اے این پی کی ضلعی جائنٹ سیکرٹری بی بی نیہا بھی شامل تھی۔ اس موقع پر پی پی پی کے ضلعی صدر اور ایم پی اے سلیم خان نے کہاکہ پی پی پی ایک نظرئیے کا نام ہے جوکہ ایک مضبوط سیاسی قوت بھی ہے اور اسلام، مملکت خداداد پاکستان اور چترال کے لئے اس پارٹی کی خدمات کسی سے پوشید ہ نہیں ہیں جس نے اس ملک کو آئین دی اور ایٹمی قوت بننے کی راہ ہموار کردی۔انہوں نے کہاکہ مختلف پارٹیوں کو چھوڑ کر پی پی پی میں بڑی تعداد میں کارکنان اور رہنماؤں کا بڑی تعداد میں شامل ہونا عوام کا اس پر مکمل اعتماد کا مظہر ہے اور اس بنیاد پر ہم چترال سے اسمبلیوں کی تینوں نشستوں کو جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے مولانا عبداللطیف سمیت دیگر کارکنوں کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہاکہ وہ علاقائی پارٹیوں کو چھوڑ کر ایک کپرٹی میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے اے این پی کے صدر حاجی عیدالحسین کے گزشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ چترال میں گزشتہ دور حکومت میں انجام دئیے گئے ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ صرف بحیثیت ایم پی اے اور صوبائی وزیر ان ہی کو جاتا ہے اور عیداؒ لحسین کے انکار سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مولانا عبداللطیف نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وہ ایک محدود سوچ رکھنے والی اور اٹک کے اس پار سیاست کرنے والی پارٹی اے این پی کو چھوڑ کر ایک ملک گیر جماعت میں داخل ہورہے ہیں جوکہ وفاق کی علامت ہے۔ انہوں نے پارٹی قیادت پر زو ر دیتے ہوئے کہاکہ اس پارٹی میں علماء کو ان کا جائز مقام دیتے ہوئے فیصلہ سازی میں ان کو شامل کیا جائے ۔انھوں نے کہا ہے ۔ کہ تبدیلی کے دعویدار اور انصاف کے ٹھیکہ دار چار سالوں میں کچھ بھی نہ کر سکے ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ لوگ جوق درجوق پی پی پی میں شامل ہو رہے ہیں ۔ صوبائی خزانے پر تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی مخلوظ حکومت نے قبضہ جما رکھا ہے ۔ اور صرف اپنے حلقوں کو نواز رہے ہیں ۔ جبکہ چترال جیسا پسماندہ اور سیلاب و زلزلے سے متاثرہ ضلع یکسر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قاری نظام الدین نے کہاکہ علماء کی اکثریت کا پی پی پی میں شمولیت سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی مذہبی یا غیر مذہبی نہیں ہے اور اصل بات کارکردگی ہے ۔ ان کا کہنا تھاکہ دو سال قبل چترال میں تباہ کن زلزلے کے بعد متاثرہ عوام کے حقوق کو وہ دینی جماعتیں نہیں بچا سکے جوکہ ضلعی حکومت میں شامل تھے اور اس بات پر متاثریں کی اکثریت ان دونوں جماعتوں سے مایوس ہوگئی تھی۔ پارٹی کے ضلعی سیکرٹری محمد حکیم ایڈوکیٹ، انفارمیشن سیکرٹری قاضی فیصل اور عالم زیب ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کیا۔

     

     

  • error: Content is protected !!