Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • موجودہ حکومت نئی ترقیاتی کام شروع کرنے کے بجائے اے این پی کے کاموں پر تختی لگارہی ہے؍اے این پی

    October 22, 2017 at 6:40 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) عوامی نیشنل پارٹی چترال کے صدر الحاج عید الحسین نے کہا ہے کہ ضلع چترال میں تمام ترقیاتی کام اے این پی کے گزشتہ دور حکومت کے دور میں شروع کردہ تھے لیکن موجودہ حکومت کوئی نئی ترقیاتی منصوبہ شروع کرنے کی بجائے انتہائی ڈھٹائی سے ان ہی منصوبوں پر اپنے نام کی افتتاحی تختی لگارہی ہے اور اب ضلع مستوج کے قیام کا اعلان عوام کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کے لئے کوئی ہوم ورک اور تیاری نہیں ہے اور سہولیات کے محروم ایک لولی لنگڑی ضلع انہیں ہرگزقبول نہیں ہے۔ اتوار کے روز پارٹی کے دیگر رہنماؤں پروفیسر سید توفیق جان، میر عباداللہ خان، سید افتخار جان، سید عابد جان، شہزادہ ضیاء الرحمن، فیض الرحمن اور دوسروں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ لاوی ہائیڈل پراجیکٹ، بائی پاس روڈ، گولین گول اور دروش واٹر سپلائی پراجیکٹ پر موجودہ حکومت کی طرف سے اپنے نام کی افتتاحی تختی لگانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ صوبائی حکومت کی بوکھلاہٹ اور ناکامی کا شاخسانہ ہے کیونکہ گزشتہ چار سالوں کے دوران چترال کے لئے کچھ بھی نہ کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کی ناکامی سے دراصل اے این پی کی چترال میں مقبولیت کا گراف دن بدن اوپر ہوتا جارہا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کو چھوڑ کر لوگ جوق در جوق اے این پی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی کو چترالی عوام کی طرف سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے اور اب اس بات نوشتہ دیوار بن گئی ہے کہ آنے والے انتخابات میں اس ضلعے سے صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں اور قومی اسمبلی کی ایک نشست پر سوفیصد کامیابی یقینی ہے ۔ا نہوں نے کہاکہ اے این پی کی حکومت نے چترال میں سرکاری ملازمین کے مراعات میں بھی دس گنا اضافہ کیا اور فائر ووڈ الاونس کو سات سے بڑہاکر 8ہزار روپے اور پہاڑی الاؤنس کو ڈیڑھ ہزار سے بڑہاکر پانچ ہزار روپے کردیا۔ الحاج عیدالحسین نے پی پی پی سے تعلق رکھنے والے مقامی ایم پی اے کی ترقیاتی کاموں کے حوالے سے دعوے کو مضحکہ خیز اور بچگانہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ بائی پاس روڈ کا دعوی کرنے والے اپنے پسماندہ گاؤں کندوجال کے لئے سڑک پہلے بناکر دیکھائے جوکہ گزشتہ آٹھ سالوں سے ایم پی اے رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اے این پی حکومت نے 22ارب روپے مالیت کے ترقیاتی کام کئے اور اسی بنیاد پر اب چترال میں اے این پی ایک بڑھتی ہوئی سیاسی قوت ہے جس میں پی پی پی، مسلم لیگ، جماعت اسلامی، جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے کارکن بدظن ہوکر اس جماعت میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں پی پی پی سے تعلق رکھنے والا ایم پی اے اے این پی اور پی پی پی کی مخلوط حکومت میں بہبود آبادی کا وزیر تھا لیکن اپنی آبائی ضلعے کے لئے کچھ نہ کرسکے اور اب دوسرے سیکٹر کے کاموں پر دعوے جتارہے ہیں اور اے این پی کی بڑھتی مقبولیت اور ان کی یقینی شکست نے ان کو حواس باختہ کردیا ہے جوکہ اپنی ذہنی توازن بھی کھور ہاہے۔

  • error: Content is protected !!