Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی عوامی نمائندگان و غریب عوام 

    October 13, 2017 at 10:56 pm

    تحریر: نصیر جلالؔ دنین گہتک
    ہم غریب عوام خوش تھے ۔ کہ اقتدار نچلی سطح پر منتقل ہورہے ہیں۔ ہوئے ہیں کہ منتخب عوامی نمائند ہ گان گاؤں کے مختلف مسائل کہیں راہ ، کہیں پینے کے لئے صاف پانی اور کہیں بجلی کا مسئلہ آسانی سے حل ہونگے ۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں ہم نے اتفاقاً اپنے ہی گاؤں دنین گہتک ہی میں جو کہ دنین کے دوسرے گاؤں میں سے سب سے چھوٹا ہے۔ ووٹ استعمال کر کے پانچ بندوں کو کامیات کیے ان میں ایک خاتون ممبر جو بلا مقابلہ کامیاب قرار پائی۔
    گاؤں میں زیادہ نہیں تین ، چار اہم مسائل درپیش تھے ۔
    نمبر ۱۔ پینے کے لئے پانی کا مسئلہ ۔
    نمبر ۲۔ مکتب سکول کا مسئلہ۔
    نمبر ۳۔ تحفظ جنگل کا مسئلہ ۔
    نمبر ۴۔ راہ کا مسئلہ
    ۱۔ پینے کے لیے صاف پانی کا مسئلہ :
    گزشتہ سال ہمارے دنین گول سے آنے والا پبلک ہیلتھ کا پائپ لائن مقام کورو دنین گہتک کو جانے والا جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ پبلک ہیلتھ کا دفتر بھی اسی پائپ لائن کے نیچے واقع ہے۔ مرمت کے سلسلے میں تحریری ، زبانی کئی بار انکے نوٹس میں لایا گیا ۔ اور بہ چشم خود دیکھنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہوئے ۔ اپنے دفتر کیلئے گولین گول پائپ لائن سے کنکشن حاصل کیے اور ابھی تک دم بخود بیٹھے ہیں ۔ اور جگہ جگہ پائپ غیب ہیں ۔ لائن مین ہے تنخواہ وصول کر تا ہے۔ اسکو خبر نہیں اس طرح تقریباً تیس، چالیس گھرانوں پر مشتمل یہ گاؤں کئی عرصوں سے دنین گول سے آنے والے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں اور منتخب ممبران کو اس سلسلے میں روز روز آگاہ کیا گیا ۔لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔

    ۲۔ مکتب سکول دنین گہتک :
    ضلع ہذا کے دوسرے علاقوں کے مکتب سکولوں میں طلباء کی تعداد کم ہونے کی وجہ سے مکتب سکولوں کو ختم کر کے پرائمری سکولوں کے ساتھ شامل کیا گیا ۔ ہمارے یہاں طلباء کی تعداد زیادہ ہونے کیوجہ سے تاحال ناگفتہ بہہ حالت میں موجود ہے۔ وہ بھی گاؤں کے سو سائیٹی کا بے غیر برآمدے اور صحن کا ایک کمرہ دیواروں پر دراڑیں پڑ کر اوپر سے کنکر پتھر آنے کا خطر ہ موجود ہ دور جدید میں وہاں کوئی اپنے مال مویشی بھی نہیں پالتے ۔ بچے سب کے سب ان غریب بے چارے لوگوں کے جو اپنے بچوں کو کسی دوسرے معیاری سکولوں میں داخل کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ایسے کمرے میں بیٹھ کر بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ایک استاد نام کی بھی توہین ہوگی ۔ صد آفسوس ابھی تک متعلقہ محکمے کی طرف سے اس سکول کا معائنہ کرنے اور سردیوں میں ان غریب نو نہال بچوں کے حالت زار کو ایک بار دیکھنے کے لیے وہاں
    آنے کی زحمت نہیں کی ہے۔ اور نہ ہمارے منتخب ممبران کی تعداد کل پانچ ہیں کوئی توجہ دی ہیں ۔ کہنے کو ٹاؤن ایریا ہے۔

    ۳۔ تحفظ جنگل کا مسئلہ :
    ضلع ہذا کے تمام علاقوں کے لوگوں نے اپنے اپنے گاؤں میں کمیٹی مقرر کر کے جنگلوں میں بے تحاشہ مال مویشی ، بکریاں پالنے اور جنگل کو بے دریغ کٹائی کو روک رکھے ہیں ۔ جسکی وجہ سے قدرت کے پیدا کر دہ جنگلوں میں اگنے والے جڑی بوٹیوں اور پودوں میں جان آگئی ہے۔ لیکن مال مفت دل بے رحم کے مترادف ہمارے جنگل کا کوئی پر سان حال نہیں جو چاہئے اپنی مرضی سے جنگل کی بر بادی پر تلے ہوئے ہیں ۔ جس میں اکثریت باہر سے آنے والے لوگوں کے علاوہ مقامی بکریاں پالنے والے لوگ بھی برابر کے شریک ہیں ۔ حالانکہ جنگلات کا محکمہ بھی یہاں موجود ہے۔ اور فارسٹ گارڈ بھی علاقے کے ہیں ۔ نئے عکاسی کے پودے لگا کر انکی اب یاری اور حفاظت کے لیے ملازم رکھ کر تنخواہ مقرر ہے۔ لیکن قدرتی جنگل کا کوئی پر سان حال نہیں کیونکہ اسکے لیے کوئی فنڈ نہیں ۔ نوٹفکیشن 1975 ؁ء کے تحت تمام غیر آباد جنگلات سرکاری قرار پاچکے مقامی لوگوں کو استفادے کا حق دیا گیا ہے۔ کو بنیاد بنا کر باہر سے ہزاروں کی تعداد میں گجر طبقے کے لوگوں کی بکریاں پالنے والے لوگوں کو بلا کر اپنے بکریاں بھی انکو حوالہ کر کے قلنگ وصول کر تے ہیں اور ساتھ ساتھ خود کو فارغ کیے ہوئے ہیں۔ یہ طبقہ جنگل میں نئے اگلنے والے جنگلی پودوں کی بیخ کنی کے علاوہ ہر طر ف سے نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں اگر یہ سلسلہ جاری رہا ۔ تو وہ دن دور نہیں ۔ کہ جنگل ویران ہونے کے علاوہ تیز بارشوں میں سیلاب آکر دنین گول کے ساتھ متصل آفیسر کالونی کے علاوہ بعض دیہات بھی اسکے زد میں آئیں گے ۔ جسکے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیکر جسکی تدار کر انتہائی ضروری ہے۔ لیکن معزز ممبران دم بخودہیں صد آفسوس۔

    ۴۔ راہ کا مسئلہ :
    گاؤں کے آنے جانے والی پرانی سب ڈویژن مستوج روڈ جو کہ دنین گول کے ساتھ واقع ہے۔ ہر سال دنین گول میں طفیان آکر راہ کو بہا کر لے جاتا ہے۔ دوبارہ فنڈ نکلنے میں سال گزر جاتا ہے۔ اور سال اسکی دوبارہ تعمیر میں گزر جاتاہے۔ جسکی وجہ سے ضروریات زندگی کے چیزیں لے آنا اور کہیں مریض کو ہسپتال لے جانے میں نہایت تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اور معیار کے مطابق کام نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے بد قسمت گاؤں کے بد قسمت عوام مستقل راہ سے اس دور جدید میں بھی محروم ہیں ایک گاؤں میں پانچ بندوں پر مشتمل ممبران کی موجودگی میں یہ مسائل حل نہ ہوئے تو کب حل ہونگے۔ تاہم نوجوان مرد ممبران کچھ تر قیاتی کام کیے ہیں۔ ایک جگہ مرمت راہ اور دوسری جگہ خشک نالے کے اوپر پل وہ درخت چنار کے شاخوں کو شہتر کے طور پر استعمال کرکے لمبائی 6,7فٹ ہوگا۔ ان میں بتایا جاتا ہے۔ کافی فنڈ خرچ ہوئے ہیں۔ ریکارڈ حاصل کرنے کے غرض سے متعلقہ دفتر کا بار بار چکر لگایا گیا۔ لیکن ہر بار ٹال مٹول سے کام لیکر ریکارڈ نہیں دیے۔ تاکہ دودھ کا دودھ پانی کاپانی ہوجاتا۔ یہ ہوا اقتدار کی نچلی سطح پرمنتقلی کے ثمرات واثرا۔ لہذا انکی تحقیقات کی اشد ضرورت ہے۔ خاتون ممبر کے گھر اور دوکانوں کیلئے ذاتی جیب ایبل روڈ تعمیر کیا گیا ہے۔

  • error: Content is protected !!