Chitral Times

شندور پولو فیسٹول کے لئے چترال پولوٹیموں کے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا، شہزادہ سکندر الملک ٹیم کیپٹن، معروف پلیئر ناصراللہ کواے ٹیم میں شامل، کردیا گیا

Posted on

شندور پولو فیسٹول کے لئے چترال پولوٹیموں کے کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کردیا گیا، شہزادہ سکندر الملک ٹیم کیپٹن، معروف پلیئر ناصراللہ کواے ٹیم میں شامل، کردیا گیا

اپر چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) شندور پولو فیسٹیول 2024 کے لئے کھیلاڑیوں کے انتخاب بالخصوص پولو پلئیر ناصراللہ کو چترال اے ٹیم میں کھیلانے کے سلسلے میں پولو جیوری کمیٹی چترال کا ایک اہم میٹنگ زیر صدارت محمد عرفان الدین ڈپٹی کمشنر اپر چترال منعقد ہوا۔

 

اس میٹنگ میں صدر پولو ایسوسیشن چترال شہزادہ سکندرالملک اور جیوری کمیٹی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ میٹنگ میں یہ طے پایا کہ چونکہ ناصر اللہ ایک بہترین پولو پلئیر ہے اور اس نے پری شندور پولو ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لیا تھا۔ اس لئے پولو سلیکش قوانین میں ایک مرتبہ ترمیم کرکے اس کو چترال پولو اے ٹیم میں کھیلانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔

 

لہذا متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا کہ ناصر اللہ اس سال چترال اے پولو ٹیم میں کھیلے گا۔ جس پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے پولو ایسوسی ایشن چترال کا شکریہ ادا کیا ۔دریں اثنا شندور پولو فیسٹول کے لئے چترال کےپولو ٹیموں کے کھلاڑیوں کے ناموں کا بھی اعلان کردیا گیا، شہزادہ سکندر الملک چترال اے ٹیم کے کیپٹن ہونگے، اصغر حسین چترال بی ٹیم کے کیپٹن، شمیم احمد چترال سی ٹیم کےکیپٹن، عماد الدین چترال ڈی ٹیم کے کیپٹن، اسی طرح حکیم سرور سب ڈویژن مستوج ٹیم کے کیپٹن ہونگے۔، دریں اثنا  شندور پولوفیسٹول کے لئے جیوری ودیگر منیجمنٹ کے ممبران کے ناموں کا بھی اعلان کردیا گیا،

 

chitraltimes dc chitral upper chaired shandur team selection meeting 1

chitraltimes shandur festival 2024 team selection and management committee list 2 chitraltimes shandur festival 2024 team selection and management committee list 1 chitraltimes dc chitral upper chaired shandur team selection meeting 2

 

 

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستان
90148

صحافی اور کالم نگار – فرق اور فطرت – خاطرات : امیرجان حقانی

Posted on

صحافی اور کالم نگار – فرق اور فطرت – خاطرات : امیرجان حقانی

صحافی اور کالم نگار میں فرق کو سمجھنے کے لیے ایک باغبان اور مصور کی مثال لی جا سکتی ہے۔ ایک باغبان کا کام ہے کہ وہ باغ کی دیکھ بھال کرے، پودوں کو پانی دے، اور وقت پر کھاد ڈالے۔ وہ حقیقت میں باغ کی نشوونما کا ذمہ دار ہوتا ہے، باغ کی ساری بہاریں اسی کے دم سے ہیں۔ اسی طرح ایک صحافی کا کام ہے کہ وہ خبروں کو جمع کرے، ان کی تحقیق کرے اور عوام تک پہنچائے۔ وہ حقائق کی چھان بین کرتا ہے اور عوام کو صحیح معلومات فراہم کرتا ہے۔ شاید یہ آپ کو معلوم ہو کہ پاکستان میں صحافت جان جوکھوں کا کام ہے۔ حقیقی صحافی کا ایک پیر ہمیشہ جیل میں ہی ہوتا ہے۔ اسے دسیوں مافیاز سے خطرہ رہتا ہے۔

 

دوسری طرف، ایک مصور کا کام ہے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے کینوس پر اپنی سوچ اور خیالات کا اظہار کرے۔ اسی طرح ایک کالم نگار کا کام ہے کہ وہ اپنے خیالات اور تجزیے کو تحریر کی شکل میں پیش کرے۔ وہ مختلف موضوعات پر اپنی رائے اور نظریات پیش کرتا ہے۔

 

پندرہ سال پہلے جب میں نے یونیورسٹی میں صحافت کی تعلیم میں قدم رکھا، تو میرا سفر بھی ایک صحافی طالب علم کے طور پر ہی شروع ہوا تھا۔ میں نے باقاعدہ یونیورسٹی سے صحافت کی تعلیم حاصل کی، بیس پیپر پاس کیے اور کئی درجن صحافتی اسائنمنٹ مکمل کیے۔ اسی زمانے میں، میں نے بہت سی خبریں جمع کیں، رپورٹیں تیار کیں اور انہیں عوام تک پہنچایا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ، میری دلچسپی کا محور تبدیل ہوتا گیا۔ لکھنا میرا ذوق تھا، گریجویشن کے بعد اخبار میں کالم لکھنا شروع کیا تھا جو ہفت روزہ چٹان میں چھپتا تھا اور دہھر کچھ اخبارات و رسائل میں بھی۔ آج بھی میری تیار کردہ نیوز رپورٹس گلگت بلتستان کے اکثر اخبارات میں شائع ہوتی ہیں۔ یہاں کے نیوز ایڈیٹر صاحبان من و عن شائع کر دیتے ہیں۔ سرخی بھی وہی جما دیتے ہیں جو میں نے لکھ کر بھیجا ہوتا ہے۔

 

گزشتہ اٹھارہ سال سے، میں کالم لکھ رہا ہوں ۔ کالم لکھتے وقت، میں نے محسوس کیا کہ یہ کام میری تخلیقی صلاحیتوں کو زیادہ موقع دیتا ہے۔ اچھا کالم لکھنے کے لئے مجھے اچھا مطالعہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ کالم لکھنا ایک آزادانہ عمل ہے جہاں میں اپنے خیالات اور نظریات کو بے باک انداز میں پیش کر سکتا ہوں۔ سخت سے سخت بات استعارہ و کنایہ میں کہہ جاتا ہوں۔ لوگ تلملا اٹھتے ہیں مگر کچھ کہنے یا کرنے سے قاصر رہ جاتے ہیں۔ میری تحریریں صرف حقائق پر مبنی نہیں ہوتیں بلکہ ان میں میری رائے، تجزیے اور تجربات و تاثرات کا رنگ بھی شامل ہوتا ہے۔

 

اکثر لوگ اس فرق کو نہیں سمجھتے اور مجھے صحافی کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ مگر میں جانتا ہوں کہ عملی صحافت ایک ذمہ داری کا کام ہے جہاں حقیقت کو بغیر کسی تحریف کے پیش کرنا ہوتا ہے، جبکہ کالم نگاری ایک تخلیقی کام ہے جہاں میں اپنے خیالات کو آزادانہ طور پر پیش کر سکتا ہوں۔ یہ بست ضرور ہے کہ کالم نگاری صحافت کی ایک صنف ہے مکمل صحافت نہیں۔

 

تو، جب لوگ مجھے صحافی کہتے ہیں تو میں صرف مسکرا کر کہتا ہوں کہ “ان سے کیا الجھنا”، کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میری شناخت ایک کالم نگار کی ہے، نہ کہ ایک صحافی کی۔ اس فرق کو سمجھنا اور اسے برقرار رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اپنے کام کی نوعیت اور اس کی اہمیت کو صحیح طریقے سے پہچان سکیں۔

 

میری تحریروں کا اصل مقصد ہے کہ قارئین کو سوچنے پر مجبور کروں، ان کے ذہنوں میں سوالات پیدا کروں اور انہیں ایک نئے زاویے سے دنیا کو دیکھنے کی ترغیب دوں۔ اور اپنے خاطرات ان تک پہنچانا ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میں خود کو ایک کالم نگار کہلوانا زیادہ پسند کرتا ہوں، کیونکہ یہ میری شناخت کا صحیح عکاس ہے۔

 

ہاد رہے! ایک کہنہ مشق صحافی بہترین کالم نگار بن سکتا ہے اور میری طرح کوئی مدرس بھی کالم نگاری میں اپنا مقام بنا سکتا ہے مگر بنیادی طور پر ان دونوں میں فرق واضح ہے جن کو مثالوں کے ذریعے بیان کیا ہے۔

 

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
90111

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا مالی بحران اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کا مالی بحران اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

 

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی (KIU) گلگت بلتستان کی علمی و تحقیقی خدمات کا مرکز ہے،کسی حد تک گلگت بلتستان کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ یہ یونیورسٹی صدر مشرف کا تحفہ ہے۔گزشتہ بیس سال میں قراقرم یونیورسٹی بہت سے نشیب و فراز سے گزری ہے، تاہم اب کی بار شاید یونیورسٹی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ یونیورسٹی کے اس حال تک پہنچنے میں کچھ اپنوں کی بے رعنائیاں ہیں اور کچھ اندر والوں کی ریشہ دوانیاں، جو بحرحال افسوسناک ہے۔ حالیہ مالی بحران اور فنڈز کی کمی کی وجہ سے یونیورسٹی کے دیامر، غذر اور ہنزہ کیمپسز کی بندش کا اعلامیہ ایک افسوسناک واقعہ ہے جو علاقے کی تعلیمی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔قراقرم یونیورسٹی کے ساتھ بلتستان یونیورسٹی بھی کرائسس کا شکار ہے۔

 

اس سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے کچھ تجاویز پیش کی جا رہی ہیں جو دونوں یونیورسٹیوں کو مالی بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ سردست ہم دونوں یونیورسٹیوں کی کمزوریوں اور خامیوں اور ان کے کارپردازوں کی رنگینیوں اور لاپرواہیوں کو ڈسکس نہیں کریں گے۔ وہ پھر کبھی، سردست ہمیں اپنے ان اداروں کو مشکلات سے نکالنا ہے۔یہ ادارے ہم سب کے ہیں اور فرض بھی سب کا ہے۔ تجاویز ملاحظہ ہوں۔

حکومت پاکستان اور حکومت گلگت بلتستان سے تعاون لینا بہت ضروری ہے۔ وفاقی حکومت کو قراقرم یونیورسٹی کے لیے خصوصی فنڈز جاری کرنے چاہئیں تاکہ یونیورسٹی کے مختلف کیمپسز کو فعال رکھا جا سکے۔ اس کے لیے تعلیمی بجٹ میں اضافی مختصات کی ضرورت ہے۔
گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کو بھی دونوں یونیورسٹیوں کی مالی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے۔خصوصی گرانٹس، سبسڈیز اور تعلیمی پروگرامز کے ذریعے مالی معاونت فراہم کی جائے۔ اور بہت سارے طریقے ہوسکتے ہیں جن کے ذریعے دونوں یونیورسٹیوں کو اس نزاعی حالت سے نکالا جاسکتا ہے۔

ایچ ای سی ایک ذمہ دار آئینی ادارہ ہے۔ گلگت بلتستان کی دو ہی یونیورسٹیوں کو اس طرح بے یار و مددگار نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ایچ ای سی کو چاہیے کہ قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کے لئے خصوصی فنڈز کی بحالی کا کوئی ڈسیجن لیں۔ اس کی بھی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔

 

1.فوری اور ہنگامی اپیل:
یونیورسٹی انتظامیہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے فنڈز کی بحالی اور اضافی گرانٹس کی درخواست کرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت کی مداخلت بھی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ اور دیگر ذمہ دار ادارے بھی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

2.طویل مدتی منصوبہ بندی:
ایچ ای سی کو قراقرم اور بلتستان یونیورسٹی کے ساتھ مل کر طویل مدتی فنڈنگ پلان تیار کرنا چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے بحران سے بچا جا سکے۔ قراقرم یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کے پروفیسروں اور منتظمین کے پاس ایسے پلان مرتب شکل میں ہونے چاہئے جو HEC کے ساتھ طویل مدتی فنڈنگ کے لیے کیے جاسکتے ہیں۔

 

دنیا بھر میں ہزاروں ایسے ادارے ہیں جو تعلیمی اداروں بالخصوص تیسری دنیا کے تعلیمی اداروں کو مضبوط کرنے اور انہیں مدد دینے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ عالمی اداروں اور رفاہی تنظیموں سے فنڈ ریزنگ کے لیے بھی بلتستان اور قراقرم یونیورسٹی کو ورک پلان تیار کرنا چاہیے۔ دونوں یونیورسٹیوں کو عالمی اداروں جیسے ورلڈ بینک، یونیسکو، اور دیگر بین الاقوامی تعلیمی فنڈنگ اداروں سے رابطہ کرنا چاہئے۔ انہیں یونیورسٹیوں کی اہمیت اور اس کے مالی بحران کی صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔

ملکی اور غیر ملکی رفاہی تنظیموں سے مالی مدد حاصل کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔ اس میں انڈوومنٹ فنڈز، سکالرشپس، اور تعلیمی پروجیکٹس کے لیے گرانٹس شامل ہو سکتی ہیں۔

سوشل میڈیا اور عوامی حمایت بھی بہت ضروری ہے۔ جب سے یونیورسٹی نے مالی بحران کا اعلامیہ جاری کیا ہے سوشل میڈیا میں غم و غصہ پایا جاتاہے ۔ طنزیہ پوسٹیں زیئر ہورہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری غم و غصہ کو مثبت انداز میں استعمال کیا جائے۔ ایک مربوط سوشل میڈیا کیمپین کے ذریعے عوام کو یونیورسٹی کی اہمیت اور مالی بحران سے آگاہ کیا جائے تاکہ عوامی حمایت حاصل کی جا سکے۔ اس کے لئے یونیورسٹی ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کو ہنگامی ٹاسک تفویض کریں۔

حکومت کے تمام ادارے عوامی ٹیکس سے ہی چلتے ہیں۔ ایسی بحرانی کیفیت میں دونوں یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ عوام اور مختلف کاروباری اداروں سے عطیات جمع کرنے کے لیے آن لائن اور آف لائن مہمات شروع کریں۔ اس میں یونیورسٹی کے سابق طلباء، مقامی کمیونٹی اور کاروباری حلقے شامل ہو سکتے ہیں۔

مقامی کمیونٹی اور کاروباری اداروں کے ساتھ پارٹنرشپ قائم کی جائے تاکہ یونیورسٹیوں کے مختلف منصوبوں میں مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔اسی طرح مقامی اور ملکی صنعتوں سے تعاون حاصل کرنے کے لیے موٴثر حکمت عملی تیار کی جائے، تاکہ انڈسٹری اور یونیورسٹی کے مابین تحقیقی و تعلیمی منصوبوں کے ذریعے مالی معاونت حاصل کی جا سکے۔

اور سب سے بڑھ کر دونوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر صاحبان اور دیگر انتظامی و اکیڈمیا کے لوگوں کو کفایت شعاری سے کام لینا چاہیے۔ سچ یہ ہے کہ آپ کے بے جا شاہ خرچیوں اور غیر مربوط پالیسیوں کی وجہ سے یہ تعلیمی ادارے اس کیفیت میں مبتلا ہوئے ہیں۔ دوسروں سے مدد اور قربانی طلب کرنے سے پہلے خود شروع کریں تو ان شا اللہ بہتری آئے گی۔

مختصراً عرض ہے کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی اور بلتستان یونیورسٹی کی بقاء اور ترقی کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔حکومت پاکستان، حکومت گلگت بلتستان، ایچ ای سی، عالمی ادارے، رفاہی تنظیمیں، اور عوامی حمایت کا حصول دونوں یونیورسٹیوں کو موجودہ مالی بحران سے نکال سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل جل کر جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ یونیورسٹیوں کا روشن مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔اللہ سے دعا ہے کہ ان قومی اداروں کو مشکلات سے نکالے۔

Karakurom international university KIU GB 1

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
90088

جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ: ایک ظالمانہ رویہ  – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on

جانوروں کی قیمتوں میں اضافہ: ایک ظالمانہ رویہ  – خاطرات :امیرجان حقانی

عیدالاضحیٰ کا موقع مسلمانوں کے لیے ایک مقدس اور عظیم موقع ہوتا ہے، پوری دنیا میں مسلمان اللہ کی رضا کے لیے لاکھوں جانور قربان کرتے ہیں۔ یہ فریضہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت کی یاد میں ادا کیا جاتا ہے، جس میں ان کی اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ شامل ہے۔ ہر سال کروڈوں مسلمان اس عمل سے گزرتے ہیں ، جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ اس مقدس فریضے کو بھی منافع خوری کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔
قربانی کے جانوروں کی قیمتیں عیدالاضحیٰ کے قریب آتے ہی آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ جو جانور عام دنوں میں ساٹھ ہزار روپے کا ہوتا ہے، قربانی کے دنوں میں اس کی قیمت لاکھوں میں پہنچ جاتی ہے۔ یہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ دینی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ لوگوں کی استطاعت سے باہر قیمتیں وصول کرنا نہ صرف ظلم ہے بلکہ قربانی کی روح کو بھی مجروح کرتا ہے۔ گزشتہ تین دن سے مناسب قیمت پر جانور کی تلاش میں ہوں مگر قیمتیں دیکھ کر حیرت ہوتی ہے ۔ عام انسان جس کے پاس ایک دو جانور ہیں وہ بھی دگنا وصولنے کے چکر میں ہیں ۔
مغربی ممالک میں کرسمس اور ایسٹر جیسے تہواروں پر حکومتیں اور تاجر اشیاء کی قیمتیں کم کر دیتے ہیں تاکہ عوام اپنی خوشیاں بھرپور طریقے سے منا سکیں۔ کرسمس کے موقع پر مارکیٹ میں مختلف اشیاء پر خصوصی رعایتیں دی جاتی ہیں، اور لوگ اپنی مذہبی تقریبات کو اطمینان کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہواروں کا اصل مقصد لوگوں کو خوشی اور سکون فراہم کرنا ہوتا ہے، نہ کہ ان کی مشکلات میں اضافہ کرنا۔ کاش مسلمان مغرب سے اتنا بھی سیکھ لیتے۔
کچھ عملی تجاویز ذہن میں آرہی ہیں۔ دل کرتا ہے آپ سے شئیر کروں۔ آپ بھی اپنے طور پراس چیز کو باریک بینی سے دیکھ لیں۔ہمیں اپنے رویے اور تجارتی طرز عمل میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قربانی کا اصل مقصد حاصل ہو سکے.
1.اخلاقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا:
ہمیں اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ قربانی کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہے، نہ کہ مالی فائدہ۔ تاجروں کو چاہیے کہ وہ اس موقع پر جانوروں کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ نہ کریں اور اپنی نیت کو خالص رکھیں۔ تاجر تو چھوڑیں عام مسلمان بھی، جس کے پاس دو چار جانور ہوں دگنا قیمت وصولنے کے چکر میں ہوتا ہے۔
2.حکومتی اقدامات:
حکومت کو چاہئے کہ وہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور مصنوعی مہنگائی پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ اس سلسلے میں موثر حکومتی پالیسیز اور نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ حکومتی ماہرین کوئی فارمولا وضع کرسکتے ہیں۔
3.عوامی شعور بیدار کریں:
ہمیں مجموعی طور پر عوام کو یہ شعور دینا ہوگا کہ غیر ضروری طور پر مہنگے جانور خریدنے سے گریز کریں اور اعتدال پسندی کو اپنائیں۔ ہمیں اپنی مالی استطاعت کے مطابق قربانی کرنی چاہیے اور دکھاوے سے بچنا چاہیے۔
4.تجارتی تنظیموں کا کردار:
 تاجر برادری کو چاہیے کہ وہ اپنے ممبران کو اخلاقی تعلیمات سے آگاہ کریں اور انہیں ترغیب دیں کہ قربانی کے جانوروں کی قیمتیں مناسب حد میں رکھیں۔ تجارتی تنظیموں کو بھی اس موقع پر خصوصی رعایتوں کا اعلان کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ قربانی کر سکیں۔
5.سوشل میڈیا مہم:
سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے شعور بیدار کیا جائے تاکہ لوگ اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کریں اور مہنگے جانور خریدنے کی دوڑ میں شامل نہ ہوں۔ اس کے علاوہ، علماء اور دینی رہنما بھی لوگوں کو اس حوالے سے رہنمائی فراہم کریں۔ اور یہ مہم بھی چلنا چاہیے کہ جو لوگ یا جن علاقوں میں جانور مہنگے کیے جاتے ہیں یا مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے ان کا بائیکاٹ کرکے دوسری جگہوں سے جانور خریدے جائیں۔
قربانی ایک عظیم دینی فریضہ ہے جو ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد دلاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس موقع پر اپنی استطاعت کے مطابق قربانی کریں اور اس عمل کو آسان بنائیں۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنی دنیاوی فائدے کے بجائے اللہ کی رضا کو ترجیح دیں۔
آئیے، اس عیدالاضحیٰ پر ہم سب مل کر عہد کریں کہ ہم قربانی کے اس عظیم فریضے کو اعتدال کے ساتھ ادا کریں گے اور اپنے بھائیوں کی خوشیوں میں اضافہ کریں گے۔ اگر جانور مہنگے کیے جائیں تو بہت سارے مخلص اور سفید پوش مسلمان قربانی سے رہ جائیں گے۔
اللہ ہمیں صحیح معنوں میں دین کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری قربانیوں کو قبول فرمائے۔ آمین۔اور اگر ہم جانور کے تاجر ہیں تو ناجائز منافع خوری سے بچنے اور اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
90068

شندور پولو فیسٹیول جمعہ 28 جون کو شیڈول کے مطابق شروع ہوگا، بختیار خان، ڈی سی اپر چترال نے مقامی سطح پر عیدالاضحی کی چھٹیاں منسوخ کر دی

ڈی سی اپر چترال نے مقامی سطح پر عیدالاضحی کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں، مقامی لوگوں سے بھی مسلسل رابطوں میں ہیں

شندور پولو فیسٹیول جمعہ 28 جون کو شیڈول کے مطابق شروع ہوگا، بختیار خان

مشیر سیاحت کی ہدایات کی روشنی میں تین روزہ فیسٹیول کی تیاریوں کو حتمی شکل دیدی گئی ہے، ضلعی انتظامیہ کے اعلی حکام موقع پر انتظامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں،

فیسٹیول میں پولو میچز کے علاؤہ چترال اور گلگت بلتستان کی لوک دھنوں پر مبنی محفل موسیقی بھی منعقد ہوگی، سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت

مشیر سیاحت کا انتظامات پر اطمینان کا اظہار، عیدالاضحی کے فوراً بعد محکمہ سیاحت کی انتظامی ٹیمیں شندور بھیجنے کی ہدایت

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) سیکرٹری محکمہ سیاحت و ثقافت خیبرپختونخوا محمد بختیار خان نے کہا ہے کہ مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب کی ہدایات کی روشنی میں شندور پولو فیسٹیول کے تمام انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے جو وزیراعلی کی اعلان کردہ تاریخ یعنی جمعہ 28 جون کو شروع ہو گا۔ اس تین روزہ فیسٹیول میں شرکت کیلئے پاکستان کے علاؤہ دنیا بھر سے سیاحوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ سیاحت و ثقافت پشاور کے کانفرنس روم میں منعقدہ جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری محکمہ سیاحت کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال سمیت چترال کے دونوں اضلاع کی انتظامیہ کے اعلی حکام شاہراہِوں اور سیکورٹی انتظامات کا بذات خود مسلسل جائزہ لے رہے ہیں جبکہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال نے مقامی سطح پر ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں اور مقامی لوگوں اور زعماء سے بھی مسلسل رابطوں میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد محکمہ سیاحت و ثقافت کی مختلف انتظامی ٹیمیں شندور پولو فیسٹیول کیلئے روانہ کر دی جائینگی تاکہ شندور گراؤنڈ پر تیاریوں کو نہ صرف فول پروف بنا کر حتمی شکل دی جائے بلکہ مزید بہترین انتظامات بھی کئے جائیں اور جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں سیاحوں کیلئے اضافی سہولیات بھی مہیا کی جائیں۔

 

انہوں نے کہا کہ وزیراعلی علی امین گنڈاپور کی طرف سے اعلان شدہ تاریخوں پر ہی شندور پولو فیسٹیول کا انعقاد کیا جائے گا۔ تین روزہ فیسٹیول میں چترال اور گلگت بلتستان کی پولو ٹیموں کے سنسنی خیز مقابلوں کے علاؤہ ان علاقوں کے فنکار اور گلوکار مقامی دھنوں پر محفل موسیقی میں پرفارم کرینگے۔ فیسٹیول میں ہر سال کی طرح امسال بھی مقامی ثقافتی دستکاریوں اور مصنوعات کے سٹالز سجائے جائینگے۔ فیسٹیول کی اختتامی تقریب 30 جون کو شندور پولو گراؤنڈ پر منعقد ہوگی جس میں رنگا رنگ ثقافتی پروگراموں اور فنکاروں کی پرفارمنس کے علاؤہ پیرا گلائڈنگ اور دیگر فن کے مظاہرے بھی پیش کئے جائینگے۔ درایں اثناء مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے شندور پولو فیسٹیول کے سلسلے میں جاری انتظامات اور تیاریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ہے جو ڈویژنل اور ضلعی انتظامیہ سے مسلسل رابطوں میں ہیں۔ مشیر سیاحت نے اس سلسلے میں چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کی مسلسل نگرانی اور کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے عیدالاضحی کے فوراً بعد محکمہ سیاحت کے اعلیٰ انتظامی افسران کی ٹیمیں شندور بھیجنے اور تمام انتظامات کو ہر لحاظ سے فول پروف بنانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس تین روزہ فیسٹیول کو عالمی معیار کے مطابق ہر لحاظ سے کامیاب اور یادگار ترین سیاحتی میلہ بنایا جائے گا جس کی گونج بین الاقوامی سطح پر سنائی دے گی۔

chitraltimes dc upper chitral irfan uddin visits camping pot

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
90007

پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا پانچ روزہ دورہ مکمل، اخری روز وزیراعظم پاکستان سے ملاقات

Posted on

پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا پانچ روزہ دورہ مکمل، اخری روز وزیراعظم پاکستان سے ملاقات

 

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) پرنس  رحیم آغا خان کا دورۂ پاکستان اختتام کو پہنچ گیا۔اپنے دورے کے آخری روزپرنس رحیم آغا خان نے وزیراعظم پاکستان، میاں محمد  شہباز شریف سے اُن کی سرکاری رہائش گاہ ،واقع اسلام آباد ،میں ملاقات کی۔ وزیر اعظم نے پرنس رحیم کا خیرمقدم کرتے ہوئے AKDNکی جانب سے پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ، وزیر اعظم نے قیام پاکستان میں سر سلطان محمد شاہ آغا خان سوم کے کردار کو بھی سراہا۔ پرنس رحیم کے ہمراہ AKFED کے ڈائریکٹر، سلطان علی الانہ اور آغا خان کے سفارتی اُمور کے شعبے کے سربراہ شفیق سچی دینا بھی موجود تھے۔

 

پرنس رحیم حکومت اور AKDNکی قیادت سے ملاقات اور گلگت بلتستان میںAKDNکے نئے منصوبوں کا جائزہ لینےکی غرض سے پاکستان کے پانچ روزہ دورے پر تھے۔اس دوران انہیں پاکستان کے صدر ،  آصف علی زرداری نے ایشیا اور افریقہ جیسے وسائل سے محروم خطوں میں لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے انتھک کوششیں کرنے  پرپاکستان کے سب سے بڑے سول ایوارڈ”نشان پاکستان“ سے نوازا۔ یہ ایوارڈ ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے اعلیٰ ترین خدمات انجام دی ہوں۔

 

اعزاز وصول کرنے کے بعد پرنس رحیم نے کہا کہ ”مجھے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک، اپنےساتھیوں،اپنے عملے اور دیگر اُن بہت سے رضاکاروں کی جانب سے جو پاکستان کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لئے انتھک محنت کرتے ہیں, اس طرح کا اعزاز قبول کرنے پر فخر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اس عظیم اعزاز پر صدر پاکستان اور حکومت پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔“

 

اس دورے کے دوران پرنس رحیم نے صدر پاکستان  آصف علی زرداری، وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، گورنر گلگت بلتستان ،سید مہدی شاہ، گورنر خیبر پختونخوا ،فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان ،گلُبر خان سمیت مختلف سرکاری حکام سے ملاقاتیں کیں اور ملک میںAKDNکے منصوبوں سمیت باہمی دلچسپی کے اُمور پرتبادلہ خیال کیا۔

 

8جون کو  پرنس رحیم آغا خان نے ہُنزہ کا دورہ کیا ، جہاں انہوں نے ناصرآباد میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا باضابطہ افتتاح کرنے کے علاوہ ڈوئیکر سولر پاور پلانٹ (Duiker Solar Power Plant)کی پیداواری گنجائش میں اضافہ کرنے اور نئے  سولر پلانٹ کی تنصیب کا افتتاح کیا۔ نصیر آباد میں قائم کیا جانے ولا سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک بجلی کی بلاتعطل فراہمی، تیز رفتار انٹرنیٹ اور چھوٹے اور بڑھتے ہوئے اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور چیمبرز آف کامرس کے لیے کام کرنے کی مشترکہ جگہ(co-working space) فراہم کرے گا۔ سولر انرجی پلانٹ  کا دوسرامرحلہ، جس پر کام شروع ہورہا ہے ، ہنزہ میں تقریبا 20،000 افراد کے لیے بجلی کی فراہمی میں اضافہ کرے گا۔ یہ دونوں منصوبے خطے میں زندگی کے مجموعی معیار کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

 

بعد ازاں،9جون کو ،پرنس رحیم نے ،گلگت بلتستان میں ایچ بی ایل مائیکرو فنانس بینک (HBL MfB) کے نئے علاقائی ہیڈ کوارٹرکا افتتاح کیا۔ جدید فن تعمیر اور مقامی ثقافتی عناصر کا امتزاج رکھنے والی یہ  نئی عمارت گرین کنسٹرکشن (green construction)اوراعلیٰ تعمیر کے  بین الاقوامی معیاروں پر پورا اترتی ہے اور مضبوطی، جدت اور مقامی کمیونٹی کی ترقی کے لیے بینک کے عزم کو اُجاگر کرتی ہے۔

chitraltimes prince rahim aga khan visit to pakistan concluedes meeting with pm shehbaz 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89957

پرنس رحیم آغا خان نے گلگت بلتستان میں HBL MfB کے ریجینل ہیڈ کوارٹرز کا افتتاح کردیا،

Posted on

پرنس رحیم آغا خان نے گلگت بلتستان میں HBL MfB کے ریجینل ہیڈ کوارٹرز کا افتتاح کردیا،

یہ اقدام پائیداری اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے بینک کے عزم کا عکاس ہے

گلگت(چترال ٹائمزرپورٹ ) گلگت بلتستان میں HBL مائیکرو فنانس بینک (HBL MfB) نے اپنے نئے ریجینل ہیڈکوارٹرز کا افتتاح کردیا۔ تقریب میں آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈویلپمنٹ (AKFED) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئر پرنس رحیم آغا خان، HBL کے چیئرمین سلطان علی الانہ،HBL کے صدر اور سی ای او محمد ناصر سلیم، HBL MfB کے چیئرمین ریومنڈ کوتوال، HBL MfB کے سی ای او اور صدر عامر خان نے شرکت کی۔

 

یہ عمارت بینک کی پائیداری، جدت اور مقامی آبادی کی ترقی کیلئے بینک کے عزم کا عکاس ہے۔جدید فن تعمیرات اور مقامی ثقافت کے بہترین امتزاج کی حامل عمارت ما حول دوست تعمیرات کے اعلی ترین معیارات پر پورا اترتی ہے۔ عمارت کو LEED گولڈ سرٹیفکیشن اور EDGE ایڈوانسڈ سرٹیفکیشن سے نوازا گیا جو ملک میں مذکورہ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے والی پہلی عمارت ہے۔ امریکی گرین بلڈنگ کونسل سے ملنے والی LEED گولڈ سرٹیفیکیشن عمارت کی توانائی اور پانی کی کارکردگی، پائیدار سائٹ کی ترقی اور اندرونی ماحولیاتی معیار میں بہترین کارکردگی کو اجاگر کرتی ہے۔ انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن(IFC)کی طرف سیدی گئی EDGE ایڈوانسڈ سرٹیفیکیشن عمارت کی توانائی اور پانی کی بچت کے حوالے سے وسائل کے استعمال میں بہترکارکردگی کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔یہ عمارت روزمرہ کے امور کی انجام دہی کیلئے درکار بجلی کا 40 فیصد ا پنے طور پر پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

 

پرنس رحیم آغا خان نے کہا”گلگت بلتستان میں HBL مائیکروفنانس بینک کے ریجینل ہیڈ کوارٹرز کاافتتاح آغاخان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) اور بینک دونوں کیلئے ایک شاندار سنگ میل ہے۔ یہ منصوبہ AKDN کے 2030 تک کاربن کے زیرو اخراج کے حصول کے ہدف کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔ بہتر اور زیادہ پائیدار مستقبل کیلئے ہماری کوششوں کے تناظر میں یہ عمارت گلگت بلتستان کے لوگوں کیلئے مسلسل ترقی، پائیداری اور خوشحالی کی علامت ہے”۔

 

چیئرمین HBL MfB ریومنڈ کوتوال نے کہا”گلگت بلتستان میں ریجینل ہیڈ کوارٹرز پائیدار ترقی اور مقامی آبادی کی فلاح وبہبود کیلئے ہمارے عزم کا ثبوت ہے۔ HBL مائیکروفنانس بینک کے سفر میں گلگت خاص مقام رکھتا ہے کیونکہ ہم نے دو دہائی قبل اسی شہر سے اپنے سفر کاآغاز کیا۔یہ عمارت معاشی ترقی کے فروغ اور علاقائی ماحول کے تحفظ کیلئے ہماری لگن اور عزم کی علامت ہے۔مقامی ثقافت کے ساتھ پائیدار طریقے اپناتے ہوئے HBL MfB نے ماحولیاتی تحفظ اور کارپوریٹ ذمہ داری میں قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے نئے معیارات قائم کیے ہیں۔ ہمیں گلگت بلتستان کے علاقے کی ترقی میں کردارادا کرنے پر فخر ہے اور ہم تمام پاکستانیوں کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔”

 

صدر و سی ای او HBL MfB عامر خان نے کہا”گلگت بلتستان کا فلیگ شپ ریجینل ہیڈکوارٹرز پاکستان کے بہترین مائیکروفنانس بینک کی طاقت اور استحکام کو ظاہرکرتا ہے۔ ریجینل ہیڈکوارٹرز نہ صرف ہماری آپریشنل صلاحیتوں کومزید تقویت دے گا بلکہ گلگت بلتستان کیلئے ترقی اور امید کی کرن بھی ثابت ہوگا۔ پراجیکٹ کے دوران علاقہ پر خصوصی توجہ دی گئی یہی وجہ ہے کہ مقامی معیشت کو فروغ دینے کیلئے پراجیکٹ کی کل لاگت کا 27فیصد مقامی سپلائرز کے لیے مختص کیا گیا”۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستان
89936

ہُنزہ، گلگت بلتستان میں ڈوئیکرسولر پاور پلانٹ فیز ٹو اور ناصر آباد سولر پاور پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے کا آغاز

Posted on

ہُنزہ، گلگت بلتستان میں ڈوئیکرسولر پاور پلانٹ فیز ٹو اور ناصر آباد سولر پاور پلانٹس کی تنصیب کے منصوبے کا آغاز

ہنزہ (چترال ٹائمزرپورٹ ) پرنس رحیم آغا خان نے ہفتہ کے روز گلگت بلتستان کے ضلع ہُنزہ کے دورے کے درمیان 3.6 میگاواٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت کے حامل ڈوئیکر سولر پاور پلانٹ، فیز ٹو (Duiker Solar Power Plant, Phase II) کی گنجائش میں اضافے اور ناصر آباد سولر پاور پلانٹ کی تنصیب کے منصوبے کا افتتاح کیا۔

ڈوئیکر پلانٹ کے پہلے فیزنے، جس کی پیداواری گنجائش 01 میگا واٹ اور بیٹر ی اسٹوریج کی گنجائش 0.6 میگاواٹ تھی، گزشہ برس نومبر 2023ء میں کام شروع کیا تھا ۔اس پلانٹ سے 11،000 سے زائد افراد کے لیے بجلی کی روزانہ دستیابی میں اضافہ ہواجوموسم گرما میں 10 سے 17 گھنٹے اور موسم سرمامیں 4 سے 9 گھنٹے تک تھی۔ اس سال، نومبر 2024 تک، ڈوئیکر فیز ٹو کی پیداواری صلاحیت کو 1.0 میگا واٹ سے بڑھا کر 1.6 میگا واٹ اور بیٹری اسٹوریج کی گنجائش کو 0.6 میگا واٹ سے بڑھا کر 1.0 میگا واٹ کیا جائے گا، جس سے مزید 8,760 افراد کو اضافی بجلی فراہم ہو گی۔ اس منصوبے کی خاص بات یہ ہے کہ ڈوئیکر نے ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے والے یونٹ کی جگہ لی ہے، جس کے نتیجے میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں سالانہ 1100 میٹرک ٹن کے مساوی کمی واقع ہوتی ہے۔

لوئر ہنزہ کے علاقے ناصر آباد میں بھی 2.0میگا واٹ کا سولر پاور پلانٹ نصب کیا جائے گا جس کے ساتھ 1.0میگاواٹ بیٹری اسٹوریج کی گنجائش ہو گی۔ اس سے اضافی 23,400 افراد کو بجلی فراہم کی جائے گی۔ توقع ہے ناصر آباد سولر پاور پلانٹ جون 2025 ءمیں شروع کر دے گا۔

آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیویلپمنٹ (AKFED) کے صنعتی اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی شاخ انڈسٹریل پروموشن سروسز ((IPS) کا ماتحت ادارہ این پاک انرجی لمیٹڈ(NPak Energy Limited) ان منصوبوں میں 60 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔اس پروجیکٹ کی فنانسنگ ایکویٹی میں آسان قرض، اور گرانٹس شامل ہیں۔ خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کی غرض سے ترقیاتی شراکت داروں سے اضافی 14 ملین ڈالر حاصل کیے گئے ہیں۔

آئندہ پانچ برسوں کے دوران، این پاک انرجی ہُنزہ اور اطراف کے علاقوں میں بجلی کے صاف اور پائیدار ذرائع میں اضافی سرمایہ کاری کرے گا جس سے خطے میں توانائی کی شدید کمی کو دور کیا جائے گا اور ساتھ موسمیاتی اثرات کو کم کرنے کی عالمی کوششوں میں بھی حصہ لیا جائے گا۔ کمپنی ایک پائیدار، خود کفیل یوٹیلیٹی آپریشن تخلیق کرکے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے پرعزم ہے جو معاشی ذرائع اور روزگار کے مواقع پیدا کرتی ہے اور ایک جدید اور مؤثر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا ماڈل پیش کرتی ہے اور پائیدار ترقی میں کردار ادا کرتی ہے۔

Posted in جنرل خبریں, گلگت بلتستان
89920

کیا نیٹکو بس حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور تھا؟ – شاہ عالم علیمی

کیا نیٹکو بس حادثے کا ذمہ دار ڈرائیور تھا؟ – شاہ عالم علیمی

14 فروری 2023ء کو میری ایک تحقیقاتی رپورٹ اخباروں میں چھپی جو کہ ایک پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کمپنی کی گاڑیوں کے حوالے سے تھی۔ اس رپورٹ میں تفصیل سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ کس طرح اس مخصوص کمپنی کی ناکارہ گاڑیاں پچھلے دس پندرہ سال کے اندر متعدد حادثات میں سینکڑوں گلگت بلتستانیوں کی جان لے چکی ہیں۔ فروری 2023ء کو بھی اس کمپنی کی گاڑی کا قراقرم ہائی وے پر حادثہ ہوا تھا جس میں دو درجن سے زیادہ قیمتی جانوں کا ضیائع ہوا۔

 

انھی دنوں میں نے اس کمپنی کے دفتر واقع راولپنڈی جنرل بس اسٹینڈ کا چکر لگایا۔ انھوں نے ایک بینر آفس ھذا میں آویزاں کیا ہوا ہے جس میں لکھا ہے کہ ہمارے ساتھ سفر کرنے والے ہر مسافر اگر ایک مخصوص رقم کرایے کے ساتھ اضافی ادا کرے تو حادثے میں موت کی صورت میں اس کو اتنی رقم ملے گی۔

گویا کہ انھوں نے اپنے ماضی سے یہی سیکھا ہے کہ حادثہ تو ہونا ہی ہونا ہے، اس میں ہمارا کیا قصور!

پچھلے چند سالوں میں گلگت بلتستان میں روڑ حادثات کے حوالے سے راقم کی متعدد رپورٹیں اخباروں چھپی۔ جن میں اس بات کی خصوصیت کے ساتھ نشاندھی کی گئی تھی کہ ان سڑکوں پر، اور خصوصی طور پر قراقرم ہائی وے پر، چلنے والی گاڑیاں سیفٹی اسٹینڈرڈ پر نہیں اترتی، یہی وجہ کہ ان کے حادثات پیش آتے ہیں۔

میں جب بھی اسلام آباد سے غذر سفر کرتا ہوں ہمیشہ نیٹکو کے ساتھ سفر کرتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پپلک پراپرٹی ہے۔ یہ ترقی کریں اس کا فائدہ عوام ہی کو ہوگا۔ مگر اب نیٹکو کے اندر بھی مس منیجمنٹ اور اقرباء پروری کی بو آرہی ہے۔

 

گزشتہ دنوں میں نیٹکو کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ ان کی جو بسیں اسلام آباد سے غذر چلتی ہیں وہ قراقرم ہائی وے پر چلنے کے قابل بالکل بھی نہیں ہیں۔ ایسی ہی ایک گاڑی میں سفر سے پہلے ہی میں نے یہ سوال کیا کہ کیا یہ بس اپنا سفر مکمل کرسکے گی؟ ہوا یوں کہ حویلیاں سے تھوڑا سا آگے پہنچتے ہی اس کے پچھلے دو ٹائیر پھٹ گئے۔ خوش قسمتی سے چڑائی کی وجہ سے رفتہ آہستہ تھا سو کسی بڑے حادثے سے بال بال بچ گئے۔ چلتے چلتے تین چار گھنٹے بعد اس گاڑی کا آگے والا ٹائیر پھٹ گیا، یہاں بھی چالیس سے زیادہ مسافروں پر خدا کا کرم ہوا۔

اس معاملے کو ہم نے سوشیل میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے رکھا۔ اور اس بات کی نشاندھی کی کہ ان گاڑیوں کو اس روٹ پر چلانے کا مطلب عوام کی زندگیوں سے کھیلنا ہے۔ اگلے ہی دن غذر سے راولپنڈی جانے والی نیٹکو بس کا ہزارہ موٹر وے پر حادثہ ہوا۔ گاڑی جل کر خاکستر ہوگئی۔ خوش قسمتی سے تیس سے زیادہ مسافر معجزاتی طور پر بچ گئے۔

اگلے ایک ہفتے میں اس حادثے کے حوالے سے ان کی رپورٹ سامنے آئی، جس میں ڈرائیور کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے اور سارا ملبہ اس بیچارے کے سر ڈال کر معاملہ رفع دفع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگر اس ڈرائیور کی غلطی تھی تو مذکورہ بالا بس کی خرابی کا ذمہ دار بھی اس کا ڈرائیور ہی ہوگا۔ تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ نیٹکو نے سارے غیر تربیت یافتہ اور ناتجربہ کار ڈرائیور رکھا ہوا ہے؟

میں سمجھتا ہوں کہ یہ رپورٹ صیح نہیں ہے۔ ادارہ اور متعلقہ زمہ داران اپنی ذمہ دای سے چشم پوشی نہیں کرسکتے۔ ان کو حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ غیر حقیقت پسندانہ رویے سے کل کلاں پھر حادثہ ہوگا۔ لہذا حادثات کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ان کا تدارک اشد ضروری ہے۔

اس ساری کہانی سے آپ عوام کی بے بسی سرکار کی بے حسی اور اداروں کی نااہلی کا آسانی کے ساتھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔

عوام کے نمائندوں سے عوام کا مطالبہ ہے کہ وہ حرکت میں آجائیں اور اپنی زمہ داریاں نبھائیں۔ کم از کم نیٹکو جیسے ادارے کو ٹھیک سے چلائیں۔

 

گلگت بلتستان میں روڑ حادثات روکنے کے لیے گاڑیوں کی سیفٹی اسٹینڈرڈ اور ڈرائیوروں کی، قراقرم ہائی وے جیسے شاہراہ کو سامنے رکھ کر، خصوصی مہارت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ نیٹکو کی گاڑیاں، خاص کر، غذر سے اسلام آباد اور گلگت سے چترال چلنے والی گاڑیاں سیفٹی اسٹینڈرڈ پر نہیں اترتی۔ مگر ٹرانسپورٹ کے ادارے سے منسلک ماہرین کو نجانے یہ کیوں نظر نہیں آتا خدا ہی جانے!

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89925

پرنس رحیم آغا خان نے ناصر آباد ،ہُنزہ میں نئے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کر دیا

پرنس رحیم آغا خان نے ناصر آباد ،ہُنزہ میں نئے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کر دیا

ناصرآباد، ہُنزہ(چترال ٹائمزرپورٹ ) اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) ، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام، حکومت پاکستان اور آغا خان فاؤنڈیشن، پاکستان (AKF,P) کے درمیان شراکت کے ذریعے، ناصر آباد، ہنزہ میں قائم کردہ نیا سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک، گلگت بلتستان (GB) کی پائیدار ترقی میں مدد فراہم کرنے کے ساتھ علاقے میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی، تیز رفتار انٹرنیٹ ،چھوٹے اور ترقی کرتے ہوئے اسٹارٹ اپس، فری لانسرز اور چیمبرز آف کامرس کے لیے کام کرنے کی جگہ (co-working space) فراہم کرے گا۔

 

ناصر آباد سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مرکزی وسائل کی فراہمی کے لیے hub-and-spoke ماڈل کے طور پر کام کرے گا اور خطے کے انتہائی دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کی دیگر سہولیات کو منسلک کرنے میں مدددے گا۔ اس طرح فاصلاتی تعلیم، انٹرپرینیورشپ ، کیریئر کونسلنگ اور ڈیجیٹل اسکلز ڈیولپمنٹ تک رسائی میں اضافہ ہوگا، جبکہ فری لانس کاروبار کےذرائع بھی پیدا ہوں گے۔ افتتاحی تقریب کے موقع پر اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ،میجر جنرل عمر احمد شاہ کے علاوہ آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر اور حبیب بینک لمیٹڈ کے چیئرمین، سلطان علی الانہ، اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے صدر ، نزار میوہ والا اور آغا خان فاؤنڈیشن ،پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اختر اقبال بھی موجود تھے۔

 

chitraltimes prince rahim aga khan inaugurated digital park in hunza

 

اس موقع پراپنی امیدوں کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین سلطان علی الانا نے کہا کہ ”نیا سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک خطے کی معیشت کو مضبوط کرے گا: اس نئی سہولت کےذریعے صارفین پاکستان اور دنیا بھر کےکاروبار ی اداروں کے ساتھ قابل بھروسہ انداز میں منسلک ہوں گے۔ اس کے علاوہ ، اس سے قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سے مواقع میسر آئیں گے، جدت طرازی کو فروغ ملے گا، نئے کاروباری نیٹ ورکس کی تخلیق میں مدد ملے گی اور خطے میں معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔“

 

میجر جنرل عمر احمد شاہ نے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ” اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO)کا ویژن 2025 پائیدار آئی ٹی ماحول کی فراہمی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانے پر مرکوز ہے۔ ہم آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آئی ٹی اور فری لانسنگ ہب (FLH) کو تیزی سے توسیع دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ اقدام ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے اور غیر ملکی ترسیلات زر میں اضافہ کرتا ہے۔ تبدیل شدہ آئی ٹی منظرنامہ خطے کی سماجی و اقتصادی ترقی میں مدد کر رہا ہے کیونکہ نوجوان ان علاقوں کی مجموعی ترقی اور خوشحالی میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں۔“

اس اقدام کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے آغا خان فاؤنڈیشن ، پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، اختر اقبال نے کہا کہ ”گلگت بلتستان میں پاکستان کی سافٹ ویئر کمپنیوں کا مرکز بننے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ تیز رفتار انٹرنیٹ، 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی، کام کرنے کی جگہیں(co-working spaces) اور ایک پرکشش جغرافیائی محل وقوع تک رسائی کے ساتھ، یہ قومی اور بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ڈیجیٹل سہولتوں کے متلاشیوں کو راغب کرے گا جو ملک کی معیشت پر اہم اورفائدہ مند اثرات مرتب کرسکتے ہیں۔“

chitraltimes prince rahim aga khan inaugurated digital park in hunza

 

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستان
89909

نیشنل سیکیورٹی کی اہمیت اور ضرورت – خاطرات:امیرجان حقانی

Posted on

نیشنل سیکیورٹی کی اہمیت اور ضرورت – خاطرات:امیرجان حقانی

 

گلگت بلتستان کے کیپٹل ایریا گلگت میں حال ہی میں تین روزہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں صوبائی وزراء، ممبران اسمبلی، یوتھ اسمبلی کے ممبران، KIU کے سٹوڈنٹس، صحافی حضرات، اہم شخصیات اور عسکری حکام نے شرکت کی۔ اس ورکشاپ کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے کمانڈر FCNA کا کردار نہایت اہم رہا۔ یہ انفارمیشن ہمیں اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذرائع سے معلوم ہوئی۔

 

نیشنل سیکورٹی، یا قومی سلامتی، کسی بھی ملک کی بقاء اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہوتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جس کے ذریعے ایک ریاست اپنے داخلی اور خارجی خطرات سے نمٹنے کے قابل ہوتی ہے۔ نیشنل سیکورٹی کے بغیر کسی بھی ملک کی سالمیت اور خودمختاری برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ گلگت میں پہلی دفعہ منعقدہ نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کا مقصد شرکاء کو قومی سلامتی کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کرنا اور انہیں ان مسائل کی نوعیت اور اہمیت کا شعور دلانا ہوگا۔ اس ورکشاپ میں شرکت کرنے والے افراد کو اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں آگاہی ملی ہوگی اور انہیں یہ سمجھنے کا موقع ملا ہوگا کہ نیشنل سیکورٹی کے معاملات میں کس طرح کا کردار ادا کرنا ضروری ہے۔

 

نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے ایک اور اہم ورکشاپ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (NDU) میں سالانہ منعقد ہوتی ہے، جو اپنی نوعیت کی ایک بہترین ورکشاپ ہوتی ہے۔ بدقسمتی سے اس کی فیس زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم جیسے عام آدمی کے لیے اس میں حصہ لینا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم، ہم نے 2021 میں نیشنل میڈیا ورکشاپ میں شرکت کی، جو کہ ایک شاندار تجربہ تھا۔ اس ورکشاپ میں مختلف شعبوں کے ماہرین نے کھلے دل سے لیکچر دیے اور سوال جواب کی مکمل آزادی تھی۔ میں نے یونیورسٹی میں دوران ورکشاپ، جی ایچ کیو اور دیگر مقامات کے وزٹ پر سب سے کھلے کھلے سوالات کیے اور ان سوالات کے بہترین جوابات دیے گئے۔ ہمیں سولات کرنے پر شاباش بھی ملی۔ کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس ورکشاپ میں چیتھم ہاؤس رولز لاگو تھا، چیتھم ہاؤس رولز کا مطلب ہے کہ کسی بھی ورکشاپ، سیمینار، میٹنگ یا مباحثے میں شریک افراد کو آزادی سے بولنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس میں ہونے والی معلومات کو باہر شیئر کرتے وقت کسی بھی بات کو کسی فرد یا تنظیم کے ساتھ منسوب نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مقصد شرکاء کو کھل کر بات کرنے کا محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔

 

نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنا اور عوام کو اس کی اہمیت سے روشناس کرانا نہایت ضروری ہے۔ نیشنل سیکورٹی کا مفہوم صرف فوجی معاملات تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ اس میں اقتصادی، سیاسی، سماجی اور ماحولیاتی عوامل بھی شامل ہیں۔ کسی بھی ملک کی نیشنل سیکورٹی مضبوط تب ہوتی ہے جب اس کے شہری اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں اور ملکی سالمیت کے لیے ہر ممکنہ قربانی دینے کے لیے تیار ہوں۔
نیشنل سیکورٹی یا قومی سلامتی کا واضح اور آسان فہم مفہوم یہ ہوسکتا ہے۔

1.ریاست کی حفاظت:
نیشنل سیکورٹی کا مطلب ریاست کی سالمیت، خودمختاری اور استحکام کو یقینی بنانا ہے۔

2. شہریوں کی حفاظت:
ملک کے تمام شہریوں کی جان و مال، حقوق اور آزادیاں محفوظ رکھنا۔

3. اقتصادی و معاشی استحکام:
قومی معیشت کو داخلی و خارجی خطرات سے بچانا اور مستحکم رکھنا۔

4.دفاعی پالیسی:
ملک کی فوجی طاقت اور دفاعی حکمت عملی کی تشکیل اور ان پر عملدرآمد۔

5. انٹیلیجنس یا خفیہ نظم:
جاسوسی اور اطلاعاتی ایجنسیوں کے ذریعے ممکنہ خطرات کی پیش بندی اور ان کا تدارک۔

نیشنل سیکورٹی کی ضرورت و اہمیت پر چند اہم پوائنٹ احباب سے شئیر کرنا بھی اہم سمجھتا ہوں۔

 

1.علاقائی سالمیت کا تحفظ:
دشمن ممالک یا دہشت گرد گروہوں کے حملوں سے ملک کی حدود کی حفاظت۔

2. سوشیو-اکنامک استحکام:
ملکی معیشت کو بحرانوں سے بچانا اور عوام کو معاشی تحفظ فراہم کرنا۔

3.سیاسی استحکام:
داخلی سیاسی خطرات، جیسے کہ بغاوت یا داخلی کشمکش، سے ملک کی حکومت اور نظام کی حفاظت۔

4.سائبر سیکورٹی یا ڈیجیٹل دہشت گردی: م
ڈیجیٹل اور انٹرنیٹ پر مبنی حملوں سے ملک کے ڈیٹا اور معلومات کی حفاظت۔ آج کل ڈیجیٹل دہشت گردی بہت زیادہ ہورہی ہے.

5. بین الاقوامی تعلقات:
عالمی سطح پر ملک کی ساکھ اور مفادات کی حفاظت اور فروغ دینا۔

6. عوامی تحفظ:
قدرتی آفات، وبائیں، اور دیگر غیر روایتی خطرات سے عوام کی حفاظت۔

7. انرجی سیکورٹی:
توانائی کے وسائل کی دستیابی اور تحفظ کو یقینی بنانا۔

8. قانون اور نظم و ضبط: داخلی امن و امان کو برقرار رکھنا اور جرائم کے خلاف موثر کاروائی کرنا۔

 

نیشنل سیکورٹی ایک جامع تصور ہے جو ریاست اور اس کے عوام کی حفاظت اور خوشحالی کے لئے نہایت ضروری ہے۔ اور ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ یہ سب کچھ ملکی قوانین اور آئین پاکستان کی روشنی میں کیا جاسکتا۔

 

نیشنل سیکورٹی ورکشاپس اور سیمینارز کے انعقاد کا مقصد عوام میں اس شعور کو بیدار کرنا ہے کہ وہ اپنے ملک کی سلامتی کے حوالے سے حساس ہوں اور ہر ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہیں۔ اس طرح کی ورکشاپس نہ صرف علمی معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے کا موقع بھی دیتی ہیں۔

 

نیشنل سیکورٹی کی ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، ہمیں چاہیے کہ ہم اس طرح کے پروگرامز میں زیادہ سے زیادہ شرکت کریں اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو بھی اس میں شامل ہونے کی ترغیب دیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب مل کر اپنے ملک کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

اس مختصر تحریر میں یہ عرض کرنا کرنا چاہوں گا کہ نیشنل سیکورٹی کی اہمیت کو سمجھنا اور اس کے لیے کوشش کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے ہمیشہ تیار رہیں اور اس سلسلے میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے ملک کی بقاء کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ اسے ایک محفوظ اور ترقی یافتہ ملک بنا سکتے ہیں۔ اور یہ بات فوجیوں سمیت ہر انسان کو دل سے نکالنا چاہیے کہ نیشنل سیکورٹی کا مطلب فوج اور فوجی ادارہ ہے۔ ایسا کچھ نہیں یہ ملک، قوم اور تمام شہریوں کا معاملہ ہے۔ اور یہ بات بھی خوش آیند ہے کہ گلگت بلتستان میں اس کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے کو جاری و ساری رکھنا چاہیے اور مقاصد کو فوکس کرنا چاہیے۔ صرف مخصوص لوگوں کو بلاکر خانہ پوری کرنے سے اس کے مقاصد حاصل نہیں ہونگے۔ اور لیکچر دینے والے بھی اپنی فیلڈ کے ماہرین ہوں جیسے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ماہرین کو بلایا جاتا۔

 

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89889

مجھے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک، اپنے ساتھیوں، اپنے عملے اور دیگر بہت سے رضاکاروں کی جانب سے یہ اعزاز قبول کرنے پر بے حدفخر ہے۔ پرنس رحیم آغا خان

Posted on

مجھے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک، اپنے ساتھیوں، اپنے عملے اور دیگر بہت سے رضاکاروں کی جانب سے یہ اعزاز قبول کرنے پر بے حدفخر ہے۔ پرنس رحیم آغا خان

 

پرنس رحیم آغا خان کو پاکستان کےسب سے بڑے سول اعزاز ’نشانِ پاکستان‘سے نوازا گیا

اسلام آباد،(چترال ٹائمزرپورٹ ) آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کےصدر ، آصف علی زرداری کی جانب سےپرنس رحیم آغا خان کو ملک کے سب سے بڑے سول ایوارڈ ’نشانِ پاکستان‘سے نواز اہے۔ ایوارڈ کی تقریب صدر کی سرکاری رہائش گاہ ایوان صدر،اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔یہ ایوارڈ ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جنہوں نے پاکستان کے لیے اعلیٰ ترین خدمات انجام دی ہوں۔ پرنس رحیم آغا خان قابل تجدید توانائی، مائیکرو فنانس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں AKDNکے منصوبوں کا جائزہ لینے ،سرکاری حکام اورAKDNکے عہدیداروں کے علاوہ اسماعیلی برادری کے دیگر رہنماؤں سے ملاقاتوں کے لیے پاکستان کے دورے پرہیں۔

ایوارڈسے نوازنے کی تقریب میں آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیویلپمنٹ(AKFED) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین اور آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کی ماحولیات اور موسمیاتی کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے پرنس رحیم کے کردار کا ذکر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا :

”پرنس رحیم آغا خان نے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک میں ، متعدد شعبوں، اپنی قیادت کے ذریعے ایک چوتھائی صدی سے بھی زائد عرصہ کے لیے اپنی انتھک کوششیں وقف کی ہیں جن کا مقصد ایشیا اور افریقہ کے وسائل سے محروم خطوں میں لوگوں کےمعیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ غریب اور پسماندہ طبقات کی معاشی، طبی، تعلیمی اور ثقافتی فلاح و بہبود پر اثر انداز ہونے والے اقدامات کو ترقی پذیر اور دور حاضر کی ضروریات کے مطابق بنانے میں اُن کی ذاتی مصروفیت ایک کثیر نسلی میراث کو برقرار رکھتا ہے جس کی ابتدا ،پاکستان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ ہوئی ہے۔“

’نشانِ پاکستان‘ حاصل کرنے پر پرنس رحیم نے کہا کہ ”مجھے آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک، اپنے ساتھیوں، اپنے عملے اور دیگر بہت سے رضاکاروں کی جانب سے یہ اعزاز قبول کرنے پر بے حدفخر ہے جو پاکستان کے عوام کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے لیے انتھک محنت کررہے ہیں۔ میں صدر پاکستان اور حکومت پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس غیرمعمولی اعزاز سے نوازا۔“

آغا خان ڈیویلپمنٹ نیٹ ورک کے بانی اور چیئرمین ،ہز ہائنس دی آغا خان کو بھی یہ ایوارڈ سنہ 1983 ء میں ،پاکستان اورمجموعی طور پر مسلم اُمّہ اور ترقی پذیر دنیا میں اپنی سماجی اور اقتصادی فلاحی سرگرمیوں کے اعتراف کے طور پر دیا جا چکا ہے۔ ماضی میں اس ایوارڈ کوحاصل کرنے والی شخصیات میں جنوبی افریقہ کے پہلے جمہوری منتخب صدر ،نیلسن منڈیلا اور ملکہ الزبتھ دوم جیسے دیگر عالمی رہنما بھی شامل ہیں۔

chitraltimes prince rahim aga khan received pakistan award 2 chitraltimes prince rahim aga khan received pakistan award 3

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستان
89874

سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کوعالمی یوم ماحولیات کے موقع پر نیشنل بائیو ڈائیورسٹی کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا گیا 

سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کوعالمی یوم ماحولیات کے موقع پر نیشنل بائیو ڈائیورسٹی کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا گیا

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ ) عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کو نیشنل بائیو ڈائیورسٹی کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز ایس ایل ایف کی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے کی جانی والی کوششوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے صوبہ خیر پختونخواہ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں جنگلی حیات کے تحفظ، مقامی لوگوں کے زندگیوں میں بہتری لانے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کا اعتراف بھی ہے. ایک سال کے دوران ایس ایل ایف کو ملنے والا یہ دوسرا ملکی سطح کا ایوارڈ ہے۔ اس سے قبل ایس ایل ایف کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر الدین کو 2023 میں ورلڈ ماؤنٹین ڈے کے موقع پر ایس ایل ایف ماؤنٹین کنزرویشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

ڈیولپمنٹ کمیونیکیشن نیٹ ورک (Devcom-Pakistan  )، پاکستان انوائرومنٹ پروٹیکشن ایجنسی اور دیگر اداروں نے بہترین ماحول دوست اقدامات کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان انوائرنمنٹل ایوارڈ متعارف کرائے ہیں۔ عالمی یوم ماحولیات کو دیا جانے والا یہ ایوارڈ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالوں سے ان تنظیموں کے زمہ دارانہ کردار کو تسلیم کرتا ہے۔

ایس ایل ایف سنو لیپرڈ پروگرام کے ذریعے ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے 50 وادیوں میں 40,000 گھرانوں کو سہولیات پہنچانے میں سرگرم عمل ہے۔ تقریباً 30,075 کلومیٹر رقبے پر محیط پروگرام ایریا میں جدید طریقوں کے ذریعے انسانی اور جنگلی حیات کے تنازعات کو مؤثر طریقے سے کم کیا گیا ہے۔ ان پروگرامز میں خاص طور پر ایکو سسٹم ہیلتھ پروگرام کے تحت سالانہ 400,000 مویشیوں کو ویکسنیشن کیا جاتا ہے۔ جس سے پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر کمیونٹیز کے مال مویشی مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں اور مویشیوں پر مبنی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

معاشی بہتری کے لئے زمہ دار سیاحت، متبادل توانائی کی فراہمی، اور پھلدار درختوں کی شجرکاری جیسے اقدامات بھی شروع کئے ہیں جس سے 20,000 سے زیادہ گھرانوں کو فائدہ پہنچا ہے۔ 40,000 مربع کلومیٹر پر کی گئی وسیع تحقیق نے حیاتیاتی تنوع اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو سمجھنے اور حساس ماحولیاتی نظام میں بقائے باہمی کے لیے موثر حکمت عملی کے لئے کئی اہم تجاویز بھی سامنے لائے گئے ہیں۔ تعلیم اور صلاحیت کی تعمیر میں 900 سے زیادہ افراد کو جنگلی حیات کے سروے کی تکنیکوں میں تربیت اور اعلیٰ تعلیم کے لئے سپورٹ فراہم کی ہے، جس کے نتیجے میں 50 طلبہ نے ایم فل اور 6 نے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کر لی ہیں۔

ملکی سطح پر اہم ایوارڈ سے نوازے جانے پر سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی نواز نے تمام زمہ دار اداروں کا شکریہ اداکیا۔ انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے پاکستان کے شمال میں پہاڑی علاقوں کے قدرتی رہائش گاہوں اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لیے SLF کے کی کوششوں کو مزید بہتر طریقے سے جاری رکھنے کے عزم کا اظہارکیا۔ ڈاکٹر نواز نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ فاؤنڈیشن “Engage, Education, and Conserve” کے رہنما اصولوں کے تحت متعدد اقدامات کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کوششوں کا مقصد کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دینا، ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے آگہی اور مستقبل کی نسلوں کے لیے جنگلی حیات کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل ہیں۔ ڈاکٹر نواز نے جنگلی حیات اور ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے لیے SLF کی طرف سے اقدامات جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستان
89780

گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا: مسائل اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا: مسائل اور حل – خاطرات :امیرجان حقانی

ہمارے دوست اور قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی گلگت کے پروفیسر برادر ضیاء اللہ شاہ نے راقم کو تجویز دی کی منشیات کی روک تھام اور یونیورسٹیوں میں منشیات کلچر پر ایک تحقیقاتی کالم لکھوں. یہ بات انہوں نے ایک کمنٹس کے جواب میں تحریر کی تھی. شاہ جی کی تجویز و مشورہ صائب اور بروقت ہے. تحقیقاتی کالم لکھنے کے لئے وقت اور ڈیٹا دونوں ضروری ہیں. اگر شاہ جی یا کوئی دوسرا فرد یا ادارہ درست معلومات مہیا کریں تو مفصل کالم لکھا جاسکتا ہے، تاہم سردست منشیات کی لعنت کو روکنے کے لیے چند تجاویز پیش خدمت ہیں جن کو اپنا کر کسی حد بہتری لائی جا سکتی ہے.

یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس نے خاص طور پر نوجوان نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے.ہر طرف منشیات کا دور دورہ ہے۔ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی بیان کے مطابق، منشیات کی فراہمی کا سلسلہ یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات تک پہنچ چکا ہے۔ اس خطرناک رجحان کو روکنے کے لیے حکومت، انتظامی ادارے، اساتذہ، اور دیگر متعلقہ فریقین کو فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے درج ذیل تجاویز پیش کی جا رہی ہیں:

1. سخت قوانین اور ان کا نفاذ
حکومت کو منشیات کی فروخت اور استعمال کے خلاف سخت قوانین بنانا اور ان کا مؤثر نفاذ کرنا ہوگا،. اگر قوانین موجود ہیں تو ان کا فوری اطلاق ضروری ہے۔ منشیات فروشوں کے خلاف سخت کاروائی اور سزاؤں کا تعین کیا جانا چاہیے۔ یہ ایک ایسی خطرناک لعنت ہے جو ہم سب کو برباد کرکے رکھ دے گی.

2. خصوصی فورسز کا قیام
منشیات کے خلاف لڑنے کے لیے خصوصی فورسز کا قیام ضروری ہے جو کہ منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کو توڑ سکیں اور نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھ سکیں۔گلگت بلتستان جیسے چھوٹے سے علاقے میں یہ کام آسانی سے کیا جاسکتا ہے.

3. آگاہی سیمینارز اور مہمیں
اساتذہ، طلبہ اور والدین کو منشیات کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ سیمینارز اور مہمات چلائی جائیں۔ تعلیمی اداروں میں منشیات کے خلاف لیکچرز، ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے۔ حکومتی ادارے اور این جی اوز اس مد میں تعلیمی اداروں کے ساتھ فوری طور پر کام شروع کرسکتے ہیں.

 4. کمیونٹی کا معاونتی سسٹم 
مقامی کمیونٹی کی مدد سے ایک سپورٹ سسٹم بنایا جائے جہاں نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مشغول کیا جائے۔ کھیل، ثقافتی پروگرامز اور دیگر صحت مند سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ جب تک ہر یونین اور علاقے میں کمیونٹی کو فعال نہیں بنایا جائے گا، منشیات فروشوں کو شکست دینا ممکن نہیں. سماج کی بہتری میں کمیونٹی کا کردار سب سے حاوی ہوتا ہے.

 5. کونسلنگ اور نفسیاتی مدد
منشیات کے عادی افراد کے لیے کونسلنگ اور نفسیاتی مدد کی فراہمی کی جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ صحیح راستے پر لا سکیں۔ یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں کونسلنگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔ یہ وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے.  بڑے شہروں میں کچھ اچھے سینٹر موجود ہیں. ان کو گلگت بلتستان میں لایا جاسکتا ہے.

 6. خفیہ اطلاعاتی نظام
منشیات فروشوں کے خلاف کاروائی کے لیے خفیہ اطلاعاتی نظام کو مضبوط کیا جائے۔ عوام کو بھی اس میں شامل کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر منشیات فروشوں کی اطلاع دے سکیں۔ حیرت کی بات ہے کہ اتنے “خفیہ” کے لوگ موجود ہیں جو منشیات فروشوں کا پتہ نہیں لگا پا رہے ہیں. خفیہ والو! تمہیں تھوڑی سی شرم آنی چاہیے. کہیں تم خود اس کالے دھندے میں ملوث تو نہیں؟ اگر نہیں تو ہر سطح پر ان کالی بھیڑیوں کی کمر کیوں نہیں توڑ دیتے؟ پلیز جاگ جاؤ میرے “خفیہ” کے بھائیو.

 7. تعلیمی اداروں اور مساجد کا کردار
تعلیمی ادارے منشیات کے خلاف پالیسیز اپنائیں اور طلبہ و طالبات کی نگرانی کریں۔ غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے تاکہ نوجوانوں کا وقت مثبت سرگرمیوں میں صرف ہو۔ اس حوالے سے تعلیمی اداروں کا کردار بھی زیرو فیصد ہی ہے. مساجد میں بھی اس حوالے سے تعلیمات اسلامی کو عام کرنا چاہیے. لگی بندھی تقاریر سے ایسے ہم سماجی موضوعات پر تقاریر اور خطبات دیے جانے چاہئیں. کاش علماء و خطباء حضرات بھی ایکٹیو ہوجائیں.!

 8. والدین اور سرپرستوں کی تربیت
والدین اور سرپرستوں کو اپنے بچوں کی نگرانی اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے بارے میں تربیت دی جائے۔ والدین کو آگاہ کیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں اور ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ اس کا ہمارے ہاں شدید فقدان ہے. تعلیمی ماہرین اس کا کوئی بہترین حل نکال لیں تو بہتر ہوگا.

 9. مقامی اور سوشل میڈیا کا کردار
میڈیا کو اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کے لیے استعمال کیا جائے۔ ٹی وی، ریڈیو، اور اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے منشیات کے نقصانات اور اس کے تدارک کے بارے میں آگاہی پھیلائی جائے۔ سوشل میڈیا کے جملہ ٹولز بھی خوب استعمال کیے جاسکتے ہیں. غیر ضروری سیاسی و مذہبی اور علاقائی منافرت پر مبنی بحثوں کی بجائے منشیات کے خلاف جنگ جیسے ضروری موضوعات پر مکالمہ کا رواج ڈالنا بہت اہم ہے. مقامی میڈیا کے احباب اور سوشل میڈیا کے صارفین اور انفلوئنزر کو بھی میدان میں آنا چاہیے.

 

 10. بین الاقوامی اداروں سے تعاون لینا
حکومت، سماجی ادارے منشیات کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے بین الاقوامی اداروں کا تعاون حاصل کرسکتے ہیں۔ دیگر ممالک کی تجربات اور وسائل سے فائدہ اٹھایا جائے اور مشترکہ کاروائیاں کی جائیں۔
تلک عشرۃ کاملۃ یعنی سردست یہ دس تجاویز کافی ہیں.

 

گلگت بلتستان میں منشیات کی وبا کو روکنے کے لیے حکومت، انتظامی ادارے، اساتذہ، والدین اور کمیونٹی کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ مذکورہ بالا تجاویز پر عمل درآمد کرکے ہم نوجوان نسل کو اس خطرناک وبا سے بچا سکتے ہیں اور انہیں ایک محفوظ اور صحت مند مستقبل فراہم کر سکتے ہیں۔
احباب سے گزارش ہے کہ اس بحث کو طول دیں. اپنی تجاویز شئیر کریں. مکالمہ کا ماحول پیدا کریں. ہم اپنے حصے کا کام کریں. باقی اللہ مالک ہے. شاہ جی آپ کا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں متوجہ کرکے اپنے مختصر خیالات شئیر کرنے کا موقع عنایت کیا.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89710

دنیا کی بلندترین پولوگراونڈ شندور میں 28جون سے منعقد ہونے والا فیسٹول کی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی، شندورہٹ میں چترال اور گللگت انتظامیہ کا مشترکہ اجلاس 

Posted on

دنیا کی بلندترین پولوگراونڈ شندور میں 28جون سے منعقد ہونے والا فیسٹول کی انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی، شندورہٹ میں چترال اور گللگت انتظامیہ کا مشترکہ اجلاس

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) دنیا کی بلند ترین پولو گراونڈ میں شندورمیں منعقد ہونے والا شندور فیسٹول 2024 کو حتمی شکل دینے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی شایان شان طریقے سے منانے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ اپر/ لوئر چترال اور گلگت بلتستان انتظامیہ کے درمیان شندور میں ایک اہم میٹنگ منعقد ہوئی۔

اس میٹنگ میں شندور فیسٹول انتظامیہ چترال اپر/لوئر اور گلگت بلتستان کے ڈپٹی کمشنرز، ارمی کے افسران، ڈسٹرکٹ پولیس افسرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور پولو ایسوسیشن کے زمہ دران نے شرکت کی۔
میٹنگ کا مقصد اس مہینے کی 28 تاریخ سے شروع ہونے والے بادشاہوں کا کھیل اور کھیلوں کا بادشاہ یعنی پولو فیسٹیول کو شایان شان طریقے سے منانے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنا اور انتظامات کو حتمی شکل دینا تھا۔

شندور پولو فیسٹیول نہ صرف دو ضلعوں کے درمیان ٹرافی کا حصول ہے بلکہ یہ صوبہ خیبر پختونخوا اور صوبہ گلگت بلتستان کے لوگوں کے مابین امن وآشتی، پیار محبت، رواداری، بھائی چارہ، اپس کے روایات اور ثقافت میں ہم آہنگی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد سے قومی اور بین الاقوامی سیاح چترال اور گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے دونوں صوبوں میں رہنے والے لوگوں کے eco system کو پروموٹ کرنے میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔

میٹنگ میں سیکورٹی سمیت پولو کھیلاڑیوں کے لئے انتظامات، شائقین پولو اور سیاح حضرات کے لئے رہنے سہنے کا انتظام اور پولوگرائونڈ میں شائقین کے لئے بیٹھنے کے لئے سیڑھیوں کی تعمیر جیسے اہم نکات پر گفتگو ہوئی۔ میٹنگ میں 28 تاریخ سے شروع ہونے والے جشن شندور 2024 کو حتمی شکل دیدی گئی۔

chitraltimes meeting on shandur festival between chtiral and gb administrations 4

chitraltimes meeting on shandur festival between chtiral and gb administrations 2 chitraltimes meeting on shandur festival between chtiral and gb administrations 1 chitraltimes meeting on shandur festival between chtiral and gb administrations 5 chitraltimes meeting on shandur festival between chtiral and gb administrations 6

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستان
89678

کیا صحافت ڈگری کی محتاج ہے؟ – خاطرات:امیرجان حقانی

کیا صحافت ڈگری کی محتاج ہے؟ – خاطرات:امیرجان حقانی

 

 

گلگت بلتستان میں صحافیوں کے حوالے سے دو باتیں زور و شور سے کہی جاتیں ہیں. ایک یہ کہ یہاں کے صحافیوں کے پاس صحافت کی ڈگری نہیں. دوسری بات اکثر صحافی مختلف اداروں اور شخصیات کے ترجمان ہیں اور پیڈ ہیں. دونوں باتوں میں بڑا وزن ہے اور کسی حد تک حقیقت بھی یہی ہے. ہم آج پہلی بات کو ڈسکس کریں گے کہ:

کیا واقعی صحافت کے لیے صحافتی ڈگری ہونا ضروری ہے؟

 

صحافت ایک ایسا پیشہ ہے جو تجسس، تحقیقی صلاحیت، اور حقائق کی کھوج پر مبنی ہے۔ اس میدان میں کامیابی کے لیے محض کتابی علم یا ڈگری کافی نہیں ہوتی، بلکہ عملی تجربہ، مشاہدہ اور لکھنے کی صلاحیت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایسے بہت سے معروف صحافی ہیں جنہوں نے بغیر کسی رسمی صحافتی ڈگری کے اپنی پہچان بنائی اور صحافت کی دنیا میں قابل قدر مقام حاصل کیا۔

 

باکمال صحافی جن کے پاس صحافتی ڈگری نہیں تھی، ان میں ابوالکلام آزاد، شورش کاشمیری، ظفرعلی خان، عبدالمجید سالک، غلام رسول مہر، ارشاد احمد حقانی اور الطاف حسن قریشی جیسے سینکڑوں نام نمایاں ہیں.

 

عارف نظامی: پاکستان کے مشہور صحافی اور نواے وقت گروپ کے بانی مجید نظامی کے بیٹے، جنہوں نے بغیر کسی رسمی صحافتی تعلیم کے نواے وقت میں اپنی خدمات انجام دیں اور پاکستانی صحافت میں اہم کردار ادا کیا۔

 

طلعت حسین: پاکستانی صحافی اور ٹی وی اینکر، جنہوں نے اپنی محنت اور لگن سے صحافت کے میدان میں اعلیٰ مقام حاصل کیا، حالانکہ ان کے پاس صحافت کی رسمی ڈگری نہیں ہے۔

 

مجید نظامی: نواے وقت گروپ کے بانی اور معروف صحافی، جنہوں نے بغیر کسی رسمی صحافتی ڈگری کے پاکستانی صحافت میں نمایاں کردار ادا کیا۔
ایسے بہت سے اور نام ہیں جن کے پاس باقاعدہ صحافتی ڈگری نہیں مگر صحافتی دنیا کے چمکتے ستارے ہیں.

 

ڈگری کے بغیر کامیاب صحافی کیسے؟

 

صحافت میں کامیابی کے لیے صرف کتابی علم کافی نہیں ہوتا۔ عملی تجربہ، مشاہدہ، اور لکھنے کی قدرتی صلاحیت زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ وہ لوگ جو خود کو مسلسل بہتر بناتے رہتے ہیں، میدان میں کام کرتے ہوئے نئے تجربات سیکھتے ہیں اور اپنی رپورٹنگ میں تحقیق اور تخلیقی صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، وہ بغیر ڈگری کے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔ تاہم اگر باقاعدہ ڈگری کیساتھ یہ سب کچھ ہو تو نور علی نور ہے.

 

دوسری جانب بہت سے افراد ہیں جو اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں رکھتے ہیں لیکن عملی میدان میں کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافت میں صرف نظریاتی علم کافی نہیں ہوتا بلکہ عملی تجربہ اور میدان میں کام کرنے کی صلاحیت بھی اہمیت رکھتی ہے۔

 

صحافت کے میدان میں ڈگری ضروری نہیں ہے، بلکہ صحافی کے اندر سچائی کی تلاش، مشاہدے کی طاقت، لکھنے کی مہارت اور رپورٹنگ کا جذبہ ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ خصوصیات ہیں جو کسی ڈگری سے نہیں، بلکہ عملی تجربے اور لگن سے آتی ہیں۔

 

گلگت بلتستان کے دسیوں ایسے عامل صحافیوں کو جانتا ہوں جن کے پاس صحافت تو کیا پراپر کسی مضمون میں ایم اے یا گریجویشن بھی نہیں،مگر عملی صحافت میں اپنے قدم جمائے ہوئے ہیں. فیلڈ رپورٹنگ سے لے کر نیوز ڈیسک اور ایڈیٹنگ و قلم کاری تک کرتے ہیں. اور ایسے کئی احباب کو بھی جانتا جن کے پاس صحافت کی ڈگری موجود ہے جو باقاعدہ بڑی یونیورسٹیوں سے لی ہوتی ہے مگر صحافت کے کسی بھی صنف میں ان کا کنٹریبیوشن نہ ہونے کے برابر ہے.

 

لہٰذا، اگر آپ صحافت میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اپنی مہارتوں پر توجہ دیں، عملی تجربات حاصل کریں، اور مسلسل خود کو بہتر بنانے کی کوشش کریں، جملہ جدید سکلز سیکھیں اور بے تحاشا مطالعہ کریں. صحافت کا میدان آپ کے لیے کھلا ہے، چاہے آپ کے پاس ڈگری ہو یا نہ ہو۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89626

امجد ندیم: امید کی کرن – خاطرات :امیرجان حقانی

امجد ندیم: امید کی کرن – خاطرات :امیرجان حقانی

خدمت خلق ایک ایسا عمل ہے جس کی جڑیں دل کی گہرائیوں میں پیوست ہوتی ہیں۔ یہ انسانیت کے جذبے کی عکاسی کرتی ہے اور سماج میں محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ جو لوگ خدمت خلق کے میدان میں قدم رکھتے ہیں، وہ دوسروں کی مشکلات کو اپنی مسرت میں بدلنے کا ہنر جانتے ہیں۔ ان کی محنت، ایثار اور قربانی معاشرے کے پسے ہوئے طبقوں کے لیے ایک نیا اُجالا اور امید کی کرن ثابت ہوتی ہے۔ خدمت خلق کرنے والے افراد انسانیت کے حقیقی ہیرو ہیں، جو اپنی خودی کو بھلا کر دوسروں کی خدمت کو مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ ان کی بے لوث محبت اور انتھک محنت معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کا باعث بنتی ہیں اور انہیں ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتی ہیں۔

 

آج کی محفل میں ایسے ہی ایک شخص کی کہانی بیان کرنی ہے جس نے خدمت خلق کے ذریعے ہزاروں غریبوں، معذوروں اور کمزوروں کے دل جیتے ہیں. بلکہ مجھ جیسے ناقدین کو بھی اپنا گرویدہ بنایا ہے. اور اس نے خود بھی انتہائی کسمپرسی کے دن گزارے ہیں اور معذوری کی حالت میں معذوروں کا سہارا بنے ہیں.

 

میری ان سے صرف دو ملاقاتیں ہیں مگر میں ان کے کام کا کئی سالوں سے باریک بینی سے جائزہ لیتا آرہا ہوں.

آئیے! آج کالے کالے پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں اور بہتے پانیوں کی سرزمین گلگت بلتستان کے ایک عظیم شخص امجد حسین عرف امجد ندیم کی داستان حیات سن لیں. شاید اس میں ہمارے لئے بہت کچھ کرنے کا راز پوشیدہ ہو.

 

امجد ندیم کا نام گلگت بلتستان کی سرزمین پر امید کی کرن کے طور پر جگمگاتا ہے۔ ان کا تعلق نپورہ گلگت سے ہے۔ وہ کبھی شاعری بھی کرتے اور شاعر کی حیثیت سے ندیم تخلص اختیار کیا، یوں امجد ندیم کے نام سے معروف ہوئے۔ ابتدائی تعلیم پرائمری سکول نپورہ اور میٹرک سرسید احمد خان ہائی سکول گلگت المعروف ہائی سکول نمبر ایک سے حاصل کی۔ ان کے والد کا نام رجب علی تھا جو پی ڈبلیو ڈی میں ملازم تھے اور 9 جولائی 1997 کو دوران ڈیوٹی الیکٹرک شاک لگنے سے وفات پا گئے۔ تب امجد ندیم شاید آٹھویں کے طالب علم تھے. والد کی وفات کے بعد امجد ندیم اور اس کی فیملی کی مشکلات شروع ہوئیں. بطور بڑے بھائی امجد ندیم کے لیے یہ وقت انتہائی کٹھن تھا کیونکہ وہ ایک کم عمر طالب علم تھے اور نو چھوٹے بہن بھائیوں کے سربراہ بن گئے۔

 

دن گزرتے گئے اور امجد ندیم کی باہمت والدہ نے انہیں تعلیم کے لیے پشاور بھیجا، جہاں انہوں نے ایف ایس سی کی اور انجینئرنگ کالج میں داخلہ لیا۔ امجد ندیم نے تعلیم کے ساتھ ساتھ کالج کے کینٹین میں ملازمت بھی کی۔ لیکن ابھی تعلیم مکمل ہونے میں کچھ ہی وقت باقی تھا کہ کسی دہشت گرد کی گولی کا نشانہ بنے اور ہمیشہ کے لیے معذور ہو گئے۔

 

یہ شاید 2007 کا سال تھا، معذوری کے بعد امجد ندیم گلگت واپس آئے اور پھر کمر کی تکلیف کی وجہ سے کراچی شفٹ ہوئے۔ وہاں انہوں نے ریڑھی لگا کر اپنے خاندان کی کفالت کی اور اپنے بہن بھائیوں کو بہترین تعلیمی اداروں میں تعلیم دلوائی۔ انہی دنوں ہاشو گروپ میں بطور سب انجینئر ملازمت کی اور ساتھ شادی بھی کی، شادی کے بعد ان کی بیٹی کی پیدائش نے ان کی زندگی میں خوشیوں کی بہار بھر دی۔ بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور اس کی پیدائش کے بعد امجد ندیم کے دن بدل گئے اور ان کی زندگی میں شاندار تبدیلی آئی، بیٹی کی عظمت، رحمت اور برکت کا امجد ندیم کو شاندار تجربہ ہوا۔

 

2013 میں امجد ندیم نے معذوروں کی بحالی اور رفاہ کے لیے عبدالستار ایدھی اور رمضان چھیپا کے ساتھ کام شروع کیا اور بھرپور محنت کی۔ 2017 میں کچھ دنوں کے لئے اپنے آبائی شہر گلگت واپس آئے، کچھ دن رہ کر واپس کراچی جانا تھا مگر انہی دنوں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن کے ساتھ ملاقات ہوئی اور حافظ حفیظ نے انہیں گلگت میں اپنا کام جاری رکھنے کی دعوت دی، یوں گلگت بلتستان میں ان کے تعاون سے معذوروں کی فلاح و بہبود کے کام شروع کیے۔ اور آگے بڑھتے گئے. وہ آج بھی حافظ حفیظ الرحمن کو اپنا محسن سمجھتے ہیں. بیٹی کی پیدائش اور حفیظ سے ملاقات، امجد ندیم کی زندگی کے ٹرننگ پوائنٹ تھے.

 

امجد ندیم نے گلگت بلتستان کے ہر ڈسٹرکٹ میں معذوروں کی تنظیمیں بنائیں اور انہیں ایک لڑی میں پرویا۔ ان کی کوششوں سے، حفیظ دور میں گلگت اسمبلی سے معذوروں کے لیے قانون سازی بھی ہوئی۔

 

2020 میں امجد ندیم فاؤنڈیشن کی بنیاد رکھی اور پورے گلگت بلتستان میں معذوروں اور یتیموں کی مدد کا سلسلہ شروع کیا۔ کرونا کے دنوں میں بہت سارے غریبوں اور مستحق لوگوں میں اشیائے خوردونوش تقسیم کیں۔ امجد ندیم فاؤنڈیشن کے ذریعے بہت سے پروجیکٹ متعارف کرائے گئے اور ایک انڈیپینڈنس لیونگ سینٹر قائم کیا گیا۔ اس سینٹر میں معذوروں اور خواتین کو کئی ہنر سکھائے جارہے ہیں۔ امجد ندیم کا یہ سینٹر اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن، ہینڈزپاکستان اور سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کی معاونت اور اشتراک سے کام کرتا ہے. اس سینٹر میں300 سے زیادہ غریب بچوں کو کمپیوٹر سکلز، بیسک ایجوکیشن، فری لانسنگ، فیزیوتھراپی، سلائی کڑھائی اور دیگر ہنر سکھائے جارہے ہیں۔

 

امجد ندیم نے اپنی ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذریعے گلگت بلتستان کے علاقے تانگیر سے غذر تک لوگوں کی مدد کی، کاروبار کے لیے چھوٹے چھوٹے قرضے دیے اور ہزاروں بیساکھیاں اور ویل چیئرز تقسیم کیں۔ وہ نہ صرف معذوروں اور غریبوں کی رفاہ کے لیے کام کرتے ہیں بلکہ مسلکی ہم آہنگی اور سماجی رواداری کے فروغ کے لیے بھی سرگرم ہیں۔ وہ اہل تشیع ہیں لیکن اہل سنت کے تبلیغی اجتماعات میں شرکت کرکے محبت اور اتحاد کا پیغام دیتے ہیں۔ چلاس تبلیغی اجتماع سے واپسی پر چکر کوٹ میں ایک جنازے پر ان سے ملاقات ہوئی تھی. ان کا یہ عمل نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے گلگت بلتستان میں مسلکی ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بنا ہے، جب وہ تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لئے چلاس گئے تو انتظامیہ اور اہلیان چلاس نے انہیں بہت عزت دی اور ان کی کاوشوں کو دل سے سراہا۔چلاس کے سفر میں ان کے یار غار عبدالرحمن بخاری بھی تھے. امجد ندیم کی کامیابی میں محسن گلگت بلتستان جنرل ڈاکٹر احسان محمود کا بھی بڑا ہاتھ ہے.

 

امجد ندیم نے معذوری کو بہانہ بناکر کمزوری دکھانے کی بجائے معذوری کو ایک موقع کے طور پر لیا اور معذوروں کی بحالی کے لیے عظیم الشان کام شروع کیے۔ وہ کمزوروں، بیماروں، معذوروں اور بے ہمت لوگوں کے لیے امید کی کرن ہیں۔ ان کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مشکلات کے باوجود عزم و حوصلے سے بھرپور زندگی گزارنا ممکن ہے۔ امجد ندیم کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ انسان اپنی محنت، لگن اور عزم سے کسی بھی چیلنج کو شکست دے سکتا ہے۔

 

امجد ندیم کی زندگی ان کے عظیم عزم، محبت، اور خدمت کی مثال ہے۔ وہ نہ صرف معذوروں کے لیے ایک رہنما ہیں بلکہ وہ معاشرتی ہم آہنگی اور بھائی چارے کے فروغ میں بھی پیش پیش ہیں۔ ان کی خدمات نہ صرف معذوروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک مثال ہیں۔ امجد ندیم کی کاوشیں ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ حقیقی کامیابی اور خوشی دوسروں کی خدمت میں ہے۔ ان کا سفر ایک مشعل راہ ہے، جو ہمیں انسانیت کی خدمت کا درس دیتا ہے اور امید کی کرن بن کر ہمارے دلوں کو روشن کرتا ہے۔

 

امجد ندیم کی داستان ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کی مشکلات اور مصائب کے باوجود، حوصلہ اور عزم کبھی کم نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو مثال بنا کر یہ ثابت کیا کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد بلند، تو کوئی بھی رکاوٹ آپ کے راستے کی دیوار نہیں بن سکتی۔ ان کی محنت، لگن اور انسانیت کی خدمت کے جذبے نے انہیں ایک حقیقی ہیرو بنا دیا ہے۔ امجد ندیم کی فاؤنڈیشن آج بھی معذوروں، غریبوں اور یتیموں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ ان کی یہ کاوشیں ہمیں مسلسل یہ پیغام دیتی ہیں کہ ہم بھی اپنی زندگی میں کچھ ایسا کریں جو دوسروں کے لیے مفید ہو، ان کی مشکلات کم کرے اور ان کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرے۔

 

امجد ندیم کی زندگی ایک جیتی جاگتی مثال ہے کہ مشکلات میں گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ ان کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کی محنت، عزم اور خدمت کے جذبے نے انہیں امید کی کرن بنا دیا ہے جو ہر دل میں روشنی بکھیرتی ہے اور ہمیں انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے۔ ان کا سفر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی کامیابی دوسروں کے لیے جینے میں ہے، اور یہی وہ سبق ہے جو امجد ندیم کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے۔

 

امجد ندیم کی شخصیت خدمت خلق کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہے۔ ان کی ہمت و عزم کی داستان ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جو تاریک راتوں میں روشنی بکھیرتا ہے۔ ان کے دل میں انسانیت کے لیے محبت کا دریا موجزن ہے، جس کی موجیں ہر محتاج اور مجبور شخص کی تشنگی بجھاتی ہیں۔ ان کا عزم فولادی، ارادے بلند اور نیتیں پاکیزہ ہیں۔ وہ ایک ایسے مسیحا ہیں جو دوسروں کی مشکلات کو اپنی خوشی میں بدلنے کا فن جانتے ہیں۔ ان کی بے لوث خدمت، ایثار اور قربانی کے جذبے کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ان کی ہر مسکراہٹ، ہر قدم اور ہر لمحہ انسانیت کے نام وقف ہے۔ امجد ندیم کی خدمات ہمیشہ تاریخ کے سنہری اوراق پر جگمگاتی رہیں گی اور ان کا نام ہمیشہ خدمت خلق کی عظیم مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہیں خدمات کے عوض حکومت گلگت بلتستان و پاکستان نے انہیں 23 مارچ 2024 کو تمغہ امتیاز سے نوازا. پاکستان میں امجد ندیم پہلا شخص ہے جو خود معذور ہیں اور معذوروں کی رفاہ اور خدمت خلق کے عوض تمغہ امتیاز سے نوازا گیا. اسے پہلے کسی معذور شخص کو تمغہ امتیاز نہیں دیا گیا. یہ تمغہ امجد کو دے کر تمغہ کا وقار بڑھایا گیا ہے ورنہ تو ہمیشہ ایسے تمغوں کی بے توقیری کی گئی ہے.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
89593

شندور فیسٹول میں چترال کی کھلاڑیوں کی الاونس میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہ کیا گیا تو پولو ایسوسی ایشن اس ایونٹ کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر مجبورہوگی۔ شہزادہ سکندر الملک

Posted on

شندور فیسٹول میں چترال کی کھلاڑیوں کی الاونس میں موجودہ مہنگائی کے تناسب سے اضافہ نہ کیا گیا تو پولو ایسوسی ایشن اس ایونٹ کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر مجبورہوگی۔ شہزادہ سکندر الملک صدر پولو ایسوسی ایشن چترال

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) پولوایسوسی ایشن چترال کے صدر شہزادہ سکندر الملک نے حکومت کو خبر دار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی اور صوبائی فنانس ڈیپارٹمنٹ نے شندور فیسٹول میں چترال کی سائیڈ پر کھیلنے والے کھلاڑیوں کی الاونس میں اضافے کی راہ میں روڑے اٹکاتے رہے تو پولو ایسوسی ایشن اس ایونٹ کا مکمل بائیکاٹ کرنے پر مجبورہوگی کیونکہ موجودہ الاونس پر کوئی کھلاڑی گھوڑ الے کر شندور نہیں جاسکے گا۔ جمعہ کے روز چترال پریس کلب میں مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شندور فیسٹول میں حصہ لینے والے کھلاڑی ایونٹ سے دس دن پہلے گھوڑا لے کر شندور پہنچ جاتے ہیں اور دو ہفتے تک اپنی جیب سے خرچ کرتے ہیں جس کی مالیت کا اندازہ مہنگائی وگرانی کے اس دورمیں ہر کوئی کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب پولو ایسوسی ایشن نے یہ مسئلہ متعلقہ فورم پر اٹھایا توانہیں یقین دہائی کرائی گئی لیکن یہ سب سرخ فیتے کی نذر ہوتی ہوئی لگ رہی ہے اور ڈیمانڈ کے مطابق الاؤنس کو تین لاکھ روپے کرنے کی منظوری میں خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی اور فنانس ڈیپارٹمنٹ لیت ولعل سے کام لیتے ہیں اور سنجیدگی کا مظاہر ہ بھی نہیں کررہے ہیں۔ شہزادہ سکندر الملک نے کہاکہ ساڑھے 10ہزار فٹ کی بلندی پر کھیلنے کے لئے کھلاڑی کو دس دن پہلے اس آب وہوا اور بلندی کے ساتھ اپنے آپ کو عادی بنانا ہوتا ہے اور شندور فیسٹول کی کھلاڑی کے لئے یہ محض تین دن کا فیسٹول نہیں بلکہ دو ہفتوں کا جان گسل کام ہے جس میں سویلین کھلاڑیوں کو بھاری اخراجات کا سامنا ہوتا ہے۔

shahzada sikandar

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89583

پاکستان کا سب سے بڑا شندور پولو فیسٹیول کا آغاز28جون سے ہوگا،علی امین گنڈاپور

Posted on

پاکستان کا سب سے بڑا شندور پولو فیسٹیول کا آغاز28جون سے ہوگا،علی امین گنڈاپور
وزیراعلی خیبرپختونخوا نے شندور پولو فیسٹیول کی تاریخ کا اعلان کردیا، مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی شندور پولو فیسٹیول کی تمام تیاریوں کو حتمی شکل دینے کی ہدایت

پشاور(چترال ٹائمزرپورٹ)وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے اپر چترال کی وادی میں منعقد ہونے والے سالانہ شندور پولو فیسٹیول کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے 28 جون سے منعقد کرنے کی منظوری دیدی۔ وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ فیسٹیول کیلئے تمام تیاریوں کو فلفور حتمی شکل دی جائے۔ انہون نے کہا کہ فیسٹیول کا انعقاد بہترین طریقے سے کیا جائے اور سیاحوں کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ مشیر سیاحت و ثقافت زاہد چن زیب نے وزیراعلی خیبرپختونخوا کی ہدایات کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کو شندور پولو فیسٹیول کیلئے کی جانیوالی تیاریوں کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ فیسٹیول کا کامیابی سے انعقاد اور آگاہی مہم ابھی سے چلائی جائے۔ انٹرنیشنل سطح پر مشہور اس فیسٹیول میں ہر سال کثیر تعداد میں سیاح شندور وادی کا رخ کرتے ہیں۔ لہذا اس کی ہر پلیٹ فارم پر مہم چلائی جائے تاکہ سیاح اپنے ٹوور انہی تاریخوں پر ترتیب دے سکیں۔

 

انہوں نے کہا کہ چترال اپر کی خوبصورت وادی شندور میں منعقد ہونے والا شندور پولو فیسٹیول اس سال 28 جون کو منعقد ہو گا جس میں چترال لوئر و چترال اپر کی ٹیمیں گلگت بلتستان کی ٹیموں سے مدمقابل ہونگی۔ خیبرپختونخوا کلچراینڈٹورازم اتھارٹی،پاک فوج، ضلعی انتظامیہ چترال لوئر وچترال اپراور چترال سکاؤٹس کے باہمی اشتراک سے منعقد ہونے والے شندور پولو فیسٹیول کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے دینے کیلئے اقدامات شروع کر دیئے گئے ہیں۔ شندور پولو فیسٹیول امسال 28 جون سے 30 جون تک منعقد ہوگا۔ فیسٹیول میں ہر سال شرکت کیلئے کثیر تعداد میں ملکی و غیر ملکی سیاح شندور اور چترال وادی کا رخ کرتے ہیں۔تین روزہ فیسٹیول میں خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی روایتی موسیقی پر مشتمل محفل موسیقی کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔گزشتہ سال فیسٹیول میں چترال کی ٹیم فاتح قرار پائی تھی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89576

گرم چشمہ لوئیرچترال میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

گرم چشمہ لوئیرچترال میں آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

گرم چشمہ (نمائندہ چترال ٹائمز )آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کی جانب سے گرم چشمہ لوئیرچترال کے لیے ایک ہائیر سیکنڈری اسکول کی منظوری دی گئی ہے. یہ جدید تعلیمی ادارہ گرم چشمہ کے مقام ایژ میں تعمیر کیا جائے گا ۔ اس سلسلے میں گزشتہ دن گرم چشمہ کے مقام پر اس سکول کے سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب کے مہمان خصوصی اس پراجیکٹ کے ڈونر فیروز غلام حسین تھے ۔انہوں نے اپنے دست مبارک سے آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول کا سنگ بنیاد رکھا۔اس پروقار تقریب میں لیفٹنٹ کرنل انجم مشتاق نے بھی اعزازی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔تقریب کی صدارت ریجنل کونسل لوئیر چترال کے پریزیڈنٹ ظفرالدین نے کی ۔

 

آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے چیف ایگزیکٹیو افیسرامتیاز مومن، ہیڈ آف ایجوکیشن آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان آئین شاہ ، جنرل منیجر گلگت بلتستان اورچترال بریگیڈئر ( ریٹائرڈ ) خوش محمد خان کے علاوہ علاقے کے عمائدین بھی اس تقریب میں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔

ابتدائی کلمات میں جنرل منیجر اے کے ای ایس پی بریگیڈئر ریٹائرڈخوش محمد خان نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ آج کا دن بہت اہم اور تاریخی دن ہے۔ کیونکہ کہ اس سرزمین پر ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھی جا رہی ہے ۔جو آنے والے وقتوں میں علاقے کی نئی نسل کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے حوالے سے ایک سنگ ِ میل ثابت ہوگا ۔

 

انہوں نے کہا کہ آغا خان ہائیرسیکنڈری اسکول گرم چشمہ کی تعمیر کے منصوبے کی باقاعدہ اجازت شہز ادی زہرا غاخان نے 25 مئی کو اپنے مختصر دورۂ چترال کے موقع پر دی۔

انہوں نے اب تک آغا خان سکولوں کے لیے عطیات دینے والے افراد خاص طور پر اس جدید سہولیات سے آراستہ اسکول کے لیے زمین عطیہ کرنے والی کمیونٹی کے جذبے کو سراہا۔انہوں نے اس کامیابی کے پیچھے کارفرما عوامل کا ذکر کرتے ہوئے چترال کی لیڈرشپ کی تعریف کی کہ انہوں نے تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے دہائیوں کی کوشش سے اپنے علاقے ایسی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے.

اس اسکول کے حوالے سے تفصیلی پرزنٹیشن دیتے ہوئے آغا خان ایجوکیشن سروس کے ہیڈ آف ایجوکیشن آئین شاہ نے کہا کہ مذکورہ ہائیر سیکنڈری اسکول میں ابتدائی تعلیم سے لے کر بارھویں جماعت تک ایک سیشن کے دوران ۱۳۰۰ سے زیادہ طلبہ پہلے شفٹ میں اور ضرورت پڑنے پر سیکنڈ شفٹ میں ۱۳۰۰ طلبہ تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ان سکولوں میں آغا خان ایجوکیشن سروس کے زیر انتظام مصروف عمل ہائی سکولوں سے فارغ التحصیل طلبہ کے علاوہ دوسرے تعلیمی اداروں سے ثانوی تعلیم کی سند حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی قابلیت کی بنیاد پر داخلہ ملے گا۔ سکول کی عمارت کی تعمیر ۲۰۲۷ کے اواخر میں مکمل ہوگی جبکہ پری پرائمری کلاسز کا اجرا پہلے سے ہوچکا ہے ۔

چیف انجینئر تنزیف شاہ نے کہاکہ عمارت کا نقشہ مجوزہ زمین کو قدرتی آفات کے تناظر میں، خوب چھان بین کرکے محفوظ قرار دینے کے بعد بنایا گیا ہے. یہ عمارت تعلیم کے جدید اور اعلیٰ معیار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بنا ئی جائے گی ۔ جس میں جدید طرز تعلیم کی سہولیات سے مزئین کمرہ جماعت، جدیدسائنسی الات سے لیس تجربہ گاہیں، کانفرس روم, کھیلوں کی سہولیات، شدید زمینی بھونچال کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور خدا نخواستہ آگ لگنے کی صورت میں بڑے نقصان سے محفوظ رہنے کی صلاحیت موجود ہوگی ۔

پروگرام کے خاص مہمان اور اس اسکول کے لیے فنڈ عطیہ کرنے والےفیروز غلام حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں خود بھی اے کے ای ایس کاپیدوار ہوں۔ میری تعلیم اے کے ای ایس تنزانیہ میں ہوئی ہے۔ آغا خان ایجوکیشن سروس کی معیاری تعلیم کے فوائد میں پوری زندگی حاصل کرتا رہا۔ آج اس ادارے کی بنیاد اس یقین کے ساتھ رکھ رہا ہوں کہ یہ تعلیمی ادارہ آگے چل کر کئی نسلوں کی زندگی میں بہتری لانے کا سبب بنے گا اور علاقے کے لوگوں کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کا موجب بنے گا۔ آپ سب لوگوں نے جس شاندار انداز میں استقبال کیا میں اس کے لئے تہہ دل سے آپ سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

لفٹنٹ کرنل انجم مشتاق نے کہا کہ آغاخان ایجوکیشن سروس کی تعلیمی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ اس ادارے کی تعلیمی خدمات کسی تعارف کے
محتاج نہیں اس کی جتنی تعریف کی جائے وہ کم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چترال کے لوگوں کا تعلیم سے لگاؤ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے علم حاصل کرنے کے اس لگاؤ کی وجہ سے چترال کے لوگ پورے ملک میں سب سے پرامن لوگ تصور کیے جاتے ہیں۔ اسی علم کی وجہ سے اس دھرتی نے بہت سارے نامور سپوت پیدا کئے ہیں جن بھی فخر کیا جاسکتا ہے۔

آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے سی ای او امتیاز مومن نے کہا کہ یہ اسکول ہمارے بچوں کی زندگیوں کو بدلنے میں اہم اکردار ادا کرے گا ۔ انہوں نے فیروز غلام حسین اور ان کی اہلیہ کا شکریہ ادا کیا اور ان کی فیاضانہ کردار کو خراج ِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اداروں کو بنانا کسی فرد یا ایک ادارے کی بس کی بات نہیں ۔ اس کے لیے کمیونٹی کے تمام اسٹیک ہولڈرز متحد ہوکے کوشش کریں تو بات بنتی ہے ۔

 

تقریب کے آخر میں اسماعیلی ریجنل کونسل کے صدر ظفر الدین نے چترال کی ترقی میں ان تعلیمی اداروں کی اہمیت کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی ، ڈونرز اور آغا خان ایجوکیشن سروس کا شکریہ ادا کیا ۔تقریب میں مختلف مکاتب فکرکے افراد کثیر تعداد میں شرکت کی۔

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 14

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 13

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 17

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 5

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 11 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 7 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 6 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 4 chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 3

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 1

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 10

chitraltimes akhss garamchashma earth breaking ceremony akesp chitral 16

chitraltimes akesp aga khan higher secondary school garamchashma

Posted in تازہ ترین, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89491

شندور فیسٹول کی تیاریوں کے سلسلے میں کمانڈنٹ چترال سکاوٹس اور چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ودیگر کا انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے شندور پولو گراونڈ کا دورہ

شندور فیسٹول کی تیاریوں کے سلسلے میں کمانڈنٹ چترال سکاوٹس اور چترال کے دونوں اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز ودیگر کا انتظامات کا جائزہ لینے کیلئے شندور پولو گراونڈ کا دورہ

اپر چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) شندور فیسٹول 2024 کے انتظامات کا جائزہ لینے کے سلسلے میں اج کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل بلال جاوید، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین ، ڈپٹی کمشنر لوئر چترال محمد عمران خان ، ونگ کمانڈر 144 ونگ مستوج لیفٹننٹ کرنل محمد نور، صدر پولو ایسوسیشن چترال شہزادہ سکندرالملک اور ویلج کونسل سور لاسپور کے چیرمین نے شندور پولو گراؤنڈ کا دورہ کیا۔

ہر سال کی طرح اس سال بھی جشن شندور کو شایان شان طریقے سے منانے اور شائقین پولو کو ہرممکن سہولیات پہنچانے کے لئے پولو گراؤنڈ شندور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ۔

انہوں نے باہمی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اس سال شندور کی خوبصورتی کا خاص خیال رکھا جائے گا اور گراؤنڈ کے اس پاس اور پہاڑوں پر ہر قسم کی خطاطی، پینٹنگ یا غیر ضروری اشتہار وغیرہ لگانے پر مکمل پابندی ہوگی اور لکھنے یا اشتہار وغیرہ لگانے کی صورت میں اسے فوری طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ اس حوالے سے بہت جلد ڈپٹی کمشنر اپر چترال دفعہ 144نافذ کرے گا۔

یہ طے ہوا کہ سویلین تماشائیوں کے لئے اس سال خصوصی سہولیات پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی ۔یہ بھی طے ہوا کہ اس سال پولیس کیمپنگ والا سائڈ تماشائیوں کے رہنے کے لئے ریزرو کیا جائے گا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ اس سال جشن شندور کو منعقد کرتے وقت مقامی لوگوں کے روایات اور اقدار کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ پینے کے صاف پانی کی فراہمی سمیت ، پولو گراؤنڈ کی تزئین و آرائش اور تماشائیوں کے بیٹھنے کے لئے سیڑھیوں پر کام جلد از جلد مکمل کیا جائے گا۔یادرہے کہ جشن شندور اس سال 27 جون سے 29جون کے درمیان منایا جارہاہے، جبکہ اس سے پہلے یہ ایونٹ 7 سے 9 جولائی کے درمیان منایا جاتا رہاہے، گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی اس فیسٹول کی میزبانی چترال کے دونوں اضلاع کی انتطامیہ کرینگے۔

chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 2 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 3 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 4 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 5 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 6 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 7 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 8 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 9 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 1 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 12 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 13 chitraltimes comdt DCs upper and lower chittral visits shahndur polo ground 14

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
89471

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

مشکلات میں کیا کرنا چاہیے ۔ خاطرات : امیرجان حقانی

زندگی میں آزمائشیں اور مشکلات آتی ہیں اور مالی مسائل بھی انہی آزمائشوں میں سے ایک ہیں۔ ایسے حالات میں جب انسان مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہو، تو اس کے ذہنی اور جسمانی صحت پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آج کی تحریر میں ان افراد کو اطمینان، سکون، اور حوصلہ فراہم کرنا ہے جو ان حالات سے گزر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چند معروضات عمومی حوالے سے بھی عرض کرنی ہیں تاکہ تحریر سے استفادہ عامہ ممکن ہو. دینی اور دنیاوی نقطہ نظر سے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کس طرح ہم ان مشکلات سے نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔

 

دینی نقطہ نظر

دین اسلام بھی انسان کے ہر معاملے میں مکمل رہنمائی کرتا ہے. قرآن کریم کی سینکڑوں آیات، آپ صل اللہ علیہ والہ وسلم کے فرامین اور سیرت اس حوالے سے انسان کو بہت زیادہ رہنمائی اور موٹیویشن دیتی ہیں. تاہم ایک دو پوائنٹس دینی نکتہ نظر سے عرض کرتے ہیں.

 

1.صبر اور توکل:

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر صبر کرنے کی تاکید کی ہے۔ سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَعِیۡنُوۡا بِالصَّبۡرِ وَ الصَّلٰوۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۵۳﴾
ترجمہ”اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”
صبر اور نماز کے ذریعے ہم اللہ کی مدد حاصل کر سکتے ہیں اور دل کو سکون پہنچا سکتے ہیں۔ یہ مجرب اعمال ہیں. اسی طرح توکل بھی ہے.

 

2.شکر گزاری:
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا ہمیں ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ اگرچہ مالی مشکلات ہیں، لیکن ہماری زندگی میں بہت سی دوسری نعمتیں بھی ہیں جن کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ

ترجمہ “اور اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا۔” (سورۃ ابراہیم: 7).

 

3.دعا اور استغفار:

دعا ایک ایسی عبادت یا ایکٹیویٹی ہے جس کی کیفیات ہر انسان کے لیے علیحدہ ہے. دعا کرنا اور اللہ سے مدد طلب کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ استغفار کے ذریعے ہم اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کی رحمت کے طلبگار ہوتے ہیں۔ دعا اور استغفار سے دل کو سکون اور اطمینان ملتا ہے۔

 

دنیاوی نقطہ نظر

مشکلات سے نمٹنے کے لئے دین کیساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی بڑی رہنمائی ملتی ہیں. جو باتیں عموماً دنیاوی اعتبار سے کہی جاتیں ہیں وہ بھی دینی نقطہ نظر ہی ہوتا ہے. دین اسلام نے ان تمام ہدایات و امور کو سمو دیا ہے تاہم، ہم افہام و تفہیم کی آسانی کے لیے دنیاوی عنوان سے اس کا ذکر کر دیتے ہیں. چند اہم پوائنٹ ملاحظہ کیجئے.

 

1.خود اعتمادی اور مثبت سوچ:

دنیاوی اعتبار سے، خود اعتمادی اور مثبت سوچ اپنانا ضروری ہے۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ رکھیں اور یہ یقین رکھیں کہ آپ ہر مشکل کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ ہر دن کو ایک نئے موقع کے طور پر دیکھیں اور اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت کریں۔

 

2.مدد قبول کرنا:

جب ہم بالخصوص مالی مشکلات و مسائل کا سامنا کرتے ہیں تو بعض اوقات ہم مدد لینے سے جھجکتے ہیں، لیکن مشکل حالات میں مدد قبول کرنا ضروری ہے۔ دوستوں، رشتہ داروں یا فلاحی اداروں سے مدد لیں۔ یہ یاد رکھیں کہ مدد طلب کرنا کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ ایک سمجھداری کا عمل ہے۔ بہت دفعہ رریاستی سسٹم میں بھی مدد کے کئی پہلو موجود ہوتے ہیں جو ہمیں معلوم نہیں ہوتے.
عمومی طور پر ایک مسئلہ پیش آتا ہے کہ لوگ مدد کرنے یا قرضہ حسنہ دینے سے کتراتے ہیں، وہ الگ بحث ہے. سردست یہ دیکھنا کہ مشکل اوقات میں دیگر احباب سے مدد طلب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے.

 

3.نئے مواقع کی تلاش:

عموماً ہم جب بھی مالی مشکلات کا سامنا کرتے ہیں تو ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتے ہیں اور مزید خود کو کمزور اور کسیل بنا دیتے ہیں.
ایسے میں مالی مشکلات کا سامنا کرتے وقت نئے مواقع کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ ہمیں چاہیے کہ کوئی نیا ہنر سیکھیں، کوئی نیا کاروبار شروع کریں یا موجودہ کام کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ دنیاوی اعتبار سے، جدت اور محنت ہی ہمیں کامیابی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔

عمومی طور پر ہم جب بھی مشکلات میں پھنسے، یہ مشکلات کسی بھی نوعیت کے ہوسکتے ہیں. مالی ہونا ضروری نہیں. ایسے حالات میں ہمیں چند باتوں کا خصوصیت سے خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان حالات و مشکلات کا مقابلہ کرسکیں.

 

1.مثبت سوچ و رویہ اپنائیں:

منفی ترین حالات میں بھی ہمیشہ مثبت پہلو دیکھنے کی کوشش کریں۔ ہر مشکل میں سیکھنے کا موقع تلاش کریں۔ ایسے حالات میں رویوں کو مزید مثبت بنانے کی اشد ضرورت ہوتی ہے.

 

2.اہداف مقرر کریں:

واضح اور قابلِ حصول اہداف طے کریں اور انہیں حاصل کرنے کے لیے منصوبہ بندی کریں۔ یہ آپ کو سمت فراہم کریں گے اور آپ کی محنت کو بامقصد بنائیں گے۔ اہداف طے کیے بغیر زندگی بہت مشکل اور بے ڈھنگ ہوجاتی ہے. میں اپنے طلبہ کو اہداف کے تعین کے حوالے سے باقاعدہ لیکچر دیتا ہوں. یہ صراط مستقیم ہے جو ہر انسان کی الگ ہے جس کا ہر ایک کو الگ الگ جاننا ضروری ہے.

 

3.استقامت برقرار رکھیں:

کامیابی کے حصول کے لیے جان جوکھوں میں ڈالنا پڑتا ہے. کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی۔ کامیابی کے حصول کے لئے مستقل مزاجی اور صبر کے ساتھ کام جاری رکھیں۔ہزاروں عالمی و کامیاب شخصیات میں استقامت کامن صفت ہے. اللہ نے بھی اسی کا حکم دیا ہے.

 

4.خود پر اعتماد رکھیں:

خود اعتمادی سے ہی آپ مشکلات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ یقین رکھیں کہ آپ کے پاس مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیلنٹ موجود ہے۔ آپ مسائل کو ریزہ ریزہ کرسکتے ہیں. بس اس کے لئے خود پر، اپنے سکلز اور علم پر اعتماد کی ضرورت ہے.

 

5.حوصلہ افزائی حاصل کریں:

ہم عمومی طور پر حوصلہ شکن لوگ ہیں. ہماری ناکامیوں کا ایک بڑا سبب حوصلہ شکنی ہے. ہم ذرا اوٹ اف بکس سوچنے والوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں. معاشرتی بیریر کھڑے کر دیتے ہیں، اور جی بھر کر حوصلہ شکنی کرتے ہیں. تاہم مشکل حالات میں ہمیں چاہیے کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں جو ہماری کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، ڈھارس بندھاتے ہیں اور ہمیں مثبت توانائی دیتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے غنیمت ہوتے ہیں. انہیں کسی صورت ضائع نہیں کرنا چاہیے. معلوم کیجئے. رسول اللہ بھی اپنے اصحاب کو مثبت توانی دیتے رہتے تھے. کاش یہ طرز عمل ہمیں سمجھ آجائے.

 

6.تعلیم اور مہارت میں اضافہ کریں:

اپنی تعلیم اور اپنی مہارتوں میں اضافہ کرنے سے بھی انسان ایزی فیل کرتا ہے بلکہ دوسروں سے نمایاں ہوجاتا ہے. علم اور مہارتیں بڑھانے سے آپ مشکلات کا بہتر سامنا کر سکتے ہیں اور مزید مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ دور ہی تعلیم و سکلز میں مہارتوں اور بڑھاوے کا ہے. اس سے انسان میں کنفیڈینس بھی آجاتا ہے.

 

7. خود کو آرام دیں:

بعض دفعہ ہم مشکلات میں مزید الجھ جاتے ہیں. ڈپریشن اور اینگزائٹی کا شکار ہوجاتے ہیں. خود کو تکلیف دینے لگ جاتے ہیں. اس سے پرہیز لازم ہے. جسمانی اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالیں۔ ورزش میں مشغول رہیں۔ خوب نیند کریں اور گھر والوں کو بھی ٹائم دیں اور کھلیں کودیں. گپیں ماریں. چیخیں چلائیں اور ہنسیں ہنسائیں. غرض جس شکل میں بھی انجوائے کرنے کی گنجائش ہو کرگزر جائیں.

 

8.منصوبہ بندی اور تنظیم:

مشکلات میں بالخصوص اپنے وقت اور وسائل کی بہتر منصوبہ بندی کریں. مسائل اور وسائل کا باریک بینی سے جائزہ لیں۔ ترجیحات کا تعین کریں اور اہم کاموں پر توجہ دیں۔ غیر ضروری امور میں الجھنے اور پھنسنے سے قطعی گریز کریں.

 

9. مثبت عادات اپنائیں:

انسان کو ہر اعتبار سے مضبوط بننے کے لئے کچھ مستقل عادات اپنانی ہوتی ہیں. ان سے بہت کچھ اچھا محسوس کیا جاسکتا ہے. روزانہ کی مثبت عادات، جیسے کہ مطالعہ، ورزش، اور شکرگزاری، گھر کے چھوٹے موٹے کام، آپ کو مضبوط اور مثبت بناتی ہیں۔ اور بہت ساری عادات حسب ضرورت اپنائی جا سکتیں ہیں.

 

10.ماضی سے سیکھیں:

یاد ماضی کو عذاب بنانے کے بجائے اسی ماضی کی ناکامیوں اور کامیابیوں سے سبق حاصل کریں اور مستقبل میں بہتر فیصلے کرنے کی کوشش کریں۔ بعض اوقات ماضی کی غلطیاں اور کامیابیاں عظیم استاد بنتی ہیں. ہمیں بڑے نقصانات سے بچاتی ہیں اور کامیابیوں کی طرف گامزن کرتی ہیں.

تلکہ عشرۃ کاملۃ، فی الحال یہی دس نکات کافی ہیں.

 

مشکلات مالی ہوں یا کوئی بھی، زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ان سے نبرد آزما ہونے کا طریقہ ہمارے اختیار میں ہے۔ دینی اور دنیاوی نقطہ نظر کو اپنا کر ہم نہ صرف اپنی مالی مشکلات سے نکل سکتے ہیں بلکہ ذہنی اور جسمانی صحت کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ صبر، شکرو ذکر، دعا، اور استغفار سے دل کو سکون ملتا ہے، جبکہ خود اعتمادی، مثبت سوچ، اور نئے مواقع کی تلاش سے ہم دنیاوی اعتبار سے بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہمیں ہر مشکل سے نکالے۔ آمین۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89442

اسماعیلی جماعت کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم اغاخان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ آغاخان  کی اپر چترال آمد

اسماعیلی جماعت کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم اغاخان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ آغاخان  کی اپر چترال آمد

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز )اسماعیلی جماعت کے روحانی پیشوا ہزہائینس پرنس کریم اغاخان کی صاحبزادی شہزادی زہرہ آغاخان چترال اپر اور لوئیر کے دورے پر آج اپر چترال کے ہیڈ کوارٹر بونی پہنچ گئی ہیں، شہزادی زہرا اغاخان بونی ہیلی پیڈ پہنچنے پر ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عرفان الدین نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر ڈسٹرکٹ پولیس افسر اپر چترال اور ضلعی انتظامیہ کی دیگر افسران اور علاقے کے عمائدین بھی موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر نے معزز مہمان کو اپر چترال امد پر خوش آمدید کہا اور ضلعی انتظامیہ اپر چترال کی جانب سے ان کو سوئنیر پیش کیا۔ڈپٹی کمشنر نے شہزادی زہرا کو concept paper حوالہ کیا اور چترال کی ترقی میں اغاخان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے کردار کو سراہا۔
کنسپٹ پیپر میں چترال میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹس کی تعمیر اور اغاخان یونیورسٹی سنٹرل ایشیاء جو کہ کرغزستان میں ہے کا ایک شاخ اپر چترال میں کھولنے جیسے اہم نکات شامل تھے۔

کنسپٹ پیپر میں تفصیلی طور پر لکھا گیا ہے کہ چترال میں تقریباً 30 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے جس سے نہ صرف چترال بلکہ پورے ملک کو فائدہ ہوگا۔ بجلی گھر کے قیام سے علاقے میں صنعت کے شعبے میں ترقی ہوگی اور تعلیم یافتہ اور ہنر مند نوجوانون کے لئے روزگار کے مواقع پیدا ہونگے۔

چترال کے نوجوان علم حاصل کرنے کے متقاضی ہیں اور یہاں سنٹرل ایشیاء یونیورسٹی کے طرز پر یونیورسٹی کے قیام سے علاقے کے نوجوانوں کو دوردراز جگہوں میں جاکر تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اپنے علاقے میں معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع میسر ہوگا۔

شہزادی زہرا اغاخان بونی میڈیکل سنٹر کا مختصر دورہ کیا اور وہان سے لوئر چترال کے لئے روانہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر نے دیگر افسروں کے ہمراہ شہزادی زہرا اغاخان کو الوداع کیا اور مستقبل کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 5 chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 4 chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 3 chitraltimes princes zahra aga khan arrived chitral upper 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged , ,
89362

وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

Posted on

وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم شہبازشریف نے گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم سیکرٹریٹ سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی میں 4 وفاقی وزراء سمیت 3 صوبائی وزیر بھی شامل ہیں، صوبائی وزراء انجینئرمحمد انور، انجینئر اسماعیل، فتح اللہ خان اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان بھی کمیٹی کے ممبر ہیں۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ امید ہے کمیٹی کے ذریعے بہت جلد گلگت بلتستان کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے، کمیٹی کا مقصد گلگت بلتستان کے مالی معاملات کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا، دیامر بھاشا ڈیم سے گلگت بلتستان کو خالص ہائیڈل منافع کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنا شامل ہے۔کمیٹی گلگت بلتستان میں چار اضافی اضلاع (تاتل، تانگیر، روندو، گوپس/یٰسین) کے قیام کی فزیبلٹی کا جائزہ لینے اور قابل عمل سفارشات فراہم کرنے سمیت گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی وضع کرے گی اور عملدرآمد کا پلان فراہم کرے گی۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کا مقصد گندم کی سبسڈی کے لیے ایک طویل المدتی پائیدار منصوبے پر غور کرنا اور تجویز کرنا جس میں گندم کی قیمت کو معقول بنانا اور ٹارگٹڈ سبسڈی شامل ہو سکتی ہے۔نوٹی فکیشن کے مطابق کمیٹی 30 دنوں کے اندر اپنی سفارشات وزیر اعظم پاکستان کو پیش کرے گی، وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کمیٹی کو سیکرٹریل معاونت فراہم کرے گی۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
89318

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی 

پرنسز زہرہ کا دورہ گلگت بلتستان اور کچھ تجاویز- خاطرات : امیرجان حقانی

گلگت بلتستان، پاکستان کا ایک خوبصورت مگر انتہائی بھرپور چیلنجز سے مملو خطہ ہے، اس خطے کی چیلنجز میں بالخصوص امن و امان، سماجی ہم آہنگی، تعلیم و صحت اور روزگار کے مسائل شامل ہیں. اس کی وادیاں اور پہاڑیاں قدرت کے حسین مناظر کا نمونہ ہیں۔ اس خطے کے عوام نے ہمیشہ اپنی محنت، خلوص اور جدوجہد سے دنیا میں اپنی شناخت بنائی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم تعلیم اور صحت کے میدان میں بالخصوص پورے گلگت بلتستان میں انقلاب برپا کریں، تاکہ گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بھی بن جائے اور ترقی یافتہ معاشرہ بھی. یہ انقلاب کچھ مخصوص شہروں یا اضلاع و کمیونٹیز تک محدود نہ ہو بلکہ گاشو پہوٹ سے لے کر شندور تک، داریل کھنبری سے لے کر استور کالا پانی اور بلتستان چھوربٹ تک یہ انقلاب حقیقی طور پر برپا ہو، اس سے سنی، شیعہ، نوربخشی، اسماعیلی اور  دیگر سب برابر مستفید ہوں. اور اس میں آغا خان فاؤنڈیشن کا کردار کلیدی ہو سکتا ہے۔کلیدی کردار کے لئے عزم اور خلوص کی ضرورت ہوتی ہے جس کو پیدا کرنا بھی ایک مستقل چیلنج ہے اور حوصلہ درکار ہے. دل و دماغ کو بہت بڑا کرنا ہوگا. اتنا بڑا کہ سب سمو جائیں.
پرنس کریم آغا خان کی بیٹی پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد نے اس خطے کے لوگوں میں نئی امیدیں اور جذبہ پیدا کیا ہے۔ ان کے دورے نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آغا خان اور آغا خان فاؤنڈیشن ہمیشہ سے ہی یہاں کے عوام کی بھلائی کے لئے سرگرم ہیں اور رہیں گے۔ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں تعلیم، صحت اور دیگر اہم شعبوں میں شاندار کام کیے ہیں، اور یہ بدیہی حقیقت ہے کہ امامتی اداروں، آغاخان فاونڈیشن اور اس کے ذیلی یونٹس  سے زیادہ تر اسماعیلی برادری کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ دیگر کمیونٹیز کے لوگ جزوی طور فائدہ حاصل کر پا رہے ہیں. دیامر مکمل محروم ہے.
ہم سب جانتے ہیں کہ تعلیم مستقبل کی کنجی ہے. ضلع دیامر و استور اور بلتستان کے کچھ ایریاز میں بالخصوص تعلیم کے میدان میں بہت زیادہ بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ یہاں کے بچوں اور نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے تجربات اور وسائل کی مدد سے یہاں تعلیمی اداروں کی حالت بہتر بنائی جاسکتی ہےاس کے لیے کچھ مختصر تجاویز پیش خدمت ہیں جو بالخصوص پرنسز زہرہ اور محمد علی تک پہنچائی جاسکتی ہیں۔
1.معیاری تعلیمی اداروں کا قیام:
دیامر و استور اور دیگر نیڈی ایریاز  میں جدید سہولیات سے آراستہ تعلیمی اداروں کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ایسے ادارے جو نہ صرف جدید تعلیمی معیار کو بلند کریں بلکہ بچوں کی شخصیت سازی میں بھی اہم کردار ادا کریں اور انہیں دور جدید کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے تیار کریں۔
2.اساتذہ کی تربیت:
معیاری تعلیم کے لئے معیاری اساتذہ ضروری ہیں۔ آغا خان فاؤنڈیشن اساتذہ کی تربیت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کرے تاکہ وہ جدید تدریسی طریقوں سے واقف ہو سکیں۔ یہ بات ذہن میں رہے کہ پی ڈی سی این گلگت کے زیر انتظام، پہلے ہی اساتذۂ کی تربیت کا انتظام چل رہا ہے، تاہم میرا خصوصی مدعا یہ ہے کہ دیامر ڈویژن اور دیگر نیڈی علاقوں کے اساتذہ کو ترجیحی بنیادوں پر فوکس کیا جائے.
3.تعلیم کی رسائی:
ان علاقوں کے ہر بچے تک تعلیم کی رسائی کو ممکن بنانا ہے۔ اس کے لئے خصوصی تعلیمی پروگرامز کا آغاز کیا جائے جن کے ذریعے دور دراز علاقوں میں بھی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ پرنسز زہرہ اگر اس نکتہ کو فوکس کرکے آغاخان یونیورسٹی اور فاونڈیشن کو ذمہ داری دے تو ایسا خصوصی نظم یعنی کوئی پروجیکٹ ترتیب دیا جاسکتا ہے کہ تعلیم چل کر ہی ہر بچے کی دہلیز تک پہنچے. کاش! اس بات کو کوئی سمجھے. یہ پروجیکٹ حکومت، کسی این جی اور یا لوکل کمیونٹیز کیساتھ مل کر بھی وضع کیا جاسکتا ہے.یہ بہت اہم بات ہے. دیہی علاقوں کے بچے تعلیم اور تعلیم ان سے محروم ہے. گلگت بلتستان میں بیلنس ترقی کے لئے یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں.
ان دو تین تجاویز کے علاوہ بھی آغاخان یونیورسٹی اور آغاخان فاونڈیشن لازمی پروجیکٹ تیار کرسکتے ہیں. ان کے پاس تعلیمی ماہرین کی بڑی ٹیمیں موجود ہیں. وہ جانتے ہیں کہ  نیڈی رولر ایریاز میں کام کیسے کیا جاسکتا ہے. تعلیم ان تک کیسے پہنچائی جاسکتی ہے.
تعلیم کیساتھ صحت بھی بہت ضروری ہے. ایک صحت مند معاشرہ ہی ایک ترقی یافتہ معاشرہ بن سکتا ہے. بغیر صحت کے معاشرے اور قومیں زوال پذیری کا شکار ہوتی ہیں.
دیامر ڈویژن اور کچھ نیڈی رولر ایریاز میں صحت کے میدان میں بھی بہتری کی ضرورت ہے. ان علاقوں کے عوام کو معیاری صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہم سب کا فرض ہے۔ آغا خان ہسپتال اور فاؤنڈیشن یہاں بھی اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ آغاخان فاونڈیشن کے اسکردو، ہنزہ، گلگت اور غذر میں بہترین ہسپتال ہیں. ایسے کچھ مزید اعلی شان ہسپتالوں کی ضرورت دیامر اور استور میں بھی ہے.شعبہ صحت کے حوالے سے بھی کچھ تجاویز ملاحظہ ہوں.
1. جدید طبی مراکز کا قیام:
ضلع دیامر و استور میں جدید طبی مراکز کا قیام ضروری ہے جہاں عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر ہوں۔ دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے اور شاہراہ قراقرم کا بڑا حصہ یہی سے گَزرتا ہے. اکثر مسافروں کے حادثات بھی ہوتے ہیں. اس حوالے سے بھی چلاس میں ایک جدید ہسپتال کی ضرورت ہے. اکلوتا چلاس سرکاری ہسپتال چار لاکھ سے زائد آبادی اور ہزاروں مسافروں اور زخمیوں کا بوجھ برداشت کرنے سے قاصر ہے.
2.صحت کی تعلیم:
صحت کے بارے میں عوام میں آگاہی پیدا کرنا اہم ہے۔ اس کے لئے خصوصی مہمات چلائی جائیں جن میں عوام کو صحت مند طرز زندگی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جس طرح لٹریسی ریٹ دیامر میں کم ہے اسی طرح صحت کے حوالے سے بھی بنیادی معلومات سے لوگ نابلد ہیں. یہ بھی ایک خطرناک چیلنج ہے جو پورے گلگت بلتستان کو ڈسٹرب کررہا ہے.
3.ماں اور بچے کی صحت:
ماں اور بچے کی صحت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ آغا خان فاؤنڈیشن کے ذریعے ماں اور بچے کی صحت کے مراکز قائم کئے جائیں جہاں ماں اور بچے کو مکمل طبی سہولیات فراہم ہوں۔ افسوسناک امر یہ ہے زچہ بچہ کی تعلیمی آگاہی ان علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہے. بلکہ عیب سمجھا جاتا ہے. دیامر اور استور کی روایات کو مدنظر رکھ شاندار آگاہی دی جاسکتی ہے.
تعلیم اور صحت کے علاوہ دیگر اہم ایریاز بھی بالخصوص دیامر ڈویژن میں کام کی ضرورت ہے.
1.روزگار کے مواقع:
ان علاقوں میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے آغا خان فاؤنڈیشن مقامی صنعتوں کو فروغ دے سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف معیشت مستحکم ہو گی بلکہ عوام کو بھی روزگار ملے گا۔مائیکرو فائنانس اور مائیکرو بزنس کی دسیوں صورتیں ترتیب دی جاسکتی ہیں.
2.خواتین کی ترقی:
ان علاقوں کی خواتین کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ ان کے لئے ہنر سکھانے کے مراکز قائم کئے جائیں تاکہ وہ خود مختار ہو سکیں۔ اس میں بھی مقامی لوگوں کی روایات و ثقافت کو مدنظر رکھ کر بڑے پیمانے پر کام کرنے کہ گنجائش اور ضرورت موجود ہے.
3.ماحولیات کی حفاظت:
ان علاقوں میں ماحولیات کی حفاظت کے لئے خصوصی پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ قدرتی وسائل کو محفوظ رکھا جا سکے۔ دیامر اور استور قدرتی وسائل کے خزانے ہیں. ان کی حفاظت کے لئے ہر سطح پر کام کیا جاسکتا ہے.
یہ ماننے میں قطعاً حرج نہیں کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے ضلع ہنزہ اور غذر میں جو خدمات انجام دی ہیں، وہ قابل تحسین ہیں۔لیکن ایک بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ پرنس کریم آغا خان  ایک عالمی شخصیت ہیں. عالمی شخصیت ہونے کے ناطے، آغا خان کے وژن اور خدمات کو صرف ایک کمیونٹی تک محدود رکھنا مناسب نہیں۔ یہ بات مقامی لوگوں اور آغاخان کے چاہنے والوں کو ضرور بری لگے گی بلکہ وہ فوراً تردید کریں گے اور دیگر کمیونٹیز کے لیے کی جانے والی خدمات گنوانا شروع کریں گے مگر بہرحال یہ بھی زمینی حقیقت ہی ہے کہ گلگت بلتستان و چترال میں آغا خان اور آغاخان فاونڈیشن کو محدود کیا گیا ہے. اب تک عملا یہی ہورہا ہے.جس سے انکار کی گنجائش موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے دلائل گھڑنے کی ضرورت ہے. اب تک جو ہوا سو ہوا.
گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع، خصوصاً دیامر و استور، کو بھی ان خدمات سے مستفید ہونے کا پورا حق ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پرنسز زہرہ کی گلگت بلتستان آمد، ان علاقوں کے لوگوں کے لئے نئے مواقع اور ترقی کے دروازے کھولے گی۔ لوگ بدلے ہیں. حالات بدلے ہیں. خیالات بدلے ہیں. اب وہ سوچ اور خیالات نہیں رہے جن کا کبھی شکوہ کیا جاسکتا تھا. اب ان علاقوں میں کام نہ کرنے کا کوئی بہانہ یا دلیل معقول نہیں کہلائی گی.
آئیے، ہم سب مل کر ایک روشن مستقبل کی بنیاد رکھیں جہاں گلگت بلتستان کے ہر بچے کو معیاری تعلیم، مناسب روزگار اور صحت کی بہترین سہولیات میسر ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لئے مشترکہ طور پر کوششیں کرنی ہوں گی۔ ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کریں جہاں ہر فرد کو ترقی کے برابر مواقع ملیں اور ہم سب مل کر اپنی آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر دنیا تخلیق کریں۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
89302

طلبہ و طالبات کی سیکورٹی اور عملی اقدامات – خاطرات :امیرجان حقانی

طلبہ و طالبات کی سیکورٹی اور عملی اقدامات – خاطرات :امیرجان حقانی

آج دن بھر سوشل میڈیا میں یہ خبر گردش کرتی رہے ہے کہ ایک بدبخت شخص گورنمنٹ گرلز ہائی سکول جوٹیال گلگت کی چھوٹی بڑی طالبات کو ہراساں کرتا رہتا تھا. طالبات نے اسکول جانا چھوڑ دیا تھا. یوں سکول انتظامیہ نے والدین سے رجوع کیا اور والدین اور جوٹیال یوتھ نے اس کمبخت کو پکڑ کر خوب پھینٹا لگا دیا اور پولیس کے حوالے کر دیا. کاش ہر سکول کے سامنے بیٹھ کر ایسی حرکتیں کرنے والوں کو یوں پھینٹا لگایاجاتا.
جوٹیال گرلز ہائی سکول گلگت بلتستان کے  طالبات کے سرکاری سکولز میں سب سے بہتر اور معیاری سکول ہے. میں خود گزشتہ کئی سالوں سے اس اسکول کی کارگردگی کو غور سے دیکھتا رہا ہوں. شاندار صفائی اور تعلیمی نظام ہے.
یہ ایک نہایت افسوسناک اور قابل مذمت واقعہ ہے جس میں ایک بدبخت، رذیل اور کمینہ آدمی نے گرلز ہائی سکول جوٹیال کی معصوم طالبات کو روزانہ ہراساں کر کے ان کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا تھا۔
اس خبر کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے. گرلز ہائی سکول ایف سی این اے کے ساتھ ہی ہے. یہ فوجی علاقہ ہے جو انتہائی حساس اور سینٹرل ایریا ہے. جگہ جگہ کیمرے لگے ہونگے. درست نہج پر اس کی پوری تحقیقات ہونی چاہیے.
یہ بدبخت نہ صرف اخلاقی پستی کا شکار ہے بلکہ معاشرتی امن اور سکون کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا تھا۔ گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں ایسے افراد کے باعث بچیاں خوف و ہراس میں مبتلا ہو کر اپنی تعلیم جاری رکھنے سے قاصر ہو جاتی ہیں جو نہایت تشویشناک امر ہے۔ گلگت بلتستان کے کئی ایریاز میں ایسے بدبخت پائے جاتے ہیں.
جوٹیال یوتھ اور بچیوں کے والدین کی جرات مندی اور اقدام قابل تحسین ہے کہ انہوں نے اس شخص کو پکڑ کر اس کے ناپاک ارادوں کا قلع قمع کیا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہ ایک بہترین مثال ہے کہ جب برائی کو دیکھ کر خاموشی اختیار کرنے کی بجائے، ہمیں مل کر اس کا مقابلہ کرنا چاہیے. حدیث میں حکم بھی آیا ہے کہ اگر برائی کا خاتمہ ہاتھ سے ہوسکتا ہے تو کرنے میں دیر نہیں لگانا چاہیے۔ جوٹیالین نے حدیث پر عمل کرکے اجر عظیم کمایا ہے. جہاں جہاں ایسی صورتحال ہو وہاں وہاں اہل محلہ و علاقہ اور والدین کو مل کر ایسا اقدام کرنا چاہیے. تاکہ طلبہ و طالبات بھی محفوظ ہوں اور ثواب عظیم بھی ملے.
تاہم یاد رکھا جائے یہاں صرف محلہ والوں یا والدین کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ہماری انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے افراد کی جڑ سے بیخ کنی کی جا سکے۔ پولیس کو چاہیے اس واقعہ کو بطور کیس اسٹڈی لیں اور تمام تعلیمی اداروں کے دائیں بائیں پائے جانے والے  ایسے غنڈوں کا ڈیٹا جمع کریں اور ان کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے کوئی میکنیزم تیار کریں. تاکہ ایسے افراد کو سخت سے سخت سزا دی جاسکے اور دوسروں کے لئے عبرت کا نشان بن سکے۔

انتظامیہ کو بھی سکولوں اور ان کے اطراف میں سیکورٹی کے انتظامات کو بہتر بنانا چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات دوبارہ نہ ہوں۔
سکول کے طلبہ و طالبات کی حفاظت اور تعلیم ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونی چاہیے۔ ایسے افراد کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے سے ہی ہم اپنے معاشرے کو محفوظ بنا سکتے ہیں اور طلبہ و طالبات کو ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ انتظامیہ، حساس ادارے، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اس واقعہ کو سنجیدگی سے لے کر فوری اور مؤثر کارروائی کریں گے۔
سماجی اور معاشرتی طور پر بھی سب کو ملکر ایسے گندے اور غلیظ کیریکٹرز کے خاتمے کے لئے علمی، شعوری اور عملی اقدامات کرنے چاہیے.
تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کی سیکیورٹی اور انہیں ہراساں کرنے والوں سے بچاؤ کے لئے کچھ لانگ ٹرم تجاویز عرض کیے دیتا ہوں. ان پر عمل کیا جائے تو صورتحال مثالی بن سکتی ہے. یہ کام ریاست کے تمام ادارے اور سماجی و عوامی معاونت و اشتراک سے ہوسکتے ہیں.
1. تعلیمی ادارے کی حدود میں سیکیورٹی انتظامات:
 تعلیمی ادارے کی چار دیواری اور داخلی و خارجی راستوں پر سیکیورٹی گارڈز کی تعیناتی۔
سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور ان کی موثر نگرانی۔
2. طلبہ و طالبات کی آگاہی اور تربیت:
 سیکیورٹی اور ہراسانی سے بچاؤ کے بارے میں طلبہ و طالبات کی تربیت اور خصوصی ٹریننگ
 ورکشاپس اور سیمینارز کا انعقاد تاکہ وہ خود کو محفوظ رکھنے کے طریقوں سے آگاہ ہو سکیں۔
3. سکول کارڈز اور بائیو میٹرک سسٹم کا استعمال:
   تمام طلبہ و طالبات ، اساتذہ اور عملے کے لئے سکول کارڈز کا اجرا اور ان کا لازمی استعمال۔
  بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب تاکہ کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا، ادارے میں داخلے کو روکا جا سکے۔
4. ایمرجنسی نمبرز اور رابطے کی معلومات:
   طلبہ و طالبات کو ایمرجنسی نمبرز فراہم کرنا۔ تاکہ وہ بروقت رابطہ کرسکیں
   ہر کلاس روم میں ایمرجنسی رابطے کی معلومات کا دستیاب ہونا۔
5. ہراسانی کی شکایات کے لئے ہاٹ لائن:
   ایک خفیہ ہاٹ لائن کا قیام جہاں طلبہ و طالبات بغیر کسی خوف کے اپنی شکایات درج کروا سکیں۔
  شکایات پر فوری اور مناسب کارروائی کی جائے۔
6.اساتذہ اور عملے کی تربیت:
   اساتذہ اور دیگر عملے کو سیکیورٹی اور ہراسانی سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔
  تاکہ وہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کی صورت میں فوری مدد فراہم کر سکیں۔
7. طلبہ و طالبات کی نقل و حرکت کی نگرانی:
   تعلیمی اداروں کی بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کے نظام کی نگرانی۔
  ہاسٹلز اور رہائشی سہولیات میں سیکیورٹی کا موثر نظام۔
8. سیکیورٹی آڈٹس اور معائنہ:
   تعلیمی ادارے میں باقاعدگی سے سیکیورٹی آڈٹس کا انعقاد و انتظام
  کسی بھی کمزوری کی صورت میں فوری بہتری کے اقدامات۔
9. محفوظ آن لائن ماحول:
   تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات کو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال کے بارے میں آگاہی دینا۔
  سائبر بُلِنگ سے بچاؤ کے طریقے سکھانا۔( آج کل سائبر بُلنگ کے ذریعے سب سے زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے)
10. والدین کے ساتھ تعاون:
    والدین کو بچوں کی سیکیورٹی اور ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرنا۔
   ان سے مسلسل رابطے میں رہنا تاکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں فوری مدد حاصل کی جا سکے۔
ان تجاویز پر عمل کر کے تعلیمی ادارے، انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے طلبہ و طالبات کی سیکیورٹی میں مکمل بہتری لا سکتے ہیں اور انہیں ہراسانی سے بچا سکتے ہیں۔
Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88987

یہ اختصاص کا دور ہے – خاطرات :امیرجان حقانی 

یہ اختصاص کا دور ہے – خاطرات :امیرجان حقانی

 

یہ اختصاص یعنی کسی ایک فن یا موضوع پر مکمل دسترس اور مہارت حاصل کرنے کا دور ہے. ایک مخصوص ہنر، فن یا موضوع پر مہارت حاصل کرنا بھی ایک مکمل آرٹ  ہے جس میں انسان اپنے علم، تجربہ، اور مہارت کو بہتر بناتا ہے۔ اس دور میں، ایک فرد اپنی پیشہ ورانہ مہارتوں پر مستقل طور پر کام کرتا ہے، جس سے اس کی قابلیت، صلاحیت اور اہمیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اختصاص انسان کو  اپنے شعبہ  یا فنی میدان میں عالمی درجہ پر پہنچنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔ اس کی بہت ساری مثالیں دی جاسکتی ہیں. کسی انسان کا کسی خاص فن میں اختصاص ہی اس کی پہچان بن جاتی ہے.

ایسے افراد جو مخصوص فن یا علم میں اختصاصی صلاحیت پیدا کرتے ہیں، اپنے میدان میں علم و تجربہ کے ساتھ مصروف رہتے ہیں اور اپنے علم و فن کو مکمل کرنے کے لئے محنت کرتے ہیں۔ اپنی صلاحیتوں و مہارتوں کی بنیاد پر وہ اپنے شعبہ اور  میدان میں معتبر شخصیت بن جاتے ہیں، اور دنیا کے لیے علم، فہم، اور عظمت کی علامت بن جاتے ہیں ۔ ان متخصص لوگوں کے ذریعہ، نئے فنون کی دریافت ہوتی ہے، نئے تجربات وجود میں آتے ہیں ، اور معاشرتی اور تکنیکی ترقی کے لئے نئے دروازے کھل جاتے ہیں۔ ان کی مہارتوں کا اثر، عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی ہوتا ہے، جو ان کے کاموں سے مستفید ہوتے ہیں۔

اختصاص پورا وقت چاہتا ہے. پورا سرمایہ چاہتا ہے. پوری قوت چاہتا ہے. مکمل یکسوئی چاہتا ہے. انسان سب کچھ نچھاور کرے تو پھر وہ کسی ایک فن، علم، ہنر یا شعبہ میں متخصص و ماہر بن سکتا ہے اور اپنا نام کما سکتا ہے. چند مثالوں کے ذریعے اس کی افہام و تفہیم کی کوشش کرتا ہوں.
عورت کو پورا مرد چاہیے:
یہ ایک معروف کہاوت ہے. عورت آدھا مرد پر رضا نہیں ہوتی. اس کو پورا مرد چاہیے. وہ مرد میں تقسیم بھی نہیں چاہتی. اگر مرد خود کو مکمل اس کے حوالہ کر دے تو شاید وہ راضی ہو، ورنا عورت کڑھتی رہتی ہے. ویسے اس کا کچھ تجربہ مجھے ایک سال سے ہو بھی رہا ہے.

عورت کے اسی فلسفہ اور “پورے مرد” کو دیگر امور میں قیاس کرلیتے ہیں. ہر فیلڈ اور ہر فن کے لیے پورا پورا مرد چاہیے ہوتا ہے. آدھا مرد یا آدھا تیتر آدھا بٹیر  بننے سے کام نہیں چلے گا.

سیاست کو پورا سیاست دان چاہیے:

سیاست ایک اہم شعبہ ہے جو معاشرتی ترقی اور سیاسی شعور و ترتیب کے لئے ضروری ہے۔ ایک مثالی سیاست دان، اپنے اصولوں پر قائم رہتا ہے، اور عوام کے مفادات کے لئے محنت کرتا ہے۔ وہ قوم کو ملکی ترقی اور فلاح کی راہ میں رہبری دیتا ہے، اور ایک بہترین معاشرتی نظام کی بنیاد رکھتا ہے. اب اگر کوئی پارٹ ٹائم سیاست کرے تو قطعاً وہ سیاسی نہیں کہلائے گا. بلکہ سچ یہ ہے کہ سیاست پر دھبہ ہوگا.اور پاکستان دھبوں سے بھرا پڑا ہے.

عسکریت کو پورا فوجی چاہیے:

عسکریت ایک پورا شعبہ ہے. اس کی ایک مکل تاریخ ہے.فوج ایک ملک کی حفاظت اور امن کے لئے اہم ہوتی ہے۔ ایک مثالی فوجی، اپنے پیشہ پر فخر کرتا ہے، اور اپنے ادارے کے اصولوں اور قوانین کا پاسبانی کرتا ہے اور اپنے حلف کی پاسداری کرتا ہے۔ وہ ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے جان کی قربانی دینے کو تیار رہتا ہے ،اور عوام کی حفاظت کے لئے ہمہ دم مستعد رہتا ہے۔ اگر وہ اس کام کی بجائے سیاست، معیشت، کنسٹرکشن، طب اور تعلیم میں لگے تو شاید وہ اپنی اہمیت و مہارت کھو بیٹھتا ہے. دنیا اس کے فن عسکریت کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتی.

علم کو پورا طالب علم اور مدرس چاہیے:

تعلیم اور علم کی اہمیت کو نظرانداز کرنا ناممکن ہے۔ ایک مثالی طالب علم، حصول علم کے لیے محنت کرتا ہے اور اپنے علمی میدان میں ترقی کرتا ہے ۔ ایک مثالی مدرس، اپنے طلباء کو روشنی اور ہدایت فراہم کرتا ہے ، اور ان میں مختلف معاشرتی مسائل کے حل کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور مہارت سکھاتا ہے۔ اگر استاد اور طالب علم اپنا کام یکسوئی سے کرکے مہارت حاصل کرنے کی بجائے سیاستدان دانوں کے لئے ایندھن بنیں اور نعرے لگائیں تو وہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں مگر طالبان علم نہیں ہوسکتے.

شاعری کو پورا شاعر چاہیے:

شاعری اور ادب سماجی زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک مثالی شاعر اپنی شاعری کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جذبات پیدا کرتا ہے ، اور ان کی زندگیوں کو رنگین بناتا ہے۔ اس کی شاعری میں عظمت، عشق، اور فن کی روشنی ہوتی ہے، جو سماج کے فہم و فرہنگ کو بڑھاتی ہے۔ اگر شاعر اور ادیب اپنے فن میں متخصص نہ ہو تو شاید اپنی وقعت کھو بیٹھے گا اور اس کی ادبی عمر بہت کم ہوگی.

تحقیق اور دانش بھی ریاضت چاہتے ہیں: 

تحقیق اور دانش کا کاروبار انسانی ترقی کے لئے بہت اہم ہے۔ ایک مثالی محقق، اپنی تحقیقات میں عمق اور صداقت کے ساتھ محنت کرتا ہے۔ اس کا فہم اور تجربہ، اسے نیو معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے. وہ ہر وقت کھوج لگاتا رہتا ہے۔ وہ اپنی تحقیقات کو باریکی سے پیش کرتا ہے اور اپنی تحقیق کو تحقیقی مہارتوں سے مزین کرتا ہے۔ ایسا محقق، انسانی معرفت کو بڑھانے اور معاشرتی مسائل کے حل کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ دانش ور بھی یہی کرتے ہیں.
ایک مثالی مبلغ، اپنے علم اور فن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے پیغام کو عوام تک پہنچاتا ہے۔ اس کی فنی خوبصورتی اور قوتِ تقریر و تبلیغ ، اسے ایک نمایاں مبلغ بناتی ہے۔

ایک سادہ مثال آپ کی تفہیم کے لیے عرض کرتا ہوں. معروف ادارہ ایم آئی ٹی سے پیور سائنس میں ڈگری حاصل کرنے والے پروفیسر ہود بائی، جب سائنس کو چھوڑ کر مذہب و سیاست اور سماجی علوم پر مکالمے و مباحثے کریں یا انجینئر طاہر مرزا جہلمی علم انجینئرنگ کی بجائے فن حدیث پر گفتگو کریں یا مولانا الیاس گھمن صاحب دینی علوم کو چھوڑ کر سرچ اور ریسرچ کا فلسفہ بیان کریں، تو شاید مضحکہ بن جائیں گے. ایسے لوگ کبھی اس فن میں سند نہیں بنیں گے.

 

یہ  چند مثالیں اپنی بات کو سمجھانے کے لیے لکھ دی.اور یہ باتیں ہمیں یاد دلاتی ہیں کہ ہر  شعبہ میں مثالی شخصیتوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اپنے کردار میں مکمل ہوں۔ ایسے افراد معاشرتی ترقی اور امن کے لئے اہم ہوتے ہیں، اور ان کی صلاحیتوں کی قدر کی جانی چاہیے۔

ہر کام میں، مکمل وقت، سرمایہ، فرد اور مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ انجام دینے والے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہئے اور ان کو اپنی ماہریت پر فخر ہونا چاہئے۔ آج کے دور میں، ہر فن مولا بننے کی غیر ضروری کوشش کرنا اور دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے کی بجائے ، اپنی پروفیشنل ذمہ داریوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ایسا کرنے سے نہ صرف افراد بلکہ پورے سماج اور انسانیت کو فائدہ پہنچتا ہے.

ہمارا سماجی المیہ یہ ہے کہ اپنے کام میں مہارت حاصل کرنے اور اس میں یکسوئی سے لگے رہنے کی بجائے دوسروں کے کاموں اور شعبوں میں گھس جاتے ہیں. جس کا لازمی نتیجہ نقصان کا ہوتا ہے.

بہت سے احباب لکھنا چاہتے ہیں. کالم نگار بننے کی خواہش ہوتی ہے. جب ان سے کہا جائے کہ مطالعہ کریں، کتابیں خریدیں اور بے تحاشا پڑھیں تو موت آنے لگتی ہے.
آدمی شوقیہ لکھاری تو نہیں بن سکتا. عشروں کی ریاضت و مشقت چاہیے ہوتی ہے. فل ٹائم دینا پڑتا ہے. گرمی سردی کا خیال نہیں کرنا پڑتا. بہر حال، انسان کو اپنے کام کی اچھی طرح تشخیص کرکے اس پر خوب اختصاص حاصل کرنا چاہیے. اگر زندہ رہنے اور کارآمد انسان بننے کی خواہش ہے تو کسی ایک چیز میں اختصاصی پوزیشن حاصل کریں.

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88863

گوہرآباد: مسائلِستان پر مشتمل تاریخی وادی – خاطرات :امیرجان حقانی 

گوہرآباد: مسائلِستان پر مشتمل تاریخی وادی – خاطرات :امیرجان حقانی

گوہرآباد، گلگت بلتستان کا ایک دلکش اور تاریخی گاؤں ہے، جس کا وجود بارہ سو سال سے قائم ہے۔ کچھ روایات کے مطابق تین ہزار سال سے قائم ہے.قدیم زمانے میں یہ گاؤں تین قلعہ بند آبادیوں، لسنوٹ، ڈبوٹ، اور کھرتلوٹ پر مشتمل تھا.قدیم زمانے میں اکثریتی آبادی یہی قلعہ بند آبادیوں مقیم تھی. جہاں اب بھی قدیم رہائشی مکانات موجود ہیں جو علاقے کے تاریخی ورثے کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوہرآباد اپنی پرانی تہذیب، قدیم رسم و رواج اور بھرپور ثقافت، قدرتی خوبصورتی، زرخیز زمینوں، جنگلات اور چراگاہوں سے جانا جاتا ہے.
اب گوہرآباد کی موجودہ کیفیت بدل گئی ہے.اس گاؤں کا رقبہ اراضی بہت طویل ہے۔ گیس پائن،گیس بالا، دونوں رائیکوٹ، تھلیچی پر مشتمل ہے۔  فیری میڈوز جیسی معروف اور خوبصورت جگہ بھی گوہرآباد کے حصہ میں آئی ہے۔ اور نانگا پربت بھی اسی گوہرآباد میں ہے.
گوہر آباد کے لوگ ملنسار، تعلیم یافتہ، مہذب اور مہمان نواز ہیں۔ شادی بیاہ بہت سہل ہے۔ لوگ دیندار اور صلح جو ہیں۔ قدیم زمانے میں اجتماعی شادیاں ہوتی تھیں جن کا اپنا ایک لطف ہوتا تھا. سماج نے طے کر رکھا تھا کہ انفرادی کوئی شادی نہیں ہوگی. شاید یہ رسم 1960 تک باقاعدہ چلتی رہی. دعوت ولیمہ وغیرہ سب ساتھ ہوتا تھا. اب بھی ایک ساتھ شادیوں کا رواج ہے تاہم پہلے کی طرح نہیں. کسی ایک دن شادی کی تاریخ  طے کرکے درجن دو درجن شادیاں ساتھ ہوتی ہیں مگر ولیمہ اور دیگر رسوم انفرادی ہوتے ہیں. پہلے کی اجتماعی شادیوں میں ہر چیز اجتماعی ہوتا تھا.
ان سماجی اقدار کا ذکر آج بھی بڑے بوڑھے شاندار انداز میں کرتے ہیں. گوہرآباد کا جرگہ سسٹم صدیوں سے رائج ہے. کسی زمانے میں پورے گلگت بلتستان کے لئے آئیڈیل جرگہ سسٹم تھا، زمانے کے تفاوت نے اس سسٹم کو تہہ و بالا کر دیا ہے تاہم آج بھی جرگہ سسٹم اور نمبرداری کا وجود نہ صرف باقی ہے بلکہ بڑے بڑے مسائل حل کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کررہا ہے.
گوہرآباد میں آبشاروں، چشموں اور گلیشئرز کا شفاف پانی وافر مقدار میں ہے مگر نہری نظام نہ ہونے کی وجہ سے وسیع اراضی بنجر پڑی ہوئی ہے اور فصلیں قلت آب کا شکار ہیں.
تاریخی اور ثقافتی ورثہ:
گوہرآباد کا تاریخی ورثہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں موجود قلعے، جو “شکارے” کہلاتے ہیں، تین منزلہ عمارتیں ہیں جن کی تعمیر میں لکڑی اور چھوٹے پتھروں کا استعمال کیا گیا ہے۔ کئی صدیاں گزرنے کے بعد، آج بھی یہ قلعے سالم ہیں. اسی طرح قدیم زمانے کی بنائی ہوئی کچھ قبریں بھی تعمیراتی شاہکار ہیں. تعمیراتی لکڑیوں سے بنی ان قبروں کی عمارتیں شاندار کارنگ کا مظہر ہیں. یہ زیارتیں اور  قلعے  گوہرآباد کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں اور اسے علاقے کے دیگر ثقافتی ورثے سے ممتاز بناتے ہیں۔ ان قلعوں کا تحفظ اور دستاویزی کام ان کے معدوم ہونے سے بچا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے تاریخی معلومات فراہم کر سکتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سرکاری ادارے اس عظیم ورثہ کو بچانے کے لیے متحرک نہیں.
گوہرآباد کا عجوبہ ہپرنگ :
گوہرآباد میں “ہپرنگ” نامی ایک عجوبہ بھی ہے، جس کے بارے میں بہت سی کہانیاں، اسطوراۃ اور روایات موجود ہیں۔ یہ ایک بڑی کھوہ ہے، جسے مقامی لوگ جنات اور پریوں کے مسکن کے طور پر جانتے ہیں. ہپرنگ سے متعلق کئی دیومالائی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔ ہپرنگ کا پانی دریائے سندھ میں جا گرتا ہے، اور اگر اسے سیاحتی مرکز کے طور پر ترقی دی جائے، تو یہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔ گوہرآباد کی چراگاہوں تک اگر روڈ بنایا جائے تو یہاں کی خوبصورتی دنیا کے سامنے آجائے. پیدل چل کر ان حسین مناظر اور قدرتی رعنائیوں تک پہنچنا مشکل ہے. ہوائی جہاز کے سفر میں ان کا کچھ نظارہ ہوجاتا ہے.
 قدرتی وسائل اور جنگلات: 
پورے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ جنگلات گوہرآباد میں پائے جاتے ہیں، جن میں کائل،فر،چیڑھ،دیار،بنئی،کاؤ، صنوبر، مورپنگ، اور قسم ہائے قسم درخت وافر مقدارمیں موجود ہیں۔ کئی اقسام کی جڑی بوٹیاں بھی وافر پائی جاتی ہیں.
گوہرآباد میں جنگلات کا وسیع رقبہ ہے. ان جنگلات میں برفانی ریچھ، مارخور، ہرن، شاہین، چکور، بٹیر، خرگوش، بھیڑیا، لومڑی، برفانی چیتا اور دیگر جنگلی حیات کی اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان جنگلات کا تحفظ اور مناسب طریقے سے استعمال علاقے کی معیشت کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔پورے گوہرآباد میں اب تک جنگل اور جنگلی حیات کا تحفظ موجود نہیں. جنگلات کی کٹائی اور جنگلی جانوروں کا شکار بغیر کسی رکاوٹ کے کیا جاتا ہے.
گوہرآباد کی زمین زرخیز ہے اور یہاں گندم، جو، مکئی، آلو، پیاز، اور دیگر فصلیں بڑی مقدار میں اگائی جاتی ہیں۔ گوہرآباد میں چلغوزے کے درخت بھی وافر مقدار میں موجود ہیں، جو علاقے کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ مال مویشی بھی یہاں کی معیشت کا ایک بڑا حصہ ہیں. گوہرآباد کی معیشت میں اہلیان گوہرآباد کا بڑی سرکاری پوسٹوں اور عمومی سرکاری ملازم ہونا بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے. گوہرآباد کے لوگوں بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اس لئے نوکری پسند ہیں. کاروبار کا رجحان نہ ہونے کے برابر ہے.
گوہرآباد کی چراگاہیں :
گوہرآباد کی درجنوں بڑی چراگاہیں موسم گرما میں جانوروں سے بھر جاتی ہیں۔ گوہرآباد کی مشہور چراگاہوں میں مارتل، کھلیمئی ، سگھر،بھری، چھُلو ، ہُومل، سلومن بھوری ، مطیرا، دساہ ، چانگھا، دروگاہ، ملپٹ ، جبار دار، مٹھاٹ اور تتو شامل ہیں جہاں موسم سرما میں لاکھوں مال مویشاں چرتے ہیں۔ اور جنگلی حیات کا بہتات ہے.
 سیاحت کی امکانات: 
گوہرآباد میں سیاحت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ “فیری میڈوز ” نانگا پربت، اور “ہپرنگ” جیسے مقامات بین الاقوامی سیاحتی دلچسپی کے مراکز بن سکتے ہیں۔ اگر ان مقامات کو بہتر طریقے سے ترقی دی جائے اور سیاحتی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنایا جائے، تو یہ علاقے کی معیشت کو بڑھا سکتے ہیں۔ گوہرآباد کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی ورثہ سیاحوں کے لئے بڑی کشش کا باعث بن سکتا ہے۔ فیری میڈوز اور نانگا پربت میں سیاحوں کا رش لگا رہتا ہے تاہم سینٹرل گوہرآباد آج بھی ملکی اور بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ سے یکسر محروم ہے.
گوہرآباد کے سینکڑوں مسائل ہیں، تاہم مختصراً کچھ مسائل ذکر کیے دیتا ہوں.
نظام آب پاشی:
سینٹرل گوہرآباد میں پانی کی بہت زیادہ کمی ہے، جس سے زرعی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں. کئے عشرے پہلے پانی کا ایک کول/ نہر بنایا گیا تھا جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے. دہگر نالوں میں پانی وافر مقدار میں ہے مگر نظام آب پاشی صدیوں پرانا ہے. نہری سسٹم نہیں بنایا گیا ہے. جس کی وجہ سے پانی ضائع جاتا ہے اور زمینیں بنجر پڑی رہتی ہیں.
برابری کے مالکانہ حقوق :
 کچھ قبائل اور برادریاں اقلیت میں ہیں. ان کو برابری کے مالکانہ حقوق میسر نہیں. یہ ایک اہم مسئلہ ہے، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
تعلیمی مسائل :
تعلیمی مسائل بہت پیچیدہ ہیں. عشرہ پہلے ڈرنگ داس میں کالج منظور ہوا تھا جو بعد میں ہائی سیکنڈری سکول میں تبدیل کرکے ہائی سکول گوہرآباد کے ساتھ بلڈنگ بنا دی گئی مگر اب تک نظام نہیں چلایا جاسکا. پرائیویٹ سکول سسٹم بھی ناپید ہے. رائیکوٹ اور تھلیچی میں بھی سرکاری سکول سسٹم بربادی کا شکار ہے.
وادی گوہرآباد میں انفراسٹرکچر کے مسائل کی فہرست درج ذیل ہے:
سڑکیں اور پل:
روڈ کی بناوٹ اور مواصلات کی سہولتوں میں کمی وادی گوہرآباد کا اہم مسئلہ ہے۔ عالمی سیاحتی پوائنٹ فیری میڈوز کا روڈ بھی خستگی کا شکار ہے جب بھی ٹوٹ جاتا ہے یا بارشوں کا نذر ہوتا ہے تو مقامی لوگ اپنی مدد آپ بناتے ہیں. دیگر نالوں میں بھی صورتحال بہت افسوسناک ہے.
گوہرآباد کا مرکزی پل موت کا کنواں بنا ہوا ہے. گیس کا پل بھی خستہ ہے. وادی کے درمیان کئی چھوٹے چھوٹے پل ہیں جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں.
شعبہ صحت :
صحت کی سہولتوں کی کمی، اور معیاری صحت کی خدمات کی عدم فراہمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سینٹرل گوہرآباد کا دس بیڈ ہسپتال بھی چیخ چیخ کر محکمہ صحت کو پکار رہا ہے. باقی ویٹرنری ہسپتال بھی خانہ پوری کہ حد تک موجود ہے.
بجلی: بجلی بھی ایک سنگین ایشو بن چکا ہے.
گوہرآباد کے جنگلات اور جنگلی حیات کا تحفظ بھی ضروری ہے. ٹمبر مافیا کی وجہ سے علاقے کے جنگلات کو نقصان پہنچا ہے۔ سرکاری اداروں کے ساتھ ساتھ غیر سرکاری تنظیمیں اور سماجی و ثقافتی این جی اوز بھی ان مذکورہ مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ میڈیا میں بھی شعوری مہم کا آغاز کیا جاسکتا ہے.
خلاصہ کلام :
گوہرآباد، اپنی تاریخی اہمیت، ثقافتی ورثے اور قدرتی خوبصورتی کے باوجود، بنیادی سہولیات کی کمی اور دیگر مسائل کا شکار ہے۔ ان مسائل کے حل کے لئے سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر گوہرآباد کے تاریخی ورثے اور قدرتی وسائل کو محفوظ بنایا جائے اور سیاحتی امکانات کو بڑھایا جائے، تو یہ علاقے کی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لئے ایک بہتر مستقبل کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 1
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 2
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 7
chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 6

chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 3 chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 4 chitraltimes gohar abad gilgilt baltistan 5

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88734

  شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سےاعلی سطح اجلاس , این ایچ اے کو فیسٹیول سے پہلے سیاحوں کی آمدروفت کے لیے سڑکوں پر جاری کام کو تیز کرنے اور بھاری مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت 

  شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سےاعلی سطح اجلاس , این ایچ اے کو فیسٹیول سے پہلے سیاحوں کی آمدروفت کے لیے سڑکوں پر جاری کام کو تیز کرنے اور بھاری مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری کی زیر صدارت شندور پولو فیسٹیول کے انتظامات کے حوالے سے جمرات کے روز پشاور میں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ، سیکرٹری محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ، سیکرٹری ایڈمنسٹریشن، سیکرٹری کلچر اینڈ ٹورزم، ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن، سول ایویشن،چترال پولو ایسوسی ایشن، چیمبر آف کامرس،ٹریول ایجنٹ ایسوسی ایشن کے نمائندوں اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ جبکہ کمشنر ملاکنڈ ڈویژن، ریجنل پولیس افسر ملاکنڈ ڈویژن، کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او اپر اور لوئر چترال نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری کو شندور پولو فیسٹیول کے انعقاد کے حوالے سے اب تک کئے جانے والے انتظامات پر تفصیلی بریفننگ دی گئی۔

 

اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے انتظامات کو حتمی شکل دینے کی کوششیں تیز کرنے اور فیسٹیول کے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایک جامع اور مکمل پلان ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا کہ شندور پولو فیسٹیول سے عالمی سطح پر نہ صرف خیبرپختونخوا بلکہ پاکستان کا ایک مثبت تاثر جائے گا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو فیسٹیول سے پہلے سیاحوں کی آمدروفت کے لیے سڑکوں پر جاری کام کو تیز کرنے اور لینڈ سلائیڈنگ ا رو دیگر حالات کے دوران ہنگامی اقدامات کے تحت بھاری مشینری کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ دنیا کے سب سے بلند مقام پر واقع پولو گراؤنڈ میں منقعد ہونے والے ٹورنامنٹ کیلئے تاریخوں کا اعلان موسمی حالات کو دیکھ کر مشاورت کے بعد جلد کردیا جائیگا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ فیسٹیول کے انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات کو جلد سے جلد مکمل کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مقامی و غیر ملکی سیاحوں، میڈیا نمائندوں و دیگر مہمانوں کی رہائش کے لیے تمام تر انتظامات کو مزید بہتر بنایا جارہا ہے۔

 

اس موقع پر چیف سیکرٹری نے فیسٹیول کے لیے بہترین انتظامات کی ہدایت کی تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ندیم اسلم چوہدری نے کہا کہ چترال کی دستکاری اور مقامی طور پر تیار شدہ مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے فیسٹول میں خصوصی سٹالز کا اہتمام کیا جائے۔ شندور پولو فیسٹیول کے کامیاب انعقاد سے چترال کی مقامی معشیت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اسلام آباد سے چترال پی آئی اے کی خصوصی فلائٹس ہوں گی جن سے سیاح استفادہ کرتے ہوئے شندور پولو فیسٹیول میں شرکت کرسکیں گے۔

chitraltimes chief secretary khyber pakhtunkhwa chairing shandur meeting2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
88571

مستوج اور گلگت کے درمیان نیٹکو بس سروس دوبارہ بحال ، گیارہ مئی سے سروس کا باقاعدہ آغاز ہوگا

مستوج اور گلگت کے درمیان نیٹکو بس سروس دوبارہ بحال ، گیارہ مئی سے سروس کا باقاعدہ آغاز ہوگا

چترال ( چترال ٹائمزرپورٹ ) ناردرن ایریا ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( نیٹکو ) نے 11 مئی سے مستوج (اپرچترال ) سے گلگت کوسٹر سروس شروع کرنے کیلئے بکنگ کا آغاز کر دیا ہے ۔ نیٹکو سروس گذشتہ ایک دہائی سے مستوج اور گلگت کے درمیان لوگوں کو روزانہ کی بنیاد پر آمدورفت کی سہولت مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔ تاہم چترال سائڈ پر مستوج سے بونی تک انتہائی خراب اور کھنڈر سڑک کی وجہ سے اس سروس نے اپنا آخری سٹاپ مستوج میں قائم کیا تھا ۔ جس سے بونی اور لوئر چترال جانے والے مسافروں اور سیاحوں کو مشکلات پیش آرہی تھیں ۔ اب مین چترال مستوج روڈ پہلے کی نسبت بہتر ہو گیا ہے ۔ اور کوسٹر سروس سے گلگت اور چترال کے مسافروں اور سیاحوں کو سہولت ملے گی ۔ خصوصا حالیہ دنوں میں چترال میں منعقد ہونے والی کالاش فیسٹول (چلم جوشٹ ) دیکھنے کے خواہشمند گلگت کے ہزاروں سیاحوں کو چترال آنے میں بہت سہولت ملے گی۔ عوامی حلقوں نے نیٹکو کوسٹر سروس شروع کرنے کا خیرمقدم کیا ہے ۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستان
88576

مالی مشکلات سے کیسے نکلیں؟ – خاطرات :امیرجان حقانی

مالی مشکلات سے کیسے نکلیں؟ – خاطرات :امیرجان حقانی

عمومی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے یا کیا جاتا ہے کہ

کیا آپ مالی مشکلات کا شکار ہیں؟

 

مالی مشکلات کو حل کرنے کے کچھ دلچسپ اور مؤثر طریقے ہیں جو آپ کی زندگی کو تھوڑا آسان بنا سکتے ہیں۔ میں خود ان طریقوں سے گزر رہا ہوں اس لئے سوچا آپ سے بھی شئیر کروں.

 

1. بجٹ کا جادو:

سب سے پہلے، ایک سادہ بجٹ بنائیں۔ یہ بالکل کسی جادوئی نسخے کی طرح کام کرتا ہے۔ ایک قلم اور کاغذ لیں اور اپنی آمدنی اور خرچوں کو لکھیں۔ پھر یہ دیکھیں کہ کہاں کہاں خرچ کم کیا جا سکتا ہے۔ بجٹنگ کا یہ عمل آپ کو بڑی حد تک ریلیف دے سکتا ہے.

 

2. غیر ضروری خرچوں کا خاتمہ:

مالی مشکلات میں سب سے بڑا عنصر غیر ضروری اخراجات ہیں. ہر ماہ نئی چیزیں خریدنا، غیر ضروری چیزیں لینا یا ہوٹلوں میں کھانے کا شوق پورا کرنا انتہائی نقصان دہ ہے.
تو بس ذرا سنبھل جائیں۔ غیر ضروری خرچوں کو کم کریں۔ یہ نہیں کہ زندگی میں مزہ نہ کریں، لیکن ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے۔ اور بالخصوص مالی مشکلات کے دنوں میں اعتدال سے بھی تھوڑا کم خرچنا چاہیے.

 

3. چھوٹی چھوٹی بچتیں:

ہر ماہ کچھ نہ کچھ بچانے کی عادت ضرور بنالیں، ، چاہے وہ بچت کتنی ہی کم کیوں نہ ہوں۔ یہ چھوٹی چھوٹی بچتیں وقت کے ساتھ بڑی رقم میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جیسے قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے۔ اس کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں. میں اپنے کئی احباب سے یہ پریکٹس کروا رہا ہوں. خود بھی کررہا ہوں.

 

4. اضافی آمدنی کے راستے:

اگر آپ کا بجٹ ہمیشہ سرخ نشان پر ہی رہتا ہے، آپ کی ماہانہ امدنی آپ کے بجٹ سے کم ہے تو پھر کوئی اضافی جاب یا فری لانسنگ کا سوچیں۔ کچھ نیا سیکھیں اور اسے کمائی کے ذریعے میں تبدیل کریں۔ یا کسی کیساتھ کاروباری پارٹنرشپ اختیار کریں. کوئی نہ کوئی اضافی آمدن کی ترتیب بنالیں.

 

5. قرضوں سے ہوشیار رہیں:

قرضوں کا سہارا لینا کبھی کبھی ضروری ہوتا ہے، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ قرض لینا آسان ہے اور واپس کرنا مشکل۔ اگر آپ کو قرض لینا ہی ہے، تو پہلے سوچیں کہ آپ اسے واپس کیسے کریں گے۔ میں گزشتہ دو سال سے قرض لینے اور فوراً واپسی کے عمل سے گزر رہا ہوں. آج کے دور میں قرض کوئی نہیں دیتا، بہرحال اس سے پرہیز ضروری ہے. خوداراد شخص مشکل سے کسی سے قرض لیتا ہے. یہ ایک تکلیف دہ عمل ہے.

 

6. ماہر مالی مشاورت:

اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی مالی مشکلات کا مسئلہ گمبھیر ہوتا جا رہا ہے، تو کسی ماہر مالی مشیر سے ملیں۔ وہ آپ کو بہترین مشورہ دے سکتے ہیں۔ ویسے آج کل ایسے ماہر اور مخلص لوگوں کا فقدان بھی ہے.

 

7. مالیاتی علم میں اضافہ:

آخر میں، مالی معاملات کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننے کی کوشش کریں۔ کتابیں پڑھیں، آن لائن کورسز کریں، یا یوٹیوب ویڈیوز دیکھیں۔ جتنا زیادہ آپ جانیں گے، اتنا ہی آپ کی مالی حالت مضبوط ہوگی۔ معلومات کی کمی اور عدم فہم کی وجہ سے بھی بہت دفعہ انسان مالی مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے.

 

8. مخلوقِ خدا پر خرچ:

ہر ماہ اپنی آمدن کا کچھ حصہ اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی مخلوق کی مدد میں ضرور خرچ کریں. یہ خرچ اپنے گھر والوں کے علاوہ ہو. یقین کریں یہ صدقہ آپ کو سینکڑوں مشکلات سے بھی بچائے گا اور آمدن میں برکت کیساتھ اضافہ بھی ہوگا.

 

یہ ہیں کچھ آسان اور دلچسپ طریقے جو آپ کی مالی مشکلات کو حل کرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔ لہذا پریشان نہ ہوں اور ان اقدامات کو آزمائیں۔ ممکن ہے کہ آپ کے مالی مسائل کا حل انہی میں چھپا ہوا ہو۔ میں خود ان تمام نسخوں میں الجھا ہوا ہوں. کافی فائدہ بھی ہورہا ہے. بہر حال ان کے علاوہ بھی آپ کے پاس کئی راستے یا طریقے ہوسکتے ہیں جو آپ کو مالی مشکلات سے نکال سکتے.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88524

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا شاہراہ قراقرم پر موٹروے پولیس تعینات کرنے کا مطالبہ

Posted on

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا شاہراہ قراقرم پر موٹروے پولیس تعینات کرنے کا مطالبہ

گلگت(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان نے شاہراہ قراقرم پر موٹر وے پولیس تعینات کرنے کا مطالبہ کر دیا۔اس ضمن میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔خط میں کہا گیا کہ قراقرم ہائی وے پر ٹریفک حادثات پر قابو پانے کیلئے موٹر وے پولیس کی تعیناتی عمل میں لائی جائے۔متن میں کہا گیا کہ چلاس کے قریب المناک ٹریفک حادثے کی شفاف تحقیقات کے احکامات دیئے ہیں، حقائق کی روشنی میں مستقبل میں ٹریفک حادثات سے بچنے کیلئے اقدامات کئے جائیں، قراقرم ہائی وے میں بڑھتے حادثات سے قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہو رہا ہے۔وزیراعلیٰ گلگت بلتستان گلبر خان نے خط میں مزید لکھا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، قرقرام ہائی وے پر محفوظ سفر کو یقینی بنانے کیلئے موٹر وے پولیس کی تعیناتی ضروری ہے۔

 

 

ایمل ولی خان متفقہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر منتخب

پشاور(سی ایم لنکس) سینئر سیاستدان اسفند یار ولی خان کے بیٹے ایمل ولی خان متفقہ طور پر عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر منتخب ہوگئے۔اے این پی کے انٹرا پارٹی انتخابات میں ایمل ولی خان عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر جبکہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ سلیم خان اے این پی کے جنرل سیکرٹری منتخب ہوگئے۔اس کے علاوہ سردار حسین بابک پارٹی سیکرٹری خارجہ امور اور انجینئر احسان سیکرٹری اطلاعات بن گئے، ڈاکٹر میرب اعوان پہلی بار مرکزی سیکرٹری برائے خواجہ سرا حقوق منتخب ہوئے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سینیٹر زاہد خان نے پارٹی قیادت سے مبینہ اختلافات کے سبب ترجمان کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا۔زاہد خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان کا عہدہ چھوڑنے کے ساتھ ساتھ انٹرا پارٹی الیکشن میں بھی حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

 

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
88408

وادی نلتر کا ایک روزہ مطالعاتی دورہ – خاطرات :امیرجان حقانی

وادی نلتر کا ایک روزہ مطالعاتی دورہ – خاطرات :امیرجان حقانی

یکم مئی کا دن تھا. یہ مزدوروں کا عالمی دن ہے. گلگت بلتستان کے موسم میں بڑی خنکی تھی. وقفے وقفے سے بارشوں نے پورے جی بی کو گھیر رکھا تھا. ایسے میں پوسٹ گریجویٹ کالج گلگت کے پروفیسروں نے وادی نلتر کا ایک روزہ مطالعتی دورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ صبح کے ابتدائی اوقات تھے، اور گلگت کے پہاڑوں کے اوپر ہلکی سی برف باری کی روشنی ابھی بھی موجود تھی۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی اور کچھ نئی شروعات کا احساس تھا۔

 

گھر میں شام کو یہی بتا رکھا تھا کہ مجھے صبح احباب کیساتھ نلتر جانا تھا. گھر کے اندر زندگی کی خوبصورتی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب آپ کے پاس دو محبت کرنے والی بیویاں ہوں جو آپ کے دل کو خوشی سے بھر دیتی ہیں اور آپ کے سفر و حضر میں محبتیں بانٹتی ہیں۔ جب آپ اپنی صبح کا آغاز کرتے ہیں، تو ایک بیوی آپ کے لیے چائے کا پیالہ لے کر آتی ہے، اس کی مسکراہٹ سورج کی پہلی کرن جیسی ہوتی ہے۔ دوسری بیوی ناشتہ تیار کرتی ہے، اور اس کے ہاتھوں کی خوشبو آپ کے دل کو گرمائش دیتی ہے۔ ان دونوں کے ساتھ وقت گزارنا گویا دنیا کے سب سے خوبصورت گلابوں کے بیچ بیٹھنے جیسا ہے۔ یہ آپ کو تب محسوس ہوگا جب آپ اس کیفیت سے گزریں گے.

 

آپ اپنے دن کی شروعات کرتے ہیں، اور وہ دونوں آپ کے ساتھ گفتگو کرتی ہیں، ہنستی ہیں، اور آپ کے ساتھ اپنے خواب بانٹتی ہیں۔ راز و نیاز کی باتیں شئیر کرتی ہیں. ان کے ساتھ ہر لمحہ خاص ہوتا ہے، اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے پاس دنیا کی سب سے قیمتی چیز ہے۔ جب آپ نلتر جیسی خوبصورت وادی کی سیر کے لیے جانے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں، تو ایک بیوی آپ کا سامان پیک کرنے میں مدد دیتی ہے، گرم سویٹر پہناتی ہے، جبکہ دوسری آپ کو الوداع کہنے کے لیے محبت بھرا بوسہ دیتی ہے۔ یہ سب کچھ آپ کو یہ احساس دلاتا ہے کہ محبت اور خوشی کی کوئی حد نہیں ہے، اور آپ محبت اور خوشی کو ہر طرح انجوائے کرسکتے ہیں. اور آپ اپنے دل میں یہ دعا کرتے ہیں کہ یہ لمحے ہمیشہ یونہی چلتے رہیں۔ جب کیفیات یہی ہوں تو پورا دن شاندار گزرتا ہے.

 

میں پڑی بنگلہ سے یہی خوبصورت، کیفیات، لمحات اور محسوسات لیے کالج پہنچا. بھائی افضل نے کالج کی منی بس اسٹارٹ کی اور ہم نو بجے چل دیے. میں قافلے کا سائق تھا. ہر کوئی مجھ سے رابطہ کیا جارہا تھا. باب گلگت، پبلک چوک، یادگار چوک، مین بازار اور گھڑی باغ سے احباب کو پک کرتے ہوئے یونیورسٹی روڈ یعنی شاہراہ نلتر پر سفر شروع کیا. اس شاہراہ کو گلگت نلتر ایکسپریس بھی کہا جاتا ہے.

پروفیسروں کی ٹیم نے گلگت سے نلتر کی طرف روانہ ہوتے ہوئے، ایک دوسرے سے گفتگو کرتے اور قدرت کے حسن کو سراہتے ہوئے سفر کا آغاز کیا. آغاز بہت دلچسپ تھا۔ منی بس قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کو چھوتے ہوئے نومل کی طرف فراٹے بھرنے لگی. جیسے جیسے وہ پہاڑی راستوں پر آگے بڑھتے گئے، قدرت کے نادر نظارے سامنے آتے گئے۔ بلندی پر پہنچتے ہی سبزہ اور رنگ برنگے جنگلی پھولوں نے ان کا استقبال کیا۔ یہاں کی خوبصورتی کا کوئی جواب نہیں تھا.

 

نلتر کی وادی اپنی خوبصورتی اور قدرتی حسن کے لئے مشہور ہے۔ یہاں پر اونچے اونچے درخت اور بہتی ہوئی ندیاں ہر سمت دیکھنے کو ملتی ہیں۔ یہ وادی ہر موسم میں ایک نئے روپ میں ظاہر ہوتی ہے، گرمیوں میں یہ سبزے سے بھرپور اور رنگین پھولوں سے سجی ہوتی ہے جبکہ سردیوں میں برف سے ڈھکی رہتی ہے۔ یہاں درختوں اور چوٹیوں پر برف کی چادر بچھی ہوتی ہے.

 

نلتر گلگت بلتستان کے کیپٹل ایریا گلگت کی ایک خوبصورت وادی ہے۔ یہ اپنا قدرتی حسن، برف باری، اور سیاحتی مقامات کے لئے مشہور ہے۔ یہاں نلتر کے بارے میں کچھ اہم معلومات اور چیزیں ہیں، جو آپ کے لئے دلچسپی کا باعث ہو سکتی ہیں.

 

نلتر گلگت شہر سے تقریباً 34 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع ہے۔ یہ وادی بلند پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے اور اس میں چند خوبصورت جھیلیں بھی موجود ہیں۔ نلتر وادی کی بلندی مختلف مقامات پر تقریباً 2800 سے 3500 میٹر کے درمیان ہے۔نلتر بالا میں پہنچ کر ایک راستہ جھیل کی طرف جاتا ہے اور ایک زیرو پوائنٹ کی طرف، جہاں سکینگ پوائنٹ ہے. نلتر بالا کے زیرو پوائنٹ سے ست رنگی جھیل، پری جھیل اور بلیو لیک تک جیپوں کے بغیر نہیں جایا جا سکے گا۔ ست رنگی جھیل تک 12 کلومیٹر کا سفر ہے.

 

نلتر وادی میں ہر موسم کی اپنی خاصیت ہے۔ گرمیوں میں یہاں سبزہ اور پھولوں کی بھرمار ہوتی ہے، جبکہ سردیوں میں یہ وادی برف سے ڈھک جاتی ہے۔ یہ مقام برف باری کے لئے بھی مشہور ہے. نلتر کے موسم کا کوئی اعتبار نہیں. کسی بھی وقت بارش یا برف باری ہوسکتی ہے. اس لیے مناسب لباس یعنی سویٹر اور اورکوٹ ضرور ساتھ لیتے جائیں. ایک چھتری بھی ہو تو بہتر ہے.

 

گلگت بلتستان کا سیاحتی مقام وادی نلتر میں، موسم سرما میں سکینگ کے عالمی مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ 2019 انٹرنیشنل قراقرم الپائن سکی کپ کا میلہ ممنعقد ہوا. جس میں پاکستان سمیت پندرہ ممالک کے 35 سکیئرز نے حصہ لیا.

 

سطح سمندر سے 8960 فٹ کی بلندی پر واقع نلتر سکی سلوپ میں جاری انٹرنیشنل قراقرم الپائن سکی کپ کے مقابلے میں ترکی نے پہلی، پاکستان نے دوسری اور یوکرائن نے تیسری پوزیشن حاصل کی. ایونٹ کی سلالم کیٹیگری میں اپنے فن کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ان کھلاڑیوں نے بالترتیب گولڈ،سلور اور براونز میڈل جیتے۔
انٹرنیشنل قراقرم الپائن سکی کپ میں پاکستان کے علاوہ ترکی، یونان، افغانستان، مراکش، آزربائیجان، ہانگ کانگ،برطانیہ، بوسنیا ہردگوزینیا، تاجکستان بیلجیئم سمیت دیگر ممالک کے سکی پلیئرز نے حصہ لیا اور خوب سراہا۔

 

نلتر کا سکی چیئرلفٹ، جو بلند اور خطرناک سمجھی جاتی ہے، نے کئی نوجوانوں کو سکینگ کی مشق کرنے کا موقع دیا ہے۔ اسی چیئرلفٹ پر پریکٹس کرتے ہوئے، نلتر ہی کے چند مقامی نوجوانوں نے عالمی سطح پر منعقد ہونے والی سکی چمپئن شپس میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان اور گلگت بلتستان کا نام فخر سے بلند کیا ہے۔

گلگت بلتستان کے نوجوان سکیئرز میں ضلع غذر سے تعلق رکھنے والی دو بہنیں، آمنہ ولی اور عارفہ ولی، نمایاں ہیں۔ یہ دونوں بہنیں نہ صرف اپنی مقامی برادری میں مقبول ہیں بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے اپنے کھیل میں کمال مہارت دکھا کر یہ ثابت کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں بھی بین الاقوامی معیار کے خواتین کھلاڑی موجود ہیں۔

 

ان کی یہ کامیابیاں نلتر کی سکینگ کمیونٹی کے لئے ایک بڑی خوشخبری ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ اگر مواقع فراہم کیے جائیں اور محنت کی جائے، تو دنیا کے کسی بھی کونے سے قابل کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں۔ نلتر کے ان نوجوانوں نے یہ ثابت کر دیا کہ سکینگ کے لئے درکار ہمت اور جرأت، قدرتی خوبصورتی کے درمیان پروان چڑھ سکتی ہے۔ ویسے پہاڑوں کی اولاد کے لیے یہ معمول کی باتیں ہیں.

 

نلتر میں کئی خوبصورت جھیلیں ہیں، جن میں ست رنگی جھیل سب سے مشہور ہے۔ اس جھیل کا پانی نیلا اور شفاف ہوتا ہے، جو اسے ایک خاص دلکشی عطا کرتا ہے۔ اسی جھیل کو ست رنگی جھیل (Seven Color Lake) کہا جاتا ہے. یہ خوبصورت جھیل ہے جو اپنی منفرد رنگوں کی بدولت مشہور ہے۔ سنا ہے کہ روشنی پڑنے پر جھیل کے پانیوں کا رنگ مختلف سات رنگوں میں نظر آنے لگتا ہے. یہ جھیل نلتر ویلی کا ایک دلکش مقام ہے اور سیاحوں کے درمیان بہت مقبول ہے۔ یہاں اس جھیل کے بارے میں کچھ اہم معلومات فراہم کی جا رہی ہیں.
یہ جھیل نلتر ویلی کی تین بڑی جھیلوں میں سے ایک ہے۔

جھیل کا نام “ست رنگی” اس کے پانی کے رنگوں کی بدولت رکھا گیا ہے۔ پانی میں مختلف معدنیات اور روشنی کے انعکاس کے باعث یہ جھیل مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے، جیسے کہ سبز، نیلا، فیروزی، اور دیگر رنگ۔جھیل کے ارد گرد کے مناظر انتہائی خوبصورت اور دلکش ہیں، جس میں بلند پہاڑ، سرسبز جنگلات، اور گلیشیئرز شامل ہیں۔

 

سیاح اس جھیل کے کنارے وقت گزارنے، تصاویر لینے، اور قدرتی خوبصورتی کا لطف اٹھانے کے لیے آتے ہیں۔ست رنگی جھیل کے پاس ہائیکنگ اور کیمپنگ کی بھی سہولتیں موجود ہیں، جو ایڈونچر پسند لوگوں کو پسند آتی ہیں۔موسم گرما میں یہ جھیل خاص طور پر خوبصورت ہوتی ہے، جب درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے اور سبزہ چاروں طرف پھیلا ہوتا ہے۔موسم سرما میں برف باری کے باعث جھیل جم کر منجمد ہو جاتی ہے اور نلتر کے جملہ مناظر برفیلی چادر میں ڈھک جاتے ہیں۔

 

جھیل تک پہنچنے کے لیے جیپ یا 4×4 گاڑیوں کا استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں کا راستہ پہاڑی اور دشوار گزار ہوتا ہے۔ ابھی تک نلتر ایکسپریس وہاں تک نہیں پہنچا. جھیل کے قریب رہائش کے محدود انتظامات ہیں، لیکن سیاح گلگت میں رہائش اختیار کر کے دن بھر کا دورہ کر سکتے ہیں۔
ست رنگی جھیل کی خوبصورتی، مختلف رنگوں کا منظر، اور اس کے ارد گرد کے قدرتی مناظر اسے گلگت بلتستان کے اہم سیاحتی مقامات میں شامل کرتے ہیں۔ یہ جھیل قدرتی خوبصورتی کا ایک شاہکار ہے اور یہاں کا دورہ سیاحوں کے لیے ایک یادگار تجربہ ہوتا ہے۔

 

وادی نلتر میں سیاحوں اور سیاحتی سرگرمیوں کے لئے بہت کچھ موجود ہے۔ یہاں آپ ہائیکنگ، کیمپنگ، اور فوٹوگرافی کر سکتے ہیں۔ سردیوں میں سکینگ کے شوقین حضرات کے لئے یہاں بہترین مواقع ہیں۔ پاکستان آرمی ہر سال یہاں نیشنل سکینگ چیمپیئن شپ کا انعقاد کرتی ہے، جس میں ملک بھر سے کھلاڑی شرکت کرتے ہیں۔

 

نلتر وادی کے مقامی لوگ سادہ اور دوستانہ ہوتے ہیں۔ ان کی ثقافت میں موسیقی، رقص، اور روایتی لباس کا اہم کردار ہے۔ مقامی لوگ عموماً کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں مشغول رہتے ہیں۔ نلتر کا آلو بہت مشہور اور لذیذ ہے. غذائیت سے بھرپور ہے. آج کل نلتر میں بڑے بڑے ہوٹل تعمیر ہورہے ہیں. گلگت بلتستان کے درجنوں امیر لوگوں نے یہاں زمینیں خریدی ہیں اور ہوٹل اور موٹل بنا لیے ہیں. پاکستان آرمی بھی بھرپور موجود ہے. کئی مرکزی مقامات ان کے پاس ہیں.

 

ہم سے کئی احباب نے پوچھا کہ نلتر تک کیسے پہنچا جائے. اگر آپ کو اسلام آباد سے گلگت تک ہوائی جہاز کا ٹکٹ ملتا ہے تو یہ ایک گھنٹہ کا سفر ہے. آپ ناننگا پربت کا ہوائی وزٹ کرتے ہوئے گلگت پہنچ سکتے ہیں. اور اگر آپ جون جولائی میں آنا چاہتے ہیں تو اسلام آباد سے براستہ ناران کاغان اور بابوسر ٹاپ کے گلگت تشریف لائیں اور اگر سردیوں میں آنا ہے تو براستہ بشام قراقرم ہائے وے گلگت تشریف لائیں.

 

نلتر وادی تک پہنچنے کے لئے گلگت شہر سے جیپ یا دیگر گاڑیوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پہلے نلتر تک جیپ میں سفر ممکن تھا. اب روڈ بہترین ہے کوئی بھی چھوٹی گاڑی جاسکتی ہے تاہم واپسی پر انتہائی احتیاط سے ڈرائیونگ کرنی ہوگی. کئی حادثات رونما ہوئے ہیں.

 

پوسٹ گریجویٹ کالج مناور گلگت کےپروفیسروں کی یہ ٹیم نلتر زیرو پوائنٹ پہنچ گئی. ہم جھیل تک جانا چاہتے تھے مگر قلت وقت اور کچی روڈ کی وجہ سے وہاں جانے سے رہ گئے. ہماری ایونٹ منیجمنٹ کمیٹی کی ٹیم پروفیسر فرید اللہ کی سربراہی میں سویرے ہی وہاں پہنچ کر نگرہ میں ڈھیرے ڈال چکی تھی. ہم بھی زیرو پوائنٹ سے نگرہ تک پیدل گئے. راقم، رحمت اور انتخاب صاحب پہلی فرصت میں نلتر کا سب سے بلند ویوو پوائنٹ نگرہ میں پہنچے اور دیر تک وہی نظارے کرتے رہے.جھیلوں کے دائیں بائیں کے حسین مناظر کو بھی یہاں سے دیکھ کر دل کوبہلایا مگر یہ کمبخت کب بہل جاتا ہے. نگرہ وویو پوائنٹ میں سنگاپور کی دو سیاح خواتین بھی ایک مقامی گائیڈ کی معیت میں پہنچی ہوئی تھیں. خوب انجوائے کررہی تھی. یہ لوگ بھی فطرت کے بڑے نشئی ہیں.

نگرہ سے ہر طرف کا نظارہ کمال کا ہورہا ہے. نلتر پائین اور بالا کا ہر مقام واضح نظر نواز ہوتا ہے. یہاں 2022 میں بھی آنے کا موقع ملا تھا. برادرم مولانا عمر خٹک اور ترکی کے کچھ طلبہ کیساتھ اسی ویوو پوائنٹ میں دیر تک ٹھہرے رہے تھے. نلتر بھی بار بار جانا ہے. میرے کئی اسٹوڈنٹنس ہیں جو مدعو کرتے ہیں. شاید ایک بار اپنے کلاس فیلوز کی ٹیم کیساتھ بھی جانا پڑے جلد.

 

نگرہ اور اس کے اطراف میں موجود برفیلی پہاڑیوں، وسیع و عریض سبزہ زاروں اور فطری مقامات نے ہمیں مبہوت کر دیا. یہ جگہ واقعی جنت کا ایک ٹکڑا معلوم ہو رہی تھی۔ پروفیسرز نے نگرہ کے چبہ چبہ چھان مارا. وہاں بیٹھ کر سکون محسوس کیا، اور بعض نے تو برف کے ساتھ خوب اٹھکھیلیاں کی. برف سے سب سے زیاد لطف غلام عباس، عبداللہ اور رزاق نے اٹھایا۔ میں اور ضیاء ان کی ویڈیو بناتے رہے. ارشاد شاہ، رحمت اور انتخاب ہماری اٹھکھیلیوں کو انجوائے کرتے رہے. اشتیاق یاد نے سچ کہا کہ بڑھاپے کی دھلیز میں بھی غلام عباس صاحب میں ایک شرارتی نوجوان زندہ ہے.

 

فطرت اور قدرت ہمارے وجود کا مرکز ہیں، جو ہمیں خوبصورتی، سکون اور حیرت کا احساس عطا کرتے ہیں۔ گھنےجنگلات کی سبزیاں، دریاؤں کا روانی، پہاڑوں کی اونچائیاں، اور سمندروں کی گہرائیاں، یہ سب فطرت کے حیران کن عناصر ہیں جو ہماری دنیا کو ایک جادوئی جگہ بناتے ہیں۔ نلتر میں یہ سب کچھ موجود ہے. قدرت کے یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو خوش کرتے ہیں بلکہ ہماری روح کو بھی سکون دیتے ہیں۔ ہم ان سے سیکھتے ہیں کہ زندگی کتنی پیچیدہ اور خوبصورت ہوسکتی ہے۔ فطرت کی یہ شان و شوکت ہمیں اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی دنیا کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ یہ خوبصورتی آنے والی نسلوں کے لئے بھی برقرار رہ سکے۔

فطرت کے بارے میں اللہ کا پیغام واضح اور جامع ہے۔ قرآن مجید میں، اللہ نے فطرت کو ایک نشانی کے طور پر پیش کیا ہے، جس کے ذریعے انسان اس کی عظمت، حکمت، اور تخلیقی قوت کو سمجھ سکتا ہے۔ قرآن میں بار بار فطرت کے عناصر جیسے کہ آسمان، زمین، پہاڑ، دریا، درخت، اور جانوروں کی تخلیق کا ذکر آتا ہے تاکہ انسان غور و فکر کرے اور اللہ کی قدرت کو پہچانے۔
فطرت کا مشاہدہ اور اس پر غور کرنا، ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور اللہ کی وحدانیت اور اس کی عظمت کا ادراک عطا کرتا ہے۔ ہمیں فطرت کی قدر کرنی چاہیے اور اسے نقصان سے بچانے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، تاکہ ہم اللہ کے پیغام کا احترام کر سکیں اور اس کے تخلیقی کاموں کی حفاظت کر سکیں۔

ہمارے احباب دن بھر نلتر میں فطرت کو قریب سے دیکھتے رہے. خوب مشاہدہ کیا. اپنے اپنے افکار و علوم سے دیگر کو مستفید کیا. اسلام اور سائنس کے آفاقی اصول بھی زیر بحث آئے. مختلف مضامین کے اساتذہ تھے جو اپنا اپنا علم شئیر کررہے تھے . بہر حال بہت کچھ سیکھنے کو ملا.

 

دوپہر کے وقت، سب نے ساتھ میں مل کر، کھیتوں کے درمیان زمین پر بیٹھ کرکھانا کھایا. میں نے نگرہ کے کھیتوں کے ٹاپ سے واپسی پر بہتی ندی کے پانی میں وضو کرکے نماز ظہر ادا کی اور ذرا دیر سے آیا. کھانا ختم ہوچکا تھا. کچھ ساتھی دو دو بار پلیٹوں میں گوشت بھر بھر کر کھاچکے تھے. ہم نے بھی بچا کچھا زہرمار کر دیا اور قہوہ خوب انجوائے کیا. کھانے پینے کے بعد جو کچرا جمع ہوا تھا، ہمارے احباب نے چن چن کر اس کو اٹھا لیا. بچی روٹی اور فروٹ کے چھلکے بیچ کھیت جانوروں کو کھلایا. ہڈیاں کتوں نے چانٹ لیں. یوں جہاں احباب نے فرشی نشست لگائی تھی صاف ستھری کرکے رکھ دیا. یہی اس خوبصورت مقام کا تقاضا بھی ہے کہ گندگی نہ پھیلائی جائے، تھوڑا بہت کچرا جمع بھی ہوجائے تو سنبھال کر لے جائیں اور دور کہیں پھینک دیں.

 

ہمارے پروفیسر احباب نے کھلے میدان میں ایک محفل سجھا رکھی تھی. ایک دوسرے کے ساتھ کہانیاں شیئر کیے جارہے تھے. ماضی کی حسین یادیں دہرائی جا رہی تھیں. لطائف کا زوروں تھا. اچانک غلام عباس صاحب نے ناچنا شروع کیا. پھر کیا تھا کہ سب باری باری ناچنے لگے. پرنسپل اسلم ندیم صاحب کی گاڑی میں بڑی سی سونڈ ڈیگ لگی ہوئی تھی اور مختلف مقامی گانے چل رہے تھے. ان پر پروفیسر احباب تھرک رہے تھے. ہم بھی دور بیٹھیں ان کی پرفارمنس کو دیکھ رہے تھے. کبھی قریب ہوکر کسی کے “ناچ شریف” پر تبصرہ مار دیتے . واقعی “علمائے ناچو” لگ رہے تھے.

 

یہ وہ لمحات تھے جب قدرت کی خوبصورتی نے سب کے دلوں کو چھو لیا تھا۔ قدرت کے حسن میں ہزار رعنائیاں پنہاں ہیں. ہم پر یہ رعنائیاں منکشف ہورہی تھیں.
میں نے ادھر ادھر مقامی لوگوں سے نلتر کے بارے میں مختلف دلچسپ معلومات بھی جمع کیں، جیسے کہ یہاں کے موسمی حالات، مقامی ثقافت، سیاحت، ہوٹل انڈسٹری اور لوگوں کی روزمرہ زندگی، بہت سی دلچسپ باتیں معلوم ہوئی جن کا کچھ تذکرہ ماقبل کے سطور میں ہوگیا ہے.

 

وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا، اور شام کا وقت قریب آ گیا۔ پروفیسروں نے واپس گلگت جانے کے لئے تیاریاں شروع کیں، لیکن نلتر کی وادی کی خوبصورتی ان کے دلوں میں ایک انمٹ نقش چھوڑ چکی تھی۔ گروپ فوٹو بنایا جاچکا تھا. احباب نے انفرادی اور اجتماعی طور پر بھی خوب فوٹو گرافی کر لی تھی. سلیمی صاحب کی تجویز تھی کہ راستے میں کہیں چائے پی لی جائے. اشتیاق یاد اس کی تائید کررہے تھے. ہم بھی یہی چاہتے تھے تاہم واپسی پر نومل میں جس ہوٹل میں چائے پی وہ جگہ تو اچھی تھی مگر چائے بہت بے کار. وہاں کافی دیر ٹھہرے رہے. احباب کے استفسار پر دوسری شادی کے متعلق اپنی تجاویز اور تجربات شئیر کیے.

پروفیسر احباب گلگت کی طرف واپسی میں جاتے ہوئے خوب خوش گپیاں کررہے تھے ، انہوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ وہ پھر سے نلتر کی وادی کا دورہ کریں گے، تاکہ قدرت کی اس خوبصورت تخلیق کا مزید لطف اٹھا سکیں۔

 

یہ ایک ایسا سفر تھا جو ہمیشہ کے لئے ان کے دلوں میں محفوظ رہے گا، اور نلتر کی خوبصورتی نے ان کے دلوں کو محبت اور سکون سے بھر دیا تھا۔ یہ یادیں مرتی نہیں، مرنے کے بعد بھی احباب کو زندہ رکھتی ہیں. رفیع صاحب جاتے ہوئے بھی اور واپسی پر بھی سب کو چھیڑ رہے تھے. سجی محفل میں بھی کوئی نہ کوئی مزاحیہ جملہ کَس دیتے تھے. ویسے وہ سفر میں تنگ نہ کرے اور جگت بازی کا مظاہرہ نہ کرے تو سفر پھیکا سا پڑ جاتا ہے.ہمارے ایسے اسفار میں، احباب کی بے تکلفیاں بھی عروج پر ہوتیں ہیں. غیر پارلیمانی الفاظ کا آزادانہ استعمال ہوتا ہے جن پر قدغن نہیں ہوتی.

 

وادی نلتر میں سیاحت کو بڑھوا دینے کے لیے چند تجاویز دل میں آرہی ہیں، جو عرض کیے دیتا ہوں.
انفراسٹرکچر کی بہتری بڑے پیمانے پر ہونی چاہیے. سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے تاکہ سیاحوں کو آسانی سے نلتر پہنچنے کا موقع مل سکے۔نلتر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ نیٹکو کے ذمہ داروں کو اس حوالے سے کچھ اچھا کر دکھانا چاہیے.

 

نلتر میں ہوٹل انڈسٹری نے قدم جمانا شروع کیا ہے. کئی محکموں کے ریسٹ ہاوس بھی ہیں. تاہم قیامطو طعام کے مزید آپشنز فراہم کیے سکتے ہیں ، جیسے کہ ہوٹلز، ریزورٹس، اور کیمپنگ سائٹس۔موجودہ گیسٹ ہاؤسز اور کیمپنگ سائٹس کے معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے. سستی اور مہنگی دونوں سہولیات موجود ہونی چاہیے تاکہ ہر کوئی نلتر سے لطف اٹھا سکے.

 

نلتر کی سیاحت کی ترقی کے لیے بھرپور مارکیٹنگ کی ضرورت ہے. نلتر کی خوبصورتی کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے اشتہاری مہم چلائی جائے۔ اور ابلاغ و اشتہار کے جملہ ذرائع استعمال کیے جائیں.

 

سیاحتی معلومات کے مراکز بنائے جائیں جہاں سیاحوں کو مقامی معلومات اور رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

سیاحوں کو ماحول دوست سیاحت کے بارے میں آگاہ کیا جائے اور ان سے توقع کی جائے کہ وہ اپنے کچرے کو صحیح طریقے سے ٹھکانے لگائیں۔ اور گندگی پھیلانے کا سبب نہ بنیں. اپنی گند کے ذریعے فطرت کو نقصان پہنچانا کسی صورت جائز نہیں.
نلتر کی قدرتی خوبصورتی اور جنگلی حیات کی حفاظت کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔ یہ مقامی لوگوں سمیت سیاحوں پر بھی لاگو ہوں.

سیاحتی سرگرمیوں کی متنوعیت شروع کی جائے. سیاحتی سرگرمیوں کی مختلف اقسام متعارف کی جائیں، جیسے کہ ہائیکنگ، راک کلائمبنگ وغیرہ.

مقامی لوگوں کے ساتھ ثقافتی تجربات کی فراہمی، جیسے کہ مقامی موسیقی، دستکاری، اور کھانوں کا تعارف۔ وغیرہ.

مقامی آبادی کو سیاحت کے شعبے میں روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ بھی سیاحت سے فائدہ اٹھا سکیں اور اپنی معیشت بہتر بنا سکیں۔

مقامی افراد کو سیاحوں کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کا سلیقہ سکھانے کے لئے ترتیب دی جائے۔

نلتر میں طبی سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ہنگامی صورت حال میں سیاحوں کو فوری مدد مل سکے۔ اور ہمہ وقت کچھ ایمبولینس یہاں موجود ہونے چاہیے.

سیاحوں کی حفاظت کے لیے پولیس اور سیکیورٹی کے انتظامات کو مضبوط بنایا جائے۔ مقامی لوگوں کی سیکورٹی بھی بہت اہم ہے.

ان چند تجاویز پر محکمہ سیاحت گلگت بلتستان و پاکستان غور کرسکتی ہیں. اگر ان پر عمل پیرا ہونا شروع کیا گیا تو یہ تجاویز نلتر میں سیاحت کو فروغ دینے اور سیاحوں کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتی ہیں۔ ان پر عمل کرنے سے نہ صرف سیاحوں کو ایک خوشگوار ماحول حاصل ہوگا، بلکہ نلتر اور گلگت بلتستان و پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

chitraltimes nalter Gilgit baltistan

chitraltimes naltar gilgit baltistan tour haqqani 1

chitraltimes naltar gilgit baltistan tour haqqani 2 chitraltimes naltar gilgit baltistan tour haqqani 3

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88366

بارش اور محبتوں کے اڑان – خاطرات :امیرجان حقانی

Posted on

بارش اور محبتوں کے اڑان – خاطرات :امیرجان حقانی

 

بارش، قدرت کا ایک حسین تحفہ ہے جو نہ صرف بحر و بر کو فیضیاب کرتا ہے بلکہ دلوں کو بھی تازگی، فرحت اور سکون بخشتا ہے۔ آج پڑی بنگلہ میں جب ہلکی ہلکی بارش ہورہی ہے، تو فضا میں ایک رومانٹک سرور چھا گیا ہے۔ ہر بوند جو زمین پر گرتی ہے، جیسے کہ محبت کا ایک نرم لمس ہو جو دلوں کو گرما دیتا ہے۔ دل جب گرما جائے تو پھر دنیا ہی بدل جاتی ہے.

بارش کی رعنائی میں ایک عجیب سی کشش ہے۔ یہ سب کچھ بدل دیتی ہے، ہر منظر کو نئے رنگوں سے سجا دیتی ہے۔ درختوں کی پتے دھل جاتے ہیں اور وہ ایک نئے جیون کا احساس دیتے ہیں۔ شاید یہ ایام بھی جیون کے ملاپ کے ہیں. گلیوں، سڑکوں اور پانی کا نالیوں میں پانی کی ننھی ننھی ندیاں بہنے لگتی ہیں، جیسے کہ یہ محبت کی راہیں ہوں جو دلوں کو جوڑتی ہیں۔

جب بادل چھا جاتے ہیں اور بارش برستی ہے، تو ہر چیز کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے۔ لوگوں کے چہرے مسکرا اٹھتے ہیں، جیسے کہ وہ محبت کے نئے جذبے سے لبریز ہوں۔ کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے، ہر منظر ایک دلکش تصویر بن جاتا ہے. اس وقت میں لکھ بھی رہا اور میرے صحن کے درخت اور پھول اور بیل بوٹے مجھے دیکھ کر اپنی ننھی ننھی ٹہنیاں ہلا ہلا کر اپنی محبت کا اظہار بھی کررہے ہیں. شاید وہ مجھے سلام کررہے ہیں. کچھ پرندے بھی ادھر ادھر پھدک رہے ہیں اور خوبصورت آوازیں نکال رہے ہیں. ۔ہر منظر دل کا بھا لیتا ہے.

بارش کے دنوں چھتریاں کھلتی ہیں، جیسے کہ محبت کے پھول کھل رہے ہوں۔ ان بارشوں میں رعنا جوان اور ضعیف بوڑھے چھتریوں کے پَر کھولے گلاب کی پنکھڑیوں کی طرح ہر جانب حسن بکھیر رہے ہوتے ہیں.

اس وقت پڑی بنگلہ میں میرے سامنے ہلکی بارش ہورہی ہے. دھوپ نے بھی اپنا انچل دکھا دیا ہے اور میرے سامنے گرم گرم چائے کا ایک کپ پڑا ہے. ویسے آپس کی بات ہے کہ بارش کے دوران ایگ گرم کپ چائے یا کافی ، ایک رومانٹک ناول، اور ساتھ میں اپنے محبوب کی موجودگی، یہ سب مل کر ایک خوابیدہ دنیا کا منظر بناتے ہیں۔ میرے پاس رومانٹک ناول تو نہیں فی الحال تفہیم القرآن کی پہلی جلد ہے جس میں مقدمہ تفہیم القرآن کا مطالعہ ہورہا ہے. اردو تفاسیر میں تفہیم القرآن بھی رومان سے کم نہیں.
میں سماجی علوم کا دینی طالب علم ہوں. کوشش کرتا ہوں کہ سماجی اور فطری امور کو دینی علوم کی روشنی میں سمجھوں.
قران مجید میں فطرت کا فلسفہ بہت جامع اور گہرا ہے. اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت، اور تخلیق کے مختلف پہلو قرآن میں بیان کیے گئے ہیں، جن میں بارش اور اس کے اثرات بھی شامل ہیں۔

بارش کو زمین کی زندگی کہا گیا ہے. بارش کو اللہ کی قدرت خاص بیان کیا گیا ہے اور فطرت کی علامت کہا گیا. بارش کے نزول کو توازن و اعتدال اور انصاف سے تعبیر کرکے انسان کو راہ اعتدال دکھایا گیا ہے. بارش رحمت اور حیات ہے.

قرآن کریم میں حضرت انسان کو فطرت کا محافظ قرار دیا گیا ہے۔ انسان کو فطرت کا خیال رکھنے اور اس کی حفاظت کرنے کی بھاری ذمہ داری سونپ دی گئی ہے. بارش سمیت دیگر قدرتی وسائل کو ضائع یا نقصان پہنچانے سے روکا گیا ہے.انسان کو پابند بنا دیتا ہے کہ وہ قدرت کا احترام کرے اور اس کی حفاظت کرے۔ بارش کا ذکر نہ صرف اللہ کی رحمت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ انسان کو فطرت کے ساتھ ہم آہنگی میں رہنے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ اگر آپ فطرت کیساتھ ہم آہنگی میں رہنا چاہتے ہیں تو بس اتنا ضرور کیجئے کہ بارش کی لمس اور نرمی و توازن کو محسوس کیجئے اور اسے خوب لطف اٹھائیں. لطف اٹھانے کا طریقہ ہر ایک کا مختلف ہوسکتا ہے.

بارش کے ساتھ ایک خاموشی ہوتی ہے، جو دلوں کو قریب لے آتی ہے۔ یہ لمحے زندگی کی وہ نرمی ہیں جو ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔
آج پڑی بنگلہ میں رم جھم بارش ہونی چاہیے تھی مگر ہلکا بوندا باندی ہوئی جو کئی دنوں سے پیاسے کھیتوں اور درختوں کے لیے ناکافی ہیں.

یہ بارش کا حسن ہے، جو دلوں کو گرما دیتا ہے اور زندگی میں ایک نیا رنگ بھرتا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے، تو یوں لگتا ہے کہ قدرت نے محبت کے پیغام کو زمین پر بھیج دیا ہو، تاکہ ہم سب کو یاد دلائے کہ محبت ہی وہ جذبہ ہے جو سب کچھ بدل دیتا ہے۔ لگتا ایسا ہے کہ بارش کے ان دنوں میں گلگت بلتستان کے ہر فرد کے صالح جذبات بدل کر رہ جائیں گے اور نباتات، حیوانات اور جمادات محبتوں کے اڑان بھریں گے.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88104

سوشل میڈیا اور سماجی اقدار- خاطرات: امیرجان حقانی

Posted on

سوشل میڈیا اور سماجی اقدار- خاطرات: امیرجان حقانی

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔مسلمانوں کی شاندار سماجی اقدار ہیں۔ یہ ایسی اقدار ہیں جو پوری انسانیت کے لیے ماڈل اور نمونہ ہیں۔انسانی سماج میں ارتقاء کا عمل جاری ہے۔اس سماجی نظام میں ہر صبح کوئی نہ کوئی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے۔اور یہ تبدیلی کسی نئے پیغام  اور حقیقت کا مژدہ سنا دیتی ہے۔کائنات میں ہر طرح کی تبدیلیوں کی طرح ذرائع ابلاغ میں بھی  تبدیلیاں اور ترقیاں جاری ہیں۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو درست ہوگا کہ ذرائع ابلاغ کے میدان میں شعبہ ہائے زندگی کے تمام شعبوں میں ترقی زیادہ ہوئی ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلمانان عالم   میڈیائی ترقی کے ان مراحل میں رہنماء بننے کی بجائے  مسلسل پسماندگی کا شکار ہیں۔ذرائع ابلاغ کے تمام بڑے نیٹ ورک غیروں کے قبضے میں ہیں جہاں مسلمانوں کی کوئی شنوائی نہیں۔ذاتی اور ریاستی دونوں سطح پر مسلم دنیا تنزلی کا شکار ہے۔

سوشل میڈیا اور سماجی اقدار کے درمیان قریبی اور گہر اتعلق ہے۔ جدید دور میں، سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لا کر روابط کو آسان بنا دیا ہے۔درست معنوں میں دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ ہم پلک جھپکنے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور لاکھوں میل دور لوگوں سے آسانی سے رابطہ اور علمی و سماجی موضوعات پر مکالمہ کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ  ہی  سوشل میڈیا نے سماجی اقدار کو متاثر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، اور یہ اثرات مثبت اور منفی دونوں ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا کے  ہتھیار سے ہمارے ملی، دینی، اورقومی مفادات ، تہذیبی اقدار  اور دینی افکار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔سوشل میڈیا ایک بہتا دریا ہے۔اس کے صارفین اس میں جواہر اور موتی بھی ڈال سکتے ہیں  اور زہر بھی انڈیل سکتے ہیں۔اگر آج کے مسلم نوجوان کی سماجی رابطوں پر ترجیحات کا جائزہ لیا جائے تو وہ اس فورم میں گند اور کچرا ہی ڈال رہے ہیں۔ سوشل میڈیا جتنا اخلاقی، تبلیغی اور تعلیمی نقطہ نظر سے مفید تر ہے  اسی لیول میں ہی  انسانی اقدار و اخلاق کو تباہ و برباد کرنے میں بھی موثر ہے۔

سماجی اقدار وہ اصول اور اخلاقی معیارات ہیں جو معاشرتی رویے اور اجتماعی زندگی کے معیارات کو طے کرتے ہیں۔ یہ اقدار معاشرتی رویوں، قوانین، اور اخلاقیات کو تشکیل دیتی ہیں، اور وہی اقدار ثقافت یا مذہب کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ علوم دینیہ کے مفکرین کو اس باب میں غور و خوض کی ضرورت ہے۔سماجی مشکلات کا حل دینا اور سماجی اقدار کو علوم دینیہ کی روشنی میں حل دینا آج کے مسلم سماجی مفکرین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے مگر وہ صدیوں پرانے فروعی معاملات میں الجھے ہوئے ہیں۔

عمومی سماجی اقدار میں  دوسرے کے حقوق،  خیالات و افکار کا احترام، ایمانداری، انصاف اور غیر جانبدارانہ سلوک،شفقت و رحمدلی، محبت و مودت اور تعاون اور بالخصوص مختلف الفکر  والعقائد لوگوں اور ان کی سماجی و ثقافتی اقدار  کے ساتھ برداشت و قبولیت  کے ساتھ رہناشامل ہیں۔اسلام کی خاصیت یہ ہے کہ ان سب کو سموتے ہوئے کئی ایک مزید اقدار کی بات کرتا ہے۔ جن میں تقویٰ، عدل ، مواخات، حیا، احسان، شکرگزاری، صبر، عزت و احترام اور صدقہ و خیرات اور مواخاۃ قابل ذکر ہیں۔فحشاء و رزائل، ظلم و ستم  اور نفرت و تعصب سے اجتناب  اور  پرہیز اسلام کی امتیازی  قدریں ہیں۔ان اعلی شان قدروں کو جدید خطوط میں مرتب کرنا اور بیان کرنا علماء اسلام کا کام ہے۔کیا وہ اپنی اس ذمہ داری کو نبھا رہے ہیں؟۔

سوشل میڈیا آج کل ہماری روزمرہ زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔جدید انسان کا اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ لوگ مختلف پلیٹ فارمز جیسے فیس بک، ٹویٹر(ایکس)، انسٹاگرام،ٹک ٹاک،یوٹیوب،ٹیلی گرام،لنکڈ  ان، اسنیپ چیٹ،ریڈڈیٹ،پنٹیرٹ،ڈسکارڈ اور واٹس ایپ کے ذریعے اپنے خیالات اور احساسات کا اظہار کرتے ہیں۔یہ پلیٹ فارمز مختلف مقاصدمثلا جغرافیائی، علاقائی،مذہبی ،سماجی اور مخصوص دلچسپیوں کے لیے استعمال ہوتی ہیں اورمعلومات کی رسائی کا  اہم،تیز ترین اور سستا ترین ذریعہ بھی بن گئے ہیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے، خاص طور پر مقدسات اسلامی کی توہین کے حوالے سے اس پلیٹ فارم کو انتہائی بے دردی سے استعمال کیا جاتا ہے ۔

اسلام کے مقدسات میں قرآن کریم، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام،اہل بیت عظام،ائمہ اطہار،دینی شعائر، حرمین شریفن اور دیگر انبیاء کرام اور اسمانی کتب شامل ہیں۔ جب سوشل میڈیا پر مقدسات اسلامی کی توہین کی جاتی ہے، تو یہ عمل، نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے، بلکہ سماجی اقدار اور بین المذاہب ہم آہنگی کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ سوشل میڈیا نے اسلامی اقدار و شعائر کے ساتھ دیگر سماجی اقدار کا بھی جنازہ نکل کر رکھ دیا ہے۔

 

سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹی خبریں پھیلائی جارہی ہیں۔بہتان تراشی اور تہمت اندازی کا وسیلہ بنایا گیا ہے۔اس کو نفرت کی آگ لگانے اور فرقہ پرستی کے لیے بھی  کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی طرح دہشت گرد گروہ بھی اس کو خوب استعمال کرتے ہیں۔اور مختلف مذاہب کے خود ساختہ خدائی فوجدار بھی عام مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے سوشل میڈیا کے جملہ ٹولز  اور پلیٹ فارمز کمال مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح ہماری سماجی اقدار کی بربادی کے لیے  فحشاء کی اشاعت  اور بے حیائی کی خوب تبلیغ کی جاتی ہیں۔سنجیدہ  معاشروں میں جو چیزیں خلوت اور میاں بیوی کے درمیان معیوب سمجھی جاتی ہیں  ان کا استعمال و اظہار بھی سوشل میڈیا میں ڈھٹائی کے ساتھ بلکہ فخریہ کیا  جاتا ہے۔یوٹیوبرز اور ٹک ٹاکرز نے دھوم مچا کر رکھ دیا ہے۔یہ وہ چیزیں ہیں جن سے ہماری نوجوان نسل تباہ ہورہی ہیں ۔ یہی چیزیں اخلاقی اقدار کے لیے تباہ کن اورزہر ہلاہل سے کسی طور کم نہیں۔بندہ نہ چاہتے ہوئے بھی یہ سب کچھ دیکھنے اور سننے پر مجبور ہوجاتا ہے۔حد یہ ہے کہ کوئی چارہ گر نہیں۔

 

سوشل میڈیا میں رسول اللہ ﷺ ، اصحاب رسول ﷺ، اہل بیت عظام، قرآن کریم اور دیگر مقدس مقامات و شخصیات کے متعلق غلیظ پروپیگنڈ کیا جاتا ہے۔ اس میں غیروں کے ساتھ اپنے نادان دوست بھی شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سماج میں برے اثرات مرتب ہوتے اور اور مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔اس سب کے باوجود مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ صبر کے ساتھ متانت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ قانون ہاتھ میں بالکل نہ لیں۔نفرت سے خود کو بھی بچائیں اور اپنے معاشرے کے دیگر لوگوں کو بھی بچائیں بالخصوص غیر مسلموں بھائیوں کی تضحیک و توہین اور ان کے مذہبی شعائر و مقاسات کی قطعا بے حرمتی نہ کریں۔ اور ایسا کرنے والوں کے خلاف ملکی قوانین کی روشنی میں کاروائی عمل میں لائیں۔

 

یہاں یہ بات ضروری ہے کہ ہم سب مل کر سوشل میڈیا کے صحیح استعمال کو فروغ دیں اور غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائیں۔ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر مقدسات اسلامی کی توہین کے خلاف سخت قوانین بنائیں اور ان قوانین کا سختی سے اطلاق کریں۔ اسی طرح، سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنی پالیسیوں میں مقدسات کی توہین کے خلاف سخت اقدامات اٹھانے چاہیے۔تاکہ ہمارا سماج مزید بربادی سے بچ سکے اور ہماری اقدار کا جنازہ نہ نکلے۔

 

آخر میں، ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو ایک مثبت اور احترام پر مبنی پلیٹ فارم بنائیں۔ ہمیں اپنے الفاظ اور اعمال میں احتیاط برتنا چاہیے اور مقدسات اسلامی کی توہین کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہونا چاہیے۔ یہ صرف ایک مذہب یا کمیونٹی کی بات نہیں ہے؛ یہ انسانیت اور سماجی اقدار کا سوال ہے۔

 

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
88056

شندور قتل کیس میں نامزد ملزمان کی 22 سال بعد گلگت میں گرفتاری، ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ بیوہ خاتون کا عدالت عالیہ استدعا

شندور قتل کیس میں نامزد ملزمان کی 22 سال بعد گلگت میں گرفتاری، ملزمان کو کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ بیوہ خاتون کا عدالت عالیہ استدعا

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) 2022 میں چترال کی ایک رہائشی خاتون نے چترال ٹائمز کی توسط سے ایک پریس کانفرس ریکارڈ کرائی کہ میرے خاوند چترال چیوڈوک کے رہائشی عظمت خدا (مرحوم) ایک ٹیکسی/ جیب ڈرائیور تھا جو کہ اپنے ساتھی/ کنڈکٹر کے ساتھ مورخہ 16.10.2002 کو ایک بوکنگ پر چترال سے گلگت کے لئے روانہ ہوا جو کہ گلگت جاتے ہوئے شندور بمقام مس جنالی کے قریب جیب میں سوار سوار/ حملہ آوروں/ ملزمان نے بے دردی سےقتل کر دیے۔ جبکہ مقدمے کی ایف آئی آر مقامی پولیس نے پولیس اسٹیشن مستوج میں درج کیے تھے جہان گلگت سے تعلق رکھنے والے پانچ ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا اور بعد ازان ایک ملزم جہان زیب ولد منصور خان ساکنہ سگور گلگت بلتستان کو گرفتار کیا گیا۔ جہان وہ ٹرائل کورٹ/ سیشن جج چترال کی عدالت نے ایک ملزم کو سزا کا مرتکب پا کر مجرم قرار دیا ۔ جبکہ بقیہ (4) چار ملزماں ابھی تک مفرور ہیں۔ فاضل عدالت کی جانب سےرو پوش ملزمان کے خلاف NBWs جاری کرنے کے باوجود متعلقہ SHO ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس بابت خاتون نے نے متعدد بار حکام بالا کو درخواستیں/اپیل جمع کروائیں لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

 

چترال ٹائمز کی توسط سے واقعے کی خبر لیتے ہوئے چترال کے نوجوان سپوت شیر حیدر خان ایڈوکیٹ ہائی کورٹ نے متاثرہ خاندان سے ہمدری کا اظہار کر تے ہوئے ملزمان کو کیفر کردار تک پنچانے کے لئے پشاور ہائی کورٹ میں متاثرہ خاندان کی جانب سے ایک رٹ پٹیشن ڈائیر کی جسکی عدالت عالیہ نے ںوٹس لیتے ہوئے حکومت پاکستان و دیگر اعلٰی حکام و اداروں کے غیر اطمنان بخش کاروائی پر سرزنش کی اور حکومت پاکستان و دیگر اعلٰی حکام کو حکم جاری کی کہ ملزمان بالا کی ہر قیمت پر گرفتاری عمل میں لائی جائےاور قانون کی کٹہرے میں پیش کی جائے۔ عدالت عالیہ کے احکامات کے بعد مقدمے میں دلچسپی آئی کی ملزمان بالا میں ملزم شاہ زیب ولد منصور خان ساکنہ سگور گلگت بلتستان، حکومت گلگت بلتستان کے حاضر سروس ملازم ہے اور حکام کو اچھی طرح معلومات ہونے کے باوجودملزم کی گرفتاری و حوالہ قانون کرنے کو تیار نہیں۔

 

عدالت عالیہ کے احکامات پر حکومت گلگت بلتستان و گلگت بلتستان پولیس نے سی ٹی ڈی آپریشنل ٹیم پر مشتمل ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی جو کہ مطلوب اشتہاری ملزمان شاہ زیب ولد منصور خان, علیم الله ولد شیریں خان ساکنان (سگوار ) گلگت کو سکوار میں ایک سرچ آپریشن کے دوران گرفتار کر کے سی ٹی ڈی تھانہ منتقل کیا۔ جو ملزمان نےاعتراف کیا کہ سال 2002 میں شریک ملزمان کے ہمراہ چترال سے ایک شخص کی گاڑی بنیت ڈکیتی بک کر کے گلگت لاتے ہوئے راستے میں دو بندوں کو ہے دردی سے قتل کر کے گاڑی کو لے کر فرار ہوئے تھے۔

 

متاثرہ خاتون نے چترال ٹائمز اور متعلقہ حکام و ایڈوکیٹ شیر حیدر خان کا خصوصی شکریہ ادا کی جو کہ 22 سالوں سے حصول انصاف کے لئے لڑتی رہی اور باا آخر 1 سال کے اندر اندر وکیل و عدالت عالیہ کے خصوصی دلچسپی کی وجہ سے مفرور ملزمان تک رسائی ممکن ہو ئی اور استدعا کی ہے کر ملزمان کو کٹری سے کٹری سزا دی جائے تا کہ آئیندہ کوئی کسی کا نسل برباد کرنے سے پہلے ہزار بار سوچ لے۔

chitraltimes chewdok resident zarmast press confrence

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
87661

جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ کنزرویٹر جنگلی حیات ،وزارت موسمیاتی تبدیلی

جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ کنزرویٹر جنگلی حیات ،وزارت موسمیاتی تبدیلی

 

اسلام آباد (چترال ٹائمز رپورٹ ) پاکستان میں جنگلی حیات کےغیر قانونی شکار کو روکنے اور جرائم کی تفتیش کے حوالوں سے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ دور دراز مقامات، محدود وسائل اور فوری رسائی نہ ہونے کی وجہ سے شواہد کے حصول میں ہمیشہ سے مشکلات درپیش رہی ہیں۔

 

اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے، سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کے جرائم کے ثبوتوں کو اکھٹا کرنے کے حوالے سےجدید سائنسی بنیادوں پر ٹریننگ کا اہتمام کیا۔ خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ جنگلی حیات، اسلام آباد وائلڈ لائف مینجمنٹ بورڈ، ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اور سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کے دس اہلکاروں نے 3 روزہ تربیت کامیابی سے مکمل کر لی۔ کینیڈا کے جنگلی حیات کے ماہربرائن پیٹرر نے تربیت فراہم کی۔

 

اختتامی اور تقسیم اسناد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ثمر حسین خان کنزرویٹر جنگلات وزارت موسمیاتی تبدیلی نے کہا کہ وائلڈ لائف گارڈز/ واچرز نچلی سطح پر جنگلی حیات کے تحفظ میں بہترین کردار ادا کررہے ہیں۔ مقامی کمیونٹیز کے ساتھ مل کر کی جانے والی کوششیں ہماری جنگلی حیات کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے بہت اہم ہیں۔ وقت کے ساتھ ان کی پیشہ وارانہ مہارتوں کو بڑھانا بھی بہت ضروری ہے۔

 

ثمر حسین خان نے تربیت کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل پر سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، صوبائی محکمہ جنگلی حیات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے دوسرے مرحلے کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور تربیت حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ایک روشن مستقبل کے لیے برفانی چیتے سمیت حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کے لئے اپنی بھر پور توانائیاں صرف کریں گے۔

اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے برائن پیٹرر نے کہا کہ جنگلی حیات کےغیر قانونی شکار کو روکنے اور جرائم کی تفتیش کے حوالوں سے ثبوتوں کو بہتر طریقے سے اکھٹا کرنے اور شواہد کے طور پر پیش کرنے کے لیے شرکاء کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر خوشی ہوئی۔ اس تربیت سے حکومت پاکستان اور سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن جیسی تنظیموں کو ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لئے اٹھائی جانے والی کوششوں کو تقویت ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ اس ٹریننگ کے بعد شکاریوں اور غلط کام کرنے والوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے عدالتوں میں سائنسی ثبوت فراہم کرنے کے حوالے سے شعور اجاگر ہوگا۔

 

اپنے پیغام میں ڈائریکٹرسنو لیپرڈ فاؤنڈیشن علی نواز نے جنگلی حیات سے متعلقہ جرائم سے نمٹنے کے لیے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جنگلی حیات کے موثر تحفظ کے لیے فیلڈ سٹاف کو ضروری مہارتوں سے آراستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے جنگلی حیات کے جرائم کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے حکومت، کمیونٹیز اور ایس ایل ایف جیسی تنظیموں کے درمیان تعاون کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ علی نواز نے جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایس ایل ایف کے عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کی حیاتیاتی تنوع کے بقا کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

 

سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن، سنو لیپرڈ ٹرسٹ کے ساتھ مل کر “سٹیزن رینجرز وائلڈ لائف پروٹیکشن پروگرام (سی آر ڈبلیو پی پی)” پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد بلند پہاڑی علاقوں میں غیر قانونی شکار اور جنگلی حیات کی تجارت کے خلاف موثر اقدامات اٹھانا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کی وزارت کے تعاون سے، کلیدی سرگرمیوں میں رینجرز کو تربیت اور لیس کرنا اور ماسٹر ٹرینرز کا نیٹ ورک قائم کرنا بھی اسی پروگرام کا حصہ ہیں۔ اس سال مختلف شعبوں سے 50 افراد کو تربیت فرہم کی جائے گی۔

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, گلگت بلتستانTagged
87658

شندور کے مقام پر دو افراد کو قتل کرکے گاڑی لیکر فرار ہونے والے ملزمان بائیس سال بعد گلگت میں گرفتار

Posted on

 شندور کے مقام پر دو افراد کو قتل کرکے گاڑی لیکر فرار ہونے والے ملزمان بائیس سال بعد گلگت میں گرفتار

گلگت ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گزشتہ دن سی ٹی ڈی آپریشنل ٹیم گلگت نے sip عارف جان کی سربراہی میں مقدمہ علت نمبر48/02 بجرائم 302 ت پ 17 حرا بہ تھانہ مستوج چترال خیبرپختونخوا کو مطلوب اشتہاری ملزمان شاہ زیب ولد منصور خان اور علیم اللہ ولد شیریں خان ساکنان سكوار ضلع گلگت کو سکوار میں ایک سرچ آپریشن کے دوران گرفتار کر کے سی ٹی ڈی تھانہ منتقل کیا ہے ۔

یاد رہے مجرمان مذکوران نے سال 2002 کو اپنے شریک مجرمان کے ہمراہ چترال سے ایک شخص کی گاڑی بنيت ڈکیتی بک کر کے گلگت لاتے ہوےراستے میں شندور کے مقام پر دو افراد گاڑی ڈرائیور عصمت خداولد خوش خدا اور شاگرد سکندر شاہ ولد فقیر محمد ساکنان چیوڈوک چترال
کو بے دردی سے قتل کر کے لینڈکروزر گاڑ ی کو لے کر فرار ہوے تھے ۔ بعد میں گاڑی کو گلگت سے برآمد کیا گیا تھا،جبکہ مجرمان کو سیشن عدالت چترال سے سزا بھی ہوئی ہے۔

پریس ریلیز کےمطابق مجرمان اشتہاری کی گرفتاری کیلئے 22 سال کمے دوران چترال پولیس کی ٹیم 2/3 بار گلگت آی ہوئی تھی جو کہ ناکام ہوئی ۔۔مجرمان اشتہاری کو گرفتار کرنے کے لئے IG گلگت بلتستان نے AIG CTD گلگت کو خصوصی ٹاسک دیا تھا۔

 

ٹیکسی ڈرائیور کے بیوہ کی مجرمان کی گرفتاری بارے پریس کانفرنس 

https://chitraltimes.com/2021/10/14/53583/

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریں, گلگت بلتستانTagged
87615

فلک نور کیس: اب بھی راستہ ہے – خاطرات:امیرجان حقانی

Posted on

فلک نور کیس: اب بھی راستہ ہے – خاطرات:امیرجان حقانی

فلک نور اور فرید کا کیس عدالت کے ذریعے منطقی انجام کو پہنچ گیا. اللہ نہ کرے کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ یہ معاملہ ہو، ایسی کسی سیچوئیشن کی  نوبت ہی نہ آجائے. اولاد بالخصوص بچیوں کی ترتیب و نگرانی کا کڑا خیال رکھا جانا چاہیے. عورت ذات بہر حال جلدی جھانسے میں آجاتی ہے. اور اگر وہ کم عمر بھی ہو تو جلدی ٹریپ میں آجاتی ہے.

 

falak noor gilgit baltistan

 

اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر کیا کیا جائے. یعنی لڑکی اپنی مرضی سے کسی کیساتھ جاکر نکاح کرتی ہے  تو

پہلی صورت:

پہلی صورت میں لڑکا لڑکی کے والدین اور سرپرست کوشش کریں کہ کیس کو اچھالنے کی بجائے باہمی افہام و تفہیم سے، لڑکا لڑکی کی خواہش کا احترام کرکے، شریعت کے احکام کے مطابق ان کو زندگی گزارنے دیں. اس حد سے گزرنے کے بعد مزید روڑے اٹکانے سے گریز بہتر ہے.

دوسری صورت:

دوسری صورت جرگہ کے ذریعے معاملات نمٹا دیے جائیں. یہ بھی ہمارے ہاں روایتی طریقہ کار ہے. تمام مکاتب فکر کے ہاں جرگہ کے ذریعے معاملات نمٹانے کی شکلیں موجود ہیں. ہمارے جی بی میں اسکی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں.

تسیری صورت:

تیسری صورت نظم، قانون اور عدالت کا راستہ اختیار کیا جائے. سسٹم سے مدد لی جائے. یہ والا راستہ مشکل، مہنگا اور جان جوکھوں والا ہے. ہمارا انتظامی اور عدالتی سسٹم کوئی مثالی نہیں، نہ اس سے خیر کی توقع کی جاسکتی ہے. بہر حال ایک راستہ ہے.

چوتھی صورت:

چوتھی صورت عموماً دشمنی، قتل اور اسی شکل میں بدلہ کی ہوتی ہے. بہر حال اس آخری صورت کی نہ شرع اجازت دیتی ہے نہ ملکی سسٹم. اور نہ ہی اس میں خیر ہے. اس سے گریز بہتر ہے.

یہاں تک فلک نور اور فرید کا معاملہ ہے. کسی بھی سنجیدہ فکر انسان نے اس کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی کرنے کی گنجائش موجود ہے. اللہ کسی باپ بھائی کو یہ دن نہ دکھلائے.
اب قانون کے مطابق جو بھی فیصلہ ہوا ہے سب کو قبول کرنا چاہیے. مزید اس سماجی ناسور اور گندگی کو کریدنے کی ضرورت نہیں. جتنا کریدا جائے اتنا ہی بدبو نکلے گا اور کچھ نہیں.

تاہم اگر فلک نور اور اسکا شوہر فرید عالم اور اسکی  فیملی چاہیے تو اب بھی اس تباہی اور بدنامی کا ازالہ ہوسکتا ہے. یہ بدبو کسی حد تک ختم ہوسکتی ہے.
اگر فرید کے والدین اور پوری فیملی خواتین سمیت فلک نور کے والد کے گھر معافی تلافی کے لیے پہنچ جائیں. ان کے گھر، جرگہ بھیج دیں. غلطی کا احساس کریں اور معیاری طریقے سے ازالہ کی کوشش کریں، فلک نور اور فرید عالم بھی ان کے پاؤں پڑ کر معافی مانگ لیں اور اپنی غلطی اور جلدبازی پر  کھلے دل سے معافی مانگ لیں تو بعید نہیں کہ فلک نور کا باپ اور دیگر فیملی والے ان کو معاف نہ کریں. معافی کے لیے گھر پہنچنے پر کئی کئی خون معاف کیے جاتے ہیں. یہ ہمارے رسول اللہ کا طریقہ بھی ہے اور ہماری قدیم روایت بھی.

مجھے معلوم نہیں کہ یہ فرید کون اور کہاں سے ہے. جو بھی ہے اگر یہ فیملی سمیت اپنے سسر اور ساس کے پاس معافی مانگنے کے لیے پہنچ جائے تو فلک نور کا باپ اور فیملی معاف بھی کریں گے اور دل سے قبول بھی کریں گے. اس سے خیر بھی برآمد ہوگا.
ورنا والدین کو ہرا کر ایسے رشتے دیرپا ثابت نہیں ہوتے ہیں. فلک نور اپنے والدین سے جیت گئی. قانون نے ان کا راستہ صاف کیا. اب وہ دل بڑا کرکے ایک دفعہ معافی مانگنے کے لئے اپنے شوہر اور اسکی فیملی لے کر پہنچ جائے.
کاش!
ایسا ہوجائے. ورنا اس رشتے کا انجام برا ہوگا. اس کا احساس اب فلک نور، فرید اور اس کی فیملی کو کرنا چاہیے. زندگی صرف محبت کی شادی کرنا اور کورٹ سے جیت جانے کا نام نہیں. اور نہ ہی والدین کو ہرانا ہے. والدین سے جیت جانے کا انجام بہت برا ہوتا ہے. زندگی یہی ہے کہ اپنی محبت پانے کے بعد جیسے تیسے والدین کو راضی کرنا اور اللہ کو بھی راضی کرنا ہے. والدین اور اللہ کو راضی کرنے کا اب ایک ہی راستہ بچا ہے کہ رو دھو کر ان سے معافی مانگ لی جائے.

ایک بات نوٹ کرنے کی ہے. والدین جتنے بھی سخت ہوں یا جتنے بھی ناراض ہو مگر وہ دل سے ناراض نہیں ہوسکتے اور بہت جلدی معاف کرجاتے ہیں. یہ خدا کی فطرت ہے کہ والدین کے دل میں اولاد کی بے تحاشا محبت ہوتی ہے. بے شک اولاد کا دل کہیں اور ہوتا ہے مگر والدین کا دل ہمیشہ اولاد کے لیے دھڑکتا ہے.

فلک نور بے شک تم نے اپنی محبت کو پا لیا. تم نے فرید کے لیے وہ کچھ کیا جو ایک کم عمر لڑکی یا کوئی خاتون سوچ بھی نہیں سکتی. والدین کا گھر چھوڑنا مذاق نہیں، مگر تم نے کرلیا. بوڑھے باپ کے آنسو تمہارا دل پسیج نہیں سکے، سوشل میڈیا کے ایکٹیوسٹ بھی تمہارا کیس ہار گئے. عدالتوں نے بھی آپ کے جذبات کا احترام کیا. میڈیا نے بھی آپ کی مدد نہیں کی تو مخالفت بھی نہیں کی.

فلک نور تمہاری محبت جیت گئی ہمارا سماج ہار گیا. تمہاری محبت جیت گئی ہماری روایات ہار گئیں. جی ہاں تمہاری محبت جیت گئی والدین کا مان ٹوٹ گیا، بھائیوں کا بھرم بکھر گیا. وہ زندگی بھر خجالت کا یہ داغ لیے پھریں گے. اور کیا پتہ کل تمہارے بچوں کو کوئی طعنہ دے کہ ” تمہاری ماں تو بھاگ کر آئی تھی”. ان بچوں پر کیا گزرے گی..؟

مانتے ہیں تم نے اپنی محبت کے لیے یہ سب کچھ کیا ہوگا، محبت نام ہی قربانی اور ایثار کا ہے. پر تم یہ سب سیدھے طریقہ پر بھی تو کرسکتی تھی نا. تمہارے والدین تو اتنے ریجڈ نہیں ہونگے نا؟ انہیں تو پرنس کریم آغا خان نے بیٹیوں کو پاور فل بنانے کے درس دیا تھا وہ اس پر عمل پیرا بھی ہیں. تم ان سے بات کرلیتی، اپنے جذبات کنفیڈینس کیساتھ ان کے سامنے رکھ دیتی جیسے تم نے میڈیا اور کورٹ کے سامنے رکھا تو شاید کوئی با عزت راستہ نکل جاتا. لیکن تم نے وہ راستہ اپنا لیا جس سے والدین کی ناک کٹ گئی. تم والد /والدہ نہیں ہو نا اس لئے یہ درد محسوس کرنا فی الحال مشکل ہے. تمہارے ہاں تو بیٹیوں کی خوشی کا بڑا خیال رکھا جاتا ہے.

چلیں!

تم جہاں بھی رہیو خوش رہیو، ہماری دعا ہے.

مگر ایک بات یاد رکھو!

تم سب کچھ جیت جانے کے بعد بھی تم ہار گئی ہو. تمہارا فرید ہارا ہے. اس کی فیملی ہاری ہے. عنداللہ بھی تم ہارے ہو اور عندالناس بھی تم ہارے ہو.
مگر ہاں تم جیت سکتے ہو. تم بوڑھے والدین سے بھی جیت سکتے. عنداللہ و عندالناس بھی جیت سکتے. اس کے لئے ایک دفعہ، جی ہاں صرف ایک دفعہ اپنی ضد، اکڑ، ہٹ دھڑمی اور  غلطی کا احساس کرکے معافی مانگنے کا راستہ نکال لو.

اے کاش! فلک نور، فرید اور اس کی فیملی اب یہ راستہ اختیار کریں.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامینTagged
87392

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں – ممتاز گوہر

Posted on

فلک نور کیس سے جڑی غلط فہمیاں – ممتاز گوہر

falak noor gilgit baltistan

سب سے پہلے میں سلام پیش کرتا ہوں گلگت بلتستان کے چاروں مسالک کے ان تمام احباب کو جنھوں نے فلک نور کے کیس میں یہاں کے کچھ تنگ نظر لوگوں اور باقی دنیا کو بتا دیا کہ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں. بچوں کے حقوق کی کسی بھی قسم کی خلاف ورزی ہو تو مسلک، ذات پات اور علاقائیت سے نکل کر آواز اٹھانا سب کی اولین ترجیح ہونی چاہئے.

 

گلگت بلتستان کے مسلکی طور پر زخم شدہ معاشرے میں فلک نور کیس جو کہ ایک اغواء و کم عمری میں شادی کی ایک قانونی اور بنیادی انسانی حقوق کی مضبوط کیس ہے. یہاں کے کچھ ناعاقبت اندیش اس کیس کو بھی کھینچ کر اسی زخموں سے چور مسلکی کھاتے میں ڈالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں.

 

نادرا کے سرکاری دستاویزات کے مطابق فلک نور کی تاریخ پیدائش اٹھارہ جنوری 2012 ہے. اس حساب سے فلک نور کی عمر آج چھ اپریل 2024 کو بارہ سال دو مہینے اور انیس دن بن جاتے ہیں. اگر ہم کہیں کہ والد نے دو سال کم عمر لکھوالی ہے تو پھر بھی شادی کے لئے قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے. لڑکی کا قد اور جسامت سے اس کا عمر تعین نہیں کیا جا سکتا. چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ (سی ایم آر اے) 1929 کے تحت لڑکی کی شادی کے لیے کم از کم عمر کی حد 16 سال جبکہ لڑکے کی اٹھارہ سال مقرر ہے.

 

اب جو لوگ اس کم عمری کی شادی کے حق میں آواز اٹھا رہے ان سے سوال ہے کیا آپ اپنی بہن یا بیٹی کا اس عمر میں شادی کرائیں گے؟ وہ بھاگ جائے اسے قبول کرنا تو دور کی بات، اگر وہ اس عمر میں کسی کو پسند کرے اور شادی کی اجازت مانگے تو آپ شادی کرا دیں گے؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو مانیں یا نہ مانیں فلک نور کیس میں آپ لوگ کھل کر منافقت کر رہے ہو.

 

معصوم بچیوں کو بہلا پھسلا کر کم عمری میں بھگایا جائے یا کم عمری میں شادی کی جائے یہ کسی بھی مذہب یا مسلک میں پسندیدہ عمل نہیں ہے. بہتر ہے کہ ایک خاندانی نظام کے تحت خوبصورت علاقائی و قانونی تقاضوں کے مطابق یہ رسم ادا کی جائے. بچوں کی تربیت (پیرنٹنگ) کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے اور اس فیلڈ میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے.

 

گگت بلتستان میں مختلف مسالک کے لوگوں کی آپس میں شادیاں ہوتی رہی ہیں. فلک نور کا کیس پہلا ہے نہ ہی آخری. ایک ذمہ دار ذرائع کے مطابق گلگت بلتستان میں ڈیڑھ ماہ میں اٹھارہ سال سے زائد عمر کی پانچ لڑکیوں نے بھاگ کر شادیاں کی ہیں. ان میں سے چار نے دیگر مسالک میں شادیاں کی ہیں. کسی نے اس پر کوئی آواز نہیں اٹھائی. کیوں کہ ملکی اور عالمی قوانین کے مطابق وہ ایسا کر سکتی ہے۔ وہ اپنے فیصلوں پر آزاد ہیں۔

 

فلک نور کے حق میں آواز اٹھانے والوں کو مسلک کے ساتھ جوڑنے والو اگر ایسا ہی ہوتا تو ایسے تمام واقعات میں فلک نور کی طرح آواز اٹھایا جاتا. لیکن ایسا نہیں ہے. بچوں کے حقوق کا عالمی معاہدہ (یو این سی آر سی) ہو یا ملکی قوانین کم عمری کی شادی غیر قانونی ہے. اور غیر قانونی اقدام کو مسلک کے کھاتے میں ڈال کر اسے جائز بنانے اور اس کے حق میں آواز اٹھانا بھی تعصب اور مسلکی انتہا پسندی ہے.

 

لڑکی بھاگ جائے، پسندی کی شادی کرے یا اغوا ہو جائے، ہر بار لڑکی کے کریکٹر اور اس کے خاندان پر ہی سوال اٹھائے جاتے ہیں. لیکن جو لڑکا یہ حرکت کرتا ہے وہ کریکٹر میں دودھ کا دھلا اور اس کے خاندان والے پارسا اور “کنفرم جنّتی” ڈکلیرڈ ہوئے ہیں. جتنی بات لڑکی اور اس کے والدین اور خاندان پر ہوتی ہے. اسی طرح سے بات لڑکے کی تربیت، والدین اور خاندان پر بھی ہونی چاہئے.

 

مجھے گلگت بلتستان کی گجر کمیونٹی سے خاص طورپر ہمددری ہے یہ ابتداء سے اب تک غربت اور مشکل حالات سے نبرد آزما ہیں. اگر اس کیس میں مبینہ طور پر کم عمری میں شادی کرنے والے فرید اگر اٹھارہ سال سے کم عمر ہے تو بچہ ہونے کے ناطے اس کا تحفظ اور سیکورٹی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی فلک نور کی. اگر دستاویزات سے ثابت ہو کہ فرید اٹھارہ سال سے کم عمر ہے تو عالمی اور ملکی قوانین کے تحت دونوں بچے ہیں. ایسے میں فرید کی شادی ممکن ہے نہ ہی فلک نور کی.

 

فلک نور کے کیس میں سب سے بہترین کردار اس کے والد سخی احمد جان نے ادا کیا ہے. وہ اس وقت صرف اپنی بچی کا کیس نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے پانچ لاکھ کے قریب بچوں کا کیس لڑھ رہے ہیں. اگر سخی احمد جان یہ کیس جیت جاتے ہیں اور کم عمری کی شادی رکوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ صرف سخی احمد جان کی جیت نہیں بلکہ گلگت بلتستان کے لاکھوں کم عمر بچوں کی جیت ہے.

 

سخی احمد جان جیسے لوگ گلگت بلتستان میں ہزاروں ہوں گے جو اس طرح کے واقعات میں اپنی کم عمر بچیوں کے کھیلنے کودنے اور پڑھنے کی عمر میں غیر قانونی طور پر شادیاں کر وا دی ہوں. یا ایسے واقعات میں قانون کا سہارا لینے کے بجائے مکمل خاموشی اختیار کی ہو. سلام ہو سخی احمد جان کو جو ایک مزدور اور کم پڑھا لکھا ہونے کے باوجود اپنی بیٹی کے لئے ہر قانونی اقدام اٹھانے کے لئے جدوجہد کر رہا ہے. سخی احمد جان دعا زہرہ کے والد کی طرح ایک ہیرو ہے. امید ہے وہ اس قانونی جنگ میں پیچھے نہیں ہٹے گا اور سرخرو ہوگا.

 

کچھ لوگ سوال اٹھا رہے تھے کہ فلک نور کے کیس میں اتنا شور اور واویلا کیوں مچایا جا رہا ہے جبکہ ایسے واقعات آئے روز ہوتے ہیں. اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ جو بھی باپ یا ماں اپنے بچوں سے ہونے والی زیادتی کے خلاف سخی احمد جان کی طرح اٹھ کھڑا ہوگا اس کا حسب استطاعت ساتھ دیا جائے گا. جو ایسے واقعات کے بعد دیت کے پیسے لیں، کورٹ کے باہر معاملات کو نمٹا لیں تو ایسے لوگوں کا سول سوسائٹی اور دیگر سٹیک ہولڈر کیسے ساتھ دیں گے.

 

فلک نور کے کیس کو سامنے رکھتے ہوئے گلگت بلتستان اسمبلی میں بھی کم عمری کی شادی روکنے کے حوالے سے سخت قانون سازی کرنی ہوگی. عوام کو کم عمری کی شادی کے نقصانات کے حوالے سے آگہی دینی ہوگی اور باقی زیادہ تر اسلامی ممالک کی طرح شادی کی عمر کو لڑکا اور لڑکی دونوں کے لئے کم از کم اٹھارہ سال مقرر کرنا ہوگا. گلگت بلتستان کے اکثر اضلاع میں کم عمری کی غیر قانونی شادی کو کھلے عام انجام دیا جاتا ہے. اس کے لئے متعلقہ اداروں کو متحرک اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ہوگا.

 

اس کیس میں گلگت بلتستان پولیس نے جس طرح کی بے حسی اور غیر پیشہ وارانہ کردار ادا کیا ہے وہ انتہائی مایوس کن ہے. تیرہ سال کی بچی کو ڈھائی ماہ تک ڈھونڈ نہ سکے. گلگت بلتستان کے حددود سے نکل کر ہزارہ جاتے ہیں وہاں آرام سے رہتے ہیں واپس خود ہی اسی راستے گلگت آ جاتے ہیں اور خود ہی عدالت پیشی کے لئے آ جاتے ہیں. اور پولیس کہتی کہ ہم نے ڈھونڈ لیا. اتنا عرصہ آپ نے کیا کیا. آپ کی ٹیمیں ناکام کیوں ہوئیں؟ راستے کی چیک پوسٹوں میں سہولت کار یا پولیس اہلکار تھے؟ یقیناً اسی سے جڑھے کئی سوال جواب طلب ہے. مگر گلگت بلتستان پولیس کے پاسس ناکامی اور سہولت کاری کے سوا کچھ نہیں. ساتھ ساتھ وزیر داخلہ، ترجمان اور دیگر حکومتی ذمہ دار بھی سہولت کاری کی یہ ذمہ داری بطریق احسن انجام دے رہے ہیں.

 

فلک نور کیس میں ہر مسلک اور ہر مذہب کا بندہ ایک ہی پیج پر ہے. جن کی صبح اور شام ہی مسلکی چورن کی خرید و فورخت سے ہو وہ تو ہر چیز کو اسی عینک سے ہی دیکھیں گے. یا پھر وہ لوگ مخالف ہیں جو اس کیس کے قانونی پہلوؤں سے لا علم ہیں. مجھے یاد ہے گلگت سکار کوئی کی معصوم زینب زیادتی کیس کے لئے بھی ایسے ہی آواز اٹھایا گیا تھا مگر اس کیس کو بھی انصاف فراہمی کے بجائے مسلکی کارندوں نے دبا دیا. لہذا یہ ایسے کیسز میں یہ مسلک مسلک کا کھیل زیادہ دیر نہیں چل سکتا. حق سچ، جھوٹ تعصب سب کھل کے سامنے آجاتے ہیں.

 

اگر کوئی اٹھارہ سال سے زائد عمر کی بچی کو پسند کی شادی پر غیرت کے نام پر قتل کرتا ہے اور فلک نور کے کیس میں مبینہ طور بھاگنے اور کم عمری میں شادی کی حمایت کرتا ہے تو وہ سب سے بڑا منافق ہے. قانون

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستان, مضامین
87215