Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ضلع اپرچترال کے قیام کی منظوری…..محمد شریف شکیب

    October 22, 2017 at 6:09 pm

    پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بالائی چترال کی ضلعی حیثیت بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کرلیا ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک کی طرف سے 7نومبر کو بونی جلسے میں ضلع اپرچترال کے قیام کا اعلان متوقع ہے۔ نئے ضلع کے متعدد نام زیرغور ہیں اور ان پر سوشل میڈیا میں گرما گرم بحث بھی جاری ہے ۔ ان ناموں میں چترال بالا، ضلع مستوج، ضلع بونی اور ضلع بیار شامل ہیں۔ اس کا ضلعی ہیڈ کوارٹر بالائی چترال کا سب سے بڑا قصبہ بونی ہی ہوگا۔ تاہم ڈسٹرکٹ سیکرٹریٹ قاق لشٹ میں قائم کیا جاسکتا ہے۔یہ وضاحت کرنا ضروری ہے کہ اگرچہ صوبائی حکومت کے ریکارڈ میں چترال بالا نیا ضلع ہوگا۔ لیکن درحقیقت یہ فیصلہ بالائی چترال کی ضلعی حیثیت بحال کرنے کا ہوگا۔بالائی چترال ریاست چترال کے دور میں بھی الگ انتظامی یونٹ رہا ہے۔ جسے ضلع ثانی جبکہ چترال سٹی کو ضلع اول پکارا جاتا تھا۔ریاست چترال کے ریکارڈ کے مطابق ضلع ثانی 1895سے 1914تک الگ ریاستی عمل داری میں رہا۔ 1898کو انگریزوں نے ضلع ثانی کا ایک علاقہ وخان الگ کرکے اسے بفر اسٹیٹ بنادیا۔ تاکہ برطانوی سلطنت کی سرحدیں براہ راست سوویت یونین سے نہ مل پائیں۔ واخان کے علاقے کو سو سال کے پٹے پر افغانستان کو دیدیا گیا۔ جنوبی ایشیاء کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ کسی ملک نے اپنا ہی علاقہ کاٹ کو اسے بفر زون بنادیا ہو۔1914میں ضلع ثانی کو دوبارہ ضلع اول کے ماتحت کردیا گیا۔قیام پاکستان کے وقت بھی ضلع ثانی یعنی چترال بالا الگ انتظامی یونٹ تھا۔ شہزادہ شہاب الدین قیام پاکستان کے بعد ضلع ثانی کے پہلے ڈپٹی کمشنر مقرر ہوئے۔ اس کے بعد معراج الدین، میر سبحان الدین، ظفر احمد اور شہزادہ محی الدین ضلع ثانی کے ڈپٹی کمشنر رہے۔ 1969میں جب ریاست چترال نے غیر مشروط طور پر پاکستان میں ضم ہونے کا اعلان کیا۔ تو ضلع ناظر کی طرف سے ضلع ثانی کو غلطی سے سب ڈویژن لکھنے کے بعد اس کی ضلعی حیثیت ختم کردی گئی۔ 14ہزار800مربع کلو میٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ضلع چترال کو ایک انتظامی یونٹ کے ماتحت رکھنا انتہائی غیر منصفانہ اور ظالمانہ فیصلہ تھا۔ ارندو سے لے کر شیخ سلیم، بمبوریت سے لے کر شندور اور عشریت سے لے کر بروغل تک وسیع و عریض علاقے کو ایک انتظامی افسر کیسے سنبھال سکتا ہے۔ چھ سودیہات پر مشتمل اس پورے علاقے میں آج تک کوئی بھی امیدوار انتخابی مہم نہیں چلا سکا۔ نہ ہی وہاں بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔آج بھی کئی دیہات ایسے ہیں جہاں کوئی سکول ،ہسپتال اور پینے کا صاف پانی میسر نہیں۔سڑ ک کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو چارپائی پر ڈال کر تنگ پہاڑی پگڈنڈیوں سے سڑک تک لایا جاتا ہے اور اکثر مریض سینکڑوں کلو میٹر دور ڈی ایچ کیو اسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ جاتے ہیں۔برنس سے لے کر تریچ میر، ریچ، شندور اور بروغل تک سب ڈویژن مستوج کا رقبہ آٹھ ہزار مربع کلو میٹر اور آبادی تین لاکھ سے زیادہ ہے۔تین سب تحصیلوں موڑکہو، تورکہو اور مستوج پر مشتمل اس علاقے کی ضلعی حیثیت بحال ہونے سے علاقے کے تعلیم یافتہ لوگوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔ کیونکہ یہاں تعلیم کی شرح 85فیصد سے زیادہ ہے۔ قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی ایک اضافی نشست کے علاوہ سب تحصیلوں کو بحال کرنے سے مناسب ترقیاتی فنڈز ملیں گے جس سے دور افتادہ علاقوں تک بنیادی سہولیات پہنچانے میں مدد ملے گی۔ بنجر زمینوں کو پانی کی فراہمی، معدنی وسائل سے استعفادہ کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے سے یہ ضلع چند سالوں کے اندر خود کفیل ہوسکتا ہے۔ ضلع مستوج کی بحالی کے فیصلے پر بالائی چترال میں سو فیصد اتفاق رائے پایاجاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنے فیصلے پر کس حد تک عمل درآمد کراتی ہے۔کیونکہ صوبائی حکومت کے پاس ابھی چھ مہینے کا وقت ہے۔ اگر ضلعی سیکرٹریٹ کے قیام کے ساتھ ڈپٹی کمشنر اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی سمیت بنیادی کام موجودہ دور حکومت میں مکمل کئے جاتے ہیں تو اس سے علاقے میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا اور تحریک انصاف کو بھی اس کے سیاسی ثمرات مل سکتے ہیں۔ لواری ٹنل کے بعد ضلع مستوج کا قیام منتخب جمہوری حکومتوں کی طرف سے اہل چترال کے لئے ناقابل فراموش تحائف ہوں گے۔جو بلاشبہ اہل چترال کی امن پسندی اورحب الوطنی کا بہترین صلہ ہے۔

  • error: Content is protected !!