Chitral Times

Jul 24, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

یکم رمضان سے صحت انصاف کارڈ کو مکمل طور پر بحال کرنے جارہے ہیں۔ وزیراعلیِ 

Posted on
شیئر کریں:

یکم رمضان سے صحت انصاف کارڈ کو مکمل طور پر بحال کرنے جارہے ہیں۔ وزیراعلیِ

احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے مطابق شفاف طریقے سے ساڑھے آٹھ لاکھ مستحقین گھرانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے دینے جارہے ہیں۔علی امین گنڈاپور

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواعلی امین خان گنڈاپور نے واضح کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور اس کی قیادت ملک میں قانون کی بالادستی ، جمہوریت کے استحکام ، انصاف و شفافیت کے فروغ اور حقدار کو حق کی فراہمی پر یقین رکھتی ہے۔ ہم پاکستان میں ایسے نظام کے خواہاں ہیں جس میں حقیقی معنوں میںقانون کی حکمرانی اور آئین کی بالادستی ہو۔ ہم اپنے منشور اور نظرئیے کے مطابق جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ہم ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں جس میں کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو اور ہماری آنے والی نسلیں محفوظ ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ علی امین خان گنڈاپور نے اس موقع پر مطالبہ کیا کہ 9 مئی کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے۔ تحریک انصاف اپنے لیڈر کی قیادت میں عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہم نے اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ ہم حکومت کے لئے نہیں بلکہ عوام کی فلاح اور جمہوریت کے استحکام کے لئے کھڑے ہیں۔ ہم ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا تھا اور جس کے لئے ہمارے آباواجداد نے جانی و مالی قربانیاں پیش کیں۔

 

ایک سوال کے جواب میں علی امین گنڈا پور نے کہا کہ خیبرپختونخوا کا وزیراعلیٰ ہونے کی حیثیت سے وہ صوبے کے حقوق کےلئے آواز اٹھائیں گے کیونکہ عوام نے اسی مقصد کے لئے انہیں مینڈیٹ دیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ نظریاتی و سیاسی اختلافات کے باوجود وہ صوبے کے حقوق سے متعلق وفاقی حکومت سے بات کریں گے، ہم اپنے آئینی حقوق کے حصول پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس مقصد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ علی امین خان کا کہنا تھا کہ جب مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف سازش کی گئی، اس وقت کے معاشی حالات او رآج کے معاشی حالات کا جائزہ لینا چاہیئے۔ آج ملک کوجس سنگین معاشی بحران کا سامنا ہے اس کی ذمہ دار یہی سیاسی جماعتیں ہیں جو اب مرکز میں بیٹھی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے صوبائی حکومت کی ترجیحات کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہوگی۔ اس کے علاوہ غربت کا خاتمہ ، روزگارکا فروغ ، عام آدمی کو سہولیات کی فراہمی ، قانون و انصاف کی بالادستی ، صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے دیگر شعبوں کی بہتری اور انفراسٹرکچر کی بحالی بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

 

وزیراعلیٰ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ یکم رمضان سے صحت انصاف کارڈ کو مکمل طور پر بحال کرنے جارہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا کے مطابق شفاف طریقے سے ساڑھے آٹھ لاکھ مستحقین گھرانوں کو فی خاندان 10 ہزار روپے دینے جارہے ہیں جس کا یکم رمضان سے آغاز کردیا جائیگا۔ اس کے علاوہ تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار خاندان جو کسی وجہ سے مذکورہ ریکارڈ میں موجود نہیں مگر غربت کی لکیر سے نیچے ہیں ، ان کو بھی 10 ہزار روپے فی خاندان مہیا کیا جائیگا۔ اسی طرح صوبائی حکومت قیمتوں کو کنٹرول کرنے پر بھی موثر انداز میں کام کرے گی، تاکہ عوام کو بازاروں میں سرکاری ریٹ کے مطابق اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر سرکاری نرخوں پر صحیح معنوں میںعملدرآمد یقینی بنایا جائے تو ہر بازار سستا بازار بن سکتا ہے۔ صوبائی کابینہ کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے علی امین گنڈا پور نے کہا کہ وہ پارٹی قیادت کی رہنمائی سے ایک بہترین ٹیم بنائیں گے جو صوبے کے حقوق اور عوام کی فلاح کیلئے کارگر ثابت ہوگی۔

 

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی طرف سے صوبے کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں اور برفباری کے دوران حادثات کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے لئے اعلان کردہ امدادی پیکج کے چیک تقسیم

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کی طرف سے صوبے کے مختلف اضلاع میں حالیہ بارشوں اور برفباری کی وجہ سے حادثات کے نتیجے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے لئے اعلان کردہ امدادی پیکج کی تقسیم کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ ضلع سوات، ملاکنڈ، مانسہرہ اور خیبر میں ان حادثات میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ روپے کے امدادی چیکس دئےے گئے۔یاد رہے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ نے شدید برفباری اور بارشوں کی وجہ سے مختلف حادثات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ، شدید زخمیوں کو تین تین لاکھ جبکہ معمولی نوعیت کے زخمیوں کو 50، 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے سیکریٹری ریلیف کو اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے دیگر اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ ان اضلاع کے متاثرین کو بھی اگلے دو دنوں کے اندر امدادی پیکج کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس سلسلے میں یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت مصیبت کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے، انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبے کے مختلف اضلاع میں بارشوں اور برفباری کی وجہ سے بند رابطہ سڑکوں کو کھولنے کا کام تیز کیا جائے اور کم سے کم ممکنہ وقت میں ان بند سڑکوں کو کھولنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ لوگوں کو آمدورفت کے سلسلے میں درپیش مشکلات جلد سے جلد دور ہوسکیں۔

 

chitraltimes relief cheques distributed among snow effectee


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں
85935