Chitral Times

24th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پشاور ریپڈ ٹرانزٹ بس سروس ……محمد شریف شکیب

    October 19, 2017 at 10:11 pm

    خداخدا کرکے پشاور ریپڈ ٹرانزٹ بس سروس پر تعمیراتی کام کا آغاز ہوگیا۔ جو خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا پہلا میگا پراجیکٹ ہے۔ ریپڈ ٹرانزت بس سروس کے لئے چمکنی سے حیات آباد تک روٹس کی تعمیر پر پچاس ارب ، دفاتر، عملہ کی تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ جدید ائر کنڈیشنڈ بسوں کی خریداری پر سات ارب روپے خرچ ہوں گے۔ 26کلومیٹر پر محیط دو رویہ شاہراہ پر تین سو ائرکنڈیشنڈ بسیں چلیں گی۔ ہر سٹاپ کا درمیانی فاصلہ دو منٹ کا ہوگا۔ چمکنی سے حیات آباد تک ریپڈ بس روٹ سے آٹھ رابطہ سڑکیں منسلک ہوں گی ۔منصوبہ چھ ماہ میں مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں روزانہ پانچ لاکھ افراد اس جدید سفری سہولت سے مستفید ہوں گے۔ ناقدین کے اس منصوبے پر کافی اعتراضات ہیں ان کا کہنا ہے کہ خود کفالت کی تبلیغ کرنے والوں نے عوام پر ستاون ارب روپے کے نئے قرضوں کو بوجھ لاد دیا ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ میٹرو بس کو جنگلہ بس قرار دینے والے بالاخر اس کی تقلید پر مجبور ہوئے ہیں۔ کسی کی رائے یہ ہے کہ صوبے کے پچیس اضلاع کو چھوڑ کر صرف پشاور پر اتنے بھاری رقم خرچ کرنا ناانصافی ہے۔ ٹرانسپورٹروں کو اس منصوبے پر سب سے زیادہ اعتراضات ہیں ان کا کہنا ہے کہ ریپڈ ٹرانزٹ بس سروس شروع ہونے کے بعد ان کی بسوں، منی بسوں اور ویگنوں میں کون بیٹھے گا؟۔ ٹرانسپورٹ سے وابستہ ہزاروں لوگ بے روزگار ہوجائیں گے۔ سیاسی مخاصمت اور ذاتی مفادات کو بالاطاق رکھ کر سوچا جائے تو جدید بس سروس ساڑھے چار سالوں میں شروع کیا جانے والا موجودہ حکومت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ جس سے پشاور شہر کا نقشہ ہی بدل جائے گا۔ کٹھارہ بسوں ، ویگنوں اور سوزوکیوں میں سفر کی شکل میں سزا پانے والے لاکھوں شہری سکھ کا سانس لیں گے۔ دنیا بھر میں سفری سہولیات میں ایک انقلاب آیا ہے۔ لیکن پشاور کے بدقسمت شہری آج بھی بوسیدہ اور دقیانوسی بسوں اور کھٹارہ ویگنوں میں سفر پر مجبور ہیں ۔دس سیٹوں والی گاڑیوں میں سولہ سے اٹھارہ مسافروں کو ٹھونسا جاتا ہے۔ان بسوں اور ویگنوں کے اندرونی مناظر بھی افسانوی نوعیت کے ہوتے ہیں۔زنگ آلود اور دھول سے اٹی ہوئی سیٹوں پر بیٹھ کر چند منٹوں کا سفر کرنے کے بعد جب مسافر اترتا ہے تو اس کا حلیہ ہی بدل جاتا ہے۔ جیب کٹی ہوئی، کپڑے پھٹے ہوئے اور بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ٹریفک پولیس بھی ان بسوں اور ویگنوں کی حالت زار دیکھنے اور مسافروں کے ساتھ سلوک سے باخبر ہونے کے باوجود خاموش ہے۔ اورکیوں نہ ہو۔ ان کا دال دلیہ بھی تو انہی کھٹارہ بسوں کے طفیل چلتا ہے۔ جدید بسوں کی آمد پر ٹرانسپورٹروں سے زیادہ ٹریفک پولیس والے خفا ہوں گے۔ لیکن عوام کی وسیع تر مفاد میں انہیں یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑ رہا ہے۔لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ رزق کے دروازے بند نہیں ہوتے۔ یہی بسیں اور ویگنیں اب نواحی علاقوں کی سڑکوں پر ہچکولے کھاتی نظر آئیں گی۔ میٹرو بس سے اتر کر ان گاڑیوں میں گھروں تک سفر کرنے والے اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کریں گے۔لوگوں میں کچھ خوف خدا پیدا ہوگا۔ اور ان میں شکر کرنے کی عادت بھی شاید پڑ جائے۔اس منصوبے کے حوالے سے کچھ تحفظات شہریوں کو بھی ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں نے ریپڈ بس منصوبے کی تعمیر کے دوران شہر میں ٹریفک کا بہاو برقرار رکھنے کے لئے ہوم ورک ضرور کیا ہوگا۔ لیکن اس پلان کے موثر ہونے کا امتحان آج سے شروع ہوگیا ہے۔ صبح اور دوپہر کے اوقاتمیں سکول، کالج ، یونیورسٹی ، دفاتر، تجارتی مراکز اور اسپتال جانے والوں کو غیر معمولی تاخیر کے بغیر اپنی منزل تک پہنچنے کی سہولت فراہم کرنا حکومت ، متعلقہ اداروں اور قانون نافذ کرنے والوں کی ذمہ داری ہے۔ ساتھ ہی منصوبے کے معیار پر کڑی نظر رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ کیونکہ چھ ماہ کے اندر چھبیس کلو میٹر کے مین روٹ اور رابطہ سڑکوں کی تعمیر مکمل کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اگر معیار پر سمجھوتہ کیا گیا۔تو مستقبل میں کوئی المیہ سانحہ رونما ہوسکتا ہے۔ پشاور صرف پشاوریوں کا نہیں۔ صوبے میں بسنے والے اڑھائی کروڑ عوام کو بھی شہر ہے۔ ترقی کا عمل سب سے پہلے یہیں سے شروع ہونا چاہئے۔ صوبائی دارالحکومت کی حالت بدل جائے گی تو دوسروں کو بھی تبدیلی ضرور نظر آئے گی۔

  • error: Content is protected !!