Chitral Times

18th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • مہنگائی کا بم …………. محمد شریف شکیب

    October 18, 2017 at 7:58 pm

    وفاقی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا ایک اور بم گرادیا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 731 درآمدی اشیاء پر 15سے 80فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی فیصلے پر عمل درآمد بھی فوری طور پر شروع کردیا گیا۔ جن اشیاء کے نرخوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان میں دودھ کی مصنوعات، پھل، ٹماٹر پیسٹ، ڈائپرز، میک اپ کا سامان، شیمپو، پرفیوم، پالتو جانوروں کی خوراک،چاکلیٹ، تازہ اور منجمد مچھلی، خشک دودھ، مکھن، دہی، پنیر، ٹائلٹ اسپرے، کاسمیٹکس، مائیکرو ویو اوون، فروٹ گرینڈرز، مکسرز، جوسر مشین،گھروں اور دفتروں میں استعمال ہونے والے لکڑی اور لوہے سے بنے ہوئے فرنیچرز، کھیلوں کا سامان، گاڑیوں کی چمکدار نمبر پلیٹس،گھڑیاں، موبائل فونز ،اسلحہ، نئی اور پرانی گاڑیاں شامل ہیں۔وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ ریگولیٹری ڈیوٹی بجٹ خسارہ کم کرنے اور غیر ضروری اشیاء درآمد کرنے کی وجہ سے پاکستانی کرنسی پر پڑنے والا دباو کم کرنے کے لئے لگائی گئی ہے۔چار ماہ قبل وفاقی بجٹ میں وفاقی حکومت نے روزمرہ ضرورت کی مختلف اشیاء پر اضافی ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگا کر تین کھرب پچاس ارب روپے اکھٹا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سیلز ٹیکس کی شرح میں 6فیصد، کارپوریٹ ٹیکس میں 30فیصداضافے سمیت ایک ہزار سے زائد اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا تھا۔ اب مزید ساڑھے سات سو اشیاء مہنگی کرنے کے اعلان نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔جن اشیاء پر نیا ٹیکس لگایاگیا ہے ان میں سے 90فیصد گھروں میں استعمال ہونے والی روزمرہ ضرورت کی اشیاء ہیں۔ اس لئے حکومت یہ دعویٰ بھی نہیں کرسکتی کہ ریگولیٹری ڈیوٹی میں اضافے سے عام آدمی متاثر نہیں ہوگا۔ اس ملک میں ’’ عام آدمی ‘‘ ہونا جرم بن گیا ہے۔ ہر حکومت اسی کا کچومر نکالنے کو اپنی ڈیوٹی سمجھتی ہے۔ بڑے سرمایہ داروں، صنعت کاروں، تاجروں، برآمدکنندگان ، زمینداروں اور جاگیرداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی کسی حکومت میں جرات نہیں ہوتی۔ اگر سرکار کی سرپرستی میں ہونے والی سمگلنگ پر ہی قابو پایا جائے اور سمگل ہونے والے سامان پر ٹیکس لگایا جائے تو مزید ایک پائی کا ٹیکس عوام پر لگانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ غریب آدمی، سفید پوش اور ملازمت پیشہ افراد ایک مہینے بجلی کا بل نہ دیں تو اگلے مہینے واپڈا والے ان کا میٹر اکھاڑ لے جاتے ہیں جو لوگ کنڈے ڈال کر غیر قانونی بجلی سے کارخانے چلا رہے ہیں ان کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔ ایوب خان کے دور میں چینی کی قیمت میں چار آنے فی سیر اضافہ ہوا۔ تو پورے ملک میں ایک کہرام مچ گیا۔ احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے۔اور حکومت کو قیمت میں اضافہ واپس لینا پڑا۔ آج ہر مہینے بجلی، گیس اور تیل کی قیمت بڑھائی جاتی ہے۔ سالانہ بجٹ کے بعد تین چار منی بجٹ بھی لائے جاتے ہیں جن میں عوام پر ہی بوجھ ڈالا جاتا ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ بازار میں پیاز کی قیمت 80روپے کلو، ٹماٹر 100روپے، ٹینڈا، بینگن، بھنڈی، شلغم،توری اور آلو بھی ستر اسی روپے فی کلو سے کم نہیں ملتے۔ کسی بھی چیز کی قیمت ایک بار چڑھ جائے تو نیچے آنے کا نام کبھی نہیں لیتا۔پیٹ کی آگ بجھانے کا سامان قوت خرید سے باہر ہوجائے۔ توغریب آدمی کہاں جائے۔ اور کس سے فریاد کرے۔صورتحال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے قیمتوں میں حالیہ اضافے کی مذمت کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن سمیت سیاسی جماعتوں کو عوام کے مسائل اور مشکلات سے کوئی غرض نہیں۔انہیں صرف اپنے ووٹوں سے مطلب ہے جنہیں سیڑھی بناکر وہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں اور پھر انہی ووٹرز کو نچوڑ کر اپنی جیبیں اور بیرون ملک اپنے اکاونٹ بھرتے ہیں۔خود کو ٹیکسوں سے بچانے کے لئے غیرملکی بینکوں میں اکاونٹ کھولنے اور کاروبار کرنے کا راز اب سمجھ میں آرہا ہے۔ اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے بات کا بتنگڑ بنانے اور رائی کا پہاڑ کھڑا کرنے والا میڈیا اور سوشل میڈیا بھی مہنگائی کا بم گرائے جانے پر خاموش ہیں۔ عوام کی کمر پہلے ہی دوہری ہوچکی ہے۔ان میں اپنے حقوق کے لئے صدائے احتجاج بلند کرنے کی سکت بھی نہیں رہی۔ جس کا ہماری اشرافیہ بھر پور فائدہ اٹھارہی ہے۔ یہی پاکستانی سیاست کا لب لباب ہے۔

  • error: Content is protected !!