Chitral Times

17th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • تعصب ذدہ قوم………..میر سیما آمان چترال

    October 16, 2017 at 8:50 pm

    ابھی کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک خا تون کا انتقال ہو گیا اور ۱۲ کروڑ کی اعوام کو ا چا نک یہ پتہ چلا کہ قوم ایک مسیحا سے محر وم ہو چکی ہے یہ ایک Breaking News تھی جب تک یہ مسیحا ذندہ تھی قوم کے کسی فرد کو اسکا علم نہ تھا ۔حتیٰ کے کسی ا لیکٹر ا نک، پر نٹ یا سو شل میڈ یا کے کسی Page نے بھی یہ بتا نے کی ز حمت نہ کی کہ ہما رے در میان ایک ایسی فر شتہ صفت عو رت مو جو د ہے جو کوڑھ کے ان مر یضو ں کا انتہا ئی خلو ص سے علا ج کرتی ہے جنکو انکے ا پنے رشتہ دار بھی چوک پر پھینک جا تے تھے۔۔اس خد مت خلق کے لئے اس خا تون نے کتنے مشکلات کا سا منا کیا کتنی قر با نیاں دی۔کبھی نہیں بتا یا گیا لیکن جس روذ یہ ا نتقال کر گئی یہ پا کستا نی قوم کی ہیرو بن گئی اس دن الیکٹرانک میڈ یا،پر نٹ اور سو شل میڈیا اور پو رے ملک نے اس خا توں کے خد مات کو خرا ج تحسین پیش کیا،،،سو شل میڈیا کا ہر صحفہ ڈاکٹر ر تھ فا ؤ کی ڈی پی سے سج گئی۔۔۔۔۔یہ اس قوم کا المیہ ہے کہ اس قوم میں کسی بھی ک قسم کا ایو ارڈ حا صل کر نا ہو یا پرائیڈ آف پر فار منس لینا ہو غر ض ا پنی خد ما ت کا ا عتراف کرا نے کے لئے مر جا نا ضروری ہے ،،،اور ذندہ لو گو ں کی تعر یف ا نکے خد ما ت کو سر ا ہنا ا س قوم میں چمچہ گر دی کہلا تی ہے مر دہ پر ستی کی اس سے بھی بڑی مثال ہما ری روذ مرہ کی یہ ذندگی ہے جس میں ہم ا یک دو سر ے کی خو بیو ں کا اعتر ا ف تو دور کی با ت ما ننے سے ہی ا نکا ر ی ہو تے ہیں جس دو ست رشتہ دار یا پڑ وسی کی ہم بر ا ئیا ں کرتے نہیں تھکتے پھر اسی کی مو ت پر جنا زے میں بیٹھے ہم اسکی ا یسی ایسی آ چھا ئیاں بیا ن کر جا تے ہیں کہ بیچا رہ میعت بھی ا پنی خو بیو ں پر د نگ رہ جا تا ہو گا۔۔گز شتہ روز کے مضمو ن میں ر ا قم نے ا پنے پڑ ھنے و الو ں کو محض اسی مر دہ پر ستی سے نکلنے کا Massage د یا تھا جسے بعض عنا صر ا نتہا ئی غلط ر نگ دینے کی کو شش کی جس پر مجھے نہا یت آ فسو س ہے جس تعصب نظری سے اس مضمو ن کو پڑ ھا گیا اسکے مختلف وجو ہات ہو سکتے ہیں ا یڈ منسٹر یشن کی تعر یف کو برا جاننے والے وہ لو گ بھی ہو سکتے ہیں جن کے سروں پر اس وقت معطلی کے شد ید خطر ات منڈ لا ر ہے ہو ں یا پھر و ہی مردہ پر ستی کی پر ا نی عا دت بھی ہو سکتی ہے لیکن ا عتر اضا ت کی رو شنی میں ذ یا دہ ٹھو س وجہ یہ نظر آتی ہے کہ اس مضمون کو لکھنے والی ایک عورت ہے،،،یہ اس روشن خیال معا شرے کا سب سے تلخ حقیقت ہے کہ آج بھی اول تو عورت کا لکھنا ہی معیو ب سمجھا جا رہا ہے دوم اگر لکھے بھی تو مخصو ص عنو انات پر ہی لکھے…یہ خود آخبار وا لوں کیطرف سے بھی اور پڑ ھنے و ا لوں کی طرف سے بھی عورت کے لئے ایک خا مو ش پیغا م ہو تا ہے اس کے با و جود اس آرڈر کے متضاد اگر کو ئی عورت لکھے تو اسے اسی طرح نفرت اور ا لزامات کا نشا نہ بنا یا جا تا ہے،،یہاں پر میں صر ف ایک بات کہونگی کہ ا مر یکی ر یا ست میں ایک بار ایک نو جوان قتل کا مر تکب ہوا عدالت نے سزا ئے موت سنا دی چو نکہ قتل غیر دا نستہ طور پہ ہوا تھا اور مجرم سا بقہ ذندگی میں بہترین کر دار کا ما لک تھا لہذا ا مر یکی عوام کو اس نو جوان سے ہمدر دی ہو گئی اور سزا ئے موت رکو انے کے لئے ا حتجا جی مظا ہروں پر اتر آئی۔اس پر ا مر یکی عدا لت کے جج نے ا حتجاج مسترد کرتے ہوئے عوام کو صرف یہ پیغام دیا کہ ’’عدا لتیں با د با نی کشتیاں نہیں ہوتیں جو ہواوں کا رُخ د یکھ کر اپنے فیصلے تبد یل کر یں ‘‘‘‘میں بھی صرف اتنا کہو نگی کہ ہر قلم بکاو مال نہیں ہوتا جو تعصب ذدہ را ئے د یکھتے ہوئے ڈر اور خوف کے ما رے اپنا مو قف تبد یل کر لے!!بحر حا ل خواتین لکھا ریوں پر الزامات لگا نے اُ نہیں مخصو ص عنوا نا ت پر لکھنے پر مجبو ر کر نے اور اُ نہیں ذاتی تنقید کا نشا نہ بنا نے کا ا فسو سنا ک کلچر آج بھی ذندہ ہے،،یہاں پر چند با تو ں کا نو ٹس میں لا نا ضروری سمجھتی ہوں پہلی بات سو شل پیج پر خوا تین کے حو الے سے با ت کر نے کی تمیز۔تنقید کے آڑ میں ذاتیات پر اُ ترنے کی کو شش۔سنگین الفا ظ کا ا ستعمال،، مجھے یہ لکھتے ہو ے بھی افسو س ہو ر ہا ہے کہ جس اسلام کے ہم پیرو کار ہیں جس ا سلامی جمہو ریہ کے ہم روشن خیال اور مہذب افراد ہیں شا ید ہم بھول جا تے ہیں کہ اسی اسلام نے ا لزام تراشی کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے آچھا ئی کو پھیلا نے اور برائی سے روکنے کا حکم د یا ہے جس مہذب معا شرے کے ہم شہری ہیں اسکی سب سے بڑی تہذیب یہ ہو نی چا ہیے کہ یہاں ا ظہار را ئے کی اذادی مرد و عو رت ہر طبقے کے لئے یکساں ہو مگر صد آفسو س کہ ۱۲ویں صدی میں بھی حال یہ ہے کہ مرد شا عر ی کی آڑ میں فحش گو ئی کر یں تو واہ واہ کے نعر ے لگتے ہیں اور ایک عورت ا یڈ منسٹر یشن کی تعر یف کرے تو الزامات کا سا منا کرنا پڑ تا ہے۔حیرت اس بات پر ہے کہ جس معا شر ے میں آ پکا ا ما م مسجد اپنی ذاتی مفا د کے خا طر ذنا کاروں کے ہا تھ پر بو سے د یتے ہوں جہاں عزت کا معیار محض پیسہ ہو جہاں سچ بد اخلاقی اور ایما نداری اور شرا فت اپکا گناہ بن جا تے ہیں مجھے حیرت سے ذیادہ د کھ ہے کہ ا یسے منا فق ما حو ل میں جن لو گوں کو کبھی بھی دم گھٹنے کا ا حسا س تک نہ ہوا اُ نہیں میرے ا یڈ منسٹر یشن پر لکھی گئی ایک معمو لی مضمعون میں چمچہ گردی مطلب پر ستی ،خو شا مد شخصیت پرستی اور نجا نے کیا کچھ نظر آگیا،،میں ان ا لفا ظ کی مذمت کر تے ہو ئے صرف یہ کہو نگی کہ میں گز شتہ ۲۱سا لوں سے مضا مین لکھ رہی ہوں جن میں کھوار ادب گرلز کا لج کے ٹرانسپورٹ سسٹم،کاپی کلچر سسٹم ،میڈیاکے نقصا نات سے لیکر بر ما کے مظالم کے عنوا نات شا مل ہیں اس تمام عر صے میں تعر یف کے ز مرے میں آنیو ا لے مضا مین بہت کم ہیں ان میں بھی میں نے صرف شخصیت کی ا سیری سے نکلنے اور کا رکر د گیوں کو سرا ہنے کا ہی پیغام د یا ہے،،نہ میں مضا میں لکھنے کے پیسے لیتی ہوں نہ خود کو مضمون نگا ر کہلوانے کے لئے میں نے قلم اُ ٹھا یا ہے میرا قلم ٹما ٹر پیاز کے نر خوں پر مضمعون لکھنے کے بجا ئے کا رکر د گیو ں پر ہی با ت کر نے کو پسند کر تا ہے لہذا اعترا ض کے آ ڑ میں ذاتی تنقید کر نے وا لے میر ے مضا مین سے گرُ یز کر یں ،،اور سوشل میڈ یا کو نفرت پھیلانے کا زر یعہ مت بنا ئیں کیو نکہ اسلا می جمہو ر یہ پا کستان کے مہذب شہر یوں کو یہ با لکل ذیب نہیں د یتا کہ وہ علا قے میں سوشل گر دی کو فروغ د یں۔

  • error: Content is protected !!