Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • ایم این اے چترال شہزادہ افتخار الدین کی وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی سے ملاقات، متعدد منصوبوں کیلئے موقع پر ڈائریکیٹیوز جاری

    October 18, 2017 at 8:33 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال سے قومی اسمبلی کے رکن شہزادہ افتخار الدین نے بدھ کے روز اسلام آباد میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی اور چترال کی ترقیاتی کاموں کے حوالے ان کو آگاہ کیا۔ ملاقات کے بعد چترال ٹائمز کوٹیلی فون پر انہوں نے بتایاکہ وزیر اعظم نے وفاقی حکومت کی فنڈز سے تعمیر ہونے والی سڑکوں، گیس پلانٹوں کی تنصیب اور بجلی کے حوالے سے متعلقہ محکمہ جات کو directivesجاری کردئیے ۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم نے شندور، گرم چشمہ اور ایون کالاش وادیوں کی سڑکوں کی جلد از جلد ٹینڈر کرنے کے لئے چیر مین نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو احکامات جاری کردئیے۔ اسی طرح وزیر اعظم نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل ) کو ہدایات جاری کردی کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے اعلان کے مطابق چترال ، دروش اور ایون میں گیس پلانٹ لگانے کے ساتھ ساتھ چار نئے مقامات بونی ، موڑکھو، مستوج اور گرم چشمہ میں بھی گیس پلانٹ لگانے کی ہدایت کی۔ ایم این اے شہزادہ افتخار الدین کے مطابق چترال میں ویمن یونیورسٹی کے قیام کے بھی انہوں نے ہدایات جاری کردئیے۔ ایم این اے نے کہاکہ ان کی دعوت کو قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دسمبر کے اوائل میں چترال کا دورہ کرنے اور گولین ہائیڈل پاؤر پراجیکٹ اور گیس پلانٹوں سمیت سڑکوں پر کام کا افتتاح کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔

    شہزادہ افتخا رالدین نے کہاکہ انہوں نے چترال کو ترقی کے مختلف شعبوں میں درپیش مسائل حل کرنے میں ہر ممکن جدوجہد کرتا رہا ہے جن میں کامیابی عوام کے سامنے ہے جن میں تین فیڈرل فنڈڈ سڑکیں(شندور، گرم چشمہ اور کالاش ویلیز)، گیس پلانٹوں کے ذریعے قدرتی گیس کی فراہمی، چترال یونیورسٹی کے لئے وفاقی حکومت سے پراجیکٹ کا 80فیصد فنڈز مہیا کرانا، واپڈ ا کے گولین گول بجلی کے لئے مطلوبہ فنڈز کی فراہمی کے ذریعے اسے جلدپایہ تکمیل تک پہنچانا شامل ہے جبکہ لواری ٹنل پراجیکٹ کا 80فیصد فنڈز بھی موجودہ وفاقی حکومت نے دے دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بونی بزند روڈ کی توسیع اور پختگی کے لئے بھی انہوں نے وفاقی حکومت سے ایک ارب 12کروڑ روپے کی فراہمی کرائی ہے لیکن منصوبے میں غیر معمولی تاخیر کا ذمہ دار صوبائی حکومت ہے جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ سیاست میں جھوٹے دعوے کرنے اور سیاسی حریفوں کو نیچا دیکھانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتے اور انہیں اس بات پر یقین ہے کہ عوامی نمائندوں کی کارکردگی کا بہترین جج چترال کے عوام ہی ہیں۔

  • error: Content is protected !!