Chitral Times

20th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • (کُنج قفس) ………… اے زندگی کچھ تو بتا! ……….. الطاف اعجاؔ ز

    October 16, 2017 at 8:59 pm

    کل ،آج ،اور کل ۔۔۔وقت کے ساتھ جس جس نے بھی کھیلا ہے ،اس کے ہاتھ بے سرو سامانی کے سوا کچھ نہیں آئی ،عجیب کھیل ہے ۔اس کھیل میں ہارنے والے کی مات تو ہوتی ہے مگرجس نے کبھی جیتا بھی ہو،وہ بھی ایک مقام پر آکراحساسِ محرومی کا شکار ہوتا ہے۔ ہونا اور نہ ہونا وقت کے کرشمے ہیں ،اور یہ بازی ہونے اور نہ ہونے کی ایک مدھم سی نہاں خانے میں ہوتی رہتی ہے۔ہم اس کارواں سرائے میں ایک حادثے کی مانند آ تے ہیں ، حادثوں کی زِد میں رہتے ہیں اور ایک حادثے کی صورت واپس لوٹتے ہیں ،ا یسے جیسے گرداب میں اٹھتے بلبلے ۔۔۔ بنتے ہیں اور مٹتے ہیں ۔ بننا اور مٹنا ، یہ عمل ابتداء افرنیش سے جاری ہے اوربعد ازمرگ بھی رہیگی۔ وحدت سے کثرت اور کثرت سے وحدت کاسفر۔ مہمانوں کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک رکھا جائے تو اٹھ کر جانے کا احساس کس مہماں کے دل میں نہ کٹھکے گی، زندگی بھی کچھ ایسی مہماں سی چیز ہے۔ ہم آ تے ہیں، بلکہ تشریف لاتے ہیں، کچھ چہروں سے شناسائی ہوتی ہے، بچپن سے گزرتے ہیں،معصومیت ۔آچھائی اور برائی کی ادراک سے دُور فطرت کی گود میں بے نیاز کروٹیں لیکر،گویا بچپن میں جنت کی بھینی بھینی مہک ہمارے ساتھ رہتی ہے ۔۔۔ پھر جوانی آتی ہے،سیدھا انتہا کی سوچ ،ماورا ئی چھلانگوں کے زمانے، طلسماتی چند ایاّم ،بے اصول چند لمحے، اپنے احاطے میں ایک معطر ماحول ہے ۔طاقت ،ہونا!۔خیرجو بھی ہو،بحرحال مختصر، یوں سمجھو کہ ابھی ایک جہاں پھیلی ہی تھی کہ سمٹ گئی ۔۔۔ اور آتا ہے بڑھاپا،کسی آبنائے میں لمحات کازمانوں کی شکل میں ٹہرؤ ،تسبیح کے ساتھ صحبتوں کے اوقات،اور تیر سے کمان کی طرف پرسکوں سفر، بے موسم خزاں، رینگتے سمے ،مرکوزِفنائیت ، تن من لپیٹ کر زندگی کی افق میں خیرآباد کہتے ہوئے ہمیشہ کے لئے غروب ہونے کے خیالات ۔ اور یوں یہ ڈوری کٹ جاتی ہے اور ہم اسُی راستے تنہا واپس لوٹتے ہیں جہاں سے ہم تنہا آ ئے تھے۔ میرے دوست! زندگی کے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک رکھا جائے تاکہ کبھی بھی کسی بھی وقت اٹھ کر جانے کی بات چلنے لگیں۔تم اپنے والد صاحب کو جانتے ہو، اپنے دادا جاں کو بھی شاید جانتے ہو، پر دادا کے بارے میں سنا ہے۔۔۔ اور اسی طرح تم چنداور کڑیاں شاید ملا سکو ،پر وہاں سے آگے۔؟ ۔۔۔۔ آندھیرا ہے، گھپ آندھیرا۔ کچھ بھی نہیں جانتے ، ایسا لگتا ہے جیسے قطروں کا انفرادی سفر قلزم کے ساتھ ہمکنار ہوکر اپنے ہستی کھو بیٹھتے ہوں۔یہ ہے زندگی کی اصلیت۔ ۔۔ہے نا !۔ اس کا صحیح مفہوم یاعبرت سمجھنے کے لیے کسی روز جاکر ایک لمبے قبرستان کے اس حصے میں کھڑے ہو کر قبرستان کا بغور مشاہدہ کرو جس حصے میں سونے والے سو کر چند ہی مدت گزری ہو،یعنی تم قریب کے تازہ تازہ زیارات کو دیکھو جن کو تم جانتے ہو،بلکل اپنے پاؤں کے پاس والی زیارت پر نظر کرو، آپ ہی کا کوئی رشتہ دار ہے، سویا ہے، چپ کی چادر اوڑ کر۔پھر نظریں اُٹھاکر لمبے قبرستان کے اُن زیارات پر بھی غور کرو جو آپ سے کافی دور ہیں۔ بعض تو زیارت لگیں گے ،مگربعض مٹی کے ایک مختصر سی ڈ ھیرجو اپنی آخری شناخت بھی کھو بیٹھنے کے قر یب ہیں۔ یہ لوگ کب اس دنیا میں آئے ،کب واپس چلے گئے ،ایک ایسی سوچ جو عقل کو شرمندہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ چلو ہونے کی بات کرتے ہیں،آج،ابھی اور اسی لمحے کی بات۔ زندگی ایک متحرک سانس کا انوکھا عمل ہے۔ چلتے ہوئے اس سانس کو زیست کہتے ہیں جو ایک چونٹی سے لیکر انسان تک تمام جانور میں یہ عمل جاری ہے۔ زندگی کی تشریح کے لئے اگر فطرت کو غور سے دیکھا جائے تو ملنے والے پیغام سے کچھ یوں محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ایک نغمہ ہے۔۔۔ایک انوکھا مگر پرُاسرار نغمہ۔۔۔ اور وقت کے چہرے پر جو لمحات بنتے ہیں وہ دراصل اس نغمے کی دھن ہیں ۔۔۔روح آفزا دُھن یاروح فرسا دُھن، مگر یہ لمحات بنتے رہتے ہیں اور زندگی نکلتی ہے۔۔ مطلبی یار کی طرح ۔یاد رکھو لمحات بنتے بھی ہیں جو علت و معلول سے پرے ہوتے ہیں اور لمحات بنائے بھی جاتے ہیں،جس نے دلکش لمحات حال میں بنائے ہو وہ حافظہ چھن جانے کی کبھی آرزو نہیں کرے گا۔ اور اگر زندگی کی فنائیت کو سامنے رکھ کر اس کو گزاری جائے تو ذرا سوچو کہ زندگی کے عارضی ہونے کا ڈر اُس لمحے کو بھی حسین بنا دیتا ہے جب کوئی خار ہمارے پاؤں کے نیچے آجائے اور ہمیں چھبن محسوس ہو،کیونکہ اس وقت ہم خار و چبھن نہیں بلکہ زندگی اور وقت کو دیکھینگے ۔یا پھرکوئی ہمارے منہ پر ہمیں برا کہے تو ہم قال اور صاحبِ قال دونوں کو تسلیم کر لینگے اس لئے نہیں کہ ہم غلط تھے بلکہ اس لئے کہ زندگی کے عارضی ہونے کا ڈر ہمیں اتنا وقت نہیں دیگا کہ ہم ان چند لمحوں کو تو تو میں میں، میں برباد کر دیں۔ اگر تم ساری دنیا سے جیتو ، تب بھی تمھیں ایک مقام پر آکر احساسِ شکستگی محسوس ہوتی رہیگی۔تم پر جتنی بھی کلفتیں،جتنی بھی مصبتیں وارد ہوں ،تم جتنی بھی پریشانیوں اور غموں میں گرفتار ہوپھر بھی اگر زندگی اور موت کی بات آئے تو تم زندگی کو ہی ترجیح دو گے بلکہ پل پل جینے کو غنیمت جانوگے۔ایک کامیاب مگر زندگی کے آخری حصے میں کھڑے آدمی سے اگر پوچھو تو وہ ضرورکہہ اٹھیگا۔۔ ’’کامیابی،ناکامی۔۔سب بکواس!‘‘۔ دوسرے لفظوں میں وہ یوں کہہ رہاہو جیسے جو اصل چیز تھی وہ ہاتھ سے نہ چاہتے ہوئے بھی نکل گئی۔۔یعنی زندگی کے رنگین ایاّم، وہ ایّام جو ابھی صرف یادوں کی شکل میں محفوظ ہیں ۔۔۔ یادیں ،جس طرح بھی ہیں مگر اب وہ حسین ہیں کیونکہ وہ یادیں ہیں۔ میرے دوست ! واقعات پُرکیف ہوں یا بے کیف ، ہر لمحہ اپنے قدروقیمت کے لحاز سے بہت قیمتی ہوتا ہے ۔تم وقت کے چہرے پر خوبصورت لمحات لکھتے جاؤ۔ کل ہو نہ ہو۔

  • error: Content is protected !!