Chitral Times

18th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • محکمہ ایجوکیشن کے حکام اپنی تمام ترتوجہ سکولوں سے باہرلاکھوں بچوں کو سکول لانے اور ڈراپ آؤٹ کی شرح کم تر کرنے پر مرکوز کریں۔۔محمد عاطف خان

    October 17, 2017 at 7:32 pm

    پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) خیبر پختونخوا کے وزیر ابتدائی و ثانوی تعلیم محمد عاطف خان نے اپنے محکمے کے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی تمام ترتوجہ سکولوں سے باہرلاکھوں بچوں کو سکول لانے اور ڈراپ آؤٹ کی شرح کم تر کرنے پر مرکوز کریں تاکہ کوئی بچہ زیور تعلیم سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے واضح کیاکہ ہماری تعلیم کا محور بچے اور ان کا بہتر مستقبل ہے۔یہ ہدایات انہوں نے منگل کے روز پشاور میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے دیں۔ اجلاس میں دوسروں کے علاوہ سیکرٹری تعلیم فخر عالم، سپیشل سیکرٹری خالد خان، ایم ڈی ایلمنٹری ایجوکیشن ذوالفقار احمد، ڈائریکٹر تعلیم رفیق خٹک اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ تعلیم کے زیر اہتمام مختلف پراجیکٹس اور پروگرامز جن میں نئے بھرتی کردہ40ہزار اساتذہ کی ریگولرائزیشن، سکول بیسڈ ریکروٹمنٹ اور اساتذہ کی ٹائم سکیل پروموشن کے لئے قانون سازی، سٹینڈرڈائزیشن آف ہائی و ہائیرسیکنڈری سکولز،خستہ حال سکولوں کی بحالی، سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی، آئی ایم یو کی ذمہ داریوں میں توسیع،گرلز کیڈٹ کالج مردان کی اپنی عمارت کی تعمیر، کنڈیشنل گرانٹ کے صحیح استعمال،کوالٹی ایشورنس کمیٹی کا قیام، سکولوں میں پلے ایریاز اور پلے گراؤنڈز کی تعمیر،پرائیوٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی کی تشکیل،نئے آئی ٹی لیب کے قیام ،تعلیمی بورڈز کے زیر اہتمام طلبہ کو کھیلوں کی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے اور شفاف امتحانی نظام اور ایس این ایز شامل ہیں پر تفصیلی غور و خوض ہوا اور اس سلسلے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے۔وزیر تعلیم نے کہا کہ صوبے کے تمام ہائی و ہائیر سیکنڈری سکولوں کو اپ گریڈ کیا جائے گااور پرائمر ی سمیت ہر سکول میں بچوں کو کھیل کود اور صحت مندانہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اب تک 1340سکولوں میں آئی ٹی لیب کا قیام عمل میں آچکاہے جبکہ باقی ماندہ تمام سکولوں میں بھی آئی ٹی لیب کے قیام کے لئے تقریباً ساڑھے 4ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔عاطف خان نے متعلقہ حکام کو محکمہ کے زیر اہتمام تمام پراجیکٹس اور پروگراموں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور انہیں مقررہ مدت میں تکمیل کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موثر مانیٹرنگ کی جائے اور چیک اینڈ بیلنس رکھیں اور یہ نظر بھی آنا چاہیے کہ واقعی ٹھیک کام ہورہاہے اور اگر اس سلسلے میں عوام کی بھی کوئی تجویز یا شکایت ہوکو شامل کریں تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کئے جاسکیں۔

  • error: Content is protected !!