Chitral Times

Jul 20, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ہوصداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ….. محمد شریف شکیب

Posted on
شیئر کریں:

امریکہ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیت سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے پر پورے عالم اسلام میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ بنانے کا فیصلہ بہت پہلے ہوچکا تھا مگر سابق امریکی صدور اس کا اعلان کرنے کی جرات نہیں کرسکتے تھے۔ امریکی صدر کے متنازعہ اعلان پر برطانیہ، روس، چین، ڈنمارک، جاپان، فرانس، جرمنی اور دیگر غیر مسلم ممالک نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ وٹیکن سٹی سے پوپ نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے کو عالمی امن کا ماحول خراب کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ لندن، پیرس، بون، ٹوکیو، برسلز اور خود امریکہ کے متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے لئے مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیوں کا صدر مقام قرار دینے کا فیصلہ عقیدے اور ایمان کا مسئلہ ہے۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ جس کی بے حرمتی کی اجازت دینے کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی کا حکم دے کر دونلڈ ٹرمپ نے اپنی اسلام دشمنی کا کھل کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ فیصلہ حیران کن نہیں۔ وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ہی مسلمانوں کو امریکہ سے نکالنے اور ان کی عبادت گاہوں کو چرچوں میں بدلنے کے عزم کا اظہار بارہا کرچکے ہیں۔ یروشلم کرہ ارض پر قدیم الایام سے آباد علاقوں میں سے ایک ہے۔ مورخین کہتے ہیں کہ یروشلم پر پانچ سو مرتبہ باہر سے آنے والوں نے حملہ کیا۔ چار سو مرتبہ اسے فتح کرنے کے بعد وہاں حکومتیں قائم کی گئیں۔ یہ شہر دو مرتبہ مکمل طور پر تباہ ہونے کے بعد دوبارہ آباد ہوا ہے۔ مختلف اقوام نے یہاں حکومتیں قائم کیں۔یہ خطہ مذہبی لحاظ سے صدیوں سے تمام مکاتب فکر کے لئے قابل احترام رہا ہے۔ اسلامی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو خلیفہ دوئم حضرت عمر بن خطاب نے یروشلم کو فتح کرکے اسے اسلامی ریاست میں شامل کیا۔ یہاں فاطمی، اموی اور عباسی خاندان کی حکومتیں رہیں۔حضرت عمر فاروق نے وہاں سے نکالے گئے یہودیوں کو واپس لاکر انہیں اپنی مذہبی رسومات آزادی سے ادا کرنے کی اجازت دی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے بعد جب ہٹلر نے یہودیوں کو چن چن کر گیس چیمبرز میں ڈال کر اور جلاکر مارنا شروع کیا۔ تو دنیا بھر سے یہودی فرار ہوکر تل ابیت پہنچے ۔ جہاں امریکہ نے انہیں پناہ دی۔ اور 1948میں وہاں ایک یہودی ریاست اسرائیل کا قیام امریکہ نے عمل میں لایا۔تب سے مقامی فلسطینی مسلمان آبادی اور قابض یہودیوں کے درمیان محاذ آرائی جاری ہے۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ اس کی معیشت کا پہیہ یہودیوں کے کاروبار سے چلتا ہے۔ مشرق وسطیٰ، ایشیاء، مشرقی اور مغربی دنیا کی مخالفت کے باوجود امریکہ یہودیوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ تاہم یروشلم کو تل ابیت کی جگہ اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا غیر دانشمندانہ امریکی فیصلہ دنیا کو ایک لامتناہی جنگ کی بھٹی میں جھونکنے کے مترادف ہے ۔یروشلم کے معاملے پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلانے اور امریکہ کو سخت پیغام دینے کی صدائے بازگشت بھی سننے میں آرہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ عالم اسلام امریکہ کو اپنا فیصلہ بدلنے پر کس حد مجبور کرسکتے ہیں۔ 59اسلامی ممالک میں سے ترکی کے سوا کسی بھی اسلامی ملک نے ڈونلڈ ٹرمپ کو تنبیہ کرنے کی جرات نہیں کی۔ بیشتر اسلامی ممالک مالی مفادات کے لئے امریکہ کے سامنے پہلے ہی گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ اور جو امریکہ کے گڈ بک میں نہیں۔ انہیں براہ راست ٹکر لینے کی ہمت نہیں پڑ رہی۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کا ہنگامی اجلاس اگر بلایا بھی گیا ۔ تو بات اعلان کی مذمت اور فلسطینیوں سے زبانی کلامی اظہار یک جہتی اور ہمدردی سے آگے بڑھتی نظر نہیں آتی۔ قوموں کی زندگی میں اپنی منزل کا تعین کرنے کا موقع کبھی کبھار ہی آتا ہے۔ آج عالم اسلام کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اپنی اہمیت قوموں کی برادری سے تسلیم کرائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامی دنیا کو جفاکش افرادی قوت، تیل، معدنی و آبی ذخائر سمیت ترقی کے تمام لوازمات سے نہایت فیاضی سے نوازا ہے۔ انہیں بروئے کار لاکر ایک متحد قوت بننے کے لئے جرات مند قیادت کی ضرورت ہے جو عالم اسلام میں فی الحال مفقود نظر آتاہے۔ شاعر مشرق نے شاید اسی منظر نامے کو سامنے رکھ کر کہا تھا کہ ’’ ہوصداقت کے لئے جس دل میں مرنے کی تڑپ۔۔ پہلے اپنے پیکر خاکی میں جاں پیدا کرے۔‘‘


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
2996