Chitral Times

Sep 25, 2018

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

  • نئے ڈپٹی کمشنر………میر سیما آمان

    October 12, 2017 at 8:50 pm

    اردو ادب سے کسی کو دلچسپی نہ بھی ہو تو قدرت اللہ شہاب کے نام سے سب واقف ہیں اور جو لوگ شہاب نامہ کے پڑ ھنے والے ہیں ا نھوں نے شہاب کے پہلے افسانے کا یہ مشہور جملہ ضرور سنا ہوگا کہ ( مجھے چندرواتی سے محبت اس وقت ہوئی جب اسے مرے ہوئے چار دن گزر چکے تھے ۔۔۔جب میں سابق ڈ ی سی اسامہ شہید کے بارے میں سو چتی ہوں تو مجھے یہی محسو س ہوتا ہے کہ ان کے حق میں ہم تما م چترا لیوں با لخصوص لکھار یوں نے قدرت ا للہ شہاب کا کردار ادا کیا ہے یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اپنے ہیروز پر قلم اس وقت اٹھاتے ہیں جب وہ ہم سے بہت دور جا چکے ہو تے ہیں۔۔۔ا سامہ کی ز ند گی میں اسے ٹر بیوٹ نہ کر نے کا د کھ اس کے چا ہنے والوں کے دلو ں میں ہمیشہ ر ہے گا لیکن تما م قلمکا ر وں کو اپنے قلم سے ایک و عدہ ضرور کرنا چا ہیے کہ آ ئیندہ کسی بھی آچھا ئی کے اعتراف میں ہم نے قد رت اللہ شہا ب نہیں بننا!! بحر حا ل کسی بھی علا قے میں نئے ڈی سی کی تعینا تی کو ئی نئی با ت نہیں ہو تی اور نہ انکے آ نے جا نے سے کو ئی فر ق پڑ تا ہے مگر ا سا مہ شہید کے بعد ہما ر ے علا قے کے ہر چھو ٹے بڑ ے بو ڑھے نو جو ان بچے حتیٰ کہ مجھ جیسے عا م او ر گھر یلو ں خو ا تین کو بھی اس با ت سے شد ید دلچسپی پیدا ہو گئی ہے کہ آیا نیا ڈ ی سی کیسا ہے ا ن کی ا یڈ منسٹر یشن کیسی ہے اور جن جگہو ں سے وہ آ ئے ہیں و ہا ں اسکی کارکردگی کیسی ہے۔۔۔کیو نکہ آج تک لو گو ں کے لئے ڈ ی سی صر ف شا ن و شو کت سے پھر نے و الے ا یک آ فیسر کا نام تھا لیکن ا سا مہ شہید کی بہتر ین کا ر کر د گی نے ہی ہر عا م و خا ص کو یہ شعو ر دے د یا کہ یہ لفظ کسی شان و شوکت سے پھر نے و ا لے آ فیسر کا خطاب نہیں بلکہ شا ندار ایڈ منسٹر یشن کا نا م ہے ۔۔۔اور آج مجھے یہ کہتے ہو ئے خو شی ہے کہ ا یک با ر پھر ہما ر ے علا قے میں ایک ا یسے ڈ پٹی کمشنر آ چکے ہیں جن کی ا ٰیڈ منسٹر یشن ما شاء اﷲ سے بہت شا ندار ہے ارشاد سدھر صا حب کا تعلق سندھ سے ہے چتر ا ل تعنیا تی سے پہلے پشاور میں بطو ر اے ڈ ی سی بہتر ین فر ائیض انجا م دے چکے ہیں پشا ور کی عو ام انہیں سر ا ہتی ہے خو د ان کی شخصیت میں بھی و ہی عزم اور وہی و لو لہ ا نگیزی صاف نظر آتی ہے جو ا سا مہ شہید کی شخصیت کا خا صہ تھی اور پھر چتر ا ل میں پو سٹنگ ہو تے ہی چترال پہنچنے سے بھی پہلے ہی جو بہتر ین ا قدام ا نہو ں نے ا ٹھا یا ہے ا س سے ا ن کی قد ر و منز لت میں بہت ا ضا فہ ہو گیا ہے عو ام کو اب ا ن سے بہت ز یا دہ ا مید یں و ا بستہ ہو گئی ہیں ۔۔۔سد ھر صا حب کو نہ تو ہم ذاتی طور پر جا نتے ہیں نہ ا ن کے با ر ے میں ز یا دہ جا نتے ہیں لیکن ہما را و جد ا ن یہ کہتا ہے کہ یہ کوئی عام ڈی سی نہیں ہیں لہٰذا ہما ر ی د عا بھی ہے اور خو ا ہش بھی کہ ا نشا ﷲآ نیو ا لے و قتو ں میں سد ھیر صا حب نہ صرف چتر ا لیو ں کے د ل جیت لیں بلکہ ا یڈ منسٹر یشن میں بھی ا پنی الگ مقا م بنا ئیں۔۔۔میں ان سے در خو ا ست کر تی ہوں کہ جسطر ح ہسپتال ا نتظامیہ کو سبق سکھا چکے ہیں ا سی طرح ا پنی پہلی فہر ست میں دو سری ا دا روں کی بھی خبر لیں ۔۔علا قے میں بجلی اور پا نی کی تر سیل کا نا قص اور غیر منصفا نہ ا نتظا م اور با لخصو ص ر ا بط پلو ں کی بحا لی پر فو ر ی تو جہ کی ضر ورت ہےْ۔۔ دو سر ی طر ف میں عو ام سے ا تنی گذا ر ش کر و نگی کہ حو صلہ ر کھیں آج ان کا چتر ا ل میں پہلا دن ہے ہما رے مسا ئل سمجھنے کے لئے ا نہیں وقت در کا ر ہو گا ا نہیں و قت دیں،،،،ہمارے معا شر ے کا یہ نہا یت عجیب د ستو رہے کہ کام چو ر آ فیسر کو تو ا س کے حا ل پہ چھو ڑ د یا جا تا ہے لیکن جب کو ئی آ چھا بندہ آ جا ئے جو پہلے سے ہی خد مت کے جذ با ت سے سر شا ر ہو تو لو گ ا س کے پیچھے ہی پڑ جا تے ہیں پھر عو ا م کو لگتا ہے کہ سب ہی کچھ منٹو ں میں حل ہو جا ئیں،،،،اور با لخصو ص ہر مسٗلے کو لیکر ڈی سی آ فس جا نے سے پہلے سو چیں ضر ور کہ کیا وا قعی یہ مسٗلہ آ فس تک لے جا نے و ا لا ہے بھی یا نہیں،،،مختصرا یہ کے ڈ پٹی کمشنر تک ا پنے مسا ئل ضر و ر پہنچا ئیں لیکن ا ن کے حل کے لئے ا نہیں و قت بھی د یں کیو نکہ وہ بھی ا یک ا نسا ن ہیں کو ئی جا دو کی چھڑ ی نہیں ہیں۔۔۔!!!

  • error: Content is protected !!