Chitral Times

Jul 22, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گورنرحاجی غلام علی کی زیرصدارت صوبے کی اعلی تعلیمی اداروں کے مالی مسائل سے متعلق اعلی سطحی اجلاس

Posted on
شیئر کریں:

گورنرحاجی غلام علی کی زیرصدارت صوبے کی اعلی تعلیمی اداروں کے مالی مسائل سے متعلق اعلی سطحی اجلاس

اجلاس میں چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن ڈاکٹرمختاراحمد،نگران صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹرمحمدقاسم جان، نگران صوبائی وزیر سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹرنجیب اللہ، سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم، وائس چانسلرز اور دیگرمتعلقہ حکام کی شرکت

اجلاس میں یونیورسٹیوں کومالی مشکلات سے درپیش ہونے کی وجوہات اور ان مسائل ومشکلات کے حل کیلئے مختلف تجاویز کاتفصیلی جائزہ لیاگیا

صوبے کی پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے موجودہ مالی صورتحال کو دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے،گورنر حاجی غلام علی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخواحاجی غلام علی کی زیرصدارت صوبے کی اعلی تعلیمی اداروں کے مالی مسائل سے متعلق اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں چیئرمین ہائرایجوکیشن کمیشن ڈاکٹرمختاراحمد،نگران صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹرمحمدقاسم جان، نگران صوبائی وزیر سائنس ٹیکنالوجی اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹرنجیب اللہ، سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم ارشد خان، ایڈیشنل سیکرٹری لاء محمدایاز خان، وائس چانسلر یونیورسٹی آف پشاور پروفیسر ڈاکٹرمحمدسلیم،وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی ڈاکٹر مجدد، وائس چانسلر یونیورسٹی آف ملاکنڈپروفیسر ڈاکٹررشید،پراجیکٹ ڈائریکٹر یوای ٹی دیر ڈاکٹرظہورجان، چیئرمین فزکس ڈیپارٹمنٹ ملاکنڈیونیورسٹی اوردیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی یونیورسٹیوں کے مالی مسائل سے متعلق مختلف اموراورمالی مسائل کے حل کیلئے تجاویز پرتفصیلی غورکیاگیا۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرمختاراحمد نے اجلاس کو بتایاکہ جامعات کے مسائل صرف وفاق کی فنڈنگ سے حل نہیں ہو سکتے، صوبائی حکومتوں کو بھی یونیورسٹیوں کے مالی مسائل کے حل کیلیے فنڈنگ کرنا ہوگی جبکہ یونیورسٹیاں کو اپنی مدد آپ کے تحت بھی انتظامی اور مالی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے بتایاکہ سسٹم کو ٹھیک کرنے کاوقت آگیاہے جب تک ہم اپنی اپنی ذمہ داری نہیں لیں گے یونیورسٹیوں کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ چیئرمین ایچ ای سی نے بتایاکہ کمیشن نے ڈسٹنس لرننگ ایجوکیشن پالیسی کی تجدیدکردی ہے اور اب تمام یونیورسٹیاں ڈسٹنس لرننگ ایجوکیشن دے سکتی ہیں جس سے یونیورسٹیوں کے مالی مشکلات بھی کافی حدتک کم ہوجائیں گے۔ اجلاس میں موجود وائس چانسلرز نے بھی متعلقہ یونیورسٹیوں کے مسائل سے اجلاس کو آگاہ کیا اور ان کے حل کیلئے تجاویز پیش کیں۔

اس موقع پر گورنرنے کہاکہ یونیورسٹیوں کی موجودہ حالات کو دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے، یونیورسٹیوں میں ہڑتالوں سے مسائل حل نہیں ہوسکتے،ہم سب کافرض بنتا ہے کہ اپنی بساط سے بڑھ کر مثبت فیصلے اور اقدامات کریں کیونکہ اگر آج ہم نے صحیح فیصلے نہ کیے تو آنے والا وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔انہوں نے کہاکہ یونیورسٹیوں کی مشکلات کے حل، بہترین تعلیمی نظام، ریسرچ کے شعبہ کو بہتر کرنا، فیکلٹی اراکین کو تمام سہولیات کی فراہمی اور طلباء و طالبات کوبہترین تعلیمی ماحول کی فراہمی حکومت کی ترجیحات ہیں،حکومت تعلیم پرکثیر رقم خرچ کررہی ہے لیکن یونیورسٹیوں کے حالات انتہائی افسوسناک ہے اور اس کے حل کیلئے ہم سب کو اپنی اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے ہوں گے۔ انہوں نے وائس چانسلرز سے کہاکہ آپ لوگوں کا معاشرے میں ایک باوقار مقام ہے کیونکہ آپ لوگ اپنے اپنے تعلیمی اداروں میں ملک کا مستقبل تعمیر کر رہے ہیں، گورنر نے کہا کہ بلاشبہ ہم سب کا واحد مقصد اپنے بچوں کا بہترین مستقبل بنانا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے صوبہ میں بہترین اساتذہ، پروفیسرز اور نوجوان ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ہم سب نے ملکر باہمی مشاورت سے ایک ایسا اعلیٰ تعلیمی نظام ترتیب دینا ہے جس سے نہ صرف ہمارے تعلیمی ادارے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں بلکہ صوبہ کے نوجوانوں کو معیاری تعلیم دیکر اس قابل بنا سکیں کہ وہ اپنی فیلڈ میں نہ صرف اپنا نام پیدا کرسکیں بلکہ ملک و قوم کیلئے بھی فخر کا باعث بن سکیں۔ انہوں نے کہاکہ گورنر کاعہدہ سنبھالنے کے بعد سے ہی صوبے کی اعلٰی تعلیمی اداروں کے مشکلات کے حل کیلئے ترجیحی بنیادوں پراقدامات اٹھائے اور اب بھی یونیورسٹیز کو جو مشکلات درپیش ہیں وہ صوبائی و وفاقی حکومتوں کے ساتھ مل کر حل کیے جائیں گے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83762