- Chitral Times - https://chitraltimes.com - Chitral Times

خواتین کونسلرز کا انوکھا احتجاج ,,,, محمد شریف شکیب

اخبارات میں سنگل کالمی خبر شائع ہوئی ہے کہ موجودہ بلدیاتی نظام سے نالاں بالائی چترال کی خواتین کونسلرز نے آل ویمن ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام سے اپنی یونین بنالی ہے۔تحصیل کونسلر بی بی سفینہ چیئرپرسن، ویلج کونسلر سارہ بی بی سیکرٹری، ویلج کونسلر گل وقت بیگم جوائنٹ سیکرٹری، ہاجرہ فنانس سیکرٹری، اور اشرف گل سیکرٹری نشرواشاعت مقرر کی گئیں۔منتخب خواتین کونسلرز کا کہنا تھا کہ موجودہ بلدیاتی نظام کی انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی۔ وہ صرف نام کی کونسلر بن کر رہ گئی ہیں۔ دو سالوں سے کوئی فنڈ نہیں ملا۔ جس کی وجہ سے وہ خواتین کی کوئی خدمت کرسکی ہیں نہ ہی ان کی توقعات پر پوری اتری ہیں۔ لیکن وہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے والی نہیں۔ اس لئے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر تمام لیڈی کونسلرز کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا۔ تاکہ خواتین کے مسائل کی نشاندہی کے ساتھ انہیں حل کرنے کی راہ نکال سکیں۔انہوں نے سرکاری و غیر سرکاری محکموں اورفلاحی اداروں سے اپیل کی ہے اگر خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ ہے اور وہ ان کی خلوص دل سے مدد کرناچاہتے ہیں تو محکمہ بلدیات کے بجائے خواتین کی مشترکہ تنظیم سے رابطہ کیا جائے۔ خواتین کونسلرز نے دوراندیشی کا مظاہرہ کیا ہے۔ سیاسی اکھاڑے میں اترنے والوں کو اپنی بقاء کے لئے کچھ تو کرنا تھا۔ بلدیاتی نظام قابل فہم اور قابل عمل ہونے کا انتظار شاید بہت طویل ہوتا۔ خود تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے اعتراف کیا ہے کہ صوبے میں رائج بلدیاتی نظام کی انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی۔ ان کا خیال ہے کہ بیوروکریسی نے جان بوجھ کر اس نظام کو ناقابل فہم بنایا ہے تاکہ اختیارات عوامی نمائندوں تک نہ پہنچ پائیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت نے پچھلے سال بلدیاتی اداروں کو 35ارب اور رواں سال 40ارب روپے کا فنڈ جاری کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ لیکن وہ رقم کسی فلاحی منصوبے کے تحت عوام تک نہیں پہنچی۔ بیچاری خواتین کونسلرز کو نہ کوئی اعزازیہ دیا جاتا ہے نہ ہی انہیں فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں۔ مرد کونسلرز ٹھیکے وغیرہ لے کر بھی اپنا گذارہ کرسکتے ہیں۔ ان کے لئے اپنے نام کے ساتھ سابق کونسلر یا ناظم لکھوانا بھی اعزاز کی بات ہے لیکن خواتین کا معاملہ الگ ہے۔ وہ اگر ڈیلیور نہ کرسکیں تو ان کی سیاست کی بساط ہی نہیں لپٹتی، انہیں لوگوں کے طعنے بھی سننے پڑتے ہیں۔ ان پر آوازیں کسی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کے بچوں کے رشتے بھی متاثر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ نہ جانے حکومت نے کیسے سوچ لیا تھا کہ صوبے کے چالیس ہزار ضلع، تحصیل، ٹاون، نیبرہڈ اور ویلج کونسلوں کے ممبران رضاکارفورس کے طور پر کام کریں گے۔ کوئی تنخواہ، خرچہ اور ترقیاتی فنڈ نہیں مانگیں گے۔اگریہ خدائی خدمت سینٹ، قومی و صوبائی اسمبلی کے ممبران بھی کر رہے ہوتے۔ تو شاید ان کے نقش قدم پر چل کر کونسلرز بھی خود کو عوامی خدمت کے لئے وقف کردیتے۔ رضاکارانہ خدمت کی روایت قائم کرنے کے لئے صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی کو اپنے صوابدیدی فنڈز ، تنخواہوں اور مراعات سے وسیع تر قومی مفاد میں دستبردار ہونا پڑے گا۔ جوموجودہ نظام میں ناممکن العمل نظر آتا ہے۔ لوگ الیکشن پر چالیس پچاس لاکھ روپے اس لئے لگاتے ہیں کہ چالیس پچاس کروڑ کماسکیں۔ جب ترقیاتی فنڈز، تنخواہیں اور مراعات نہیں رہیں گی تو انہیں پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ اسمبلیوں میں آئیں۔ لیکن غریب کونسلروں سے توقع کی جارہی ہے کہ وہ اللہ اور رسول کی خوشنودی کے لئے فی سبیل اللہ کام کریں۔ اپرچترال کی خواتین
کونسلرز کا آل ویمن ویلفیئر آرگنائزیشن کے نام سے مشترکہ تنظیم کا قیام ایک طرف مروجہ بلدیاتی نظام پر عدم اعتماد کا اظہار ہے وہیں خواتین نمائندوں کے اس عزم کا مظہر بھی ہے کہ وہ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔ وفاقی حکومت کے نمائندوں کو حب علی میں نہ سہی، بعض معاویہ کے جذبے کے تحت ہی خواتین کونسلرز کی نئی تنظیم کی مدد کرنی چاہئے۔ خواتین کے حقوق کے نام پر کاروبار کرنے والوں کو بھی آل ویمن ویلفیئر ایسوسی ایشن کی خبرگیری کرنی چاہئے تاکہ معاشرے کے اس پسماندہ طبقے کی آواز فیصلہ کرنے والے ایوانوں تک پہنچ سکے۔صوبے کے دیگر اضلاع کی خواتین کو بھی اپرچترال کی خواتین کونسلرز کی تقلید نہ سہی۔ ان کی حوصلہ افزائی ضرور کرنی چاہئے۔کیونکہ یہ برادری کی عزت و ناموس کا سوال ہے۔