Chitral Times

18th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • قدیم کالاش تہذیب سیاحوں کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔۔اقلیتی رکن قومی اسمبلی اسفن یار بھڈارا

    October 21, 2017 at 10:50 pm

    چترال ( محکم الدین ) اقلیتی رکن قومی اسمبلی اسفن یار بھنڈارا نے کہاہے ۔ کہ کالاش ویلیز کو قدرت نے انمول خزانوں سے نوازاہے ۔ جنگلات سے مزین پہاڑ اور صاف و شفاف پانی اور دل کو لبھانے والے نظارے اس کا سرمایہ ہیں ۔ جبکہ پوری دُنیا کی قدیم کالاش تہذیب سیاحوں کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ اس لئے موجودہ وفاقی حکومت کی یہ کوشش ہے ۔ کہ آمدورفت کی سہولتیں فراہم کرکے ان وادیوں کو پوری دُنیا کے سیاحوں کیلئے کھولا جائے ۔ تاکہ یہاں سیاحتی آمدنی سے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی آئے ۔ اور غربت کا خاتمہ ہو ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے تین روزہ دورۂ چترال کے موقع پر بمبوریت اور رمبور میں کالاش کمیونٹی کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اُن کے پولیٹکل سیکرٹری انیل اجمل ،کالاش عمائدین سیف اللہ ، فیضی ، وزیر زادہ ، نورشاہدین اور بہرام شاہ کے علاوہ کالاش مردو خواتین کی بہت بڑی تعداد موجود تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وفاقی حکومت نے کالاش ویلیز کی سڑکوں کو این ایچ اے کے ذریعے سے بہترین صورت میں تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے ۔ اور انشااللہ نئی سڑکوں کی تعمیر کے بعد کالاش کمیونٹی کو آمدورفت کی مشکلات سے نجات مل جائے گی ۔ اور سیاحتی سطح پر یہ علاقہ انتہائی اہمیت اختیار کر جائے گا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش قبیلے سے میرا تعلق بحیثیت ایم این اے یا عہدے کی وجہ سے نہیں ہے ۔ بلکہ کالاش لوگوں کو اپنے خاندان کا حصہ سمجھتا ہوں ۔ اور ہماری یہ محبت کئی عشروں پر محیط ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میرے لئے یہ انتہائی اعزاز کی بات ہے ۔ کہ کالاش قبیلے کے لوگ مجھے عزت دیتے ہیں ۔ اور یہ ہماری باہمی خاندانی مضبوط تعلق کی عکاس ہے ۔ اسفن یار بھنڈارا نے کہا ۔ کہ کالاش کمیونٹی کیلئے میرے کئی پراجیکٹس بمبوریت اور رمبور میں مکمل ہو چکے ہیں ۔ جبکہ مزید منصوبے بھی مکمل کئے جائیں گے ۔ اس سلسلے میں کالاش قبیلے کے عمائدین کے مشوروں پر عمل کیا جائے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ میں آپ کے مسائل سننے آیا ہوں ۔ آپ بلا جھجک اپنے مسائل اور شکایت مجھ سے کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش ویلی روڈز کے حوالے سے واپسی کے بعد وزیر اعظم کو دوبارہ یاد دلاؤنگا ۔ اور بلاتاخیر اس پر کام شروع کرنے کے حوالے سے اقدامات اُٹھاؤنگا ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر زادہ نے اقلیتی رکن اسمبلی کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ وہ کالاش ویلی کی طرف بھر پور توجہ دیتے ہیں ۔ اور مسائل حل کرنے کے سلسلے میں اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں ۔ اس موقع پر سیکرٹری ویلج کونسل اقبال نے کالاش قبیلے کی طرف سے خطاب کرتے ہوئے انجہانی ایم پی بھنڈارا کی خدمات پر تفصیل سے روشی ڈالی اور کہا ۔ کہ انہوں نے کالاش ویلز میں سکولوں کی تعمیر ، روڈز کی بہتری ، واٹر سپلائی سکیمیں اور نہروں کی تعمیر کی۔ اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ اور آج اُن کے فرزند ہوتے ہوئے ہم آپ کو بھی اُسی روپ میں دیکھتے ہیں ۔ اور آپ سے بھی بھر پور توقع رکھتے ہیں ۔ آپ نے کالاش قبیلے کے ساتھ جو قریبی تعلق رکھا ہے ۔ اُسے مزید مضبوط کرنے کی درخواست کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ انجہانی بھنڈارا کی کالاش قبیلے کے ساتھ والہانہ اور جنون کی حد تک محبت تھی ۔ جسے کوئی بھی فراموش نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کالاش کمیونٹی کی طرف سے ایم این اے اسفن یار بھنڈارا کا شکریہ ادا کیا کہ وہ انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے علاوہ ،طلبہ کی مدد اور خواتین کو سلائی مشینیں اور نقد مالی امداد دیتے ہیں ۔ جس سے خواتین اور طلبہ کو بہت سپورٹ ملتی ہے ۔ اس موقع پر سیلاب سے متاثرہ مائکروہائیڈل کی بحالی ، شیخاندہ میں ڈسپنسری کا قیام ، رمبور ڈسپنسری کو رورل ہیلتھ سنٹر بنانے ، لنک شیخاندہ کی مرمت کیلئے فنڈ کی فراہمی اور ڈاکخانے کے عارضی ملازم کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اقلیتی رکن قومی اسمبلی نے بمبوریت اور رمبور کی خواتین میں اپنے ہاتھوں سے چالیس سلائی مشین ، 70افراد میں نقد تین تین ہزار روپے اور کالاش خواتین لباس کیلئے 90جوڑے سیاہ کپڑے تقسیم کئے ۔ جب کہ بریر ویلی میں بیس سلائی مشین ، پینتیس افراد کو تین تین ہزار روپے اور پینتالیس جوڑے کپڑے تقسیم کئے جائیں گے ۔ اسفن یار بھنڈارا نے بعد آزان اقلیتی فنڈ سے بنے ہوئے حفاظتی پشتوں کا معائنہ کیا ۔ اور ایک این جی او کی طرف سے بنائے گئے حفاظتی پشتے کے مقابلے میں سرکاری فنڈ سے بنائے گئے پشتے کو پیسے کا ضیاع قرار دیا ۔ اور کہا ۔ کہ حکومتی ادارے کرپشن کے گڑھ بن گئے ہیں ۔ جن کی اصلاح کئے بغیر کوئی بھی کام صحیح نہیں ہو سکتا ۔ انہوں نے متاثرہ بجلی گھر دیکھا ۔ اور اُس کی مرمت کیلئے ڈیڑھ لاکھ روپے دیے ۔ قبل ازین اسفن یار بھنڈارا کے بمبوریت اور رمبور پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا ۔ اور خواتین نے روایتی چیہاری پہنائے اور اُنہیں خوش آمدید کہا ۔

     

  • error: Content is protected !!