گلوبل وارمینگ کے چترال پراثرات – تحریر: رحمت عزیز خان
گلوبل وارمینگ سے مراد کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ لیا جاتا ہے۔ دنیا کی موسمیاتی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو کرہ ارض کئی بار یخ بستگی یعنی گلیسیئیشن اور پھر درجہ حرارت میں اضافہ کے دور سے گزرا ہے۔ زمین کا درجہ حرارت کا بڑھ جانا اور کم ہونا ایک قدرتی عمل ہے جو ایک دوسرے کے پیچے اتے رہتے ہیں لیکن گلوبل وارمینگ کا رفتار بڑھانے میں انسانی افعال کا بھی اہم کردار شامل ہے۔
ویسا تو گلوبل وارمینگ کے اثرات پوری دنیا میں دیکھے اور محسوس کئے جاتے ہیں لیکن چترال پر اس کے اثرات بہت ڈرونا ہے۔میرے پاس پرپیش چترال کے گرم ترین ماہ کے میگزیمم ٹمپریچر کے 35 سالہ ڈیٹا موجود ہیں۔پہلے گرم ترین ماہ کا ٹمپریچیر 32 ڈگری سنٹی گریڈ ہوا کرتا تھا۔ گزاشتہ دو عشروں کے دوران یہ بڑھتے بڑھتے اب 40 ڈگری سنٹی گریڈ ہو گیا ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس علاقے کے گرم ترین ماہ کے ذیادہ سے ذیادہ درجہ حرارت میں 8 ڈگری سنٹی کا اضافہ ہوا ہے۔
گلوبل وارمینگ کے سلسلے میں آج میں پرپیش چترال سے چند تصویریں آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں جو 20 جنوری کو لی گئی ہیں۔۔ان تصویروں میں کھلے اسمان تلے پھول کھلے ہوئے ہیں بیج سے پھول اگ رہے ہیں اور ساتھ ہی نشونما بھی پا رہے ہیں۔
ماہ جنوری چترال کا سرد ترین مہینہ ہے۔اس مہینے میں چترال مکمل طور پر منجمد ہو جاتا ہے۔چترال میں ایک پھول یا کوئی اور سبزہ کہیں بھی دکھائی نہیں دیتا ہے۔نلکوں میں پانی آنا بند ہو جاتا ہے ندی نالے اور دریا کا پانی منجمد ہو جاتا ہے۔کہیں بھی گیلی زمین دکھائی نہیں دیتی ہے۔زمین برف سے ڈھکی رہتی ہے۔شدید سردی کی وجہ سے زمین سے کسی تیز الہ کے ذریعے ایک انچ مٹی ہٹانا بھی مشکل ہوتا ہے۔اس علاقے میں جنوری کے مہینے کا ذیادہ سے ذیادہ درجہ حرارت چار ڈگری سنٹی گریڈ اور کم سے کم منفی سولہ ڈگری سنٹی گریڈ کے درمیان رہتا ہے۔لیکن اس سال یہاں کا درجہ حرارت فریزینگ پوائنٹ سے اوپر ہی رہا ہے۔ اس سال موسم کم سرد اور بلکل خشک ہے حلانکہ یہاں موسم سرما میں ذیادہ بارش اور برف باری ہوتی ہے۔ موسم سرما کے شروع سے اب تک بارش یا برف باری بلکل نہیں ہوئی ہے۔اور ٹمپریچر بھی ذیادہ ہے۔ یہ گلوبل وارمینگ کے ثمرات ہیں
گلوبل وارمینگ میں غیر یقینی موسمی حالات پیدا ہوتی ہیں۔بارش کے موسم میں بارش نہیں ہوتی اور جس موسم میں بارش نہیں ہوتی اس موسم میں موسلا دار بارش ہوتی ہے۔
چترال میں دسمبر سے مارچ تک خوب برف باری اور بارش ہوتی ہے جبکہ موسم گرما خشک ہوتا ہے۔
لیکن اب موسمی حالات بلکل الٹا ہو چکے ہیں۔موسم گرما میں بہت ذیادہ بارش ہوتی ہے جس کی وجہ سے دریاوں میں طغیانی اور سیلاب اتے ہیں۔اور موسم سرما خشک رہتا ہے۔
اج کل چترال کے بالائی حصوں سے کھلے ہوئے پھول سوشل میڈیا میں اپلوڈ ہو رہے ہیں اور کمینٹ میں لوگ اس کو قیامت کی نشانی بتاتے ہیں۔اگر یہ قیامت کی نشانی ہے تو ایسی کئ قیامت کرہ ارض پر آ چکے ہیں۔
گلوبل وارمینگ کی وجہ سے سب سے ذیادہ متاثر چترال ہی ہوا ہے۔چترال کے پہاڑوں سے گلیشر پگھل کر پسپا ہو رہے ہیں اور دریائے چترال میں پانی کی سطح اونچی ہوتی جا رہی ہے۔دریا کے کناروں پر واقع زمینیں دریا برد ہوتی جاتی ہیں۔تیز بارش سے چترال کے ڈھلوانی علاقوں میں لینڈ سلائیڈینگ کا مظہر عام دیکھنے میں ارہا ہے۔جس سے چترال کو بہت ذیادہ نقصان پہنچ رہا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ چترال کے نقصانات میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔
چترال پر گلوبل وارمینگ کے اثرات اور نقصانات پر گورنمنٹ اف پاکستان، عالمی ادارہ تحفظ ماحولیات اور چترالی عوام کو حالت کی نازکت کو سمجھتے ہوئے جلد ٹھوس اقدامات اٹھانے اور منصوبہ بندی کرنے کی ضروت ہے تاکہ چترال کو ذیادہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔(چترال ٹائمز )



