Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جس کھیت سے دھقان کو میسر نہیں روزی۔ ۔ ۔ ۔ سی پیک کی آمد پر۔۔۔۔۔ پروفیسر رحمت کریم بیگ

    October 23, 2017 at 3:37 pm

    آج کل سی پیک کا بڑا چرچا ہے اور حکومت چین کی طرف سے پاکستان کے ساتھ خیر سگالی کے طور پر چھیالیس ارب ڈالر سرمایہ کاری کی بڑی تعریف ہونے لگی ہے کہ اس سے ہماری انفرا سٹرکچر میں انقلابی تبدیلی ائے گی روزگار کے مواقع بڑھیں گے اور نجانے کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوں گی اور پاکستان کہاں سے کہاں پہنچے گا۔ سب کا بھلا ہوگا۔ تصویر کا ایک پہلو یہ ہے جو خوابوں کی دنیا کا ایک حسین منظر ہے ہمیں اس کے ساتھ دوسرے پہلو کو بھی دیکھنا چاہئے کہ چین یہ سرمایہ کاری کیوں کر رہا ہے۔ در اصل چین کی معیشت اتنی پھیل چکی ہے کہ اس نے دنیا کے تمام ممالک کے مارکیٹس میں داخل ہوکر اپنا سستا مال بیچ کر تمام ممالک کو اپنے بارے میں تشویش میں ڈال دیا ہے کیوں؟

    چین میں سستی بجلی کوئلہ سے پیدا کی جاتی رہی ہے اور کوئلہ کے دھوئیں سے گرین ہاوس گیسوں کی مقدار میں بے پناہ اضافہ ہوا اور اس بناء پر عالمی پیمانے پر چین پر سخت تنقید شروع ہوئی اور اسے اس آلودگی کو پچیس فیصد کم کرنے کا ٹاسک دیا گیا تو چین نے اپنے سارے کوئلہ والے بجلی گھر بند کرکے اس کی جگہ سولر اور ہوائی چکی اور پن بجلی کے نظام کو رائج کیا اب ان تمام کوئلہ والے مشینوں کو کباڑ میں بیچنے کی بجائے انہیں سالم حالت میں کسی کو بیچنا مناسب سمجھا اور اس کے لئے بہترین ملک پاکستان ہی تھا جہاں بجلی کی شدید قلت ہے اور پاکستان چین کی ہر بات بسرو چشم تسلیم بھی کرتا ہے اور یہاں صنعتی زون قائم کرکے ان مشینوں کو چالو کرنا اسان ہے کہ اس کوئلہ والی بجلی سے چین کے صنعتی یونٹ چلیں گے پیداوار چین کوملیگا اور دھواں ہمارے حصے میں اجائیگا دوسری طرف ہم بھی خوش کہ سرمایہ کاری ہورہی ہے، مال چین کا بکے گا دھواں ہمارے پھیپھڑوں میں جائے گا۔

    دوسری طرف جو چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہورہی ہے وہ مفت کا مال یا تحفہ یا صدقہ نہیں ہے بلکہ یہ آسان شرح پر قرض ہے جسے پاکستان کو تیس سال کی مدت میں نوے ارب ڈالر کی مقدار میں چین کو واپس کرنا ہے اور اتنا قرض ادا کرنے کے لئے ہمیں ائی ایم ایف سے مزید قرضے لینے پڑیں گے اور سود در سود کا یہ سلسلہ کبھی ختم ہونے پہ نہیں ائیگا۔ ہمارے پاس نہ خام مال ہے اور نہ تیار مال کہ تیار مال کے لئے بنیادی چیز بجلی ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے دریا ہیں پر پن بجلی کوئی نہیں بناتا، ابھی تک دیامیر بھاشا ڈیم کے لئے زمین کی خریداری ہی پوری نہیں ہوئی اور اندا زہ کیجئے کہ اس کی تعمیر میں کتنے سال لگیں گے؟ یہ بھی کالا باغ ڈیم جیسا ایک خواب و خیال ہے۔ سیاست دان مال بنانے میں لگے ہیں ملکی برآمدات روز بہ روز کم ہوتے جارہے ہیں درآمدات بڑھتے جارہے ہیں کہ آبادی کا ایک سیلاب ہے جسے کھلانے کے لئے زرعی پیداوار میں کوئی نمایاں اضافہ دیکھنے میں نہیں اتا ملکی برآمدات کی حالت پر ایک رپورٹ بعد میں اپ کی خدمت میں پیش کی جائیگی، اس وقت بس یہی کافی ہےْ

  • error: Content is protected !!