Chitral Times

21st November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • اثاثے چھپانے کا جرم …….. محمدشریف شکیب

    October 17, 2017 at 6:59 pm

    الیکشن کمیشن نے اثاثوں کے گوشوارے جمع نہ کرنے پر سات سینیٹروں، 71اراکین قومی اسمبلی سمیت 261منتخب اراکین کی رکنیت معطل کرنے کا اعلامیہ جاری کردیا ہے۔ گوشوارے چھپانے والوں میں پنجاب اسمبلی کے 84، سندھ اسمبلی کے 50اور خیبر پختونخوا اسمبلی کے 38ارکان شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق اثاثوں کا حساب کتاب داخل دفتر نہ کرنے اراکین میں وفاقی وزراء، وزرائے مملکت، پارلیمانی سیکرٹریز، صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی اور خواتین ارکان بھی شامل ہیں۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے جن ارکان کے نام اثاثے چھپانے والوں کی فہرست میں آئے ہیں ۔ان میں یاسین خلیل، شوکت، عارف یوسف، فضل الہٰی، ارباب وسیم، خلیق الزمان، محمد ادریس، قربان علی، فضل شکور، سلطان محمد، خالد خان، خان بہادر، محمد زاہد، افتخار مشوانی، عبدالکریم، محمد شیراز، امجد آفریدی، امتیاز شاہد، گل صاحب، سردار فرید، اورنگزیب نلوٹھہ، اکبر ایوب، فیصل زمان، ضیاء الرھمان، صالح محمد، ابرار حسین، ولی محمد، محمود احمد، فضل حکیم، محمد رشاد، ثناء اللہ، اعزاز الملک، علی اصغر اور چار خواتین شامل ہیں۔ گوشوارے جمع نہ کرانے کی ایک وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اگر آمدنی کے مقابلے میں اثاثے زیادہ نکلے تو احتساب بیورو کے ہتھے چڑھنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ملک کے سب سے طاقتور سیاسی خاندان کا جو حال زیادہ اثاثے ثابت ہونے پر آج کل ہورہا ہے۔ اس کی وجہ سے سب کی سٹی گم ہونا فطری امر ہے۔سابق وزیراعظم کو شاید علم نہیں تھا کہ اثاثے ظاہر نہ کرنا قابل دست اندازی نیب جرم ہے۔ اس لئے انہوں نے اپنے گوشواروں میں ملک سے باہر آف شور کمپنیوں، جائیدادوں اور بیرون ملک ملازمت کا ریکارڈ جمع کرانا ضروری نہیں سمجھا۔اسی وجہ سے آج ہر ایک سے پوچھتا پھیر رہا ہے کہ ’’ مجھے کیوں نکالاگیا؟‘‘ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ اثاثے بنانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ بندہ اتنا مصروف ہوتا ہے کہ اسے کوئی اور کام یاد ہی نہیں رہتا۔ اور پھر اثاثوں کے گوشوارے بنانا بھی کوئی گپ نہیں۔ ایک ایک بینک اکاونٹ، ایک ایک جریب زمین، ایک ایک آف شور کمپنی، جائیدادوں، گاڑیوں، بنگلوں ، نوکروں اور رشتہ داروں کے نام پر رکھے گئے اثاثوں کا حساب بھی لگانا پڑتا ہے۔ بہت سی چیزیں چھپانی ہوتی ہیں بہت سے ارکین پارلیمنٹ ایسے ہیں جنہیں اپنی جائیدادوں اور اثاثوں کا حساب بھی نہیں معلوم، یعنی بے حساب اثاثے ہیں۔ ان سب کو سب پر ظاہر کرکے بندہ اپنی مٹی تو پلید نہیں کروا سکتا۔ الیکشن کمیشن نے بلاشبہ انہیں گوشوارے جمع کرنے کی پہلی، دوسری اور آخری مہلت دی ہوگی۔ پھر بھی عوام کے مسائل حل کرنے میں مصروف منتخب ارکان اگر اپنے اثاثوں کا حساب جمع کرانے سے رہ گئے ہیں تو انہیں کچھ مہلت مزید دینے میں کیا حرج ہے۔ نام ظاہر کرکے الیکشن کمیشن نے بیچارے ارکان کو مفت میں بدنام کردیا۔ ہوسکتا ہے کہ کچھ ارکان کے اثاثے اتنے نہ ہوں کہ انہیں ظاہر کیا جاسکے۔ خواتین ارکان کو تو معاف رکھنا چاہئے تھا۔ ان بیچاریوں کو گھر داری، بچوں کی دیکھ بھال، غمی خوشی کی تقریبات ، پالرز کی حاضری، سسرالیوں کے نخرے اٹھانے اور عوام کے دکھ بانٹنے سے کہاں فرصت ملتی ہے کہ اثاثوں کا حساب کرکے گوشوارے جمع کرادیں۔الیکشن کمیشن نے گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی وزیر، وزیرمملکت، مشیر، معاون، پارلیمانی سیکرٹری یا رکن اسمبلی جب تک اثاثوں کا حساب جمع نہیں کرائے گا۔ اس وقت تک وزارت کی کرسی سنبھال سکے گا، نہ مراعات استعمال کرسکے گا ۔ اسمبلی میں داخلے کی اسے اجازت ہوگی اورنہ ہی کسی تقریب میں مہمان خصوصی بن کرشرکت کرے گا۔ مگر عملی طور پر ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ معطلی کے احکامات کے باوجود ان کے معمولات پر کوئی فرق نہیں پڑا۔سیاسی دورے بھی ہورہے ہیں۔ اسمبلیوں میں بھی دھواں دار تقریریں بھی کر رہے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں کی نقاب کشائی بھی ہو رہی ہے۔اور عوامی اجتماعات سے بھی خطاب کر رہے ہیں۔اگر یہ سب کچھ خلاف آئین و قانون ہے تو اس قانون شکنی کی بھی الگ سزا ہونی چاہئے۔ ویسے بھی سیاسی طبقے پر برا وقت آچکا ہے۔ کہتے ہیں کہ برا وقت جب آجائے تو اکیلے نہیں آتا۔ اپنے ساتھ بہت سے دیگر مصائب بھی ساتھ لاتا ہے۔اس لئے اثاثوں کے گوشوارے چھپانے والوں کو دل چھوٹا نہیں کرنا چاہئے۔ بیشک تنگی کے بعد راحت ضرور ہوگی۔

  • error: Content is protected !!