Chitral Times

19th November 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • پڑاواندہ کے نام نہاد کالاش نمائندے اپنی ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کالاش اقلیتوں کانام استعمال کررہے ہیں؍پریس کانفرنس

    October 13, 2017 at 10:50 pm

    چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) کالاش ویلی بمبوریت اور رمبور سے تعلق رکھنے والے کالاش اور مسلم کمیونٹی کے عمائیدیں غازی خان، شیر احمد، سفیر احمد، کمال الدین، سردار ولی ، سلیم زار ، عبدالرحمن، گل رخ ، شازیہ، فاطمہ ،کنسیہ، کانک ، رنگالی، نورشاہ ایران، بلاور جان، مشار خان، سکبار خان، ورمچ خان ، قاری نذیر، مطیع الرحمن، عمادالدین، محمد نائب اور جاوید کریم نے جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہزادہ مقصود الملک کے ساتھ مقامی جنگل کے تنازعے میں پولیس پر جانبداری کا الزام لگانے والے پڑاواندہ کے نام نہاد کالاش نمائندے دراصل ٹمبر مافیا کے کرتا دھرتا ہیں اور اپنی ذاتی مفادات کے حصول کے لئے کالاش اقلیتوں کانام استعمال کررہے ہیں اور ہجرت کا ڈھونگ رچاکر بلیک میل کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حقیقت میں یہ لوگ اپنی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے پولیس کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں جوکہ عدالتی احکامات کی بجااوری سے ذیادہ کچھ نہیں کررہے ہیں اور ڈی پی او پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اورقطعی طور پر بے بنیاد ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ پولیس پر الزام لگانے والوں میں وہ بھی شامل ہیں جوکہ متنازعہ جنگل کی رائلٹی کے غبن میں گرفتار بھی ہوچکے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ڈی پی او چترال کالاش وادی میں امن وامان کو بہتربنانے میں موجودہ ڈی پی او کا کردار بہت ہی اہم ہے اور ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پڑاواندہ سے تعلق رکھنے والے اصل کالاش بھی نہیں بلکہ ان کے آباو اجداد گلگت سے یہاں منتقل ہوئے ہیں جبکہ ہم بمبوریت اور رمبور کے اصل باشندے ہیں۔ا نہوں نے پولیس کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ اگر پولیس جنگل کی کٹائی کو نہ روکتے تو یہاں خونریزی کا خطرہ تھا جوکہ پولیس کی کاروائی کی وجہ سے ٹل گئی۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے بھی جنگل کی کٹائی کے خلاف حکم امتناعی جاری کردی ہے جس پر پولیس عملدرامد کرارہی ہے۔

    کالاش قبیلے پر ظلم و ستم کا نوٹس لیا جائیے۔۔۔ کالاش عمائدین
    چترال ( نمایندہ چترال ٹائمز ) کالاش ویلی بمبوریت کے دو دیہات پڑاوناندہ اور انیژ کے مردو خواتین نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے فوری طور پر اُن کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اور کہا ہے ۔ کہ یہ ناانصافی اگر فوری نہ روکی گئی ۔ تو وہ ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوں گے ۔ چترال پریس کلب میں جمعرات کے روز کالاش قبیلے کی مردو خواتین نے ایک احتجاجی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ۔ کہ ایک بااثر شخصیت مقصود الملک ساکن ایون اپنے اثرو رسوخ سے پولیس کو استعمال کرکے اُن کو اُن کے موروثی ، مملوکہ مقبوضہ جائداد وں اور جنگلات جو کہ صرف سرکاری ملکیت ہیں ،سے محروم کر رہا ہے ۔اورمقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کے باوجود انھوں نے سرکاری چراگاہ و جنگلات سے استفادہ حاصل کرنے سے اُنہیں روک رہا ہے ۔ جبکہ کالاش قبیلے کی زندگی کا مکمل دارومدار چراگاہوں اور جنگلات پر ہے ۔ مقامی دیہات کی نمایندگی کرتے ہوئے شیر محد کالاش ، منگل خان کالاش ، شواربیگم کالاش ، گالسام کالاش ، شیرین نسہ کا لاش ، ( ر) صوبیدار رحمت کریم ، محمد رفیع ، سراج الدین ،شہاب الدین وغیرہ نے کہا ۔ کہ 1975کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سوختنی لکڑی کا حق مقامی باشندگان کو دیا گیاہے ۔ مگر مقامی پولیس مذکورہ حق کے حصول سے اُنہیں منع کر رہا ہے ۔ جبکہ کالاش ویلی میں سوختنی لکڑی ااستعمال کئے بغیر زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ کالاش پوری دنیا میں منفرد تہذیب کے مالک اور پاکستان کا انتہائی پُر امن اور مجبور قبیلہ ہے ۔ جس کی اقلیت ہونے اور مجبوری کا شہزادہ اور مقامی پولیس فائدہ اُٹھا رہی ہے ۔ اور اُن کی زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا گیا ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم سے پُر زور اپیل کی ۔ کہ کالاش قبیلے کو چترال کا سب سے قدیم باشندہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔ لیکن اس کے حقوق و جائداد پر ناجائز قبضہ جمانے اُنہیں علاقہ چھوڑنے کی راہ ہموار کر نے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جو کہ یقیناًایک چھوٹی اور محب وطن اقلیت کے ساتھ سراسر ظلم ہے ۔

     

     

  • error: Content is protected !!