Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نام میں کچھ رکھا ہے….. ڈاکٹر اسماعیل ولی

    October 21, 2017 at 5:37 pm

    نام میں کچھ رکھا ہے اس لیے لوگ جذباتی ہو رہے ہیں
    کویی بھی نام اوازوں کا مجموعہ ہوتا ہے- بعض اوازیں بہت مانوس ہوتی ہیں- بعض کم مانوس ہوتی ہیں- ناموں سے ایک حد تک ثقافت اور زبان و ادب کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہیں- ناموں کی اہمیت اس وقت سمجھ میں اتی ہے- جب ہم لوگوں کو اپنے نومولود بچوں یا بچیوں کے لیے نام ڈھونڈتے ہوے سر گرداں پاتے ہیں- وہ ایسے نام کی تلاش میں ہوتے ہیں- جو منفرد ہوں- شاید یہ بھی انسانی جبلت کا کویی حصہ ہو-
    لوگ ناموں پہ سیاست کرتے ہیں- ہمارے صوبے کا نام کیوں بدلا گیا- مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش کیوں کہا گیا- اداروں کو اپنے پسندیدہ شخصیات کا نام کیوں دیا جاتا ہے- چین اور روس نے جن علاقوں پر قبضہ کیا- ان علاقوں کے ناموں کو بھی بدلنے کی کوشش کی- یعنی ان کو روسیایا گیا یا چینیایا گیا- انگریزوں کا ہم پر ایک احسان یہ ہے- کہ ناموں کو بدل کر ہماری شناخت کو مسخ کرنے کی کوشش نہیں کی-
    چند دنوں سے چترال میں ایک نیا ضلع بنانے کی خبریں ارہی ہیں- معلوم نہیں کہ اس اعلان کے عملی مضمرات کیا ہونگے- لیکن نام کے بارے میں زیرین چترال والوں ، تور کہو اور موڑ کہو والوں کی طرف سے ‘مستوج” کے لفظ پر اعتراضات سامنے ارہے ہیں- میں نے اج فیس بک پر ایک پوسٹ لکھا
    ” چترال کہوار لفظ نہیں ہے- اور نہ چترالی کہوار لفظ ہے- مستو ج کے ذریعے ایک کھوار لفظ کو رسمی طور پر محفوظ کیا جاے گا”
    تو فورا تین رد عمل سامنے اےـ محترم پرو فیسر شفیق صاحب نے کہا ” یہ بھت منفی سوچ ہے- ہم مستوج کے نام کو کبھی قبول نھیں کریں گے”
    لیکن محترم پرفیسر صاحب نے میری راے میں جو منفی پہلو ہے- اس کو سامنے لانے کے بجاے جذباتی ہو گیۓ- اور “ہم کبھی قبول نہیں کریں گے” کے ذریعے اپنے رد عمل کا اظہار کیا- وہ یہ بھی کہ سکتے تھے- کہ “میں اپ کی راے سے اتفاق نہیں کرتا”- یا یہ مناسب نام نہیں ہے- اس کے بجاے یہ مناسب نام ہوگا- ” لیکن جن الفاظ کے ذریعے پروفیسر صاحب نے میری راے پر تبصرہ کیا- میرے خیال میں ان میں نفی توانایی زیادہ ہے- اور تعصب کی بو ا رہی ہے- میں نے یہ نہیں لکھا” کہ ہم کبھی بھی کسی اور نام کو قبول نہیں کریںگے” ایسے الفاظ فراست سے زیادہ حماقت کو ظاہر کرتے ہیں- کیونکہ یہ حکومت کا کام ہے- کہ وہ لوگوں کی اکثریت کو سامنے رکھ کر کویی فیصلہ کرے گی- کہ کونسا نام مناسب رہے گا- شفیق صاحب کی غلط فہمی یہ ہے- کہ مجھے ضلع تورکہو یا ضلع موڑکہو کہنے پر کویی اعتراض ہے- مجھے اس پر اعتراض نہیں- میری راے میں جو بھی ہو وہ کہوار لفظ ہو- مستوج کا استعمال اسلے کیا- کہ ابھی اس کا نام سب ڈویژن مستوج ہے- ضلع مستوج کھنے سے کسی کے جذبات مجروح ہوے ہوں تو معذرت خواہ ہوں- اگر مستوج کا لفظ ان کے لیے اتنی تکلیف کا باعث ہو-
    دوسرا رد عمل محترم عیسی خان صاحب کی طرف سے ایا- کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہویی- لیکن مجھے پسند اس لیے ہیں- اچھی انگریزی لکھتے ہیں- اور منطقی دلایل دینے پر مہارت حاصل ہے-
    ساتھ تنقیدی فکر کا بھی حامل ہے- اپنے رد عمل میں میری راے کو “شناختی پریشانی ” سے جو ڑ دیا- چونکہ مستوج بقول عیسی خان صاحب ایک محدود جگے کی نمایندگی کرتا ہے- اور تعارف کرتے ہوے لوگوں کو سمجھنے میں دشوار ہوگی- کہ “مستو چکی” کیا بلا ہے- اور “چترالی” لوگوں کے لیے زیادہ مانوس ہے- لہذا اپر چترال مناسب رہے گا- اس دلیل میں وزن ہے- اگرچہ اس نے “مستوچ” اور “مستوچکی” کے الفاظ کو تھوڑی سی حقارت کے لہجے میں استعمال کیا ہے-
    جناب والا، تور غور میرے خیال میں کسی نے سنا بھی نہیں تھا- اب ضلع ہے- اور اہستہ اہستہ یہ شناخت عام ہو رہی ہے- کوی بھی جگہ شروع میں اتنی مشہور نہیں ہوتی جنتا لوگ اس جگے کو مشہور کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں- یونان کو مشہور کرنے والے لوگ ارسطو اور افلاطون ہیں- پھر سکندر اعظم ہیں- انگلینڈ ایک غیر معرو ف جگہ تھی- انگریزوں نے کہاں سے کہاں پہنچایا- سولہ سو بیس میں کچھ زایرین “جنت” کی تلاش میں امریکہ پہنچے- ان کو کیا پتہ تھا- کہ ایک دن ان کے علاقے میں اقوام متحدہ کا دفتر بنے گا- اور ساری دنیا امریکہ والوں کی زیر نگین ہوگی- اج اپ کو مستوج یا تور کہو یا یا موڑکہویا بونی یا ریشن یا یار خون غیر معرو ف لگتا ہے- کل ہی یہاں سے کویی نوبل انعام لے گا- پھر ایک دو دن میں اس گاوں کا نام ساری دنیا میں عام ہو جاے گا- اسلیے کسی علاقے کا کم معروف ہونا اس بات کے لیے کا فی دلیل نھیں ہے- نام پڑنے کے بعد یہ نام خود بہ خود معرو ف ہو جاتے ہیں-
    دوسری بات، ابھی ٹھیک ہے اس کا نام “بالایی چترال” یا اپر چترال رکھا”- کل مستوج یا تورکہو یا موڑکہو یا دروش الگ ضلع بنے گا- پھر اپر کا سابقہ یا لاحقہ کام نہیں کرے گا-
    تییسری بات، مقامی نام محقیقین کے لیے بھت ضروری ہوتے ہیں- ان کی لسانی اور ثقافتی اہمیت سے کویی انکار نہیں کرسکتا 150 ان میں لسانی اور ثقافتی تاریخ چھپی ہوتی ہے- اپ خود “شناختی کنفیو ژن” کی بات کرتے ہیں- محقق کی دلچسپی “چترال” یا “چترالی” میں نہیں بلکہ “چھترار” اور “چھتراری” میں ہوگی- وہ دو الفاظ اس کو کنفیوز کرینگے-
    ایک اور رد عمل کرنل (ر) افتخار کی طرف سے ایا” اگر کہوار نام ہی ضروری ہے-تو مستوج کے جیم کو بھی چ سے بدلنا ہوگا” اگر اس راے میں طنز نہ ہیں- بڑی اچھی سوچ ہے-
    خلاصہ، نیے ضلع کا جو نام ہو- وہ کہوار ہو- اور یہی ہماری شناخت ہے- یہ میری راے ہے- باقی اختلاف راے کا حق سب کو حاصل ہے-

  • error: Content is protected !!