Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • جس کھیت سے دھقان کر میسر نہیں روزی۔۔۔۔ پروفیسر رحمت کریم بیگ

    October 22, 2017 at 6:06 pm

    جب سے خیبر پختونخوا میں پی۔ٹی۔ آئی کی حکومت نازل ہوئی ہے ہمیں خیال کیا بلکہ یقین تھا کہ اس پارٹی نے کئی سالوں کی جد و جہد اور ہوم ورک کے بعد اتنی بلوعت حاصل کی ہوگی کہ چند اہم محکموں میں مناسب حد تک اصلا حات نافذ کرکے نظام کو بہتر کرسکے گا اور ایسی تبدیلیاں نظر آئیں گی جسے عام آدمی بھی محسوس کرسکے مگر آج ساڑھے چار سال گذرنے کے بعد بھی تعلیمی تجربات کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور کوئی نمایاں نتائیج سامنے نہیں ائے۔ دعوؤں کی حد تک تحریک انصاف کے لیڈر صاحبان عوام کو بہلانے کی کوشش تو کر رہے ہیں مگر جب بی۔او۔جی۔ کے زریعے اساتذہ کے سروس سٹرکچر کو چھیڑنے کی کوشش کی جاتی ہے تو لاکھوں اساتذہ کے لاکھوں خاندان صوبائی حکومت کے خون کے پیاسے نظر اتے ہیں اور یہ ان کے لئے زندگی اور موت کا سوال بنتاہے اور صوبائی حکومت کس کوتاہ اندیشی سے اس اخری مرحلے میں اتنی بڑی ووٹ بنک کو خود سے نالان کرکے اپنے خلاف محاذ پر لا کھڑا کرنا چاہتی ہے اور یہ کس قسم کا سوچ، تدبر، سیاست اور ہوشیاری ہے؟
    بجا ہے کہ خان صاحب نے اپنی صوبائی وزراء کے نا تجربہ کار ہونے کا رونا بھی رویا مگر یہ نا تجربہ کار بعض ذاتی معاملات کو کس ہوشیاری سے نمٹاتے ہیں ۔ اپنے اتحادیوں کو نکالتے بھی ہیں اور واپس لاکر پھر سے نکالتے ہیں یعنی ان کو ایک اچھی خاصی سیاسی پارٹی کو زچ کرنے کا گر خوب اتا ہے مگر تعلیمی نظام کو سنبھالنے اور سنوارنے کا کوئی طریقہ ان کی سمجھ میں نہیں اتی ۔ اپنی لائی ہوئی ابتدائی اصلاحات کا نتیجہ دیکھنے کے لئے انتظار نہیں کر سکتے، وہ اپنی ہی لائی ہوئی ابتدائی تعلیمی اصلاحات کے اشارئیے دیکھ کر خامیوں کی نشاندہی کرکے ان خرابیوں کو دور کر سکتے تھے ۔ نا تجربہ کار وزیروں کو کا لج کے چھتے میں ہاتھ ڈال کر اس لاتعداد اور جذباتی مخلوق کو باہر لانے کی کیا ضرورت تھی جب کہ ان کا تجربہ صفر تھا؟
    اگر وزیر صاحبان واقعی نا تجربہ کار ہیں تو صوبے میں موجود ماہرین تعلیم کی کمی تو نہیں ہے ان کی ایک تھنک ٹینک تشکیل دیکر ان کے تجربات سے فائیدہ اٹھانے میں کیا حرج ہے؟ صوبائی سکر ٹری تعلیم کا کام تعلیمی اصلاحات تجویز کرنا نہیں بلکہ ان پر عملدرآمد کرانا ہے کیونکہ یہ سکرٹری لوگ دو سال پبلک ھیلتھ میں ، تین سال سوشل ویلفئر میں، چار سال فینانس میں رہ کر کسی بھی شعبہ کا شد بد تو رکھتے ہیں مگر پورا علم نہیں رکھتے اصلاحات سوچنے اور ان کو نافذ کرنے کے لئے ماہرین کی تھینک ٹینک کا ہونا ضروری ہے جو حکومت کو اصلاحات کا پیکیج تیار کرکے دیتا جائے اور حکومت ان پر عمل کر کے، عوام کو مطمئن کرکے نیک نام ہو۔۔ جہاں تک خان صاحب کی مرکزی شیڈو کیبینٹ کا تعلق ہے اس میں بھی ریٹا ئر ڈ ماہرین اور ٹیکنو کریٹس کے کئی تھنک ٹینک لگا تا رکام کرتے رہنا چاہئے اور اپنے بہترین مشوروں سے پارٹی قیادت کو راہ دکھانی چاہئے کہ اس کا بوجھ ہلکا ہو پارٹی کو اس رہنمائی کی اشد ضرورت ہے ۔ خان صاحب بھی ایک قومی لیڈر ہے مگر کوئی بھی لیڈر عقل کل نہیں ہوسکتا اور یہ بات بآ سانی محسوس کی جاتی ہے ورنہ کی جانی چاہئے۔۔۔

  • error: Content is protected !!